ایم ایم ادیبتجزیےلکھاری

افواہیں اور حقائق : سندھ میں کیا ہونے والا ہے؟ ۔۔ ایم ایم ادیب

پی پی پی ڈنک نکلا وہ بھڑ ہے جو بے ضرر ہونے کے باوجود بھی ہمیشہ ضرر رساں قوتوں کا ہدف رہا ہے کہ وہ قوتیں اس کی طاقت سے خوفزدہ رہتی ہیں۔وہ ن لیگ ہو یا اس کی کوئی اور اتحادی جماعت،اس کے در پئے آزار رہنا سبھی کا شیوہ رہا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا کڑوا سچ اور عوامی مزاج سب پر گراں گزرتا ہے۔
ایک بد قسمتی پی پی پی کی یہ بھی رہی ہے کہ یہ اعتماد کرنے بارے دریادلی سے بڑھ کر کسی جذبے سے سرشار ہے،اسی اندھے اعتماد نے بھٹو کو سولی پر چڑھوایا، یہی اعتماد ہی تھا جس نے بے نظیر بھٹو صاحبہ کی جان لی۔ محترمہ بینظیر بھٹو اپنے پریس سیکریٹری کامران شفیع کا کہنا مان کر اس وقت کے میڈیا کی گرسنگی کا مداوا کردیتیں توصدر اسحاق خان کے دست خوں چکاں سے بچ جاتیں،یا شاید ازل سے بھٹو خاندان کے لہو کی پیاسی قوت انہیں پھر بھی معاف نہ کرتی جس نے بہر حال صدر آصف علی زرداری کی سیاسی حکمت عملی کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے انہیں پانچ سال پورے کرنے دیئے۔ہاں مگر پی پی پی کا ستارہ گردش سے کبھی محفوظ نہیں رہا،جو اس کی اچھی بھلی چلتی حکومت پل بھر میں نگل لیتی ہے وہ اٹھاون بی ہو کہ آرٹیکل 245اس کی حکومت کو ہڑپ کر لینے میں دیر نہیں لگاتے،بھلے پی پی پی سندھ کوسیدوں کی پناہ میں دیئے ہوئے ہے کہ آل رسول ﷺ پر ہاتھ ڈالنے والے کچھ نہیں تو ذرا سی دیر کو کپکپا تے ضرور ہیں،پھرسید مراد علی شاہ کی صورت میں پی پی پی نے صوبے کو واقعتا ایک اچھا حاکم دیا ہوا ہے جو انتہائی پڑھا لکھا، صلح جُو اور معتدل مزاج انسان ہے،جس نے کبھی وفاق سے دوچار ہاتھ کرنے کی نہیں سوچی،جب بلایا سر کے بل پہنچا۔
پی ٹی آئی کے وزیر اعظم عمران خان دو سالہ اقتدار کے دوران دوبار کراچی کے دورے پر گئے اور دونوں بار وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ان کا شاندار اور ولولہ انگیز استقبال کیا،پھر بھی نہ جانے ان پر وزیر اعظم کا اعتبار کیوں ڈانواں ڈول ہے کہ ان کی حکومت کو آرٹیکل 245کی بھینٹ چڑھانے کاسوچ رہے ہیں۔
اب خداجانے یہ سوشل میڈیا کی بے پر کی اڑائی ہوئی خبر ہے یا ایسی کسی صورت گری کی تیاری ہورہی ہے کہ جس کے مطابق سندھ فوج کے کنٹرول میں دیدیا جائے گا یا گورنر راج لگاکر پی پی پی کو دیوار سے لگا دیا جائے گا۔ہر دو صورتوں میں دور دور تک حکمت و دانش تو کیا کوئی سیاسی مصلحت اور منفعت بھی دکھائی نہیں دیتی۔وزیر اعظم کے ہمنام گورنر اس قابلیت کے حامل نہیں کہ ڈھیروں مسائل میں گھرے فقط دارالخلافہ سندھ ہی کو سنبھال سکیں اور فوج جن نازک حالات سے نبرد آزما ہے اس کا صوبے کی باگ ڈور ہاتھ لیناصوبے ہی کو نہیں پورے ملک کے جغرافیائی حالات کو تہہ بالا کرنے کے مترادف ہوگا۔فوجی قیادت اتنی بھی غیر سنجیدہ نہیں کہ وزیر اعظم کی ایک انتہائی سفاکانہ خواہش کوعملی جامہ پہنا دیگی۔
وزیر اعظم اپنی ضد اور بدخوئی پرپورے سیاسی نظام کو تل پٹ کرنے کی جس روش پر چل رہے ہیں اس نے ملکی معیشت کو پہلے ہی تباہ و برباد کر کے رکھا ہوا ہے اور کرونا کے جواز پروہ کوئی مزید سرپرائز دیکرخود کو اور بے دست و پا کر لیں گے۔گویا وہ اپنی جماعت پر مستقبل کے سارے راستے بند کر لیں گے،یوں ایک نسل کے سارے خواب لوٹ کر اس کے جادہء حیات میں کانٹے ہی کانٹے بچھا دیں گے۔
سندھ کی صورت حال بظاہر دوسرے صوبوں خصوصاََ پنجاب سے بدترنہیں دکھائی رہی کہ جس کی ذراذرا سی کل ٹیڑھی ہونے پر وزیر اعظم خود کندھا دینے لاہور پہنچ جاتے ہیں،مگر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی ہے کہ دو برس سے سنبھلنے ہی نہیں پارہی پچھلے کئی ماہ سے ان کی تبدیلی کی بشارتیں عام رہی ہیں،اب کے پیش گوئی کی کمان سے جو تیر نکلاہے اس پر پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کا نام جلی حروف سے لکھا تھا (واللہ اعلم باالصواب)سرِ دست سوال یہ ہے کہ سندھ میں کیا ہونے والا ہے؟؟؟کیا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ افواہ کہ ” کراچی شہر کو وفاق کے زیر انتظام فیڈرل ٹریٹی اور حیدر آباد کو سندھ کا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ؟“واقعی سچ ہے یا بس ایک افواہ!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker