ایم ایم ادیبکالملکھاری

گمان ، قیاس اور بات کا بتنگڑ ۔۔ ایم ایم ادیب

بس بات بنانے کا ڈھنگ آتاہو ،بات میں سے بات نکلتی چلی جاتی ہے،گمان،قیاس اور اندازے درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی،گھر سے نکلی بات کی نہیں زبان سے نکلے الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے ،انہی کو تولا جاتا ہے ،جان بوجھ کر ،یا شرارت کے طور پر وڈیو فیس بک پر چڑھادی گئی،سادہ سی گفتگو کو کتنے لبادے اوڑھادیئے گئے،خواہ مخواہ کی بھد اڑانا،لکھنے والے کو تو بات کا ایک سِرا چا ہیئے ہوتا ہے ،آگے تو خیال کی رعنائیاں ہوتی ہیں ،قلم کا کمال ،ذہنی اختراع کی کارستانیاں ،ورنہ بات توسادہ ہی تھی،ایسے ہی بتنگڑ بنا دیا گیا۔
یونہی ہر آہٹ پہ گر دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھنا یارو یہی ہوگا کہ مر جائیں گے ہم
عمران حکومت کو یہی عارضہ لاحق ہے کہ ذرا سی آہٹ پر کان کھڑے ہوجاتے ہیں ،وسوسوں ،واہموں اور خدشات کے در پے در پے کھلتے چلے جاتے ہیں ،معاملے کی نوعیت اور حسّاسیت کو قابلِ اعتنا گردانا ہی نہیں جاتا،نہ نتائج کی تباہ کاری کا اندازہ لگایا جاتا ہے،ہر ایک اپنی رائے کو صائب سمجھتا ہے۔
اب کیا ہوا جو چوہدریوں کے گھر سینیٹ الیکشن کی تیاری سے متعلق ایک میٹنگ ہو گئی،کشادہ دسترخوان والوں کے در تو ہر لحظہ کھلے رہتے ہیں ،آنے جانے والوں پر پابندی ہوتی ہے نہ کسی بھی قبیل کے آدمی پر ،اور یہ چوہدری تو شروع دن سے مرنجاں مرنج مانے جاتے ہیں ،گو ان کی سیاست ہمیشہ اقتدار کے کوچوں میں پلتی بڑھتی رہی ہے،مگر ان کی شرافت اور سادگی پر حرف گیری کم کم ہوتی رہی ہے ،یہ دھیرے دھیرے چلتے ہیں اور سنبھل سنبھل کر قدم رکھتے ہیں ۔ خود کم پھسلتے ہیں اور پھسلنے والا آمر ہی کیوں نہ ہو اسے تھام لینے میں عار محسوس نہیں کرتے ،اسی و صف کی بِنا پر کوئی بھی بلا جھجک ان کے آستانے پر حاضری میں قباحت نہیں سمجھتا ،چوہدری صاحبان عمران حکومت کا حصہ ہیں ،ان کی سیاسی حکمت عملی اپنی رہی ہے اسی پر صاد کر کے یہ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں ،کسی رکاوٹ پر مزاحمت بھی ان کا شیوہ نہیں رہا،سیدھی انگلی سے گھی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ،نہ نکلے تو بھی ٹیڑھی انگلی سے اجتناب ہی کرتے ہیں ،سپردگی پر قناعت کر لینا بھی انہیں خوب آتا ہے،چوہدریوں کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ جس کا دامن تھامتے ہیں جب تک جھٹکا نہ جائے چھوڑتے ہرگز نہیں ،ایوب خان سے لیکر آمر مشرف تک ان کی تاریخ یہی بتاتی ہے ،شریفوں کے ساتھ نبھاؤ میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی ،ہاں مگر شریفوں کی یہ روایت رہی ہے کہ ترکِ تعلق میں رسوائی کا دھیان ذرا نہیں رکھتے،ہر بندے کی قیمت کا اندازہ لگانے میں لگے رہتے ہیں ،خلوص و وفا یا کارکردگی ان کے لئے کسی اہمیت کی حامل نہیں رہی،جو ان (شریفوں)کے گھنے گیت گائے وہی گھنا پائے ان کی پالیسی رہی ہے ۔
قدر پھلاں دی بلبل جانڑے صاف دماغاں والی
وہ(شریف برادران) صاف دماغ کبھی نہیں رہے ،نہ صاف دل ،مطلب کی اور مفاد کی یاری رکھتے ہیں ،جہاں انہیں اپنا مطلب ڈولتا نظر آئے تو نظر چرانے میں دیر نہیں کرتے ،اسے عرفِ عام میں بدلحاظی کہتے ہیں ،جو چوہدریوں میں نہیں پائی جاتی ،بہر حال چوہدریوں کی پوری سیاسی تاریخ اس درخت کی جیسی رہی ہے جسے روتا دیکھ کر معروف بزرگ حضرت سری سقطیؒ نے پوچھا’’ کس بات پر دل گرفتہ و دل گیر ہو اے شجرِ سایہ دار! تم تو ہر ایک کو ٹھنڈی چھاؤں مہیا کرتے ہو‘‘درخت نے آہ بھری اور زبانِ حال سے جواب دیا ’’اے سری!میرے اندر بہت ساری خوبیاں اور اچھائیاں ہیں ،لیکن میرے اندر ایک بہت بڑا عیب ہے کہ جدھر کی ہوا چلتی ہے میں اُدھر کو ڈول جاتا ہوں ‘‘۔
وہ جن کے دل و دماغ اس بد گمانی میں مبتلا ہیں کہ میل ملاپ کی ان محافل کے نتیجے میں وزیر اعلیٰ بزدار کی صحت پر کوئی اثر پڑے گا وہ اپنی دانش کا احتساب کریں ،نہ عثمان بزدار کمزور ہیں نہ چوہدری ان کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کسی سازش میں مبتلا ،حالات جس ڈگر پر جارہے ہیں وہ اس امر کے متقاضی ہیں کہ سیدھی سمت کو چلنے والوں کی راہ میں وسوسوں کی دیواریں کھڑی نہ کی جائیں ،جو جس کا کام ہے اسے کرنے دیا جائے ،اتصال کی راہ ہموار ہورہی ہے ہونے دیں ۔سب اپنے اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں ،ابھی کسی کے پاؤں تلے سے زمیں نکلنے کے امکانات نہیں ہیں ،یوں بھی پاؤں تلے سے زمین نکلنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سر سے آسمان بھی چھن جائے گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker