ایم ایم ادیبکالملکھاری

باضمیر صحافی ۔۔ ایم ایم ادیب

زندگی کی طبقاتی تقسیم سے کسے انکار ہے ،گروہ در گروہ جینے والے لوگ،اور کچھ وہ جو گروہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے اندر کے ایک نگار خانے میں اپنا آپ سجائے جیتے ہیں ریاکاری اور’’میں ‘‘ سے ماورا ،صحافیوں کے گروہ یا طبقہ میں بھی کچھ ایسے ہیں جو اپنے قد سے بڑھ کر کام کرتے ہیں اور جب انعام یا اکرام کا وقت آتا ہے وہ نظر وں سے اوجھل ہوجاتے ہیں،یہ وہ نامی ہوتے ہیں جن کا نام سرکار کی فہرست میں نہیں ہوتا اور یہ رب کے شکر گزار ہوتے ہیں ،کہ اس نے ان کے نام کی لاج رکھ لی۔ لفافے کیا بند ہوئے ،چیخیں نکل گئیں ،کچھ ایسے بے حمیت ٹھہرے ،کہ جیل تک پیچھا نہیں چھوڑا،جن کے منہ کوحرام لگ جائے ،ان کو حلال راس نہیں آتا،عجیب مخلوق ہے یہ کہ جسے یہ تک خبر نہیں کہ کاروباری آدمی وہاں خرچ کرتا ہے جہاں پر زیادہ نفع اور فائدہ دکھائی دے ۔ سُتے ہوئے چہرے لئے واپس آئے تو ڈھنگ کی تحریریں بھی پیش نہ کر سکے ،خیالی نقشوں کے مرقعے تراشنے والے بھی بے مروت ٹھہرے کہ اب الٹے سیدھے مشورے دینے لگے ، کس ڈھٹائی سے اُنہوں نے لاکھوں میں تنخواہیں لیں اور کروڑوں کے فنڈز،شکم پھر بھی اِن کے سیر نہیں ہوئے ،اللہ کی پناہ ! اب نئی منتخب حکومت کو کسی طور چین نہیں لینے دے رہے،انہیں معلوم ہونا چاہئے،وہ ایک ضدی کھلاڑی ہے ،جو ہمیشہ جیت کے زعم میں اور کیف میں مبتلا رہتا ہے ،اُسے کامیابیاں سمیٹنا آتا ہے اور وہ ہار مان لینے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے، اسی لئے تو بار بار کہتا ہے ’’اگر میں حکومت نہ چلا سکا تو گھر چلا جاؤں گا‘‘تم اس کے کس کس گُن کی تاب لاپاؤ گے۔! وزیر اعظم بننے کی اتنی جلدی اور تیاری کچھ بھی نہیں ! بڑی حیرت کی بات ہے !یقینا ً وزیر اعظم عمران خان نے جوک ماری ، اتنی سنجیدہ کہ جغادری قسم کے اخبار نویس سمجھ بھی نہ سکے۔ یہ المیہ بھی تو ہے ناں ،کہ بعض لکھنے والے زمین والوں سے بات کرتے ہوئے خود کو آسمان پر بیٹھا محسوس فرماتے ہیں ،وہ اپنے علم و ہنر کو بر تر گردانتے ہیں ،دوسروں کو ہی،خبر نہیں یہ کیا شے ہیں ،وزیر اعظم عمران خان نے بھی انہی کو قابلِ اعتنا سمجھا کہ یہ بے چارے پیٹ کے ہولے ہوتے ہیں ،اور کسی پر نظر التفات نہ پڑی ،کہ اخباری دنیا کے بھی تو کچھ ’’افتادگانِ خاک ‘‘ ہیں ،صاف گو اور سادہ لوح،بڑے دعوے نہیں کرتے ،مگر دلائل اور منصوبوں کے انبار سینوں میں لئے پھرتے ہیں ،پر شاہانہ نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔نگاہوں میں آئیں بھی کیسے کہ اپنے سے بھی خود کو چھپا کے رکھتے ہیں اردو کے پہلے شاعر ولی دکنی کے محبوب کی طرح کہ اُس گوہرِ کانِ حیا کی کیاکہئے ! مرے گھر میں یوں آوے ہے جوں سینے میں راز آوے یہ رائی کو پہاڑ بنالینے والوں کا زمانہ ہے ،سچ لکھنا رسّی پر چلنے کے مترادف ہے اور یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔ ایک برادرِبزرگ کس دیدہ کاری سے قرآن و حدیث سے شہ پا رے چن چن کر اپنی تحریروں میں رنگ آمیزی کے جوہر دکھاتے ہیں ،وزیر اعظم کی ملاقات میں اُن کا ذکر نہ پانا دل گرفتگی کا سبب ٹھہرا،کہ وہ بھی کوئی شخص ہے ،جسے پی ٹی آئی کی حکومت نظر انداز کرے ،کہ اِس کی حکومت بنانے تو کیا عمران خان کی شخصیت کو ایک سماجی کارکن سے سیاستدان بنانے تک کے پیچھے اُن کا بڑاہاتھ ہے ،شاہی آداب اور ریاستی اسرارو رموز ،اُن سے بڑھ کر کون جانتا ہوگا ،جن کی اسلامی تاریخ پر ہی نہیں ،مغرب کے اندازِ حکمرانی پر بھی گہری نظر اور عمیق مطالعہ ہے ،ان کا شمار عہدِ حاضر کے ان لکھنے والوں میں ہوتا ہے ،جنہوں نے مولانا آزاد ،ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کی روایت کو ہر لحاظ سے زندہ و تاببندہ رکھا ہوا ہے ،ان کے بعد کی نسل میں کوئی ایسا کالم نویس نہیں ،جس کے قلم سے نکلے الفاظ میں اتنی حدّت ہو کہ جذبوں میں ایک کھولاؤ پیدا کردے۔اگر ہمارے سرفرازسید صاحب ،ان کا بھی اپنا طرزِتحریر ہے دل کو بھا جانے والا ،خود آئینے کے روبرو کھڑے ہوکر دوسروں کو آئینہ دکھاتے ہیں ،ایک نوجوان مشر الماس کا ذکر بھی لازم ہے کہ ضمیر کی قید سے نکل کر بات نہیں کرتا ،زندہ ضمیرصحافیوں کا ذکر ہو تو نوجوانوں میں اس کا نام سرِ فہرست ہوگا ۔بہت سارے نام رہ گئے ہونگے ،کالم کا دامن ہی اتنا کشادہ نہیں کہ ایک ایک کا نام لے کر ان کے سینے پہ باضمیر صحافی کا تمغہ سجا سکوں ،شہیدوں کی یاد کا دن قریب ہے ،راہِ حق میں جانیں نچھاور کرنے والے کچھ باضمیر صحافی بھی ہیں جنہیں کوئی نشان امتیاز نہیں دیا گیا ،ان کی روحیں بھی منتظر ہونگی ،کبھی فرصت ہو تو انہیں بھی یاد کر لیں ،جنہوں نے کبھی کوئی لفافہ قبول نہیں کیا ،ایک ستائش تو ان کا حق ہے ہی !
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker