تجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

عمر خیام۔۔۔ ایک سوال (3 ) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

یہاں پہنچ کر ہمیں اتنا تو اندازہ ہوگیا کہ مخصوص بند معاشروں حکومتوں یا مختلف سیاسی اور مذہی طبقوں نے دانشور اور شاعر کے بیچ دیوار اُٹھا دی۔ سمجھا یہ گیا کہ بہت زیادہ عقل و دانش کی باتیں کرنے والا ، اپنی شاعری میں عقل و دانش سے بالکل گریز (اگر یہ گُریز سمجھا جارہاہے!) کس طرح اختیار کرسکتا ہے۔
اس سے قطع نظر کہ خیام اور خیامی دو الگ الگ شخص تھے یا نہیں۔ ایک بات سامنے کی ہے کہ ریاضی دان ہونا اور شاعر ہونا ،ایک شخصیت کے بے کنار تنوع کو بھی تو ظاہر کرتا ہے۔ محض شاعر یا محض فلسفی ہونا قدماءمیں ، شخصیت کا اکہرا پن کہلاتا تھا۔ آج تو نہیں لیکن ایامِ قدیم میں مشاہیر ، تمام علوم و فنون پر حاوی ہوا کرتے تھے۔ عہدِ جدید میں بھی برٹرنڈرسل کی مثال موجود ہے۔
umar Khayyam
رہی یہ بات کہ خیام کی شاعری علومِ فکر و فلسفہ اور مذہب سے میل نہیں کھاتی ، اس لیے ضرور ان دو مختلف راستوں پر چلنے والے افراد بھی مختلف ہوں گے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
دو اور دو چار کی طرح شاعری کوئی حتمی نتیجہ اور قطعی جواب نہیں دیا کرتی۔ شاعری بنیادی طور پر امکان ، خواب ، کیفیت اور احساس کی بازیافت کرتی ہے۔ شاعری کوئی طرزِ زندگی نہیں فراہم کرتی۔ لیکن کسی بھی طرزِ زندگی میں جینے کیلئے تھوڑی سی جگہ ضرور بنا دیتی ہے۔ شاعری رویوں میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ تعصبات کی سنگینی کے مقابل ، شاعری ،ہوا کے جھونکے کی تازگی اور پھول کی پتی کی لطافت رکھ دیتی ہے۔
ہمیں اس بات کی قطعاً خواہش اور ضرورت نہیں کہ شاعر خیام ہی کو فلسفی ، سائنس دان ،طبیب وغیرہ مانا جائے۔ لیکن ہم یہ ضرور چاہیں گے کہ عمر خیام کو بہ حیثیت شاعر صحیح طور پر پہچانا جائے۔ کسی شاعر کو پہچاننے کیلئے اُس کے کلام سے بڑا گواہ اور کوئی نہیں ہوتا۔
شاعر خیام کی رباعیات نے مقبول خاص و عام کو حدود مدت ہوئی پار کرلیں۔ یہ شاعری اقوامِ عالم میں اپنا ایسا اعتبار قائم کرچکی ہے کہ اسے مزید کسی سند کی ضرورت نہیں۔
مذکورہ کتاب میں کڑا انتخاب کیا گیا ہے اور 50 رباعیات دنیا کی پانچ زبانوں میں دی گئی ہیں۔
ان رباعیات کے موضوع بالعموم ”فنا“ کے گرد گھومتے ہیں۔ مجھے تو ایک بھی رباعی ایسی نہ ملی جو لذت یا عیش کوشی کی طرف لے جائے یا جسے پڑھ کر جذبات برانگیختہ ہوجائیں۔ ہر رباعی کی زیریں لہر ”موت“ کا راگ الاپ رہی ہے۔ ایسے عالم میں کون زیرک اور دانا ہے جو اپنے ہواس کھونے کی تاب رکھ سکے گا۔ ہاں مگر اس اُداسی اور کرب کو اگر صدائے دِرا سمجھا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ شراب پینے کی دعوت صرف اس لیے دی جارہی ہے کہ یہ آخری بار ہے۔۔ کل کا سورج بزم کے چراغ بجھا دے گا کل کی خزاں حیات کی بہاڑ اُجاڑ دے گی۔۔۔ کل کی رات آج کے دن کو کھا جائے گی۔۔۔ اُس ہولناکی سے پہلے اس منظر حیات کو خیام کے الفاظ میں دیکھئے۔
وقتِ سحر است ، خیز اے مایہ ناز
نرمک نرمک بادہ خور و چنگ نواز
کا نہا کہ بجایند، نپایند دراز
وانہا کہ شد ند کس نمی آیند باز
اُٹھ ! کہ صبح ہوگئی۔ زندگی کی شراب کو دھیرے دھیرے پی اور کائنات کی موسیقی میں شامل ہوجا۔ یہی وقت ہے اُن کے لیے جو جیتے ہیں اور انہیں بہت نہیں جینا اور جو مر گئے ہیں وہ تو کبھی واپس نہ لوٹیں گے!۔
بابادہ نشین کہ ملک محمود این است
وزچنگ شنو کہ لحن داؤد این است
ازماندہ و رفتہ دِگر یاد مُکن
حالی خوش باش ز آنکہ مقصود این است
ہاتھ میں جام اُٹھا لے ، یہی محمود کی جاگیر ہے۔ موسیقی سُن کہ یہی داؤد کی پکار ہے۔ رفت گذشت کا خیال دل سے نکال دے۔ لمحہ موجود میں جی کہ یہی مقصدِ زیست ہے۔
چوں عہدہ نمیشود کسی فردا را
حالی خوشدار این دلِ پر سودا را
می نوش بماہتاب اے ماہ کہ ماہ
بسیار بتابد و نیابد مارا
مستقبل کے ساتھ کون پیمان باندھ سکتا ہے؟ تُو اپنے دل بیمار کے حال کو سنوار اے چاند جیسے محبوب چاند کے سائے میں شراب پی ، کہ آنے والے زمانوں میں چاند بہت چمکے گا لیکن اُسے دیکھنے کو ہم نہیں ہونگے۔
خیام اگر زیادہ مستی خوش باش
گر با صنمی و مے نشستی خوش باش
پایان ہمہ عمر جہاں نیستی است
پندار کہ نیستی چوہستی خوش باش
اے خیام!اگر شراب سے جی بہلتا ہے تو خوش ہو اور اگر محبوب کی صحبت اچھی لگتی ہے تو بھی خوش ہو۔ کیونکہ اس جہان کی ہر شے فانی ہے۔ پس یہی سوچ اس عالمِ فنا میں تو زندہ ہے اور خوشی اختیار کر۔
خیام یہ دعوتِ مے کیوں دے رہا ہے اور صحبت محبوب کی طرف کس لئے بُلا رہا ہے ¾ یہ بھی خیام ہی کے الفاظ میں دیکھنا چاہیے۔ اور مدِنظر رہے: ان تمام رباعیات میں کیا ایک مصرعہ بھی لااُبالی پن کا مظہر نظر آتا ہے۔ جیسا کہ خیام پر الزام اُن کے ہم وطنوں کی طرف سے لگتا رہا ہے؟
بلکہ یہ شاعری تو میرے نزدیک کسی ایسے پیرِ جگر سوز کی رہی ہوگی جو بلا کے دکھ اُٹھا چکا ہوگا او غضب کے صدمے جھیل چکا ہوگا۔
ما لُبعتگانیم و فلک لعبت باز
ازروی حقیقتے و نہ از روی مجاز
بازیچہ ہمی کنیم بر نطعِ وجود
افتیم بہ صندوقِ عدم یک یک باز
ہم لوگ پتلیوں کی مانند ہیں۔ یہی حقیقت ہے اور اسے جھوٹ مت جاننا!جب تک ہمارا وجود ہے، ہم سبھی زندگی کے فرش پر کھیلتے رہتے ہیں ، اور پھر فنا کے صندوق میں ایک ایک کر کے گر جاتے ہیں۔
دی کوزہ گری بہ دیدم اندر بازار
برپارہ گِلی لگہ ہمی زد بسیار
واں گِل بزبانِ حال با اُومی گفت
من ہمچو تو بودہ ام مرا نیکو کار
کل میں نے بازار میں ایک کمہار کو دیکھا۔ وہ گیلی مٹی کو مکّیوں سے گوندھتا تھا اور وہ مٹی کمہار سے کہتی تھی: میں بھی کبھی تیری طزح رہی ہوں ، میرے ساتھ نرمی سے پیش آ!
اسرارِ ازل را نہ تو دانی و نہ من
وین حرفِ معما نہ تو دانی و نہ من
ہست از پسِ پردہ گفتگو ی من تو
چون پردہ پر اُفتدن تو مانی نہ من
کائنات کے بھید نہ تجھ پر کھلے نہ مجھ پر۔ یہ وہ پہیلی ہے جسے نہ تو بوجھ سکا نہ میں۔ ایک پردے کے پیچھے سے تیری میری بات چل رہی ہے ، جب یہ پردہ درمیان سے اُٹھے گا تو باقی رہے گا نہ میں۔
آنانکہ محیطِ فضل و آداب شُد ند
در جمعِ علوم شمع اصحاب شد ند
رہ زین شبِ تاریک نہ بُروند بروز
گفتند فسانہ در خواب شدند
حتیٰ کہ وہ دانشور جو یکتائے روزگار تھے۔ وہ جو دوستوں میں اپنے علم کی بدولت شمع محفل تھے۔ اصل میں وہ بھی فنا کی تاریک گزرگاہ سے باہر نہ نکل سکے۔ جیسے وہ ایک فسانہ سا خواب میں سُنا کر خواب ہوگئے۔
ہاں مگر اس انتخابِ رباعیاتِ خیام میں، چار پانچ رباعیات مجھے ایسی ضرور ملیں جن کا موضوع بے حد حساس ہے اور اگر معاشرے میں جبر و استبداد کی حکومت ہو تو ایسی باتوں کے کہنے اور سننے پر پہرے بٹھا دیئے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم وہ رباعیات اگر میں یہاں نقل کردوں تو کیا اُن کی اشاعت ممکن ہوگی؟ بہرحال گیارویں ،بارویں صدی عیسوی کے شاعر سے کیا خوف کھانا ! مجھے یہ امانتِ شعراءاگلوں تک پہنچانے دیجئے: یقیناً ان رباعیات کو دام تحریر میں لانے سے پہلے خیام نے مذہب کو جبر ، عقیدے کی احمقانہ تقلید ، دینِ مُلا فی سیل اللہ فساد اور روایتی تمدن کی فرسودگی کو بہت قریب سے برتا اور بُھگتا ہوگا۔۔ جانے خیام کے حساس دل و دماغ پر کتنے گہرے گھاﺅ لگے ہوں گے تب اُس نے واشگاف الفاظ میں یہ صدا دی ہوگی۔
می خور کہ ز دلِ قلت و کثرت ببرد
و اندیشہ ہفتاد وملت ببرد
پرہیز نہ کن ز کیمیائی کہ از اُد
یکجرعہ خوری ہزار عِلّت ببرد
شراب پی اور ہر نیک و بد کم و بیش سے گزر جا۔ یہ کیا بہتّر فرقوں کا فساد ہے۔ اس سے بیگانہ ہوجا!اور ہاں شراب سے پرہیز مت کر کیونکہ یہ تو وہ دوا ہے جو ایک جام سے تمام بلاﺅں کا خاتمہ کردیتی ہے۔
امشب می جام یکمنی خواہم کرد
خود را بدو رطل مے غنی خواہم کرد
اوِل سہ طلاق عقل و دین خواہ گفت
پس دخترِ رز را بزنی خواہم کرد
آج رات میں اتنی شراب پیؤں گا کہ دو ہی جام میں امیر ہوجائیوں گا!پہلا کام یہ کروں گا کہ عقل اور دین کو تین طلاقیں دوں گا اور پھر انگور کی بیٹی کو نکاح میں لے آؤں گا۔
چوں درگزدم ببادہ شوئید مرا
تلقین ز شرابِ ناب گوئید مرا
خواہید بروزِ حشر یابید مرا
از خاکِ درِ میکدہ جوئید مرا
جب میں مر جاؤں ، مجھے شراب سے غسل دینا اور میری تلقین پڑھنے کے لیے جام و مے کا اہتمام کرنا۔ اگر چاہتے ہو کہ روزِ آخر مجھ سے ملو تو مجھے میکدے کی دہلیز کی خاک میں ڈھونڈنا ، میں وہیں ملوں گا!
دارندہ چو ترکیب طبائع آراست
از بہر چہ او فکندش اندر کم و کاست
گرنیک آمد شکستن از بہرچہ بود
ورنیک نیامداین صور عیب کرامت؟
خالق نے جو اتنی مختلف طبائع متضاد اور متنوع خصوصیات والی بنائیں۔ پھر اُن میں کمی بیشی ، بُری بھلی کا کیا سوال تھا؟ اگر تو وہ اچھے اور خوب سانچے تھے تو پھر وہ توڑے کیوں گئے اور اگر بُرے تھے تو اُن کی ساخت کا ذمے دار کون تھا؟؟
خورشید کمندِ صبح بربام افگند
کیخروِ روز مہرہ در جام افگند
می خور کہ ندای عشق ہنگامِ سحر
آوازہ اِشربو در ایام افگند
سورج نے آسمان کو مسخر کرلیا۔ دن کے بادشاہ نے شراب کے جام میں تسبیح کے دانے اور سجدہ گاہ ڈال دی۔ عشق نے آوازِ سحر لگائی او جینے والے!اُٹھ اور شراب پی کہ ایامِ حال میں تیرا نام ابھی لکھا ہوا ہے۔
خیام مبارکباد کے لائق ہے کہ جن حالات میں عام شاعر مایوسی کی انتہا پر پہنچ کر سوائے آہیں بھرنے اور آنسو بہانے کے کچھ نہیں کرسکتا۔ خیام نے اُس کنارے پر بیٹھ کر زندگی کا رس کشید کیا۔ وجود کی مستی میں دیوانہ وار رقص کیا۔ فطرت کو محبت اور الطاف کی نظر سے دیکھا۔ محبوب اور مے سے مستی ، لذت اور مسرت حاصل کی اور یہ سارا عملِ حیات ایک بالغ نظر ، بالیدہ فکر کے سائے میں ہوا۔ یوں سمجھیے کہ موت کے پہلو میں بیٹھ کر اُس مردِ جری نے زندگی کا گیت گایا۔ خیام کا مشہور و معروف استعارہ ، جو وہ انسانی وجود کے لیے استعمال کرتا ہے ، جام کا ہے۔ جام جو زندگی کی شراب ختم ہونے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور اس ٹوٹے ہوئے جام کی مٹی سے دوسرا جام بنا دیا جاتا ہے۔ جام بننے اور ٹوٹنے کا یہ تسلسل مرگ و حیات کا تسلسل ہے۔ زندگی شراب کی صورت بھی ہے۔ خیام ہر ہر لفظ میں یہ شراب پینے کی تلقین کیے جارہا ہے۔ یوں کبھی کبھی خیام کی شرابِ انگور استعارے میں ڈھل جاتی ہے۔ گویا وجود جام اور زیست شراب سے بدل جاتے ہیں۔
اس طرح وہ تمام ایرانی شعراءاور مفکر جو شاعر خیام کے ہاں معرفت ڈھونڈتے ہیں اور اُسے مرِدِ آگاہ کا نام دیتے ہیں ، کچھ ایسے غلط بھی نہیں!
ایڈورڈ فٹنرجیرالڈ نے کتنی ہی تحقیق خیام کے باب میں کی ہو ، لیکن وہ ایرانی مٹی کے اس خمیر سے نا آشنا بھی تو ہوسکتا ہے جہاں
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
ہاں اتنا ضرور ہے کہ خیام نے اپنے شعری اظہار کو صرف اور صرف معرفت اور تصوف کے پردے میں نہیں ڈھانپا۔ جہاں اُسے کوئی پیغام دینا ہے ، کسی روایت سے انحراف کرنا ہے،کسی جہالت پر کُڑھنا ہے، وہاں وہ واشگاف الفاظ میں اپنی بات کہہ گزرتا ہے۔ اُس کی شرابِ زیست اکثر و بیشتر شرابِ انگور ہی نظر آتی ہے۔وہ جسم کو محرومِ راحت نہیں رکھنا چاہتا۔۔ اور بہرصورت موت کی آخری ہچکی سے پہلے، عمر خیام حیات کا جشن منانا چاہتا ہے۔۔۔ کیونکہ
لب بر لب ِ کوزہ بُردم غایتِ آز
تازو طلبم واسطئہ عمرِ دراز
لب بر لبِ من نہاد و برگفت بر آز
من ہمچو تو بودہ ام و می بامن ساز
اور جب میں نے پیالے کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور طویل زندگی کا راز جاننا چاہ،پیالے نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کے سرگوشی کی اور کہا: میں بھی کبھی تیری ہی طرح تھا، تُو جب تک جیتا ہے مجھ سے اپنی پیاس بجھا کیونکہ یہی زندگی ہے۔
بشکریہ :ادبِ لطیف

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker