شاکر حسین شاکر کے نام بعد ازسلام وصد احترام
کیسے ہو میاں شاکر، خط تمہارا جلدی مل گیا، شکوہ تمہارا پڑھ لیا اس بابت کہ تمہیں ہمارے سلام نہ کرنے پر اعتراض ہے۔ تو میاں سلام قبول کرو،قصداً تو ایسانہیں کیا بس کوتاہی ہوگئی اوریہ ایسا ضروری بھی نہ تھا کہ ہم میں اب تلخی ہی کون سی ہے ،حوالے کے لیے تمہارا خط ہے کہ لکھا ہے تم نے جس میں قصہ ہمارے شہر ملتان کا۔ جب ہم سلام کرتے تھے بچوں کی طرح اور دور ہوجاتی تھیں تمام تلخیاں۔ اب نہ وہ تلخیاں نہ وہ شہر ملتان اور نہ ہمارا وہ بچوں والا سلام۔ آٰہا میاں کیا دن تھے۔جب ہم دلی اجڑنے سے پہلے ملتان میں تھے ۔حضرت اقبال ارشد مدظلہ کے دربار میں حاضری دیتے تھے۔ احترام الدولہ حضرت حسین سحر کی شان میں قصیدہ پڑھتے تھے، چین سے سوتے تھے ،ٹھاٹھ سے اٹھتے تھے ۔ صبح دم ایک دوسرے کا چہرہ دیکتھے تھے اوردن بھرلوگوں سے کہتے تھے کہ جانے کس منحوس کاچہرہ دیکھ لیا صبح صبح۔
خط ہمارا بذریعہ ڈاک تمہیں جلد مل گیا۔ اس پر صد شکر وگرنہ نظام تمہارے وہاں کا عجب ہے۔ کیسے ہرکارے ہیں خطوں میں زیتون لپیٹ لیتے ہیں۔ اور پھر جب جی میں آتا ہے خط لوٹا دیتے ہیں۔ فروری کے خط مارچ میں اور مارچ کے اپریل میں ،خدا خیر کرے۔نظام یہ ڈاک کا درست ہی رہے۔ کالم ہوتل بابا کا پسند آیا تمہیں، خوشی ہوئی ہمیں۔ ستائش کی تمنانہ صلے کی پرواہ ،گرنہیں میرے کالم میں معانی نہ سہی ۔
انداز تمہیں ہمارا نیا لگا اور ہوگئے تم اس پر پریشان کہ غالب نے دھارا ہے روپ ہوتل بابا کا اور عجب انداز میں لکھ رہا ہے ۔ تو میاں شاکرتو ضروری بھی یہی تھا ورنہ پکڑ لیتے یارلوگ ڈنڈا اور مارمارکے غالب خستہ کو اور بھی خستہ کردیتے کہ تم جانتے ہو ویسے بھی ”غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں“پر تاڑنے والے بھی تو قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اس بار جو ہم شہر ملتان گئے تو یارلوگ ہوتل بابا کی نقلیں پہلے ہی تقسیم کرچکے تھے۔ حیرت اورخوشی ہمیں بھی ہوئی ۔حیرت لوگوں کی پھرتیوں پراور خوشی کالم کی مقبولیت پر۔اور اس جہالت ماب بزعمِ خود ممتار تک بھی اس کالم کی نقل پہنچی جس میں درج تھا قصہ جوئیں نکالنے کا عاصی کرنالی کی شاعری سے۔یہ کرنال والے عاصی بھی عجب خطا کار ہیں کہ خطاؤں کو تخلص بنا لیا ۔ جہالت ماب سٹپٹائے ہمارے کالم پر اور کوتوال شہر حیدرگردیزی کے دربار میں حاضر ہوگئے ۔سنایا انہیں کالم اور بتایا کہ اس میں درج ہے ان کے خلاف بھی ایک جملہ ، حیدر گردیزی کوتوال شہر ضرور ہیں لیکن عقل وخرد سے عاری نہیں۔کہنے لگے بھٹے کو غصے میں کہ لکھا ہے کالم کسی نے ہمارے خلاف تمہارے دید شنید میں۔ اس کے تو ہاتھ پاﺅں پھول گئے جیسے ہمارے خوشی سے ہاتھ پاﺅں پھولے تھے اس وقت جب کہا اس نے میرے ہاتھ پاﺅں داب تو دے۔ تو بھاگم بھاگ وہ بھٹہ صاحب محلہ کتے ماراں میں پہنچے اور کہنے لگے ہم سے کہ مرزا صاحب یہ آپ نے عجب کالم لکھ دیا ،حیدر شاہ صاحب قبلہ کو ناراض کردیا۔
لو میاں تم نے ”یہ چبھن در چبھن خوب یاد کرایا۔ خامہ بگوش ہمارے مرشد جو سیکھا ان سے سیکھا ۔اول دن سے مشفق خواجہ کاکالم دلچسپی سے پڑھا۔اب رسالہ تکبیر میں وہ کوئی خاص چیز نہیں لکھتے۔۔اور میاں یہ قتل وغارت اب دلی کے بعد جدہ میں بھی شروع ہوگئی ۔ لوگ قتل ہورہے ہیں ۔تلاشیاں ہورہی ہیں ۔میاں قتل تو ہم بھی ہوگئے تھے برسوں پہلے جب اس حسینہ کی نگاہِ غلط انداز نے ہمیں تڑپایا سو تڑپ رہے ہیں آج تک مانند ِمرغ بسمل اور منتظر ہیں تمہارے سعودی عرب میں آ نے والے انقلاب کے کہ انقلاب تو اب آنا ہے۔
یہاں شہر لاہور میں جلسے جلوس عروج پرہیں۔ منشی جہانگیر بدر آج ہی انگلستان سے واپس آیا تو ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ گئے۔ سبھی اس پرہورہے تھے قربان کہ موصوف کو کرنا تھا اعلان بے نظیر کی وطن واپسی کا۔سو کہا اس نے یہ کہ جیسے پڑوس میں آقائے خمینی وطن لوٹے تھے ایسے ہی بے نظیر کاطیارہ پاکستاٰن آئے گا۔
کالم ڈرتے ڈرتے اپریل میں شروع ہوگا اور مونوگرام اس کاشاید نظامی والا نہ ہو۔اور نظامی کی بھی سن لو۔خان رضوانی آف جنگ شریف کے آستانے کے پاس موصوف اپنی سواری پر جارہے تھے اورتک رہے تھے ہماری جانب ۔جب قریب آئے تو ہم نے پوچھا کیاحال ہے اسی وقت سواری سے اترے ۔ہماری قدم بوسی کی ۔ہم نے گلے سے لگایا ۔
جب گلے سے لگ گئے سارے گلے جاتے رہے۔
کل مرزا رسوا اورسودا کے ہمراہ مے نوشی میں مشغول تھا کہ نوشی یاد آگئیں۔ اور پھراس حوالے سے نواب الملک اقبال ساغر صدیقی کا ایک جملہ بھی یادآگیا۔ خبر یہ بھی ملی کہ ساغر صاحب ہم سے ناراض ہیں اور بھیجتے ہیں صبح وشام ہم پر تین تین حرف ۔سو آستانہء اخباریہ صدیقیہ پر فوری حاضری دی ۔ان سے مصافحہ کیا (گویا بیعت کی )انہوں نے محبت بھرے انداز میں احتیاط کامشورہ دیا ۔حامی تو بھرآئے ہم لیکن میاں شاکر تم تو خوب جانتے ہو کہ ہم نے کبھی احتیاط نہیں کی۔ بچپن ہی سے سانپوں کی پٹاری میں ہاتھ ڈالنے کا شوق ہے۔ کوئی بے شک جان لے لے لیکن ہماری حرکتیں تو یہی رہیں گی۔ کس کا ڈر اور کون سا خوف ۔ہاں ڈرتا تھا صرف تم سے اور اب بھی ڈرتا ہوں تو تم سے ہی ڈرتا ہوں کہ ڈرنا اس سے چاہیے جس کے خلوص پرشبہ نہ ہو۔
مندا تمہارا ختم ہوا اور دھندا تمہارا شروع ہوا۔ سن کر خوشی ہوئی۔ تم کہتے ہو کہ خالی ہاتھ کس منہ سے وطن واپس آﺅں گا۔ تو میاں شاکر تمہیں اسی چھوٹے سے منہ کے ساتھ ہی واپس آنا پڑے گا کہ نیا منہ تو لینے سے رہے۔ فکر مت کرو آج دھندا مندا ہے تو کل اچھا ہوجائے گا۔ ہمیں دیکھو بشری رحمن کے وظیفہ خوارہیں ۔کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ،بارش ہو تو محلہ کتے ماراں کا ہرگھر ٹپکنے لگتا ہے۔ آنکھوں سے بینائی رفتہ رفتہ ختم ہورہی ہے۔ حافظہ بھی پہلے والا نہیں رہا ۔آٰہ ،ہماری دلی کیا اجڑی گویا سبھی کچھ جاتارہا۔
مناظرحسین نظر نام کے شاعر کا احوال پڑھا ۔پیٹ تو ان کا اندھا کنواں ہے ،خاصی لمبی داڑھی چھوڑ رکھی ہے ۔محکمہ اوقاف بہاولپور کا ناظم تھا ۔فرحت عباس اس کے تذکرے کرتاتھا۔آج کل وہ ملتان میں ہے اور قبلہ حسین سحر صاحب کامرید ہے۔
آنس معین مرحوم کا مذکورہ شعرمجلس فکر نو والے نہیں بلکہ ٹیسٹی کے اس مشاعرے میں سناتھا جس میں شرکت کے لیے پہلی بار نوشی گیلانی ملتان آئی تھیں اوران کے ساتھ عظمی ناز بھی تھیں۔ تقریب کا منتظم ہمارا یاردیرینہ اطہر ناکس اور ”کاذب شوذمی“ تھے۔ اورشوذمی نے وہاں پہلے سے لکھی ہوئی کہانی سنائی تھی۔
ہماری اس مرتبہ حسین سحر سے طویل ملاقات ہوئی ۔انہوں نے رسالہ اہل قلم چھاپ لیا ہے۔ تمہارے ہائیکو اس میں دیکھے واللہ صاحب کیا ہائیکو ہیں۔ گویاحکیم محمد امین کوبھی چیلنج کردیا۔گھر میں بیٹھا اپنی بیاضوں کودرست کررہا تھا کہ ایک مضمون 19جنوری 1985والا مل گیا جو بشری رحمن کی مدح میں پڑھاتھااورپھر ”اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے“۔مضمون اس وقت تواچھا لگ رہا تھا اب پڑھا تو بہت سی چیزیں مناسب محسوس نہ ہوئیں۔ اسے ضائع کرنے لگا۔پھررکھ لیا۔ آج دفتر میں سب کو سنایا۔سب نے عبرت حاصل کی۔ واللہ صوفی عبدالقدوس کی محبتوں نے ایمان تازہ کردیا۔۔ہائے پھر محبت یاد کرادی کمبخت۔
ایک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے۔
تمہارے گھر بھی گیاتھا۔ دستک دی ،دروازے پر کوئی نہ آیا۔پھر دستک دی کوئی باہر نہ آیا۔ چار پانچ مرتبہ یہ عمل دہرانے پر بھی جب کسی کے کان پر جوں نہ رینگی تو یہ سمجھ کر گھر واپس آگیا کہ” شایدقبلہ شاکر وطن واپس آگئے ہیں جو دروازہ نہیں کھل رہا“۔آہا ،میاں مبارک ہو، تمہاری منگنی کو ایک سال ہوگیا یاشاید ہونے والا ہے۔ اتنا ہمیں یاد ہے کہ مہینہ مارچ کاتھا ،تاریخ آٹھ تھی یا اٹھارہ، اس کا تمہیں علم ہوگا۔ اب منگنی تمہاری ہے تو تاریخ بھی تم یادرکھو۔ مارچ میں دوہی تو غلط کام ہوئے تھے ۔ایک غیر جماعتی چناﺅ اور دوسرا تمہاراچناﺅ۔ خیر یہ بات مذاق کی ہے مگر ہے درست۔ گویا منگنی کے معاملے میں تمہارا شمار متقدمین میں ہوتا ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ تم شادی میں بھی ہم سے سینئر رہو کہ کہیں تو تمہیں سینئر ہونا چاہیے۔ آہ، بے چاری منگنی کہ جس کے نتیجے میں ملک بدرکردیئے گئے تم اورشہر بدر ہونا پڑا ہمیں۔ والدہ ہماری خیریت سے ہیں ،پتھری والا عارضہ رفع ہوئے بھی مدت ہوگئی۔ بھلا ہوطبیب لودھی کا کہ نام جس کا بلال تھا اور مدتوں سے جو مل نہ سکا ۔موسم عجب آگیاہے۔
کس عہد میں جیتے ہیں اندھیرا نہ سویرا کی طرح یہاں بھی سردی ہے نہ گرمی البتہ بہتات ہے مچھروں کی اور فراوانی ہونے والی ہے ملیریا کی ۔لفافے تم نے بہت سے خرید لیے لمبے والے اور غلط فہمی ہمیں یہ رہی کہ کوئی سہ غزلہ لکھ بیٹھے ہو پھر مژدہ یہ بھی خوب ہے کہ لفافے ختم ہوتے ہی پاکستان آٰجاﺅ گے اور دعا ہماری یہی ہے کہ لفافے ختم ہوجائیں۔ادھر مدت سے ہم نے غزل نہیں کہی ۔سکوں میسر آ ئے تو غزل بھی کہیں ۔ریل میں جاتے ہوئے غزل کا موڈ بھی ہوا پر نہ کہہ سکے کہ ایک مولانا ٹرین میں مسلسل ہمارے لیے عبرت کاسامان فراہم کررہے تھے۔ لوٹ کر میں صبح واپس آیا ہوں ۔رات بھرجاگتا رہا۔ کراچی ایکسپریس میں آیا تھا غزل کہوں گا یوم پاکستان کے کسی مشاعرے میں پڑھوں گااور نذرانہ وصول کروں گا۔
میر جماعت علی شاہ کو میرا سلام کہنا ، میں ہوں تمہارا اسد اللہ غالب
9مارچ1986
یکم شنبہ
محلہ کتے ماراں ،دلی
فیس بک کمینٹ

