ایم ایم ادیبکالملکھاری

پنجاب پولیس راج دھانی۔۔ایم ایم ۔ادیب

مرض ایک ہوستو ڈاکٹر نبض پر انگلی رکھتے ہی پتہ لگا لیتا ہے ،دوا تجویز کرنے میں دیر نہیں کرتا اور اگر مریض کا وجود بہت ساری بیماریوں سے نبرد آزما ہوتو ڈاکٹر اس کے لئے سرِ دست دوا تجویز کرنے کی بجائے لیبارٹری ٹیسٹ کرواتا ہے کہ یہ فیصلہ کر سکے پہلے کس مرض کا علاج کیا جائے ،یوں دفعتاً کی بجائے ایک ایک کرکے تمام بیماریوں کا درست علاج کرتا ہے۔


ملک کا بڑا صوبہ بہت سارے وائرس اپنے جسد میں سمائے ہوئے ہے ،رشوت کا وائرس،بدعنوانی کا وائرس ،تعصب وفرقہ واریت کا وائرس،ایک دوسرے کے حقوق غصب کرنے کا و ائرس اور سب سے بڑھ کر پولیس تشدد اور بہیمیت کا وائرس۔ان کے علاوہ بھی بے شمار وائرس ہیں جو حکمرانوں کی آنکھوں سے یکسر اوجھل ہیں اور اس وقت تک اوجھل رہیں گے جب تک اجتماعی نظم کی بصیرت کا فقدان ہے۔
اجتماعی نظم طرز حکمرانی کا وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی ضرورت جز وقتی نہیں کل وقتی کی حیثیت رکھتی ہے ۔یہ وہ نسخہ ہے جو قرآن و حدیث کی کتب میں پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے،مگر اس نسخہ حکمت کا ادراک ناں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کا نعرہ لگانے والی حکومتوں کو تھا اور ناں ریاست مدینہ کی رٹ لگانے والی حکومت کو ہے اور یہ بصیرت بصارت سے تہی دامن ہونے کا کامل ثبوت ہے۔


پنجاب ملک کی اٹھاون فی صد آبادی پر مشتمل صوبہ،جس کے دامن میں ڈھیروں محرومیاں پل رہی ہیں ، علاقائی خود مختاری کی تحریکیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں ۔ دہشت گردی کے بموں کا پھٹ جانا معمول کا حصہ ہے ،جس کی وجہ سے بد امنی اور عدمِ تحفظ کا احساس فروتر ہوجاتا ہے جبکہ ان دنوں صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ پولیس گردی ہے ،یوں لگتا ہے جیسے بھارتی فورس مقبوضہ کشمیر سے پنجاب میں در آئی ہواور مرد و زن کا فرق رکھے بغیر جا بجا ظلم و تشدد اور بہیمیت کا بازار گرم کئے ہو۔خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان میں اس طرز کی پولیس دہشت گردی کم ہی پائی جاتی ہے ،مگر پنجاب وہ بد قسمت صوبہ ہے جس کے چھوٹے بڑے شہروں میں صنفی لحاظ رکھے بغیر پولیس کی بر بریت پورے زور سے جاری ہے اور اب تو چھوٹی عمر کے بچے بھی بہیمیت کی اس لہر کی لپیٹ میں ہیں ۔
حاکم پنجاب عالم پناہ وزیر اعلیٰ اپنے عشرت کدے تک محدود ہیں ،خادم اعلیٰ شہباز شریف کے زریں دور میں بھی پولیس اتنی ہی منہ زور تھی اور پولیس گردی کے واقعات یونہی ظہور پذیر ہوتے تھے ،مگر وہ سارے کام مئوخر کر کے مظلوم و مقہور کی چوکھٹ پر جاکھڑے ہوتے اور تسلی و تشفی کے لفظ نچھاور کرنے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت کا بھی اعلان فرماتے۔
آج عالم یہ ہے کہ ہر گلی میں میں پولیس اہلکاروں کی وحشت کی داستانیں بکھری پڑی ہیں ،وزیر اعلیٰ عثمان بزدار انتظامی بے عملی پر فقط حیرت زدہ ہونے کے علاوہ سوا کسی بڑی پیش رفت پرمائل دکھائی نہیں دیتے۔
دور پار محروم و پسماندہ علاقے سے اٹھا کر خلعت شاہی پہنائی جانے کی حیرانی سے باہر آئیں تو سیکھ پائیں کہ محکوموں کے حقوق کی پاسداری کے کیا قرینے ہوتے ہیں ،سیاست کار ہیں کہ بیان بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں ،اجتماعی نظم کا کلیہ سب کی سمجھ سے بالا ہے ،حکومتی سطح پر اس مسئلے کا واحد حل مشیروں کی کھیپ بدلنا ہے جو نظم و نسق کے رخ کے تعین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،اس طرح کی صورت حال کا مقابلہ اپوزیشن اراکین کے تعاون کے بغیر مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے،یوں ذمہ داری کا بوجھ دو کندھوں پر پڑجاتاہے اور تنقید کے تیر بھی ایک سمت نہیں گرتے ۔


اجتماعی نظم میں پہلا مرحلہ تشدد کی روش پر چلنے والے پولیس اہل کاروں کے لئے کڑی سزائو ںکا فوری قانون بنانا ہے کہ جس کے ذریعے ملوث اہلکاروں کو فوراً کیفر کردار تک پہنچایا جائے،اس سلسلے میں آر پی او،ڈی پی او اور دیگر افسران کواس امر کا ذمہ دار قرار دیا جانا چاہیے کہ ان کے زیر سایہ علاقوں میں اس نوع کا واقعہ کیوں پیش آیا اور انہیں فوری تزلی کی سزا ملنی چاہیے ، حالیہ دنوں میں ایک واقعہ ایسا بھی پیش آیا کہ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے ایک ایمبولنس گاڑی کی چابی قبضہ میں کر لی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود مریض تڑپ تڑپ کر مر گیا،یہ بے حسی کی انتہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے ناکافی ہے۔
اجتماعی نظم کا تعلق صرف اس حد تک نہیں بلکہ وفاق اور چاروں صوبوں کے حکام کا اس پر گہری سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے ،یہ نہ ہوا ،یا اس عمل میں تاخیر بھی روا رکھی گئی تو انارکی طول پکڑ جائے گی ،ملک کے طول وعرض میں ناں صرف پولیس بلکہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت کا طوفان برپا ہوجائے گا ۔وطنِ عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے ان کا تقاضہ یہی ہے کہ اندرونی انتشار پر بر وقت قابو پانے کا مشکل سے مشکل ترین فیصلہ بھی اپوزیشن کی ہم آہنگی اور یگانگت کے ساتھ کیا جائے کہ وقت سرعت رفتاری کے ساتھ ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے حکومتوں کی رٹ شدت کے ساتھ کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔
(نشکریہ: روزنامہ اوصاف)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker