تجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

بمل رائے :ہدایت کار یا جادوگر؟ ( 1) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

یہ جو معاشرے میں رفتہ رفتہ بہتری پیدا ہورہی ہوتی ہے ، ہم اپنی زندگیوں میں انقلاب آفریں فیصلے کررہے ہوتے ہیں کہ سماج فرسودگی کو اُتار رہا ہوتا ہے۔یہ جو ہم تازہ ہوا میں سانس لیتے ہیں ، آکسیجن کو محسوس کرتے ہیں کچھ کر گزرنے کا ولولہ اپنے اندر پاتے ہیں ، اس سب کے پیچھے بہت سے بڑے بڑے اوتاروں کا ہاتھ ہوتا ہے ، شاعر ، مصور ، گلوکار یا ہدایت کار ، انہیں کوئی بھی نام دے لیں جن میں سے ایک ہندستانی فلمی صنعت کا وہ آدرش ہے کہ آج تک کوئی اُس کی خاکِ پا کو چھو نہیں سکا۔
بِمل رائے نے چھپن سال کی عمر پائی اور 1966ءمیں آنجہانی ہوئے مگر اُنہوں نے اپنے پیچھے فلم انڈسٹری کیلئے اتنا بڑا خزانہ چھوڑا کہ صرف انہی کی فلمیں ”فلم انسٹی ٹیوٹ“ میں اداکاری ، فوٹو گرافری ، شاعری موسیقی ۔ مناظر کے انتخاب ، کہانیوں کا چناﺅ ، اداکاروں کی محنت ، لگن ،مکالمہ نویسوں کی جانفشانی ، ایڈیٹنگ کی ضرورت کا مقصد اور ذریعہ تربیت بن سکتی ہیں۔ بِمل رائے نے بہترین آرٹ فلمیں بیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں دیں ، جب ابھی آرٹ مووی کا تصور بھی ذہن میں نہیں تھا۔
بِمل رائے نام ہے ذوق کی لطافت ، احساس کی نفاست ،شوق کی انتہا ،سماج کو بدلنے کی دُھن ،بدی کی قوت سے بھڑ جانے کی طاقت کا۔ بِمل رائے کا کام ہے عورت اور مرد کو ایک جان بنا کر دو قالب میں رکھنا ، گھر اور سماج میں ہم آہنگی ،توازن اور تناسب پیدا کرنا،بڑوں اور چھوٹوں ، امیر ، غریب ،اونچی اور نیچی ذات کا فرق مٹانا ، طبقاتی تقسیم کو ختم کرنا ، زندگی میں حسن دیکھنا اور دِکھانا ، جذبے کی شدت کے ذریعے اچھی اقدار کو جنم دینا ، بُری اقدار کو ملیا میٹ کرنا اتنا سب کچھ کرنا اور بے حد خاموشی سے ، یہ تو کسی مہاتما کا چمتکار ہی ہوسکتا ہے اور اسی لئے بِمل رائے پر لکھنا میرے لئے از حد مشکل کام ہے کیونکہ وہ قلمکار نہیں ، جس کیلئے میں اُس کی تحریر سے مثالیں لاسکوں ۔ اگر میں بھی کوئی ہدایت کار ہوتی تو بِمل رائے پر ایک ڈاکومنٹری فلم بناتی ،جہاں اس کے وہ مناظر دکھاتی جو ایک حساس ذہن کو دیوانہ بنا دیتے ہیں اور ایک خلاق ذہن کو تحریک دیتے ہیں ، میں قلم کے ذریعے آنکھ میں کُھب جانے والے مناظر کو کیسے زندہ کروں؟ یہی مرے لئے وہ سنگ سخت ہے جہاں فرہاد تیشہ رکھ کر ہاتھ جوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ”یا اُستاد“ بِمل رائے کی بہت سی فلمیں ہیں جس میں بلراج ساہنی کی ، دو بیگھے زمین ، بھی ہے مگر میں نے اس تحریر میں صرف پانچ فلموں کو موضوع بنایا ہے ۔ تمام فلموں پر لکھنے کیلئے ایک کتاب بھی شاید کم پڑ جائے۔ بہرحال ،میں کوشش کروں گی کہ بتاسکوں ، بِمل رائے میری تمام زندگی اور احساسات پر کیوں کر چھا گیا ہے اور کیسے….؟
وہ بہت بڑا بت شکن ہے…. اُس نے ہندو سماج میں رہتے ہوئے ، اچھوت کا مسئلہ اپنی فلم ”سُجاتا“ میں اٹھایا جس میں ایک بچی جو لاوارث ہے کس طرح ایک برہمن کے گھر پہنچ جاتی ہے اور اُسی گھر کی دوسری بچی کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے۔ جوان ہو کر ایک برہمن ہیرو کی نظر میں سما جاتی ہے جس کیلئے ہیرو سنیل دت مشہور گیت گاتا ہے۔ (جلتے ہیں جس کیلئے تیری آنکھوں کے دیئے ،طلعت محمود) اچھوت لڑکی نوتن ہے اور اچھے ماحول میں تربیت پاکر کمیونسٹ فلسفے پر پورا اترتی ہے ،کہ ماحول اصل چیز ہے ، بچہ جس ماحول میں پلے گا بڑھے گا ویسا ہی بنے گا۔ پھر ہدایت کار بِمل رائے کہانی کو محبت کی قوت سے ایسا گھماتاہے کہ سماج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لکھنے میں یہ ایک پیرایہ اور چند لفظوں کا ڈھیر ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھئے کہ بِمل رائے نے ایک اچھوت لڑکی کو ایسا باعزت مقام دیا کہ برہمن لڑکے سے شادی کروادی گویا بِمل رائے نے سماج کے دھارے کو یکسر موڑ دیا!
بِمل رائے کی ”بُت شِکنی“ میں چھوٹی ذات کا برہمن اور بڑی ذات کا برہمن بھی موضوع بنتے ہیں۔ دلیپ کمار اور سچتراسین بچپن کے ساتھی اور پڑوسی ہیں مگر جب بیاہ کا مسئلہ اٹھتا ہے تو دیوداس (دلیپ کمار) کا باپ یہ کہہ کر صاف انکار کردیتا ہے کہ ”ہم اونچی ذات کے برہمن وہ نیچی ذات کے برہمن ، یہ رشتہ کیسے ہوسکتا ہے؟“
یہ شادی نہیں ہوپاتی۔ نتیجتاً دیوداس شراب میں ڈوب جاتا ہے اور موت کو اپنالیتا ہے۔ یہ ایک ضمنی مسئلہ بھی ساتھ ساتھ اُٹھتا ہے کہ کیسی کیسی جوانیاں اُس دور میں بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں شراب کے ذریعے موت کے سپرد ہوگئیں۔
”پرینیتا“ (شادی شدہ عورت) میں بھی بِمل رائے ذات پات اور امیر غریب پڑوسیوں کے مسئلے کو موضوع بناتا ہے لیکن یہاں بھی بالآخر جیت محبت ، معصومیت کی ہوتی ہے اور ہیرو (اشوک کمار) کا باپ جو ایک بدمعاش مہاجن ہے اور ہیروئن کے چاچا کو جو پڑوسی بھی ہے لُوٹ لُوٹ کر ، اس کی جائیداد کو ٹھکانے لگا رہا ہے۔ یہ مہاجن اپنے ہی غصے کی لپیٹ میں آکر دل کے دورے کا شکار ہوتا ہے اور معصوم پڑوسن (مینا کماری) جس کے گلے میں کبھی ہنسی ہنسی میں ہیرو نے پھولوں کی مالا ڈال دی تھی اور یوں وہ خود کو شادی شدہ سمجھ کر کہیں شادی نہیں کرتی۔ ہیرو کی ماں شائستہ اور شریف ہے۔ وہ ”ورمالا“ کی اس ریت کو اٹوٹ بندھن میں باندھ دیتی ہے۔ اس فلم میں بِمل رائے نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں ایک معصوم لڑکی کے ذریعے ”ورمالا“ کا تقدس بحال کیا اور یوں غربت اور امارت کی دیوار گرائی۔ مقروض اور مہاجن کا فرق مٹایا۔ یہ بھی سمجھایا کہ کچھ ہنسی مذاق ، بعض معصوم زندگیاں تباہ بھی کرسکتے ہیں!! بِمل رائے اس جہاں سے سرسری گزر رہی نہیں سکتے تھے!!
”بندنی“ میں اشوک کمار ایک سیاسی قیدی ہے جو ایک دیہات میں نظربند کیا گیا ہے مگر اس عزت کے ساتھ کہ وہ دن کے وقت لوگوں سے میل جیل رکھ سکتا ہے۔ پوسٹ ماسٹر کی بیٹی نوتن کے ساتھ اُس کا میل جیل ہوتا ہے بلکہ پوسٹ ماسٹر جو ایک پڑھا لکھا ، روشن خیال باپ ہے خود شام اور رادھا کی کویتائیں دونوں کو پڑھ پڑھ کر سناتا ہے۔ ایک رات موسلا دھار بارش میں جب سیاسی قیدی اپنی بیرک میں واپس نہیں پہنچتا تو انگریز سرکار کے سپاہی اُسے لینے آتے ہیں۔ قیدی پلنگ پر بخار میں لیٹا ہے اور ہیروئن پلنگ کی پٹی سے جڑی بیٹھی ہے۔ دونوں نیند میں ہیں ، یہ وہ وقت ہے جب ہیروئن پر تہمت لگتی ہے اور اشوک فوراً کہہ اُٹھتا ہے ، ”یہ میری پتنی ہے“ اب گاﺅں میں سوالوں کا طوفان کھڑا ہے کہ شادی کب ہوئی؟ لوگ باپ بیٹی کا حقہ پانی بند کردیتے ہیں۔
ہیروئن گاﺅں چھوڑ کر شہر اپنی سہیلی کے گھر اور پھر وہاں سے ایک اسپتال میں بطور ملازمہ کام کرنے آجاتی ہے۔ وہاں اُسے باپ کے مرنے کی اطلاع ملتی ہے اور اُسی عالم میں وہ اشوک کو اپنی نیم پاگل جنونی پتنی کے ساتھ دیکھتی ہے جس کی خدمت کے نتیجے میں وہ پاگل عورت کی گالیاں سہتی تھی اور تھپڑ کھاتی تھی اور (ہیروئن) مار پیٹ کرنے والی ظالم ذہنی مریضہ کی چائے میں زہر ملا دیتی ہے۔ پولیس کے آنے پر نوتن اقرارِ جرم کررہی ہے اور اشوک اُس پاک صاف ، پڑھی لکھی لڑکی کو ایک خادمہ کے روپ میں دیکھ کر دنگ ہے اور کہتا ہے ”یہ قتل اس نے نہیں کیا ، میری پتنی نے آتماہتیا کی ہے۔“
ہیروئن جیل میں آٹھ سال شرافت ،دیانت ، خدمت کے ساتھ گزار کر جب ایک ڈاکٹر کی بیوی بننے جارہی ہے تو اُسے اشوک نظر آتا ہے جو اب ٹی بی کا مریض ہے اور اس کی کہانی یہ ہے کہ اس کی شادی ایک سیاسی شادی تھی ، دشمن انگریز سرکار کے راز حاصل کرنے کے لئے ، ہیروئن کے لیے ایک بڑا اچھا موقع ہے کہ اس ڈاکٹر کو اپنا لے جس نے خود اس کیلئے جیلر کو رشتہ بھیجا ہے مگر یہاں ایک جملے کی حرمت رکھنا بھی ہیروئن کا فرض ہے۔ جب ہیرو نے ایک بڑی بدنامی سے بچانے کیلئے اُسے اپنی پتنی کہا تھا اور اس کی لاج رکھ لی تھی۔ اس موقع پر ایس ڈی برمن کا یادگار شاہکار گیت ہے:
”اورے مانجھی  میرے ساجن ہیں اس پار“ ہیروئن نوتن دوراہے کو پھلانگ کر جوان اور صحت مند ڈاکٹر کو چھوڑ کر ٹی بی کے مریض اشوک کی طرف دوڑتی ہے۔ یہ پاس وفا اور قول کی پاس داری اور لحاظ ہے جو کردار سازی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس جگہ ایک طرف ریل کی سیٹی بج رہی ہے جو نوتن کو واپس بلا رہی ہے تو دوسری طرف اسٹیمر کا بھونپو بج رہا ہے ، جہاں بیمار اشوک ہے اور بیچ میں ایس ڈی برمن گا رہے ہیں ”مرا کھینچتی ہے آنچل ، من میت تیری ہر پکار ، مرے ساجن ہیں اُس پار“
مدھومتی کا قصہ جنموں کی کہانی ہے …. مگر اصل موضوع شہری مرد دلیپ کمار ، دیہاتی لڑکی وجنتی مالا ، کی محبت ہے۔ ایک طوفانی رات جب دلیپ ،وجنتی سے ملنے پہاڑ سے اُتر کر اس کی کٹیا میں جاتا ہے تو ہیروئن کا غیور طاقت ور باپ کندھے پر من دو من کا گُدا رکھے نمودار ہوتا ہے۔ طاقت کے اس مظہر کے سامنے شہری بابو کی کیا حیثیت؟ چنانچہ وہ واپس لوٹتے ہوئے اس شہری کی طرف اپنا خنجر پھینکتا ہے جو درخت کے تنے میں گڑ جاتا ہے اور دلیپ خودوہ خنجر نکال کر لڑکی کے باپ کو دیتا ہے جس نے کہا کہ ”نیچ مری عزت سے کھیل کر کہاں جارہا ہے“ خنجر دیتے ہوئے ہیرو کہتا ہے ”میری گردن کاٹ دیجئے مگر مجھ پر جھوٹا الزام مت لگائیے“ اب روتی ہوئی وجنتی بیچ میں آجاتی ہے تو باپ بیٹی سے کہتا ہے ، پوچھ کے دیکھ یہ تجھ سے بیاہ کرے گا ، پوچھ کے دیکھ….؟ اور ہیرو بیاہ کا اقرار کرتا ہے۔
یہاں بیاہ کی قدر ایک دائمی قدر کے طور پر اُجاگر ہوتی ہے جو شہری اور دیہاتن کا فرق مٹا دیتی ہے اور یہ قدر محبت سے ایک قدم آگے بڑھ جاتی ہے۔
ان فلموں کی کہانیاں بِمل رائے نے نہیں لکھیں ، لیکن ان کہانیوں کا انتخاب انہوں نے ہی کیا۔ پھر جب ہدایتکار بِمل رائے ہو تو کہانی کا موضوع ،مکالمہ اداکاروں کا انتخاب ، موسیقار ، گلوکار ، کیمرہ آرٹسٹ ، سبھی کو بِمل رائے کی آنکھ سے دیکھنا ،قلم سے لکھنا اور اداکاری کرنا پڑتی ہے۔ ورنہ کیوں ہر کہانی کے منظر ذہن میں یوں محفوظ ہوجائیں کہ مٹائے نہ مِٹیں۔ کیوں مکالمے ہی نہیں اُن کو ادا کرنے والا فنکار بھی ، چاہے وہ ایک دو ہی مناظر میں اپنا تعارف کراسکا ہو ، کبھی بھلایا نہ جاسکے۔ کیوں وہ گیت ، وہ موسیقی تمام جزئیات سمیت یادداشت کا حصہ بن جائے؟
بِمل رائے کا ایک اور بڑا کارنامہ عورت کے اندر جرائت اور ہمت کو جگہ دینا ہے۔ مجھے کسی بڑے فلسفی کا ایک قول یاد آرہا ہے ”جہاں عشق ہو ،وہاں اندھیرا نہیں ڈراتا“
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker