کالملکھاریلیاقت علی ایڈووکیٹ

آج کا نظریہ پاکستان اور ریاست کا بیانیہ ۔۔ لیاقت علی ایڈووکیٹ

14۔ اگست کا دن جوں ہی قریب آتا ہے توہرباریہ بحث نئےسرےسےشروع ہوجاتی ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا؟ وہ کون سےسیاسی،سماجی اورمعاشی عوامل اورمحرکات تھے جو قیام پاکستان کاموجب بنے۔قیام پاکستان کامقصد ایک مذہبی ریاست کا قیام تھا یا پھراسےسیکولرریاست بنانا مقصود تھا۔ پاکستان ہندوستان کے مسلمان اکثریتی صوبوں کےمسلمانوں کے لئے بنا تھا یا پھرہندوستان کے تمام مسلمانوں کا ملک قرار پایا تھا۔ یہ اوراس سےملتے جلتےبہت سےدیگرسوالات قیام پاکستان کےسیاق وسباق میں اٹھائےجاتے ہیں۔جس طرح یہ سوالات متنوع ہیں اسی طرح ان کےجوابات بھی مختلف اورمتضاد ہیں۔ مذہبی لابی کا پرزورموقف جسے ہماری ریاست بھی قبول کرتی ہےیہ ہے کہ قیام پاکستان کے پس پشت مذہبی محرکات کارفرما تھے اوریہ مذہب ہی تھا جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو قیام پاکستان کےلیےمتحرک کیا تھااوروہ پاکستان میں ایک مدینہ طرزکی ایک’حقیقی‘ اسلامی ریاست قائم کرناچاہتےتھے۔ جب اس لابی کےنظریہ دانوں سے یہ پوچھا جائےکہ اگرقیام پاکستان کے پس پشت مذہبی محرکات تھےتوہندوستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس کے قیام کی مخالفت کیوں کی تھی؟ جمیعت العلمائے ہنداس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت تھےاس کے رہنماوں جن میں مولانا حسین احمد مدنی جیسے جیدعالم دین سرفہرست تھے قیام پاکستان کی مخالفت میں کیوں پیش پیش تھے؟۔احرارشمالی ہند میں بالعموم اورپنجاب میں بالخصوص بہت زیادہ متحرک مذہبی سیاسی جماعت تھی وہ توقیام پاکستان کے خلاف صف اول میں برسرپیکارتھی جماعت اسلامی کےدانشورتو یہ کہہ کرجان چھڑالیتے ہیں کہ مولانا مودودی پاکستان کےمخالف نہیں تھے وہ تو آل انڈیا مسلم لیگ کی ’مغرب زدہ‘قیادت سےنالاں تھے جنھیں اسلام اوراس کی ہمہ گیرسیاسی فکربارے کچھ پتہ نہیں تھا اور وہ پاکستان کے حصول کی جنگ مغربی سیاسی اصطلاحوں کی مدد سے لڑ رہی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت پاکستان کا قیام ضرورچاہتی تھی لیکن اس ریاست میں کون سا سیاسی نظام نافذ ہوگا اس بارےاس کی سمت درست نہیں تھی۔ یہ مولانا مودودی ہی تھے بقول جماعتی دانشوروں کے جنھوں نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کواس کی درست منزل کی طرف گامزن کرنے کی کوششیں کیں۔
لبرل اورلیفٹ دانشوروں کا موقف ہے کہ قیام پاکستان کےپس پشت معاشی محرکات تھے۔ مسلمان اشرافیہ اپنے معاشی اورسیاسی مفادات کےتحفظ کے لئے قیام پاکستان کی خواہاں تھی۔ مسلمان اشرافیہ کانگریس کےریڈیکل معاشی اورسماجی پروگرام سے خوف زدہ تھی اس لئے وہ قیام پاکستان کی تحریک میں قائدانہ کردار ادا کررہی تھی۔ مسلم لیگ میں پنجاب کے جاگیردار، برطانوی سامراج تنخواہ دار، اقلیتی مسلم آبادی کے حامل صوبوں کے نوکری پیشہ طبقات اوربنگال کی مڈل کلاس اورجاگیردارتحریک پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ ان کے نزدیک قیام پاکستان کی صورت میں اسلامی نظام کے قیام کا نعرہ تو اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کو چھپانے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا تھاورنہ اسلام سے ان استحصالی طبقات کو واسطہ اور تعلق نہیں تھا۔ لیفٹ اور لبرل اپنے موقف کے حق میں محمد علی جناح کی شخصیت کو پیش کرتے ہیں جو ان کے نزدیک اپنے آؤٹ لک میں جدید تھی اور جو پاکستان کو مسلمانوں کا جمہوری اور سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے۔ لبرلزکے نظریاتی بیگ میں جناح کی گیارہ اگست کی تقریر ہےجس میں انھوں نے نوزائیدہ مملکت کے شہریوں کے بلا استثنا مساوی آئینی اور قانونی حقوق کی بات کی تھی اورواضح کیا تھا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہبی عقیدے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر لبرلز سے یہ سوال پو چھا جائے کہ جناح اگر پاکستان کو سیکولرملک بنانا چاہتے تھے توان کا کانگریس سےکس بات پراختلاف تھا وہ بھی تو ہندوستان کو سیکولر ملک بنانے کا پروگرام رکھتی تھی۔ اگر پاکستان نے سیکولر ملک ہی بننا تھا توہندوستان سےعلیحدگی کا کیا جوازتھا؟اس کاجواب وہ یہ دیتے ہیں کہ کانگریس نے مسلم لیگ اور جناح کے مطالبات کو تسلیم کرنےسےانکارکردیا تھا لہذا جناح پاکستان بنانے پرڈٹ گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کسی مثبت اصول یا نظریہ کی بجائے ردعمل کی پیداوارتھا۔
ایک تیسرا مکتبہ فکر بھی موجود ہے جس کا نقطہ نظرہےکہ ہندوستان میں ابتدائی طور پرمسلم علیحدگی پسندی اوربعدازاں تحریک قیام پاکستان کوبرطانیہ کےقدامت پسند سیاست دانوں کی نظریاتی اورعملی حمایت حاصل تھی۔ وہ ہندوستان میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت مسلمانوں کوعلیحدگی پراکساتے تھے۔ اس مکتبہ فکر کے مطابق پاکستان کے قیام کے پس پشت سامراجی مقاصد کی تکمیل تھی اورافغان جہاد کے دوران اس لابی کے مطابق پاکستان نے ان سامراجی مقاصد کی تکمیل میں بھرپورکردارادا کیا تھا۔
پاکستان کے قیام کی وجوہات مذہبی تھیں یا سیکولراب اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو قیام پاکستان کے پس پشت نظریاتی محرکات کی تلاش کی بجائے اپنی روٹی روزی کی فکر ہے۔اب پاکستان بیس کروڑعوام کا ایسا ملک ہے جہاں تعلیم ہے نہ صحت، جہاں نوجوان روزگار کے حصول کے لئے
در بدر پھرتے ہیں۔ بیس کروڑ عوام کا ملک جس کے عوام رنگا رنگ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کا شکارہیں۔ قیام پاکستان کے وقت اس کی نظریاتی اساس کیا تھی اب یہ بات غیر متعلق ہوچکی ہے۔اب پاکستان کی نظریاتی اساس اس کےسواکچھ اور نہیں ہوسکتی کہ بیس کروڑ عوام کی خوشحالی،سماجی اورمعاشی ترقی کو ممکن بنایا جائے۔ پاکستان کے تمام شہریوں کو بلا لحاظ مذہب، قومیت اوررنگ و نسل مساوی آئینی اورقانونی حقوق دیئے جائیں۔ وفاق پاکستان کی تمام اکائیوں کو ان کے قدرتی وسائل پرحق ملکیت کوتسلیم کیا جائے۔ جمہوری اداروں اورجمہوریت کو مضبوط اور مستحکم بنایا جائےاورغیرمنتخب ریاستی اداروں کی بالا دستی کو مسترد کیا جائے۔ دنیا بھراورخطے کےممالک کے ساتھ باہمی مفاد اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کئےجائیں ۔آج کےعہد کا یہی نظریہ پاکستان ہےاوراس نظریہ پاکستان کے تکمیل کے لئے ہرذی شعور پاکستانی کوجدو جہد کرنا چاہیے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker