2018 انتخاباتایم ایم ادیبکالملکھاری

دیکھ لیں ہوائیں بغاوت پر اتر آئی ہیں : کرچیاں / ایم ایم ادیب

بائیس ،تیئیس سال کی مشقت آمیز جدوجہد کے بعد تحریکِ انصاف کا اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو جانا اکیسویں صدی کا عظیم معجزہ ہے۔ مال و دولت کے پہاڑ اپنے جِلو میں لئے ،نخوت ورعونت کے ساتھ ایک طویل عرصہ اقتدار کا جھولا جھولنے والوں کو ابھی بھی اپنی شکست کا یقین نہیں آرہا ،اس پر مستزاد شکم پرور ہارے ہوئے بتوں کا ٹولہ ،جیت جانے والوں کو گمراہ کرنے کی سعیء موہوم میں مبتلا،اپنے برے انجام کی سزا دوسروں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہوا، یہ سب حقیقت حال کے وہ کرشمے ہیں جو آئیندہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے والوں کے لئے نوشتہء دیوار ہیں، اِن پر یہ راز طشت از بام ہو چکا کہ اب جمہور کا مزاج بدل چکا ہے ،اب’’ میثاقِ جمہوریت‘‘ نہیں ’’ میثاقِ جمہور ‘‘ کا وقت آن پہنچا ہے ۔ دلیلِ صبح چمکتی ہے ،ستاروں کی تُنک تابی افق سے آفتاب ابھرا ،گیا دورِ گراں خوابی حسین خواب دکھا کر تعبیر سے محروم رکھنے کا دور ختم ہوا ،اب جودکھایا گیا ہے وہی مال بیچنا پڑیگا،اوپر اچھا اور نیچے برا مال رکھ کر بیچنے کی رُت تمام ہوئی،چلیں ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھنے والے نبی آخرالزماں ﷺ کی ایک مثال یاد کرتے ہیں ، کھجوروں کا ڈھیر لگا ہوا ہے ،سب ایک سی دمکتی ہوئی ،تروتازہ ،کہ نبی رحمت ﷺ کے ہاتھوں کے لمس کی آشنائی سے سرفراز ہیں ،ان کے رس،ان کی چاشنی اور مٹھاس میں کمی بیشی کا سوال ہی بعید از قیاس ہے کہ سبھی جانتے ہیں ،ایک بار نبی کریم ﷺ نے ایک پیالے کو منہ لگا کر پانی پیا تھا،پھر ایک پورے قافلے نے اسی پیالے سے جی بھر کر اپنی اپنی پیاس بجھائی، مگر پیالہ تھا کہ پھر بھی ناک و ناک بھرا رہا۔ گاہک آیا تو فخرِ دو عالم ﷺ نے کھجور کے ڈھیر کو دو حصوں میں تقسیم فرما دیا ،ایک کے نرخ کم ایک کے زیادہ،گاہک حیران بظاہر دونوں ڈھیر ایک سے اور قیمت میں نمایاں فرق،استفسار کیا تو فرمایا’’کچھ تازہ ہیں اور کچھ گیلی،پانی لگی‘‘گاہک نے تحسین و تبریک بھری ایک نگاہ چہرہء انور پر ڈالی اور مال خرید لیا ،مال کے بدلے رقم ہی نہیں ،دل بھی محبوبِ خداکی نذر کردیا۔ اُس ریاست کا نمونہ بنانا ہے ،پاکستان کو ،تو سُن لیں ،یاد رکھ لیں ،کہ نیت صاف اور ارادے مستحکم رکھنے ہونگے ،راہ کی سب دیواریں خود بخود گرتی چلی جائیں گی ۔ منزلیں خود ہی منزل کا پتہ دیتی ہیں کامرانی شرط ہے چلتے رہنا ربع صدی برابر محنت و کاوش ،زنبیل میں کھوٹے سکوں کی بھر مار ،مگر ،ہاں مگر پاکیزہ دل و دماغ،کچھ کر دکھانے کی سچی لگن، پھر کچھ غم نہیں ،اسے لڑنا خوب آتا ہے،حالات کے سنگِ گراں سے سر ٹکرانا بھی جانتا ہے ،آخری لمحے تک جیت کی امید دل میں لے کر ہار جانے والا ،کپتان،اگلے ہی میچ میں بدلہ چکا دیا کرتا تھا،اب بھی وہ نا امیدی کے سایوں سے نہیں گھبرائے گا۔اِن شاء اللہ وہ لوگ جو گزشتہ وزراء اعظموں کے انجام سے عمران خان کو ڈرا رہے ہیں اور الیکشن 2018ء پر پے در پے سوالیہ نشان لگا۔ رہے ہیں ،انہیں عقلِ کُل بننے کی بجائے ’’میں ‘‘ کی معراج سے ذرا نیچے آکر اپنی سوچ کے مرقعے تراشنے چاہئیں، یہی لوگ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی حکومت پر انگلیاں اٹھاتے نہیں تھکتے تھے،مو جودہ انتخابات نے ان کے ہر دعوے کی قلعی کھول دی اور تحریک انصاف کو مستقبل کی حکومت بنانے کے لئے خود مختار بنا دیا،اب اسے جماعت اسلامی کے ہاتھوں استعمال ہونے کی کوئی محتاجی نہیں ،یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف نے جن تبدیلیوں کی بنیاد رکھی وہ اس خطے کی نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہیں۔وہ جن کو گمان ہے ،وہ اپنی تحریروں سے ہوا ئوں کے رخ تبدیل کر دیتے ہیں،ان کی ’’کمان‘‘ سے نکلا کوئی تیر خطا نہیں ہوتا‘ان کے اندازے پتھر پر لکیر ہوتے ہیں ،مصحفِ تاریخ میں ان ہی کے لکھے الفاظ سنہری ابواب میں جگہ پائیں گے،وہ دیکھ لیں ہوائیں بغاوت پر اتر آئی ہیں ،وہ متقی اور پرہیز گاروں کے پردے چاک کرنے لگی ہیں ۔ اب عمران خان ہوا کے دوش پر سوار ہو چکا،جب حالات کی باگیں وہ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے لیگا،تو گمان رکھنا چاہئے ،وہ ملک و قوم کو بہتری کی راہ پر ڈال دیگا۔ان شاء اللہ ستر برس ہوئے ہمیں خواب پر خواب دکھائے گئے،مگر تعبیر کے راستے کے کانٹے کسی نے نہ چُنے،ہر ایک امید کی چوسنیاں دیتا رہا،پی پی پی نے سو روزہ ایمر جینسی منصوبے کا اعلان کیا جو نقش بر آب ٹھہرا ،شریفوں نے اندھیروں سے نکالنے کا قوم کے ساتھ عہد باندھا ،مگر ایک یہی نہیں قوم کوبہت ساری اور تاریکیوں کی نذر کردیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker