ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

میرا بائی اور پریم بھگتی ( 2) ۔۔ماہ طلعت زاہدی

( گزشتہ سے پیوستہ )
بات یہ ہے کہ کیا میرا کو شادی والی زندگی سے نفرت تھی یا اپنے شوہر کے کردار و خصلت صورت و سیرت میں کوئی ایسی بات انہوں نے دیکھی کہ پوری زندگی کو بَلی چڑھا دیا۔ یہ راز پردے ہی میں رہ گیا۔ کیونکہ اگر اول الذکر معاملہ تھا تو میرا جیسی اعلیٰ تعلیم و تربیت ، فہم و فکر رکھنے والی عورت اپنے میکے سے وداع ہی نہ ہوتی۔ میرا جیسی فہیم ، بالغ نظر شخصیت کے ساتھ کم از کم میکے والی زیادتی نہیں کرسکتے تھے۔ اب رہی دوسری بات: تو جگہ جگہ میرا نے بڑے واشگاف الفاظ میں اپنے شوہر اور سسرال کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہاں ایک پہلو اور بھی نکلتا ہے کہ اگر میرا کی شادی زبردستی بھی کی گئی ، تب بھی شوہر کچھ ایسی شخصیت کا مالک نہ تھا جو میرا کا دل جیت سکتا۔ میرا بہرحال اعلیٰ اخلاق و اطوار اہنسا کی پرستار تھیں۔ شوہر کی خدمت پر بھی تیار تھیں لیکن ان کے ساتھ بدترین سلوک ، جنگی قیدیوں جیسا کیا گیا ، جس نے میرا کے دل کو سسرال ،شوہر کے لیے اور آخر میں دنیا سے بھی بے نیاز کردیا۔۔
میں سمجھتی ہوں ، یہاں سے میرا کرشن بھگتی کی طرف شدت سے مائل ہوئیں۔ ہندوستان کی سرزمین کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ سدھارتھ اور میرا جیسے راج پاٹ والے ، دھن دولت ، حکومت چھوڑ کر ، عوام میں گھل مل جاتے ہیں اور ان کی خاطر تکلیفیں اٹھاتے ہیں۔ وہیں ایک کرشمہ اس سرزمین سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھگوان کو چونکہ اوتار کے روپ میں قبول کرنے کی عادت سی چلی آرہی ہے ، اسی طرح بھگت بھی خود کو ہر روپ میں بھگوان کے قریب کر کے دیکھ سکتا ہے بلکہ ورند ابن میں پُرش تو صرف کرشن ہی مانے جاتے ہیں۔ سب بھگت (بشمول مرد) گوپیاں کہلاتے ہیں….
Meera bai
تو یہ علامت ، استعارے کے فضا میرا کے لیے ان کی شاعری کے لیے اور والہانہ عشق کے لیے بے مثال ثابت ہوئی۔ اب کوئی رکاوٹ حائل نہ تھی جو میرا کو محبت بھرے گیت لکھنے سے روک سکتی۔ کوئی دوری نہ تھی جو میرا کو کرشن کی دلہن سمجھنے سے باز رکھتی ، کوئی حد نہ تھی جہاں تک میرا کا تن من سفر نہ کرسکتا۔ یہ سفر ہجر کا بھی ہے۔ وصل کا بھی۔ یہ سفر فطرت کے رنگوں کا بھی ہے ، اور تہواروں کا بھی۔ اس سفر میں سادھوﺅں کی سنگت بھی ہے اور تنہائی کا درد بھی…. یہ سفر شعر کا سفر ہے۔ کھلی دھرتی ، کھلے آسمان کا سفر ہے۔ جنگل ، دریا ، ندیاں دھارے ، پرندے ، پھول ، پھل ، اس سفر میں سبھی کچھ ہے اور یہی سفر سفرمعرفت بھی ہے۔ پہلے تودیکھنا ہے کہ میرا نے آرام دہ زندگی کو کس آسانی سے ، ذہنی آزادی کی خاطر تج دیا۔ یہ کچھ ہنسی کھیل نہیں کہ دانت سے دانت بجاتی ہوئی سردی میں گرم گدیلوں کو چھوڑ کرکوئی عورت کسی غار میں ایک چادر میں پڑی ہو یا چلچلاتی دھوپ اور گرمی کی مار دینے والی لو میں کوئی نازک بدن محض کسی درخت یا کنج کا آسرا رکھتی ہو۔ کہنا آسان ہے۔ سہنا مشکل۔ میرا نے کہہ کر ثابت کیا ، اور سہہ کر دکھایا۔
کوئی دن گاڑی نے کوئی دن بنگلہ
(تو ، یا اور کے معنی)
کوئی دن جنگل بسنا جی
کوئی دن کھاجا ، نے ،کوئی دن لاڈُو
کوئی دن فاکم فاکا جی
کوئی دن ہستی نے کوئی دن گھوڑا
(ہاتھی)
کوئی دن پاﺅں چلنا جی
کوئی دن ڈھولیا نے کوئی دن تلائی
(بستر) (چٹائی)
کوئی دن بھوئیں پر لوٹنا جی
(زمین)
میرا کہے پر بھو گر دھرنا گُن
(کے گُن)
آئے پڑے سو سہنا جی
اور جب میرا نے خود پر یہ مصیبت آسان کرلی انہیں یہ کہنے سے کون روک سکتا ہے
ہے ری میں تو پریم دیوانی ،میرا درد نہ جانے کوئے
سولی اوپر سیج ہماری ، کس بدھ سونا ہوئے
(طریقہ)
گگن منڈل پر سیج پیا کی ، کس بِدھ ملنا ہوئے
گھائل کی گھت گھائل جانے ، کہ جن لاگی ہوئے
(یا)
درد کی ماری بَن بَن ڈولوں ، وید ملیو نہیں کوئے
یہ آسمانی تعلق بلا شبہ نازل ہوتا ہے۔ باندھنے سے یہ بندھن بندھ نہیں سکتا اور توڑنے کی کوشش اسے توڑ نہیں سکتی۔ اس شدید ترین جذبے کی عدم موجودگی میں ، جو رشتے گھر گرہستی ،میاں ، بیوی بال بچوں ، عزیز رشتے داروں میں نظر آتے ہیں وہ سماجی تعلقات ، مذہبی سمبندھ ، کاغذی عہد و پیمان تو کہے جاسکتے ہیں عشق نہیں۔ محبت تو دنیا ہی بدل دیتی ہے۔
جو تم توڑو پیا میں نہیں توڑوں
تو سوں توڑ کرشنا کون سنگ جوڑوں
تم بھئے موتی پربھو ہم بھئے دھاگا
تم بھئے سونا ہم بھئے سہاگا
جب قربت اس درجے کی ہوتو وہ اپنے شوہر کو مخاطب کر کے سمجھاتی ہیں۔
موہن لاگت پیارا ، رانا جی! موہن لاگت پیارا
جن کی کلا سے حالت چالت ،بولت پران آدھارا
(قدرت سے) (سانس میں گویائی ہے)
تم بھی جھوٹے ، ہم بھی جھوٹے ، جھوٹا ہے سب سنسارا
استری پُرش کے سمبندھ جھوٹے ، تو پھوٹیاہیا تمہارا
(عورت ، مرد) (اسی لئے تمہارا دل ٹوٹا)
جب پریم دل میں سما جاتا ہے تب سوائے پریتم کے کچھ نہیں سوجھتا۔ اشیاءاپنے معنی تک کھو دیتی ہیں۔ عالم اسباب نیا پیراہن بدل لیتا ہے۔ کافور اور ہیرا ایک جیسے لگتے ہیں۔ میٹھے اور مرچ کی تمیز اٹھ جاتی ہے۔پتھر اور سونے کا امتیاز ختم ہوجاتا ہے۔ جوگن کے لیے ہار سنگھار ، زیورات ، گھنگھرو بوجھ بن جاتے ہیں۔
اب نہیں مانوں رانا تمہاری ، میں بَرپا یو گِردھاری
(شوہر کا نام) (شوہر)
میرا کرشن کو اپنا شوہر مان رہی ہیں۔ یہ منزل بڑی کٹھن ہے۔ جو کہیں نہیں اسے سب کچھ سمجھ لیا:
میں تو سانورے کے رنگ رانچی ماجی سنگھار ، باندھی پگ گھنگھرو ، لوک لاج تج ناچی
اب دنیاوی شرم و حیا ترک کردی۔ اب رقص بھی اسی کرشن کے لئے ہے جو محبوب ہے اور سنگھار بھی اسی کے لئے ہیں جسے مرکزِ ہستی سمجھ لیا ہے:
میں گردھر رنگ رانی سیّاں
(کھیلی)
پنج رنگ چولا پہر سکھی میں جھرمت کھیلن جاتی
(پہن) (آنکھ مچولی)
چندا جائے گا سورج جائے گا ، جائے گی دھرتی آکاسی
(آکاش)
پون ،پانی دونوں ہی جائیں گے اٹل رہے اوناسی
(لافانی)
پریم بھئی کو میں مدپیوں ، چھکی پھروں دن راتی
(شراب) (مدہوش)
حواس خمسہ کو پانچ رنگ کا چولا بتا کر میرا نے اپنی محبت لافانی محبوب کے ساتھ جوڑ دی۔ آنکھ مچولی کے کھیل سے مراد جنم کا چکر ہے۔ جب کرشن دنیا میں تھے۔ میرا چُھپی تھی۔ اب میرا ظاہر ہے تو کرشن غائب۔ ہر چیز فانی ہے سوائے میرا کے محبوب اور اس کے جو میرا کو سرشار رکھ رہی ہے۔ لیکن جب میرا خواب کی کیفیت سے نکلتی ہیں تو ہجر کی سنگلاخ زمین پر خود کو کھڑا پاتی ہیں۔ وہ کوئی پچھلے جنم میں تھا جو کرشن کہلایا۔ اب کہاں…. وہ مسکان ، وہ بنسری کی تان ، وہ گوپیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ، وہ حسن اور جوانی کی بہار…. کہیں نہیں دور دور تک ویرانی ہے ، سادھوﺅں کی سنگت ہے ، ویرانوں کا سفر ہے۔ جدائی کا عالم ہے۔
رات دِوس کل ناہیں پرت ہے جیسے مین بن پانی
(دن) (مچھلی)
درس بنا موہے کچھ نہ سہاوے تلپھ تلپھ مر جانی
(تڑپ)
میرا تو چرنن کی چیری ، سن لیجئے سکھ وانی!
(چیلی) (سکھ دینے والے!)
ایسے شدید ہجر ، ویرانی ، درد اور تڑپ کے موسم میں ، ساون جب آتا ہے تو میرا کا کیا حال ہوتا ہے۔
چھوٹی بوندن برسن لاگی کویل سبد سنایو
(بول ، گیت)
گاجے باجے پون مدھر یا امبر بدراں چھایو
جھک آئی بدر یا ساون کی ، ساون کی من بھاوّن کی
میرا کے پربھوگر دھرنا گر ، آنند منگل گاون کی
(خوشی کے گیت گانے کا سمے ہے)
سارے ہی موسم سارے ہی تہوار آرہے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ میرا بڑی استقامت سے لوگوں کو خوش ہوتا دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے ایک خیالی پریم اور عظیم پریتم کی قیمت اپنا بدن ، اپنا من ، سکھ ، چین دے کر ادا کی ہے۔
اڑت گلال لال بھئے بادل پچکارن کی لگی جھری ری
میرا کہے پر بھوگر دھرنا گر چیری ہوئے پاپن میں پری ری
(چیلی) (پاﺅں)
خواب ،اور حقیقت کے یہ گیت پڑھتے پڑھتے کہیں کہیں ایسا شبہ بھی ہوتا ہے کہ ”کوئی اور بھی تھا“ میرا کو پاک دامن اور صالح کردار بتایا گیا ہے۔ خود ان کے بجھن بھی ظاہر کررہے ہیں۔ لیکن یا وہ اتنی شدید حسیات کی مالک تھیں کہ کسی گزرے جنم کی کتھا ، کسی مورتی کی چبھی کو اپنے پورے وجود پر تمام جیون کے لیے وارد کر گئیں…. یا پھر میرا کو سادھوﺅں میں یا شادی سے پہلے یا حالت تیاگ میں کوئی ایسا جیتا جاگتا سراپا نظر پڑا جو شاید کرشن سے مماثل تھا ، کردار ، صورت یا سیرت میں۔ یوں وہ”اَن حد“ (یہ اصطلاح کبیر نے وضع کی) عشق شروع ہوا جو ان گیتوں کی بنیاد بنا۔ کہتی ہیں شوہر گھر آیا ہے جس کے ساتھ گھل مل کر سکھ کا گیت گایا۔ ملاپ سے ہجر کی آگ دور ہوئی اور ٹھنڈ پڑ گئی۔
مھا رو او لگیا گھر آیا جی
(شوہر)
تن کی تاپ مٹی ، سکھ پایا ،ہِل مِل منگل گایا جی
رگ رگ سیتل بھئی موری سجنی ،
ہری مرے محل سدھایا جی
(ٹھنڈ) (پسارا)
ایک جگہ اس خیال کو پھر تقویت ملتی ہے۔ کوئی ”سایا سا“ نظر آتا ہے:
جابا دے جا بادے جوگی کس کا میت
بولت بچن مُدھر سے میٹھے ، جورت ناہیں پریت
میں جانوں یا پار نبھے گی ، چھاڑ چلے ادھ بیچ….
(چھوڑ)
میرا کے پربُھوسیام منوہر ، پریم پیار امیت
یعنی جوگی میٹھی باتیں کرتا ہے لیکن بیچ میں چھوڑ جاتا ہے۔ بس میرا کے مالک تو پربھو ہیں۔ بہرحال میرا کی محبت ایک روحانی تجربہ ہے۔ سمجھنا مشکل ہے۔ خود میرا نے کہا ہے:
گھایل کی گت گھایل جانے
یہ واردات جس پر نہ گزری ہو اسے کیا پتہ محبت کس کس طرح زندہ رکھتی ہے اور کیونکر مار ڈالتی ہے۔ میرا کی روح عظیم تر ہے جو لامحدود کا پتہ لگا رہی ہے اور میرا کا بدن اس سے بھی عظیم جو آتما کے سکھ کے لیے دنیا جہان کے دکھ جھیل رہا ہے۔ جس کا نام میرا ہے وہ خوش ہو ہو کر آنسوﺅں بھرے بجھن لکھ رہی ہے۔ وہ اپنی فہم و فراست ، اپنے شعر و فن کو تاریخ کا حصہ بنا رہی ہے۔ وہ کانٹوں کے بستر پر لیٹ کر پھولوں بھری سیج کا سکھ پارہی ہے۔ اپنی ہستی کی کشتی کو کرشن نام کے بادبان سے چلا رہی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہی میرا بائی کا پریم اور یہی ان کی بھگتی ہے۔

بشکریہ :ماہ نو

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker