ادبتجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

سیفوکی شاعری ( 1 ) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

تاریخ ادب و شعر کی وہ پہلی خاتون ، جو اذہانِ علم و ادب پر چھا گئی۔ آنے والے تمام ادوار کے شعر و ادب میں وہ پہلی عورت ہے جو شاعرہ کی حیثیت سے ، مطالعے اور غور و فکر کے لیے از بس لازم ٹھہری۔ اس کی پیدائش غالباً 612 ق م میں ہوئی۔ اس اعتبار سے وہ مہاتما گوتم بدھ کی ہم عصر کہلائے گی۔
تمام بڑے بڑے یونانی فلافسہ جن میں سقراط ، افلاطون ، ارسطو شامل ہیں۔ سیفو کے بعد دنیا میں آئے اور ان سبھی نے سیفو کے گُن گائے اور اس کے کام کا اعتراف کیا۔ سقراط نے اُسے ”حسین عورت بتایا (بہ اعتبارِ فن)“افلاطون نے کہا ”بعض کہتے ہیں میوز (فنون لطیفہ کی دیویاں) نوہیں لیکن انہیں دیکھنا چاہیے کہ دسویں سیفو ہے۔ ارسطو نے کہا ”اگرچہ وہ عورت تھی لیکن مٹی لین (سیفو کی جنم بھومی) کے باشندوں نے اس کی قدر کی“۔ بائرن نے یونانی جزیرے کو اس لیے خراجِ تحسین پیش کیا کہ ”وہاں سیفو نے عشق و محبت کے گیت گائے۔“
سیفو کی عظمت کو سمجھنے کے لیے ایک افلاطون کا قول ہی کافی ہے کیونکہ وہ عورت کو بہ حیثیت انسان کچھ زیادہ خاطر میں نہ لاتا تھا بلکہ وہ تو جنس لطیف کو حسین بھی نہیں مانتا تھا۔ اس نے لیاقت اور جمالِ بدن کے لحاظ سے بھی مرد کو برتر بتایا ہے۔ افلاطون کے ذہن کو سیفو کا فتح کرلینا ، سب سے بڑی فتح تھی۔ جہاں تک سیفو کے اپنے وجودِ ظاہری کا تعلق ہے ،کہا گیا کہ وہ ایک سیاہ فام پستہ قد عورت تھی۔ خود اس نے اپنے شعر میں اپنے بارے میں بتایا
”اے یروشلم کی بیٹیو!
میں کالی ، لیکن حسین ہوں/ جس طرح بادشاہ ِیونان کے خیمے/جس طرح سلیمان کے پردے“۔
ہمیں اس کی جو کتاب شعری ورثے میں مل پائی ، وہ نہایت مختصر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بیشتر شاعری اسکندریہ کے کتب خانے میں لگنے والی آگ سے ضائع ہوگئی اور اس کے شعری ادب کا بہت سا حصہ گیارہویں صدی عیسوی میں جنونی عیسائیوں کی مذہبی شدت پسندی کی نذر ہوگیا۔ انہوں نے سیفو کے کلام کو مخرِب اخلاق بتایا اور تلف کردیا۔
جو کتابِ شعر ،سیفو کے حوالے سے دُنیا میں رہ گئی ، وہ اتنی مختصر ہے اور موضوعات کے لحاظ سے اتنی محدود ہے کہ اگر فلاسفہ یونان کے بڑے بڑے اقوال سیفو کی شان میں سامنے نہ ہوتے تو شاید ، اس کتاب کو بھی نظر انداز کردیا جاتا۔
سیفو کی موت کی تاریخ سامنے نہیں آئی لیکن اس نے اپنی ایک نظم میں اپنے چہرے کو جھریوں سے آلودہ کہا اور یہ بھی کہا کہ ”بڑھاپے سے کس کو مفر ہے۔ دیوتا بھی اس کے سامنے بے بس ہیں۔“
جب ہم سیفو کی اس کتابِ شعر سے رجوع کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز ہمیں اچھنبے میں ڈالتی ہے وہ سیفو کے موضوعاتِ شعر ہیں۔ دوسری اہم بات اس کی بے باکی اظہار ہے جو شعری دنیا میں خاتون اوّل کی حیثیت سے واقعی بڑی جرات کا کام ہے۔ تیسری چیز سیفو کے ہاں اظہارِ حقیقت ہے یعنی سیفو نے جس طرح کی بھی زندگی گزاری ، اسی کو بیان کیا ہے۔ اِدھر اُدھر کی خیال آفرینی سے سیفو کا کوئی تعلق نہیں۔ چوتھی اور آخری اہم بات یہ ہے کہ سیفو یونان کی دیومالا کے اثر میں اس حد تک تھی کہ وہ جگہ جگہ مختلف دیویوں سے خطاب کرتی ہے۔ انہیں غیبی مدد کے لیے بلاتی ہے ،اُس کے سامنے گریہ گزار ہوتی ہے اور ان سے دُعائیں مانگتی ہے۔
سیفو کی شاعری کی اس چوتھی سمت سے ایسا لگتا ہے کہ کہیں کہیں سیفو کا ذہن روح اور روحانی مسائل کی طرف بھی پھرے گا لیکن چونکہ بیشتر یونانی دیو مالا عشق و محبت ، جنگ اور انتقام ، بدن کے حُسن اور جنسی اتصال کے بکثرت ذکر ،دیوی اور دیوتاﺅں کی ظاہری کشش ،بدن کی طاقت اور جمال کے کرشموں سے بھری پڑی ہے ،اس لیے سیفو اگرچہ دیوی ، دیوتاﺅں کی طرف مڑتی ہے مگر منتخب کر کے مثلاً اس کے شعروں میں جگہ جگہ دیوی زہرہ کا ذکر ملتا ہے جو سمندر کے جھاگ سے عُریاں پیدا ہوئی تھی۔ حد درجے عیش پسند ، آزاد خیال اور رنگین مزاج تھی مگر ہر بار سمندر کے غسل سے وہ اپنا کنوار پن بحال کرلیتی تھی۔
سیفو کہتی ہے
”دیوی زہرہ خواب میں مجھ سے محو گفتگو تھی“۔ زہرہ…. حسین ترین ستارہ۔“
ایک طویل نظم نمبر 10 میں وہ زہرہ سے فریاد کرتی ہے۔
”تو آکر میری مدد کر جس طرح ایک مرتبہ پہلے بھی تو نے میری خاطر صدیوں کا سفر اپنے سنہری رتھ پر کہ جس کو کبوتر کھینچتے ہیں ،پل بھر میں طے کیا تھا اور مجھے تسلی دی تھی کہ سیفو آنسو نہ بہا۔ تو جسے چاہتی ہے وہ بھی تجھے چاہے گی۔ اس وقت وہ تیرے تحفوں کی قدر نہیں کرتی لیکن وہ دن دور نہیں جب وہی پیکر دلربا تیرے قدموں پر اپنا سر دھرے گی اور تیرے بیتاب د ل کا شوق پورا کرے گی“
اس نظم میں سیفو زہرہ دیوی کو ملکہ حسن اور حسن مجسم کہہ کر مخاطب کرتی ہے۔
جہاں تک سیفو کے کلام میں اظہار حقیقت کا تعلق ہے ، وہ بھی جگہ جگہ ظاہر ہے۔ سیفو کی شاعری ایک امیر کبیر تاجر کی کلاس سے ہوئی تھی۔ سیفو کی ایک بیٹی تھی جس کا نام کلئیس تھا۔ سیفو کے کلام میں دو جگہ بیٹی کا ذکر ملتا ہے۔ ایک اس کے بچپن کے خاکے میں اور دوسری نظم میں وہ نسبتاً باشعور بیٹی سے کہہ رہی ہے۔
”میں نے اس گھر میں شعر اور نغمے کو بسایا ہے۔ ایسے پاک گھر میں تیرا رونا دھونا ، آہ و زاری ایک فضول شے ہے“۔
اس شعر سے صاف عیاں ہے کہ سیفو کو شاعری اور موسیقی سے کس قدر محبت تھی اور انہیں وہ کتنے بلند درجے کے فنون لطیفہ کا مقام دیتی تھی کہ جن دروبام میں یہ بسے ہوں ، وہاں پاکی کا راج ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سیفو نے ایک اکادمی کھول رکھی تھی جہاں وہ یونانی دوشیزاﺅں کو شعر و حکمت ،ساز و نغمے کا درس دیا کرتی تھی۔ سیفو کو موسیقی میں بھی اتنا کمال حاصل تھا کہ ایک بیس تاروں والے بربط کی ایجاد کا سہرا بھی اس کے سر بندھتا ہے۔
اپنی ایک نظم نمبر 87 میں وہ حرا دیوی سے کہتی ہے:
”مجھے دوبارہ اتنی توفیق دے کہ میں مٹی لین (سیفو کی جنم بھومی) کی دوشیزاﺅں کو اچھے اخلاق اور پسندیدہ فن کی خوبیوں کی تعلیم دوں اور یہ باغ جس میں خزاں چھا گئی ہے ، دوبارہ سے علم و ہنر کی تازگی سے مہکنے لگے….“۔
یہاں یہ بھی پتہ چلا کہ سیفو کی شعر و موسیقی سے رغبت اس قدر زیادہ تھی کہ وہ مستقل ناصرف اس عمل میں خود کھوئے رہنا چاہتی تھی بلکہ بے قراری اور انتہائے شوق کو وہ اگلی نسلوں تک بھی پہنچانا چاہتی تھی۔ گویا وہ صرف ایک شاعرہ اور موسیقار ہی نہیں ، ایک بہت لگن رکھنے والی اُستاد بھی تھی….۔
سیفو کے کلام میں جو بھی آج ہمارے پاس کتاب کی صورت میں ہے ، کہیں اس کے شوہر کا نام اور ذکر نہیں ملتا گویا سیفو اپنے شوہر سے کوئی نسبت ذہنی اور روحانی نہیں رکھتی تھی جب کہ اس کے دو بھائیوں سیپرس اور نیرئیس اور تیسرے مرد الکیاس کا ذکر موجود ہے جو سیفو سے عمر میں آٹھ سال چھوٹا مگر سیفو کا سودائی تھا۔ شاید کبھی الکیساس نے سیفو سے اظہارِ محبت کرنا چاہا ہو مگر جھجک گیا ہو۔ اس پر سیفو نمبر 19 نظم میں اس سے مخاطب ہوتی ہے۔
”اے ماہر کلام (یاد رہے الکیساس شاعر بھی تھا) تو بول کیوں نہیں سکتا۔ اگر دل میں چور نہ ہو تو خطرہ کیا؟ اگر ضمیر صاف ہو تو آنکھیں نہیں جھکتیں۔ اگر بات بے جا و بے مول نہ ہو تو لبوں پر ضرور آجاتی ہے“۔
ایک نظم نمبر 108 میں وہ شاید اس عاشق سے کہتی ہے۔
”مجھے بڑھاپے میں کسی نئے پھول کی رفیق بننا پسند نہیں۔ تم اپنے لیے کوئی جواں تر رفیقہ چنو“۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker