تجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

عمر خیام۔۔۔ ایک سوال (2 ) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

( گزشتہ سے پیوستہ )
یہاں پہنچ کر ہمیں اتنا تو اندازہ ہوگیا کہ مخصوص بند معاشروں حکومتوں یا مختلف سیاسی اور مذہی طبقوں نے دانشور اور شاعر کے بیچ دیوار اُٹھا دی۔ سمجھا یہ گیا کہ بہت زیادہ عقل و دانش کی باتیں کرنے والا ، اپنی شاعری میں عقل و دانش سے بالکل گریز (اگر یہ گُریز سمجھا جارہاہے!) کس طرح اختیار کرسکتا ہے۔
اس سے قطع نظر کہ خیام اور خیامی دو الگ الگ شخص تھے یا نہیں۔ ایک بات سامنے کی ہے کہ ریاضی دان ہونا اور شاعر ہونا ، ایک شخصیت کے بے کنار تنوع کو بھی تو ظاہر کرتا ہے۔ محض شاعر یا محض فلسفی ہونا قدماء میں ،شخصیت کا اکہرا پن کہلاتا تھا۔ آج تو نہیں لیکن ایامِ قدیم میں مشاہیر ،تمام علوم و فنون پر حاوی ہوا کرتے تھے۔ عہدِ جدید میں بھی برٹرنڈرسل کی مثال موجود ہے۔
رہی یہ بات کہ خیام کی شاعری علومِ فکر و فلسفہ اور مذہب سے میل نہیں کھاتی ، اس لیے ضرور ان دو مختلف راستوں پر چلنے والے افراد بھی مختلف ہوں گے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
umar Khayyam
دو اور دو چار کی طرح شاعری کوئی حتمی نتیجہ اور قطعی جواب نہیں دیا کرتی۔ شاعری بنیادی طور پر امکان ،خواب ، کیفیت اور احساس کی بازیافت کرتی ہے۔ شاعری کوئی طرزِ زندگی نہیں فراہم کرتی۔ لیکن کسی بھی طرزِ زندگی میں جینے کیلئے تھوڑی سی جگہ ضرور بنا دیتی ہے۔ شاعری رویوں میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ تعصبات کی سنگینی کے مقابل ، شاعری ، ہوا کے جھونکے کی تازگی اور پھول کی پتی کی لطافت رکھ دیتی ہے۔
ہمیں اس بات کی قطعاً خواہش اور ضرورت نہیں کہ شاعر خیام ہی کو فلسفی ، سائنس دان ، طبیب وغیرہ مانا جائے۔ لیکن ہم یہ ضرور چاہیں گے کہ عمر خیام کو بہ حیثیت شاعر صحیح طور پر پہچانا جائے۔ کسی شاعر کو پہچاننے کیلئے اُس کے کلام سے بڑا گواہ اور کوئی نہیں ہوتا۔
ایڈورڈ فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی تاریخ زندگی بتاتے ہوئے ، ایک وصیت یادداشت کا حوالہ دیا۔ یہ یادداشت نظام الملک کی تحریر کردہ ہے جو ملک ارسلان کا وزیر رہا۔ ارسلان تغرل بیگ تاتار کے خاندان سے تھا۔ اس خاندان نے آگے چل کر سلجوقیوں کی سلطنت قائم کی ،جس نے یورپ کو صلیبی جنگ پر آمادہ کردیا۔ نظام الملک نے لکھا
(quoted in the Calcutta Review, No. 59, from Mirkhond`s History of the Assains)
خراسان میں امام موافِک زبردست عالم اور نہایت قابل احترام شخص تھا۔ جس کے طالب علم ہم تین دوست بھی تھے۔ میں ، حکیم عمر خیام اور بدقسمت حسن بن صباح۔ ہم تینوں غیر معمولی ذہین اور مختلف النوع صلاحیتوں کے مالک تھے۔
عمر کا تعلق نیشا پور سے تھا۔ حسن کے باپ کا نام علی تھا ، جو ایک مذہبی شخص تھا۔ جب امام موافک اپنے خطاب سے فارغ ہوجائے تو ہم تینوں دوست مل بیٹھے۔
ایک دن حسن نے کہا ”میں نے سنا ہے کہ امام موافک کی نگرانی میں جو لوگ قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں وہ ایک نہ ایک دن بانصیب ہوجاتے ہیں۔ اور یہ ایک عالم گیر سچائی ہے اور فرض کرو کہ ہم تینوں نے نہ سہی ایک نے بھی خوش نصیبی حاصل کرلی تو وعدہ کرو کہ ہم باقی دو دوستوں کو بھی حصہ دیں گے۔“
وقت گزرتا رہا۔ سالوں بعد جب نظام الملک وزیر بن چکا تھا ،حسن نے اسے وعدہ یاد دلایا۔ اور وزیر نے اسے سلطنت میں ایک اہم عہدہ دلوایا۔ مگر حسن کو شاید درجہ بہ درجہ ترقی پسند نہ تھی۔ وہ بے اعتدالی کا مجرم بن کر موردِ الزام ٹھہرا۔ بے عزتی اور بدنصیبی نے اسے دوبارہ پکڑ لیا۔ دربہ در بھٹکنے کے بعد وہ ایران میں اسماعیلہ فرقے کا سربراہ بنا۔ 1090ء میں الموت کے قلعے پر قبضہ کرلیا جو سمندر کیسپئن جنوبی صوبے ’رودبار‘ میں واقع تھا۔ یہاں سے اُس کی شہرت ’پہاڑوں والا بوڑھا آدمی‘ کے نام سے پھلی اور عالم اسلام میں دہشت کا حوالہ بن گئی۔ حتیٰ کہ یہیں سے ایک لفظ Assassih مشہور ہوا جو شاید حشیش سے بنا تھا اور اسی حشیش پینے والے گروہ کے ایک آدمی نے نظام الملک تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
حسن بن صباح کی کہانی اس باب میں محض اس لیے درج کی گئی کہ گے اسی وصیت میں تیسرے دوست کا ذکر ہے جس کا نام عمر خیام بتایا جاتا ہے۔ وہ نظام الملک کا نہایت گہرا دوست تھا اور جب نظام الملک مر رہا تھا تو اس کے ہونٹوں پر عمر خیام کی رباعی کے یہ الفاظ تھے۔ ”Oh God! I am passing away in the hands of wind“نظام الملک عمر خیام کے بارے میں لکھتا ہے ”عمر نے میرے پاس آکر عہدہ یا خطاب نہیں چاہا ، صرف اتنا کہا ”مجھے اپنی خوش نصیبی کے سائے میں جینے دو ،تاکہ میں سائنس کے فوائد دنیا میں پھیلاؤں اور تمہیں درازی عمر کی دعائیں دوں۔“
وزیر نے اس کے بعد عمر خیام کے نام سونے کے 1200مثکال سالانہ وظیفہ مقرر کردیا جو نیشا پور کے خزانے سے دیا گیا۔ اس طرح عمر خیام نیشا پور میں جیا اور مرا۔
وہ ہر طرح کے علم اور ذہانت خداداد سے آراستہ تھا۔ سلطان نے اُس پر نوازشوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔ جب سلطان ملک شاہ کو ایک علیحدہ کیلنڈر بنانے کی سوجھی تو اُس نے عمر خیام کو مدد کیلئے پکارا۔ یوں ”جلالی دور“ کی ابتداء ہوئی۔ (جلال الدین ، بادشاہ کے ناموں میں سے ایک) جس کی تصدیق مشہور موخ گبن نے ان الفاظ میں کی:
(Gibbon: A computation of time which, surpasses the julian, & approaches the accuracy of the Gregorian Style.)
یوں شاعر عمر خیام نے اپنے دوست وزیر نظام الملک کی مہربانیوں کی بدولت ،اپنے علم و فیض کا چشمہ جاری کردیا۔ شاید ماضی بعید میں وہ اپنے تخلص خیام کے مصداق ، خیمے سینے کا پیشہ بھی اپنائے ہوئے تھا ، جیسا کہ اُس نے اپنی اس رباعی میں حوالہ بھی دیا:
Khayyam who stiched the tents of science
خیام جس نے سائنس کے خیمے کو سیا
Has fallen in grief,s furnace and been suddenly burned
وہ غموں کی بھٹی میں گر پڑا اور راکھ ہوگیا
The shears of fate have cut the ropes of his life
قسمت کی قینچی نے اُس کی زندگی کے خیمے کی رسیاں کاٹ دیں
And the broker of hope has sold him for nothing!
اور اُمید کے دلال نے اُسے عدم کے ہاتھ فروخت کردیا۔
ایڈورڈ فٹنر جیرالڈ آگے چل کر وہی قبر اور پھولوں والی پیشین گوئی دہراتا ہے اور اس کے بعد وہ خیام کے فکری موضوعات پر بحث شروع کرتا ہے۔ فٹنر جیرالڈ کے مطابق نامعلوم وجوہات کی بناءپر یہ شاعر اپنے وطن میں پذیرائی حاصل نہ کرسکا۔ شاید وہ عام مذہبی سوچ اور فکر سے بہت آگے تھا۔ یا عقیدے کی فرسودگی سے بہت دور تھا۔ جیرالڈ کے مطابق حافظ اور تمام ایرانی شعراء نے خیام سے استفادہ کیا ہے لیکن اُس کے خیالات کو تصوف کا لبادہ اڑھا دیا۔ اُس کی شراب انگور کو شرابِ معرفت سے بدل دیا۔ یوں وہ سب کے سب قابل قبول بن گئے۔ جیرالڈ کہتا ہے: ”لوگ شک اور یقین کے بیچ ، بدن اور روح کے مابین ،ذہانت کی روشنی اور نافہمی کی دھند میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ آسمان اور زمین کے درمیان اس دنیا اور اگلی (کِسی) دنیا کے درمیان لٹکتے رہنا اُنہیں بھاتا ہے۔“ عمر خیام اپنے خیالات کے ساتھ سچا اور ایمان دار تھا۔ جب وہ آئندہ کا پتہ چلانے میں ناکام رہا تو اُس نے اسی لمحے کو مضبوطی سے پکڑا جو اُسے زندگی کی صورت میں ملا تھا۔ اُس کی تمام شاعری اسی لمحہ موجود کو تھامنے کی تاکید کرتی ہے۔ وہ بھی مقدر ، خدائی جسم ، روح نیکی ،بدی ،موت و حیات کے سوال اُٹھاتا ہے لیکن جوابوں کی عدم دستیابی کی صورت میں جامِ ناب ہاتھ میں لے کر زندگی کا جشن منانے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ (جیرالڈ کے مطابق) منافق نہیں ہے اور مابعد حیات کے مقابلے میں حیاتِ موجود کو کائنات کا حاصل سمجھ کر اہمیت دیتا ہے۔ اُس کی شراب خالصتاً انگور کی شراب ہے اور اس کا گیت زندگی سے متعلق ہے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker