شاکر بھائی خوش رہو
خط تمہارا پرسوں لاہور پہنچا ۔کل مجھے ملا اور ایک دن کی تاخیر سے میں جواب دے رہاہوں۔ خط سے پتا چلا کہ تم پہلے بھی مجھے خط لکھ چکے ہو۔ ظاہر ہے وہ مجھے نہیں ملا اورسعودی عرب کے ڈاک نظام کا شکارہوگیا۔ تم نے اسے1/3 خط لکھا ہے۔ خیر آئے گا توبات کریں گے۔ یعنی بیک وقت میرے تین خطوط کے جواب غارت ہوگئے۔ اسے کہتے ہیں ایک تیر سے تین شکار۔ ممکن ہے تمہارا ایک بٹہ تین خط بھی کہیں گرتا پڑتا مجھ تک پہنچ جائے۔ اب تمہارے خط کی طرف آتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ خوشی ہوئی کہ کتابیں تم تک پہنچ گئیں۔ لیکن یہ تو بتاﺅ کون کون سی ملیں؟ سب مل گئیں یا کچھ رہ گئیں؟ ”پشیمان“ (بشری رحمن کی کتاب)گم ہوگئی تو کوئی بات نہیں اوربھیج دوں گا۔“ شام وسحر“ بھلا تمہارے پاس کون سا ہے؟ وہی جس میں تمہارے ہائیکو ہیں؟ ”دیپ“تمہیں دوبارہ بھیج دوں گا۔ ہاں یہ بتاﺅ براہ راست ملی یانہیں؟ وہ تمہارے مطلب کی کتاب ہے۔
دفتر میں امن وامان کا ماحول اب خوشگوارہے۔ تمہارے وزن کا پڑھ کر اطمینان ہوا کہ تم 54کلوگرام پرہی ٹکے ہوئے ہو۔ ویسے تمہیں باوزن ہی رہنا چاہیے۔ کہیں بے وزن نہ ہوجانا۔ جس بحر میں ہم نے تمہیں بھیجا ہے اسی میں واپس لیں گے۔ یہ نہ ہو کہ ایک آدھ رکن کم نہ ہوجائے۔
تم نے” بیسویں صدی“ میں بشری رحمن کے ناولٹ اور خط کا ذکر کیا۔ یہ قصہ ہمیں پہلے ہی معلوم تھا ۔بشری رحمن کو ایسا کرنا نہیں چاہیے تھا۔وہ ناولٹ قدسیہ نے لکھا تھا ،اس کی لکھائی اتنی بری بھی نہیں لیکن بشری رحمن نے خط میں اس کاذکر کرکے اسے بدنام کردیا۔ آج انور سدید صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ سالانہ ادبی جائزہ لکھ رہے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ میں نے تمہارے ترتیب دیئے ہوئے نوائے ملتان کے خصوصی ایڈیشن بشری رحمن، وزیرآغا، مقصود زاہدی اورجابرعلی سید نمبر وغیرہ دیکھ لیے ہیں اور ان کی تفصیل جائزے میں شامل کررہاہوں۔ کل ڈاکٹر وزیرآغاآرہے ہیں۔ ان سے ملوں گا۔ تم نے چینی پین کاپوچھا ہے کہ وہ اردو کیسے لکھتا ہے۔ بھائی میں نے اس پین سے کچھ لکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ چھوٹی بہن کے حوالے کردیاتھا۔
بشری رحمن کی تقریب میں غضنفر مہدی نے سٹیج پرآکرسرائیکی مسئلہ اٹھا دیابعدازاں تمام مقررین نے ان کے خلاف گفتگو کی ۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تقریب ختم ہونے سے پہلے ہی چلے گئے۔ میں نے سعید بدر کو 25دسمبر کی اشاعت کے لیے اپنا وہ کالم دیا ہے جس میں فرضی نام کے ساتھ مولوی عرفان احمد انصاری کی جعلی تقریروں کو موضوع بنایاتھا۔ تم نے اس مرتبہ مجھے درویش کہا ، بہت مزا آیا بلکہ اپنی درویشی دوبارہ یادآگئی۔ درویشی تو اب ایسی عیاری بن چکی ہے کہ کسی کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم درویش ہیں۔ ملتان سے خبر ملی ہے کہ اعزاز احمد آذر کی جگہ نعیم ہاشمی ملتان آگئے ہیں ۔آذر ایک دو روز میں چلے جائیں گے۔ بشری رحمن آج کل صدر کے ساتھ بھارت گئی ہوئی ہیں ،دیکھو کب واپسی ہوتی ہے۔ لو آج تمہارا 1/3والا خط بھی مل گیا۔ بہت خوشی ہوئی جلد اس کاجواب دوں گا۔
والسلام
تمہارا رضی
17دسمبر1985
فیس بک کمینٹ

