2018 انتخاباتایم ایم ادیبکالملکھاری

ریاستِ مدینہ کی راہ پر : کرچیاں / ایم ایم ادیب

ریاستِ مدینہ کے والی نبی آخرالزمان ﷺ نے فرمایا ’’ اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے ‘‘ نیّت اس وقت طشت از بام ہوجاتی ہے ،جب عمل کا نتیجہ سامنے آتا ہے ۔ تحریکِ انصاف کامل یقین کے ساتھ حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہے، حکومت بنانی بھی چاہئے کہ عوام نے مکمل شرح صدر کے ساتھ تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔کیوں نہ دیتے کہ ایک صدی ہونے کو آئی ،پے در پے حکمران بدلے ،قائد اعظمؒ کے بعد ایک بے چینی اور اضطراب کا دورِ بے اماں شروع ہوا ،مسلم لیگ ایسی حاملہ عورت کا روپ دھار گئی جس کا لیگیں جننے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ رہا ،سیاست مکروہ کھیل بن گیا،سیاستدان بے ضمیر کھلاڑی ،جو ہر قدم پر بِک جانے والا مال ٹھہرے ،نظریاتی سیاست کا نظر آنا محال ہوگیا ،بس سیاسی منڈیاں ہی سجی رہیں چاروں وانگ ،یوں کہ عوام کی نگاہیں ہر بار فوج کی طرف اٹھتیں ،پھر کوئی نا کوئی جرنیل نجات دہندہ بن کر اقتدار پر شب خون مارتا اور سال ہاسال اقتدارکے مزے لیتا ہوا اپنے انجامِ بد کو پہنچتا ۔ اس اندوہناک سلسلے کے بیچ ذوالفقار علی بھٹو نے نظرئیے کی بنیاد پر سیاست کرنے کی پُر خلوص کوشش کی ،اُسی کے حسین دورِ حکومت میں جمہوریت کو پنپنے کا موقع ملا اور صوبہ سرحد میں مینڈیٹ کا لحاظ رکھتے ہوئے مولانا مفتی محمودؒ کو وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی من مانی کے مطابق حکومت بنانے دی گئی ،وہ چاہتے تو سرحد کو ریاستِ مدینہ کی مثل بنا دیتے،وہ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کی طرح راتوں کو جاگ کر دارالحکومت کی گلیوں کا گشت فرماتے،بیت المال جیسا ادارہ بنا کر خدمت کی عظیم تاریخ رقم کرتے،دینی مدارس کے نصاب کو اس قابل بناتے کہ جدید نسل کے لئے کشش رکھتا ،دینی درس گاہوں میں جدید علوم کی جگہ بناتے،گویا کہ صوبہ سرحد کو ایک مثالی صوبہ بنا جاتے ، مگر۔۔! 1977ء کے انتخابات پر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ،جس کے نتیجے میں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی گئی جو ’’تحریکِ نظامِ مصطفی‘‘ کا رُخ اختیار کرگئی،عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی،وزیر اعظم بھٹو نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ پر خلوص مذاکرات کئے جن کے نتیجے میں بھٹو حکومت اور پاکستان قومی اتحاد میں ایک فارمولا طے پا گیا ،مگر آمر ضیاء الحق اسی رات شب خون کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوگیا،بعد ازاں یہ راز افشا ہوا کہ قومی اتحاد ہی کے ایما پر فوجی آمر نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا اور سب سے زیادہ وزارتیں اور نوکریاں جماعت اسلامی کے حصے میں آئیں۔ پھر اس کے بعد اقتدار کی کرسی میوزیکل چیئربن گئی،جس کے گر دسیاستدانوں اور جرنیلوں کی خوب دوڑ لگی ،اس کھیل میں سب سے زیادہ فائدہ نواز شر یف خاندان کو ہوا ،جس نے بھٹو دور میں اپنی قومیائی گئی صنعتوں کا معاوضہ کئی ہزار گنا حاصل کیا ،اور اس غریب خاندان کا پیٹ 2018 ء تک نہیں بھرا ،پیٹ اگر بھرا بھی تو آنکھیں بھوکی رہیں،اسی دوران متحدہ مجلس عامل کو ایک بار پھر صوبہ سرحد پر حکومت کرنے کا موقع ملا ،اب کی بار بھی اکرم درانی دولت سمیٹنے کے سوا کچھ اور نہ کر سکے ،ساری شکم پرور قوتوں نے اپنے خاندانوں سمیت شہرت و ثروت کے گل چھرے اڑائے ،مگر خطے کے عوام اور دینی مدارس کی فلاح وبہبود کے زمرے میں کچھ نہ کیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختون خواہ میں حکومت بنائی تو خطے کے عوام کا مزاج ہی بدل کے رکھ دیا ،پولیس، تھانہ کچہری اور پٹوار کے نظام کو تو بدلا ہی ،دینی مدارس کی حالت کو بھی یکسر بدل دیا ،زکوٰۃ و صدقات اور خیرات پر چلنے والے مدارس کے لئے پی ٹی آئی حکومت نے باقاعدہ میمورینڈم پاس کیا،جس کے مطابق حقانیہ تعلیم القرآن سکول کو حقانیہ ڈگری کالج کا درجہ دیا جانا‘حقانیہ انسٹی ٹیوٹ فارلینگویجز میں فارسی ،عربی،اگلش،فرنچ اور چائینیز زبانوں کا اجراء‘ حقانی ٹیچر ٹریننگ انسٹٰی ٹیوٹ کا اجرا‘ ریسرچ سنٹر کا اجراء وغیرہ۔واماندہ و درماندہ اس طبقے کی حالتِ زار بدلنے کی سزا کے طور پر بعض طبقات نے عمران خان کو طالبان خان کا نام دیا ،بہر کیف خیبر پختون خوا کے عوام نے الیکشن2018ء میں تاریخی مینڈیٹ سے ہمکنار کیا ،تاکہ تمام امور میں بہتری کے فیصلے کرنے میں حکومت خود مختار ہو۔اب جبکہ تحریکِ انصاف ایوانِ اقتدار کی دہلیز پر کھڑی ہے ،اس کے قائد اور مجوزہ وزیر اعظم نے مختصر کابینہ کا عندیہ دیکر قوم کے دل میں کچھ اور جا پا لی ہے،جس مقام پر اللہ اس کو اپنے بندوں کے رائے حق دہی سے پہنچانے والا ہے وہ مقام و مرتبہ اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کی عمارت اپنی زبان سے نکلے سچ کی بنیادوں پر کھڑی کرے ،اسی میں قوم کی اور تحریکِ انصاف کی بہتری ہوگی،یہاں ایک اور بات جس کا اہتمام ہو جائے تو اقتدار کے کوچوں میں برپا شور تھم جائے گا کہ ضمنی الیکشن میں مولانا کے مقابلے میں اپنا امید وار کھڑا نہ کرے موصوف کشمیر کمیٹی کی چیئرمینی کے مزے اڑانے میں لگے رہیں اور وزیر اعظم عمران خان پورے انہماک کے ساتھ اپنے منشور کے مطابق عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کر دکھائیں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker