ایم ایم ادیبکالملکھاری

ریاست مدینہ ، یزید اور ” شودا عثمان بزدار“ ۔۔ ایم ایم ادیب

خدا خوفی تو ختم ہوئی ہی تھی اب ضمیر کے کچوکے سہنے کی بھی انسان کو عادت سی ہوگئی ہے ؟ وہ اِ نہیں چند لمحوں کی دشواری ہی خیال کرتا ہے ،پھر جیسے اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اس کے ضمیر پر کوئی چوٹ لگی تھی،وہ اگلے جھوٹ اور فریب کی تیاری میں
لگ جاتا ہے ۔
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایک معاصر اخبار کے پاپولر کالم نویس نے شراب لائیسنس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر اتنا گھناﺅنا اور نفرت انگیز کالم کیسے لکھ دیا ،انہوں نے ایک پل پیچھے مڑکر دیکھا ہی نہیں نہ اوپر خدا کے خوف سے لرزے ،انہوں نے جو معلومات فرہم کیں وہ بھی ڈی جی ایکسائز سے حاصل کردہ تھیں جن کے بل بوتے پر انہوں نے وزیر اعلیٰ پر فرد جرم ہی عائد کردی ۔یہ معیار باقی رہا ہے ہمارے معاشرے میں حرمتِ قلم کا!
جہاں تک برادرم خالد مسعود کی بات ہے اس کا تعلق تو سرائیکی عصبیت کے حوالے سے ہے کہ انہیں ” شودا عثمان بزدار“ اچھا نہیں لگتا ،جو ایک بے زبان سا اللہ لوک آدمی ہے اور اپنے یا اپنے صوبے کے نفع نقصان کی کم کم ہی خبر رکھتا ہے ۔مگر
بزدار صاحب کے جو قریبی ہیں وہ تو کچھ اور ہی رائے رکھتے ہیں ۔ہمارے دوست ملک ظفر کھوکھر جو وزیر اعلیٰ کے ہم جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اکثر ان کے ذکر پر ایسی مبالغہ آرائی کرتے ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانے پڑتے ہیں ، ظاہری سنجیدگی اور معصومانہ پن اور سنی سنائی کے درمیان بہت سارا بعد دکھتا ہے ۔ایسے میں عثمان بزدار پر ترس سا آنے لگتا ہے کہ ایسے بھی ہیں مہرباں جو خود کو ان کی قربتوں کا ساتھی بھی کہتے ہیں اور ان کے بارے حسن ظن ذرہ برابر نہیں
رکھتے۔
شراب لائیسنس کے اجراءکے حوالے سے جو بھد اڑائی جارہی ہے تعلّی سے لبریز ہے اور سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر جو زور اس گتھی کو سلجھانے کے لئے لگا یاجا رہا ہے اور مطلقاََ وقت گنوایا جارہا ہے اس وقت میں پنجاب کے اصلی مسائل بارے سوال کیوں نہیں اٹھائے جاتے ،ملک کے سب سے بڑے صوبے کے حاکم اعلیٰ سے یہ کیوں نہیں پوچھاجاتا کہ آپ نے سماجی انصاف کے نام پر لوگوں سے ووٹ لئے مگر آپ کے صوبے میں عدل و انصاف کی عملداری دکھائی نہیں دیتی،آپ نے اپنے صوبے کے بےروزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع مہیا کیوں نہیں کئے؟آپ کے چاروں اور غربت افلاس کے ڈیرے ہیں ،آپ کے صوبے میں صحت وصفائی کا نظام درست نہیں ،طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے بارے آپ کی کوئی ایفرٹ نظر نہیں آتی ،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا مسئلہ روزانہ کی بنیاد پر الجھتا چلاجارہاہے ۔لگتا ہے جس طرح خادم اعلیٰ نے پولیس میں پنج پیارے پال رکھے تھے آپ کے بارے بھی پولیس کے حوالے سے کوئی ایسا ہی تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔
مانا کہ آپ شراب لائیسنس کے جرم میں ملوث نہیں کہ ریاست مدینہ کے سربراہ نے آپ کے حق میں گواہی دی ہے،مگرگڈ گورنس بھی تو آپ کے صوبے میں کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔آپ کوئی بڑے جاگیر دار کبھی نہیں رہے ہاں بڑے زمیندار ضرور ہیں تو پھر آپ کی راج دھانی میں کسان خوش کیوں نہیں ہے ،اپنے آپ کو بے آسرا کیوں محسوس کرتا ہے ۔
یہ پڑھ کر خوشی ہوئی ہے کہ آپ نامور کالم نگار کے چرنے چھونے کے لئے ان کے آستانے پر سلام بھرنے جاتے ہیں ، پھر ان سے بہتر حکمرانی کا نسخہ بھی تو لایا کریں ۔وہ ہر روز وزیر اعظم سے لیکر بیشتر وزیروں مشیروں کو مطعون کرتے ہیں، نابغہءروزگار بیوروکریٹس پر کڑی تنقید کے ڈونگرے برساتے ہیں آئے دن ”چوراہے “پر ان کے پوتڑے دھوتے ہیں۔ ان کے قلم سے بڑے بڑے صاحب کردار اور جبہ و دستار والے بھی محفوظ نہیں ۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے سیکھنے کا کوئی نتیجہ بھی تو صوبے اور آپ کے وسیب تک پہنچنا چاہئے ۔بے سود کی تو سب کتھا گت ہی ہوگی جو کہانیوں میں سندر لگتی ہے ،حقیقت تو ماورا شے کا نام ہے ۔حکمرانی سے ریلیٹڈ یہ بات اب نوکروڑ سے زائد آبادی کے مطلق العنان (جان بوجھ کر یہ لفظ استعمال کر رہاہوں) حاکم کو دوسال میں سمجھ آہی جانی چاہئے کہ ڈیروں کی پنچائتوں کے سرپنچوں کے سائے تلے پلے پر یہ قرض رہ جائے گا اگر صوبے اور وسیب کی جھولی کانٹوں سے بھر کر واپس لوٹ گیا ۔آپ سے تو فقط ہم نے ہی نہیں وزیر اعظم نے بھی بہت ساری امیدیں لگا رکھی ہیں۔جہاں تک شہری آبادیوں ،چھوٹے کاروباری طبقے اور چھوٹے کسانوں کا تعلق ہے ان کی مایوسی میں اضافہ ہوتا چلاجارہاہے ،ان کے بارے میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نہ آپ سوچ رہے ہیں ،نہ ہی نوزائیدہ ریاست مدینہ کے والی عمران خان ،جنہوں نے یہ ذمہ داری نبھانے کا وعدہ کیا تھا ۔بہر حال ابھی تک تو اس ریاست کو سپاہ دانش کندھے دیئے کھڑی ہے ،اگر یہ بھی چاروں شانے چِت ہوگئی تو مورخ یہی لکھے گا کہ ایک بار پھر یزید نے ریاست مدینہ پر قبضہ کرلیا مگر شکر یہ ہوا کہ اس نے گھوڑے نہیں دوڑائے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker