ایم آر ملککالملکھاری

ایم آر ملک کا کالم۔۔قدیم رسمیں ،روایتیں اور رواج

ماضی میں پاکستان میں کئی اہم رسومات اور روایات جاری تھیں جو اب چند ہی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں یا پھر ختم ہو چکی ہیں،جیسا کہ سندھ میں ’’لاہوں ‘‘کی رسم بہت مشہور تھی۔ جس میں دلہن اور دولہا کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھا کر دونوں کے سر کو تین تین بار ٹکرایا جاتا تھا اس کے بعد ان کی تلی پر پیسے رکھے جاتے تھے، شہری علاقوں میں دونوں کو صوفے پر بٹھایا جاتا تھا، سندھ کے دیہی علاقوں میں دونوں کرولی پر بٹھا کر یہ رسم ادا کی جاتی تھی۔ بعض علاقوں میں یہ اب بھی جاری ہے۔اس رسم کا ثقافت سے تو تعلق ہے لیکن مذہبی اہمیت نہیں ہے ۔
جانوروں کی ہڈیوں سے پیش گوئی کرنے کی ’’مہارت‘‘ بھی نسل در نسل منتقل ہورہی ہےبہت سے لوگ چاند کو گرہن لگنے کے بعد ایک برتن لے کر اسے ایک چھوٹے پتھر سے بجایا کرتے تھے تاکہ چاند گرہن جلدی ختم ہو جائے
کھوبا ،کھوبی کی رسم
ایک رسم کھوبا کھوبی کی تھی۔ سندھ میں ایک اور رسم ہے جسے ’’کھوبا کھوبی‘‘ کہتے ہیں۔اس رسم میں بہت سے چاول لیکر اس میں ایک سکہ ڈال دیا جاتا ہے ۔ دولہا اور دلہن کے درمیان ڈھونڈھنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ اس رسم کا کوئی خاص مقصد نہیں ہوتا ایک اور سندھ کی رسم جو جنوبی پنجاب میں بھی پائی جاتی ہے جب دولہا اور دلہن کا نکاح ہوجاتا ہے دلہن اور دلہے کے بزرگ یا خواتین7 کھجوروں کو لیکر دلہن اور دلہن کے سر پر وارتی ہیں تاکہ وہ آنے والے وقت میں نظر بد سے محفوظ رہیں اس کے بعد ایک ایک کھجور کو دونوں فریقین کے 7 اطراف میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ایک اور رسم بھی ہے جس میں شادی کی تقریب کے بعد جب دولہا اور دلہن اپنے گھر روانہ ہوتے ہیں تو جس راستے پر جاتے ہیں اس راستے پر دلہن اور دولہا کے عازم سفر ہونے سے قبل ایک ناریل پھوڑا جاتا ہے تاکہ آنے والا وقت دونوں کیلئے مسرتیں اور شادمانیاں لیکر آئے چونکہ اس خطے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی خوشی کا موقع ہوتا ہے تو رقیب یا وہ لوگ جو اس خوشی میں شریک نہیں ہوتے کوئی جادو ٹونہ کرسکتے ہیں سو ان کو ٹالنے کیلئے ایسی رسومات کا سہارا لیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں شین خال یا سبز نقش کی قدیم روایت
سبز نقش جو کبھی پختون خواتین کی خوبصورتی کی علامت ہوتا تھا، معدومیت کا شکارہو چکی ہے ۔شین خال یا سبز رنگ کا نقش مستقل خوبصورتی کے نشان ہیں، جو نقطوں اور نمونوں کی شکل میں عام طور پر پختون لڑکیوں کے ابرو کے درمیان، ٹھوڑی اور گال پر نقشے جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں اس رسم یا روایت کو دراصل خود کو نظربد سے بچانے کے لئے ایک علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔پختون خواتین میں کسی وقت شین خال کا رواج بہت عام تھا لیکن آج کل یہ زیادہ تر صرف بوڑھی عورتوں یا پختون خانہ بدوشوں یا کوچی خواتین پر ہی دیکھا جاتا ہے۔شین خال کو اب بھی بہت سارے پختونوں میں خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ کچھ پختون خواتین آج کل کبھی کبھی خاص مواقعوں پر اپنے چہروں پر عارضی طور پر شین خال بناتی ہیں۔شاعروں نے بھی مختلف پشتو گانے اوراشعار میں خوبصورتی کے ان نشانات کی تعریف کی ہے جو پختون ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔
شین خال کو دیہی علاقوں میں، جہاں کسی قسم کی طبی سہولت میسر نہیں ہوتی وہاں پٹھوں اور جسم میں درد کے علاج کیلئے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ایک ہنر مند شخص کچھ سوئیاں لیکر اس جگہ پر بار بارمارتا ہے اور خون بہنے کے بعد پھر وہ اس جگہ پر کاجل کو جراثیم کش کے طور پر لگاتا ہے کچھ دیر بعد وہ جگہ سبز ہوجاتی ہے۔اس طرح کا علاج چین کے ساتھ بھی منسلک ہے جس کو ایکوپنکچر کہا جاتا ہے۔ ایکوپنکچر میں جسم کے اسٹریٹجک پوائنٹس پر جلد کے ذریعے انتہائی پتلی سوئیاں داخل کرنا شامل ہیں۔ روایتی چینی طب کا ایک کلیدی جزو ایکیوپنکچر عام طور پر درد کے علاج کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ایک اہم مفروضہ یہ بھی ہے کہ ایکیوپنکچر نیورو ہارمونل راستوں پر کام کرتا ہے، بنیادی طور پر آپ جسم میں مخصوص جگہوں پر انجکشن لگاتے ہیں اور اعصاب کو متحرک کرتے ہیں، اعصاب دراصل دماغ کو سگنل بھیجتے ہیں اور دماغ اعصابی ہارمون جیسے بیٹا اینڈورفنسز جاری کرتا ہے ۔چینی ایکیوپنکچر میں استعمال ہونی والی سوئیاں اگرچہ بہت باریک ہوتی ہے لیکن بعض اوقات وہ خون کی چھوٹی چھوٹی نالیوں سے ٹکراتی ہیں جس کی وجہ سے اس حصے میں معمولی چوٹ لگ جاتی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مٹ جاتی ہے لیکن شین خال کا نشان پوری زندگی رہتا ہے۔
شین خال کی روایت ہزاروں سال پرانی ہے، یہ خطہ جہاں پختون رہتے ہیں اور اونچی پہاڑوں سے گھرے ہوئے اس خطے کو خوبصورت لوگوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ پختون / افغان بہت خوبصورت لوگ ہیں۔ شین خال پختون قبائل خواتین کی پہچان رہی ہے۔ خواتین پیشانی پر گالوں کی ہڈیوں پر، گالوں اور ہونٹوں پر شین خال بناتی ہیں۔ پختون لڑکیاں شین خال اکثر شادی سے پہلے بناتی ہیں کیونکہ اس کے ساتھ کچھ توہمات بھی وابستہ ہے اور لوگوں کا ماننا ہے کہ شادی کے بعد خاتون شین خال بد قسمتی لاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے شوہر یا خاندان کے کسی دوسرے فرد کی موت واقعہ ہوسکتی ہے اس وجہ سے شین خال صرف شادی سے پہلے ہی خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔کچھ لوگ اپنے چھوٹے بچوں کے ماتھے پر شین خال بناتے تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اس سے اچھی قسمت آتی ہے اور یہ جلد کو لمبے عرصے تک جوان دینے میں مدد دیتی ہے۔
شین خال کو مریضوں بلخصوص علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا اور یہ دستور اب بعض علاقوں میں رائج ہے۔شین خال بنانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں، ماضی میں اس کام کے ماہر تقریباََ ہر گلی محلے میں پائے جاتے تھے لیکن اب شاذ و نادرہی ایک آدھ بندہ مل جاتا ہے۔شین خال بنانے والی عورت دو چار سوئیاں اکٹھی کرتیں اور چہرے کے اس مخصوص حصے کو آہستہ سے چھوتی جہاں شین خال بنانا مقصود ہوتا اور جب زخم سے خون نکلتا تو وہ اس پر کاجل مل لیتی، تقریباََ 8 گھنٹوں کے قریب زخم پر سرخی ختم ہوجاتی اور وہاں ایک داغ ظاہر ہوجاتا۔
پرانے وقتوں میں شین خال خوبصورتی کا ذریعہ تھا۔ افغانستان، بلوچستان، سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں پچھلے 60 سالوں سے زائد عمر کی ہر تیسری بزرگ خاتون کی پیشانی، گالوں یا ہاتھوں پر نشانات پائے جاتے تھے ۔لیکن اب یہ شین خال ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہے، اس کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم وجہ پختون خطے میں جنگ ہے۔جنگوں نے پختونوں کی زندگیوں میں مختلف تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ بے گھر ہونے والے بہت سارے پختون قبائل خانہ بدوش تھے اور ان خانہ بدوش قبائل میں شین خال کا رواج عام تھا۔جنگوں کی وجہ سے، زیادہ تر خانہ بدوش قبائل اپنی خانہ بدوشی کی زندگی چھوڑ کر شہروں کے قریب آباد ہوگئے اور شہروں میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور اس طرح شین خال بنانے کا رجحان کم ہو تا گیا۔ دوسری طرف، مذہبی اعتبار سے بھی شین خال کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اکثر لوگ کہتے تھے کہ شین خال والے جہنم جائینگے۔
شین خال کی روایت مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی پائی جاتی ہے۔اسلام سے پہلے کے بہت سارے عظیم شعراء نے اپنی شاعری میں شین خال کی منظر کشی کو خوبصورتی کی ایک مضبوط علامت کے طور پر استعمال کیا۔معلقات، جو کہ اسلام سے پہلے کی عربی شاعری کا مجموعہ ہے، میں شین خال کو خوبصورتی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اکثر ’’غریب آدمی کے زیورات ‘‘کے طور پر جاننے والی شین خال جسم اور چہرے کو سجانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ خوبصورتی کا یہ عمل سونے اور چاندی کے متبادل کا کام کرتا تھا۔ آنکھوں اور ہونٹوں کے لئے ٹی طرز کی شین خال کا اپنا ایک منفرد مقام تھا۔ پاکستان میں اس روایت کے فقدان کی وجہ اوائل میں کولونائزیشن تھی اور بعد ازاں اسلامی روایات سے اسے متصادم قرار دیا جانا تھا۔ افغانستان میں شین خال کے رواج کا خاتمہ روس کے خلاف جہاد، مہاجرین کی پاکستان کو ہجرت اور مدرسوں کی تعلیم سے شروع ہوا۔ چند دہائیوں پہلے تک یہ رواج کافی عام تھا کیونکہ اس سے پہلے لوگوں میں اس کے حرام ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا۔مخصوص ڈیزائن اور مقامات جہاں یہ انجام دیئے جاتے ہیں وہ قبیلے کے لحاظ سے مختلف ہیں،آج کل اس کی جو شکل دیکھنے کو ملتی ہے اصل میں اس شین خال سے کافی مختلف ہے اوریہ عموماََ دائرے کی شکل میں ہوا کرتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ یہ روایت مزید دم توڑتی جا رہی ہے۔
دنیا کی ہر قوم و قبیلے کے لوگوں میں اوہام نسل در نسل منتقل ہوتے آ رہے ہیں۔ جدید دنیا میں اکثر توہمات ختم ہو چکی ہیں مگر پسماندہ علاقوں کے ہزاروں لوگ آج بھی ان پر یقین کر کے اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ایسے ہی کچھ واہمے کئی قبائل میں بھی پائے جاتے تھے جو آج کل وجود نہیں رکھتے مگر وہ ہماری تاریخ کا حصّہ ہیں جن میں سے کچھ آپ کے لیے عرض ہیں۔
بارش مانگنا
چوں کہ بارش برسنے کو ہر دور میں رحمت سمجھاجاتا رہا ہے اس لیے اگر دو سال متواتر بارشیں نہ ہوتیں تو لوگ پریشان ہوجاتے تھے اور بارش کے حصول کے لیے بلوچوں میں یہ روایت عام تھی کہ وہ ایک لڑکے کے چہرے پر رنگ یا سیاہی لگا کر اسے بدصورت بناتے اور اسے گھر گھر بھیج کر کھانے کی چیزیں منگواتے اور ساتھ میں ’’کلان قمبرو‘‘بھی گنگناتے جاتے۔اس کے بعد اس لڑکے کو آبادی سے دور لے جایا جاتا اور ان کھانوں کو پکایا اور کھایا جاتا مگر اس لڑکے کو اس سے دور رکھا جاتا تھا۔اس کے علاوہ بارش کے لیے علاقے کی چند لڑکیاں ایک گُڑیا سجانے کے بعد اس کو اٹھا کر گھر گھر گھماتیں اور ساتھ میں یہ گاتی تھیں،’’شیشل ئُ شال شلو، ھور ئِ بگواریت من شیشل ئَ شوداں‘‘۔
بلوچستان میں جانوروں کی ہڈیوں کے ذریعے مستقبل کی پیش گوئی
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جا نوروں کی ہڈیوں کو براہِ راست آگ میں جلا کر، ابال کر یا کسی اور عمل سے گزار کر ان سے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان زمانہ قدیم سے علم جوتش اور دوسرے علوم پر انحصارکرتا رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تہذیبوں میں ایسے عقائد و روایات بھی موجود تھے، جن سے انسان اپنے ارد گرد بکھری اشیاء کے ذریعے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسی اشیاء سے مستقبل میں جھانکنے کا علم ان اقوام کے بزرگ افراد سے علم سینہ بہ سینہ اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا رہا۔’’اوسٹیومینسی‘‘یا علم ِاستخواں دنیا کے مختلف خطوں میں صدیوں سے استعمال کیا جانے والا مستقبل بینی کا طریقہ کار ہے، جس میں جانوروں کی ہڈیوں کے ذریعے سعد و نحس اوقات، شادی بیاہ، اولاد، بارشوں یا خشک سالی، وبائی امراض اور قدرتی آفات وغیرہ کے متعلق پیش گوئی کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار مشرقی اور شمال مشرقی ایشیا خصوصاً چین میں خاصا مقبول رہا ہے۔ ان علاقوں کے جغرافیائی محل ِ وقوع کے مطابق مختلف جانوروں جیسے بھیڑ، بکری، گائے، ہرن، رینڈیر اور خنزیر وغیرہ کے کندھے کی ہڈیاں استعمال کی جاتی تھیں۔
پیش گوئی اور جانور کے شانے کی ہڈی
مستقبل کے متعلق پیش گوئی کے لیے ایسے معاشرے کے ’’سیانے‘‘ کسی ایسے جانور کی ہڈیوں کا انتخاب کرتے ہیں، جن کا وہاں کے سماجی و معاشی نظام پر گہرا اثر ہو۔ ان جا نوروں کی ہڈیوں کو براہِ راست آگ میں جلا کر، ابال کر یا کسی اور عمل سے گزار کر ان سے مستقبل کا حال جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی، بارکھان، روجھان اور ملحقہ علاقوں کے مختلف قبائل میں جو طریقہ پیش گوئی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں بھیڑ یا بکرے/ بکری کے کندھے کی ہڈی ’’سکیپیولا‘‘ پر سے بہت احتیاط کے ساتھ گوشت اتارا جاتا ہے اور پھر اس پر ابھرنے والے افقی، عمودی، دائروی یا رنگ دار نشانات کو ڈی کوڈ کر کے پیش گوئی کی جاتی ہے۔ اس عمل کو مقامی زبان میں ’’باردست‘‘ کہا جاتا ہے۔
شمال مشرقی ایشیائی ممالک میں اس مقصد کے لیے جو طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے اسے ’’پائیرو اوسٹیومینسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں ہرن، بھیڑ یا خنزیر کے شانے کی ہڈی کو آگ میں جلایا جاتا ہے اور بعد میں ہڈی پر چٹخنے کے نشانات سے مستقبل کے حالات کے بارے میں مدد لی جاتی ہے۔ ہڈی کے مختلف حصوں کو مختلف معاملات سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جیسے ہڈی کے اوپر کا حصہ سیاست و حکومت، درمیانی حصہ معاشی حالات اور بارش یا موسم جبکہ نچلا حصہ خاندان و ذاتی زندگی کے مخصوص ہوتا ہے۔
تاریخی ماخذ
بلوچستان کے دیہی اور قبائلی علاقے جہاں ابھی تک تعلیم کا فقدان اور سرداری و نوابی نظام کا راج ہے وہاں باردست کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور اسے مقامی اخبار سمجھا جاتا ہے جو مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر دیتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے مقامی افراد سے رابطہ کیا کہ اس طریقہ کار کا اصل ماخذ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ علم اپنے بزرگوں سے منتقل ہوا اور بزرگوں کو آبا ؤ اجداد کے ذریعے ملا۔ یہ لوگ کوئی معتبر و مستند تاریخی حوالہ دینے سے قاصر ہیں۔نواب محمد اکبرخان بگٹی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بکری کے شانے کی ہڈی سے حساب لگا کر بتا دیا تھا کہ ان کے ستارے گردش میں ہیں۔
روجھان سے تعلق رکھنے والے ایک باسی کے مطابق انہوں نے اس طرح کی ہڈی اپنے بزرگوں اور خانہ بدوشوں کے پاس دیکھی ہے مگر وہ اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ایک دفعہ انہوں نے ایک خانہ بدوش سے یہ ہڈی لے کر اس کا معائنہ کرنے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ پیش گوئی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ عابد بلوچ کو یقین ہے کہ فی زمانہ جو لوگ اس علم کا دعویٰ کرتے ہیں وہ دھوکا دیتے ہیں۔
قدیمی دور میں تقریباََ ایک ہزار قبل چین کے شینگ شاہی دور میں پائیرو اوسٹیومینسی کا رواج رہا تھا۔ ایسے ہی شمالی امریکا کے مختلف قبائل میں بھی اوسٹیومینسی کا اعتقاد پایا جاتا رہا۔ مگر بلوچستان یہ روایت کس دور میں اور کیسے پہنچی اس حوالے سے کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔
مقامی افراد اور ماہرین کی آراء
ڈیرہ بگٹی اور ڈسٹرکٹ بارکھان سے ملحقہ علاقوں میں مختلف قبائل کے کم پڑھے لکھے افراد آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی باردست پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس طریقہ کار کو قبیلے کا سردار منتخب کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نہر کوٹ سے تعلق رکھنے والے اویس کوئٹہ کے ایک لوکل کالج میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق وہ باردست پر بالکل یقین نہیں رکھتے کیونکہ ایکسپرٹ کے پاس اس کے مستند ہونے کی واحد دلیل یہ ہے کہ اگر ایک بکرے یا بھیڑ کے دائیں اور بائیں کندھے کی ہڈی پر پائے جانے والے نشانات اورعلامات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں تو پیش گوئی 90 فیصد درست ہو گی۔ بلوچستان کے بہت سے لوگ جو اسی علاقے سے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں زیادہ تر مقامی افراد بیٹا یا بیٹی کی پیدائش کے لیے باردست کی مدد لیتے ہیں جو آج کے دور میں انتہائی مضحکہ خیز لگتا ہے۔
ہفتے کو بال کنگھی نہ کرنا
بلوچستان میں یہ روایت بھی کافی مشہور رہی ہے کہ خواتین مہینے کے سولہویں دن پڑنے والے ہفتے کو بال کنگھی نہیں کرتی تھیں اور نہ اس دن سفر پہ جانے کو ترجیح دی جاتی تھی۔ یہ روایت اب بھی کئی بلوچ علاقوں میں رائج ہے۔
تلوار یا چاقو سے حفاظت
تلوار اور چاقو کو چلانے سے تو حفاظت ہو جاتی ہے مگر بلوچو ں میں یہ بات مشہور رہی ہے کہ کسی بھی بیمار یا دولہے کے تکیے کے نیچے تلوار یا چاقو رکھنے سے جن اور بدبلا سے ان کی حفاظت ہو جاتی تھی۔
سیپیوں سے حفاظت
نئے گھر یا کشتی پر سیپیوں کا ہار بنا کر باندھ دیا جاتا تھا تاکہ نظرِ بد سے محفوظ رہ سکے۔ ان سیپیوں کو واضح جگہ پر لٹکایا جاتا تاکہ دور سے نظر آ سکیں۔
کسی کے سفر پر نکلنے کے بعد جھاڑو نہ دینا
بعض علاقوں میں یہ روایت تھی کہ گھر کے کسی بھی فرد کے سفر پر نکلنے کے فوراََ بعد گھر میں جھاڑو نہیں دی جاتی تھی ۔ہمیشہ سے کوشش ہوتی تھی کہ کسی کے نکلنے سے پہلے ہی جھاڑو دی جائے۔
پیچھے سے آواز نہ دینا
جب کوئی سفر پر نکلتا تھا تو اس کو پیچھے سے آواز لگانا انتہائی غلط تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جانے والا اپنے جانے کا ارادہ ترک کر دیتا یا کچھ لمحے کے لیے بیٹھ جانے کے بعد پھر دوبارہ روانہ ہو جاتا۔
رات اور سفید رنگ
رات کے اوقات میں ضرورت پڑنے کے باوجود سفید رنگ کی کوئی بھی چیز گھر سے اٹھا کر کسی کو نہیں دی جاتی تھی۔ جیسے کہ انڈا، آٹا یا نمک وغیرہ۔ اس کے علاوہ رات کو صندوق کھول کر پیسے دینے کو بھی نیک شگون نہیں سمجھا جاتا تھا۔
جانوروں کی حرکات کے معنی
جانوروں کے متعلق بھی مختلف یہ بات کی جاتی تھی کہ جیسے جنگ کو جاتے ہوئے بلوچوں کے لشکر کے آگے سے کوئی کالی بلّی یا خرگوش گزر جاتا تو وہ اپنا راستہ بدل دیتے یا سفر کو نئے سرے سے شروع کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گھر میں جب کوئی بلّی اپنے پنجوں سے اپنا چہرہ صاف کرتی تو اسے کسی مہمان کی آمد کی نشانی تصوّر کیا جاتا تھا۔
چُڑیل سے بچے کی حفاظت
کئی علاقوں میں جب کوئی عورت بچے کو جنم دیتی تو پورے ایک مہینے تک اس عورت کو کمرے میں اکیلا نہیں چھوڑا جاتا تھا اور یہ تصّور عام تھا کہ اگر بچہ اور ماں اکیلے کمرے میں رہے تو چُڑیل (جاتو یا جاتی) آ کر بچے کا دل نکال دے گی یا اسے نقصان پہنچائے گی۔
بچوں کا پرندوں کی زبان سمجھنا
پرانے دور کے بلوچوں میں یہ بات مشہور تھی کہ وہ پانی سے بھرا ایک پیالہ کسی سنسان پہاڑی جگہ میں رکھ دیتے، جب کوئی پرندہ وہ پانی پی جاتا تو اسی پانی کو چھوٹے بچوں کو بھی پلایاجاتا اور یہ یقین کیا جاتا کہ یہ بچے بھی پرندوں کی زبان سمجھنے لگیں گے۔
’’3‘‘ کا ہندسہ
دنیا کے کئی ممالک میں 13اوربعض بلوچ قبائل میں3 کے ہندسے کو منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو شادی کی دعوت دینے کے لیے دو یا چار لوگ جایا کرتے ہیں مگر تین لوگوں کو کبھی نہیں بھیجا جاتا۔ جب کوئی کسی لمبے سفر سے واپس آ جائے تو اس کی خیریت پوچھنے کے لیے تین دن کے بعد کوئی نہیں جاتا۔ اگر کسی شادی میں دلہے تین ہوں تو ان کے ساتھ ایک بچہ بھی بٹھایا جاتا ہے۔
دولہے کی مہندی
شادی کی مہندی کی رسم کے دوران 7 خواتین دولہے کے ہاتھوں میں رسماََ چھوٹی چھوٹی مہندی لگاتی ہیں مگر جس نے دو شادیاں کیں ہوں ، اسے اس رسم کی ادائیگی سے منع کیا جاتا ہے۔
جانوروں میں وباء
جب جانوروں میں وباء پھوٹ پڑتی اور اس وباء سے ایک جانور ہلاک ہو جاتا تو اس جانور کو دفنا کر باقی جانوروں کو اس پر گزار دیا جاتا تھا۔ تاکہ وباء ادھر ہی ختم ہو جائے۔
منگل کا دن اور سلائی
بہت سی خواتین منگل کے روز کپڑے سینے کو نیک فال نہیں سمجھتیں اور یہ یقین کرتی تھیں کہ اس روز جو کپڑا بھی سیا جاتا ہے وہ جلدی ختم ہو جاتا ہے یا جل جاتا ہے۔
مہندی سے نکلے پانی کو سمندر میں پھینکنا
دولہے کے لیے تیار مہندی میں درخت کے پتّے ڈال دئیے جاتے تھے اور پھر مہندی سے نکلے پانی کو ساحلی علاقے کے لوگ ہر حال میں سمندر میں پھینک دیا کرتے تھے۔
چاند گرہن
بہت سے لوگ چاند کو گرہن لگنے کے بعد ایک برتن لے کر اسے ایک چھوٹے پتھر سے بجایا کرتے تھے تاکہ چاند گرہن جلدی ختم ہو جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker