شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

شاہد مجید جعفری کی لاک ڈاؤن ظرافت : پُلس آ گئی پُلس۔۔۔۔

خواتین و حضرات کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ بندہ اپنے کمپیوٹر پر بیٹھا ایک نہایت فضول قسم کا کام کر رہا تھا کہ اس دوران اچانک کمپیوٹر ماؤس نے کام کرنا بند کر دیا۔پہلے تو میں اسے مذاق سمجھا اور کام جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن جب کمپیوٹر سکرین پر بھاگتے دوڑتے تیر صاحب نے واقعی ہلنا جلنا بند کر دیا تب میں نے ماؤس کو پکڑ کر اس کا بالکل ایسے ہی معائنہ فرمایا کہ جیسا کہ آپریشن ٹیبل پر مینڈک کا ملاحظہ کیا جاتا ہے۔ ماؤس کے ساتھ ایسا کرنے سے مجھے کیا خاک سمجھ آنا تھا سو ایسا ہی ہوا ۔ چنانچہ اب میں نے اسے ایک پوٹ سے نکال کر دوسری پوٹ میں لگایا لیکن وہ نہ چلا اس کے بعد میں نے اسے ہاتھ میں پکڑا اور اس پر ہلکے ہلکے تھپڑ مارےپھر اسے دوبارہ لگا کر چیک کیا لیکن وہ نہ چلا۔ اب میں نے آخری حربے کے طور پر ماؤس کو بستر پر زور سے پھینکا۔ پھر اسے پورٹ میں لگا کر چیک کیا تو وہ پھر بھی نہ چلا ۔ چنانچہ اس تجربے سے میں ( بڑی آسانی سے) اس نتیجے پر پہنچا کہ میرا ماؤس خراب ہو چکا ہے۔
لاک ڈاؤن کے دن تھے دکانیں بند ہونے کا وقت کافی دیر پہلے گزر چکا تھا لیکن مجھے اپنے تاجر طبقہ پر پورا بھروسہ تھا کہ اس نے ابھی تک اپنی دکانیں بند نہ کی ہوں گی۔ ہرچند کہ اس وقت بازار جانے میں پولیس کا کھٹکا تھا لیکن میرا فضول قسم کام اس قدر ضروری تھا کہ میں نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کرلیا۔ چنانچہ میں گھر سے نکلا اور سیدھا بازار جا پہنچا میری توقع کے عین مطابق تمام دکانیں کھلی ہوئیں تھیں ۔ اپنے اندازے کی درستگی دیکھ کر خوشی سے میری باچھیں کھل گئیں جو کہ میں نے بڑی مشکل سے بند کیں۔ خیر میں کمپیوٹر شاپ پر جا پہنچا جہاں دکان دار نے سامان کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ موبائل و اس سے متعلقہ دوسرے لوازمات بھی رکھے ہوئے تھے۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو دکان میں گاہکوں کا ایک جم غفیر موجود تھا۔ جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ، بڑے ہی جوش و خروش سے کرونا وائرس کے بارے میں احتیاطی تدابیر ڈسکس کر رہے تھے ۔ان کی باتیں سن کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا کہ میری قوم وائرس کے بارے اس قدر معلومات رکھتی ہے۔ خیر میں نے ماؤس کا آرڈر دیا دکاندار ماؤس پیک کر کے اسے میرے حوالے کرنے ہی والا تھا کہ اچانک باہر سے کسی کے چلانے کی آواز سنائی دی۔۔ پُلس آ گئی پُلس۔۔۔۔۔اس آواز کا سننا تھا کہ دکان دار بجلی کی سی تیزی سے کاؤنٹر سے باہر نکلا اور جلدی سے دکان کا شٹرنیچے گرا دیا پھراسی تیزی سے چلتے ہوئے وہ کاؤنٹر پر پہنچا اور دکان کی لائیٹ بھی آف کر دی۔
ہمیں اندھیرے میں کھڑے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک پھر وہی آواز سنائی دی پُلس چلی گئی پُلس ۔۔ اس آوازکو سنتے ہی دکان دار نے فوراً لائیٹ آن کی اور شٹر اوپر کر کے جلدی سے میرے ہاتھ میں ایک شاپر پکڑا دیا۔جو کہ گھر آ کر دیکھنے سے پتہ چلا کہ اس نے غلطی سے مجھے میرے شاپر کی بجائے کسی اور کا شاپر دے دیا تھا ۔ چنانچہ میں دوبارہ دکان پر پہنچا اور مطلوبہ چیز لے کر ابھی باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ باہر سے پھر وہی آواز سنائی دی پُلس آ گئی پُلس۔۔۔۔اس آواز کا سننا تھا کہ ایک دفعہ پھر دکاندار بجلی کی سی تیزی سے باہر نکلا اس نے دکان کا شٹر گرایا اور پھر لائیٹ بھی آف کر دی۔
ابھی اسے شٹر نیچے کیے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک باہر سے ایک گھٹی گھٹی سی آواز سنائی دی پروٹکٹر ہے؟ تو دکان دار جھٹ سے بولا۔ جی ہے آپ کو کس موبائل کا چاہیئے؟ اس پر وہی گھٹی سی آواز کرختگی میں تبدیل ہوتے ہوئے بولی ۔موبائل تو نہیں بیٹا۔۔ البتہ اپنی پروٹیکشن کر کے باہر آ جاؤ کہ تم پر پُلس کا چھاپہ پڑ گیا ہے۔ چھاپے کا سن کر دکاندار کے ساتھ ساتھ میری بھی سٹی گم ہوگئی ۔جسے میں نے ڈھونڈنے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ ابھی تک نہیں ملی۔ دوسری طرف اتنی بات کرتے ہی پولیس نے دکان کا شٹر اُٹھا دیا اور اونر کو لائیٹ آن کرنے کا بولا۔ لائیٹ آن ہوتے ہی ہماری نظر دکان کے داخلی دروازے پر پڑی۔ جہاں کرخت چہرے اور موٹی توندوں والے تین چار پولیس والے کھڑے دکاندار کی طرف ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ جیسے بچہ مٹھائی کی دکان پر برفی کو دیکھتا ہے۔ جبکہ دکاندار سمیت ہم سب پولیس والوں کی طرف ایسے دیکھ رہے تھے کہ جیسے کوئی لاغر جانور قصائی کی طرف دیکھتا ہے۔
اسی دوران ان میں سے سے ایک پولیس والا جو کہ رینک کے اعتبار سے حوالدار تھا آگے بڑھا اور دکاندار سے مخاطب ہو کر بولا۔تمہارا کیا خیال ہے اس طرح تم پولیس کو چکر دے لو گے؟پولیس والے کی بات سن کر نا جانے دکاندار نے ایسا کون سا خفیہ اشارہ کیا کہ ایک پولیس والا کاؤنٹر کے پیچھے چلا گیا اور ا س کے ساتھ ہی ان میں خفیہ مذاکرات شروع ہو گئے۔
یہاں سے فارغ ہونے کے بعد حوالدار صاحب نے بڑی ہی کڑی نگاہ سے ہماری طرف دیکھا بدقسمتی سے اس وقت میں سامنے ہی کھڑا تھا چنانچہ وہ اپنے ماتحت کو اشارہ کرتے بولا اسے آگے لاؤ؟ تو سپاہی بادشاہ تھوڑا جھجھک کر بولا سر جی کس کو آگے لانا ہے؟تو وہ کڑک کر بولا اس کوجو کہ شکل سے ہی “غیر معزز” اور چغد لگ رہا ہے۔ حوالدار کی بات سن کر سپاہی تیر کی طرح میری طرف بڑھا (اسے شاید اتنے بندوں میں یہ دونوں خصوصیات صرف مجھ میں ہی نظر آئیں تھیں) اور مجھے بازو سے پکڑ کر حوالدار صاحب کے سامنے پیش
کر دیا ۔مجھے اپنے سامنے پا کر اس نےایک دفعہ پھر بڑی ہی کڑی لیکن ٹٹولتی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر جلالی لہجے میں بولا۔ نقاب کیوں نہیں لگایا ؟ اس پر میں ڈرتے ڈرتے بولا جناب نقاب تو عورتیں کرتیں ہیں ۔۔۔ اس پر دکان میں کھڑا ایک (مجھ سے کم ) نامعقول سا بندہ بولا۔ آج کل جس قسم کی عورتیں آ رہی ہیں ان کو دیکھ کر تو مردوں کا نقاب کرنا بنتا ہے (وہ تو شکر ہے کہ اس وقت دکان میں میرا جسم میری مرضی والی کوئی خاتون نہ کھڑی تھی ورنہ پُلس کے ساتھ ساتھ اس سے بھی چھترول ہو نا یقینی تھا ) ادھر مجھ سے کم نامعقول بندے کی اپنے طرف سے مخولی بات سنتے ہی حوالدار دھاڑ تے ہوئے بولا ۔ پولیس کے ساتھ “ٹچکریں” اوئے شیدے تلاشی لے اس کی۔
حوالدار کا آرڈر سنتے ہی قدرے کم موٹی توند والا شیدا پھرتی سے آگے بڑھا۔ اور تلاشی کے نام پر میری جیب سے پرس نکال لیا۔لیکن اس پرس میں جو پیسے موجود تھے ان سے پہلے ہی میں ماؤس خرید چکا تھا اب اس میں سوائے شناختی کارڈ اور دو تین واجب الادا بلو ں کے اور کچھ بھی نہ رکھا تھا۔۔ دوسری طرف پرس کو خالی دیکھ کر وہ کم موٹی توند والا ایسے اچھلا کہ جیسے کہ اس میں سے کلبھوشن نکل آیا ہو۔ پھر میری طرف دیکھ کر بڑے غصے سے بولا۔۔۔اوئے ۔۔ یہ تو خالی ہے اس پر میں منمناتے ہوئے بولا وہ جی مہینے کی آخری تاریخیں چل رہیں ہیں اس لیے پرس خالی ہے اس پر حوالدار طنزیہ لہجے میں کہنے لگا مجھے بندے پر اتنا غصہ نہیں آتا جتنا غصہ اس کا خالی پرس دیکھ کر آتا ہے۔پھر کڑک کر بولا اگر پیسے نہیں تھے تو دکان پر کیا “امب” لینے آئے تھے؟ تو میں اسے شاپر دکھاتے ہوئے بولا جو پیسے تھے ان سے میں نے یہ ماؤس خرید لیا ہے میرے شاپر دکھانے کی دیر تھی کہ کم موٹی توند والا سپاہی کسی چیل کی طرح شاپر پر جھپٹا ۔۔اور اسے بحق پولیس ضبط کر لیا۔ماؤس کی بحق سرکار ضبطگی پر میں نے کافی واویلا کیا لیکن پھر مجھے موت دکھا کر بخار پر راضی کر لیا گیا مرتا کیا نہ کرتا ۔آخرِ کار مجھے راضی ہونا ہی پڑا۔
اس سے کچھ دن بعد کی بات ہے کہ میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا بواپسی ابھی میں بازار میں داخل ہوا ہی تھا کہ میں نے اپنے پیچھے نیلی بتی جلائے پولیس کا ڈالہ آتے دیکھا ۔ پولیس کا ڈالہ دیکھتے ہی مجھ پر ماؤس کا غم تازہ ہو گیا ۔چنانچہ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔بس شور مچانا شروع کر دیا پُلس آ گئی پُلس۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker