ادبتجزیےلکھاریماہ طلعت زاہدی

سیفوکی شاعری ( 2 ) ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

( گزشتہ سے پیوستہ )
سیفو کے بھائیوں کے ذکر کو چھوڑ کر یہ واحد مرد ہے جس سے سیفو کا محبت کا رابطہ ظاہر ہوا ہے ،وہ بھی مرد کی طرف سے۔ سیفو کے جذبات اس کے حق میں بھی کچھ ایسے گرم و گداز نہیں۔ بھائیوں میں سیپرس کی وہ تعریف کرتے ہوئے لکھتی ہے۔
نظم نمبر 24
”آﺅ اور محفل میں ساقی بن جاﺅ اور سونے چاندی ، کانچ کے حسین جام شراب اپنی سکھیوں اور میری سہیلیوں کو یوں بھر بھر کے دو گویا یہ شراب نہ ہو بلکہ تریاق ہو“۔
اس زمانے کی یونانی تہذیب میں اُمراءمیں میزبان کو خود شراب پلانا ایک باعث اعزاز عمل تھا۔
Sappho poet greek
دوسرے بھائی نیرئیس سے سیفو کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ یہ بھائی شراب کا تاجر تھا اور کسی پیشہ ور طوائف ”دریشہ“ سے وابستہ تھا۔ نظم سے پتہ چلتا ہے کہ سیفو اس تعلق کو سخت ناپسند کرتی ہے اور بھائی کو اس راہ سے لوٹ آنے کی اس درجہ تاکید کرتی ہے۔
نظم نمبر 86
”اگر بھائی بہن سے دشمنی پال رہا ہے تو یقیناً اس کا دماغ پھر گیا ہے“
”یاد رکھو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کر کے بہت پچھتاﺅ گے کیونکہ میں امن و آشتی کو پسند کرتی ہوں اور مرا دِل کینے سے آزاد ہے اور رقیق ہے“۔
یہاں سیفو کی اخلاقی اقدار کھلتی ہیں کہ وہ امن ، دوستی کو پسند کرتی ہے اور کسی طوائف سے اپنے بھائی کے تعلق کو سخت بُری نظر سے دیکھتی ہے لیکن بہ ایں ہما ہم پر یہ بھی کھلتا ہے کہ اس معاشرے میں ہم جنسیت کے جذبات پسندیدہ تر سمجھے جاتے ہیں اور عملی طور پر بھی اظہار میں بھی ، شعری موضوعات میں بھی ان کا اظہار معیوب ہیں بلکہ محبوب جانا جاتا ہے۔
جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ یونان کے تمام مرد فلسفی بشمول سقراط ، افلاطون وغیرہ امرد پرست تھے۔ یہ یونانی اثر عرب ،ایران اور پھر برصغیر کے شعر و ادب میں بھی ظاہر ہو اور اِردو غزل کا محبوب کچھ شعراءکے ہاں تو بیسویں صدی کے آغاز تک ایک مرد ہی رہا….۔
سیفو کی کتاب کی کل 105 نظموں میں سے تقریباً 80,90 نظمیں عورتوں سے محبت ،ان سے قرب کی خواہش ، ان سے لذت کشی کی آرزو میں بھی بھری پڑی ہیں۔ اصل سیفو ان نظموں ہی میں ظاہر ہوتی ہے اور اپنی بے باکی اظہار میں یہاں تک آجاتی ہے کہ جگہ جگہ یوں کہتی ہے۔ نظم نمبر 33۔
”کبھی دیوتا تم پریوں مہربان ہوجائیں کہ تم بھی کسی سہیلی کے نرم و گداز سینے کو اپنا تکیہ بنا کر ، عیش کی نیند کے خوب خوب مزے لو“۔
نظم نمبر 29
”اے گنکیلہ تو کہ سرخ کلی گلاب کی ہے۔ اپنی اُجلی قبا کا گریبان کھولے ہوئے آجا۔ میرا دل تیرے لباس کے چاروں طرف یوں بے قرار پھرتا ہے جیسے سرو کے گرد قمری۔ تجھے دیکھ کر میرا دل سینے میں فرط شوق سے اُچھلنے لگتا ہے اور میری چشم تخیل مزے میں بند ہوئی جاتی ہے۔ کاش کہ میرے دل گریہ گداز کو پھر سے تیرا وصل نصیب ہو۔ بعد میں جو ہو و ہو….“۔
نظم نمبر26
”اے گلوکار راﺅ ایسی بھولی بھالی کنواری کے نغمے گاﺅ! جس کا دودھیا ، اُجلا ،چاندی جیسا سینہ (پانی یا پسینے میں) تر ہے گویا کہ بنفشے کا پھول ہے جو لب دریا کھِلا ہو“۔
نظم نمبر25
”لوگوں کے نزدیک جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانا کمال ہے لیکن میں تو یہ کہتی ہوں کہ اس دنیا میں فقط عشق بُتاں کے علاوہ کوئی چیز قابل ذکر نہیں۔ ہیلن کی ذات اس کی مثال ہے جس نے نہ اپنے شوہر کی پرواہ کی نہ بیٹی کا خیال کیا۔ وہ اس شخص کے دامِ محبت میں گرفتار ہوئی جس نے ٹرائے کے باغ کو اُجاڑ کر کھ دیا۔ یہ جو جوان عورتیں ہوتی ہیں ،یہ جلتی ہوئی آگ کی طرح ہیں۔ ان کے سینے خوابوں اور بدن مستی سے دہکتے ہیں۔ یہ شراب کو زہر ہلال میں تبدیل کردیتی ہیں…. میرا دل بھی نکطور (ایک شاگرد سیفو) کے غم میں فریاد کناں ہے۔ جب سے اس نے بے وفائی کی ہے ، میری زندگی ویران کمرے کی مانند ہوگئی۔ اب میں صرف عیش رفتہ کو یاد کرتی ہوں۔ چارئہ غم سوائے اس کے اور کچھ نہیں…. کوئی ایک نہیں اور کہیں خاتمہ نہیں“۔
سیفو کی معشوقائیں بہتیری ہیں۔ عطیس بھی ان میں ایک ہے جس سے وہ نظم نمبر 41 میں مخاطب ہے۔
”تیرے لیے میری آرزوئیں ہونٹوں پر آہ بن بن کر تڑپ رہی ہیں۔ اے میری جان میرے دل میں پلٹ آ“
عطیس سے ہی وہ نظم نمبر 48 میں یوں مخاطب ہے اور اس خطاب سے یونانی طرزِ تہذیب اور ایک یونانی کے عیش و عشرت زدہ مزاج پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
”مجھے یاد ہے میرے پاس لیٹے لیٹے تو نے اپنی صراحی دار گردن میں گلاب اور بنفشے کے پھولوں کے گجرے ڈالے تھے۔ میرا تو دل ان گجروں کی گندھاوٹ پر نثار ہوگیا تھا۔ پھر تو نے اپنے بدن کو ایسی خوشوبوں سے معطر کیا تھا کہ تمام باغ مہکنے لگے تھے۔ ہمارے قریب ہماری کنیزیں ہماری آنکھوں کے اشاروں کو سمجھتی ہوئی محو خرام تھیں۔ اس سے زیادہ ایک یونانی کو کیا چاہیے“۔
ایک جگہ تو وہ اپنی محبوبہ ڈیسا سے یہاں تک کہہ گزرتی ہے۔ نظم نمبر 31 ”تم نے ابھی اپنی مدھر آواز اور گیت سے مجھے ایسا محسور کردیا تھا کہ میں اس سحر میں تمہارے گھر چلی آئی۔ مجھ سے شرماﺅ مت۔ مجھے اپنا حسن سوزاں دکھاﺅ۔ خدارا اپنی خدمت گاروں کو جلد از جلد رُخصت دو تاکہ مجھے وہ عیش و عشرت کا خزانہ ملے جو قسمت نے میرے لیے رکھا ہوا ہے“۔
غرض مثالیں اتنی ہیں کہ پوری کتاب یہیں سمٹ آئے گی۔ حد تو یہ ہے کہ ان محبوباﺅں کے علاوہ جن کے نام لے کر انہیں عزت بخشی گئی ، سیفو نے نظم نمبر 38 میں یہ بھی کہا:
”یہ کون دیہاتی ، بدسلیقہ عورت ہے جو اپنے ٹخنوں کو بھی اپنے پھٹے پرانے لباس سے نہیں ڈھانپتی لیکن جو سیفو کے دل و دماغ پر طاری ہوئی جارہی ہے“۔
ایک جگہ بہت سی بے نام لڑکیوں کو دیکھ کر وہ کہتی ہے:
” تم سب کو دیکھ کر میری آنکھوں کا نشہ چھا گیا۔ میں راہ چلتی اپنی ہمسفر عورتوں کے لیے اچانک گونگی اور بہری بن گئی۔ میرے کان بے خودی سے سُن ہوگئے اور میری روح جیسے پرواز کر گئی اور تم لوگوں کے لباس اور ان میں چھپے ہوئے بدن کے خفیہ حصے ، وہ سارے اُبھار اور خطوط مجھے ایسے سرشار کر گئے کہ میں بغیر شراب کے مدہوش ہوگئی“۔
یہی سیفو کا موضوع شعر ہے اور یہیں اس کی بے باکی اظہار نمایاں ہوتی ہے جو اس کے دور کے علماءاور فلاسفہ نے قابل تحسین نظروں سے جانچی اور پرکھی۔
سیفو بہرحال ایک محبت سے بھرا دل لے کر پیدا ہوئی تھی۔
”اس محبت کے طوفان نے اس نازک دل کو ایسے ہلایا جیسے شاہ بلوط کے قد آور درخت کو طوفانِ بادو باراں تنکا تنکا کر دیتے ہیں“ نظم نمبر 17۔ حتیٰ کہ نظم نمبر 99 میں وہ تھک ہار کر خود سے کہتی ہے:
”اے دِلِ داغدار!کیا اب بھی تجھے کنوار پنے کی آرزو ہے؟“۔
اور نظم نمبر 100 میں وہ اس درجے ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے کہ مجبور اور غمگین ہو کر صدا لگاتی ہے:
”اے مری دوشیزگی تو کہاں چلی گئی۔ میرے دل کا نگر پیہم حملوں سے برباد ہوگیا۔ آہ وہ عیش اب ایک خواب بن گیا….“۔
سیفو بہرحال ایک صاحب اسلوب ، دل عاشق لیے ، فہم و فراست رکھنے والی شاعرہ ہے۔ ہمیں اسے اس کے دور کے مروجہ اخلاق کے معیار پر قبول کرنا چاہیے اور اس کے نفس مضمون سے زیادہ اس کے اظہار علم و شعر پر نظر رکھنی چاہیے۔ اپنے محبوب و مرغوب موضوع سے ہٹ کر وہ کبھی کبھی اچھوتی باتیں بھی کرتی ہے جیسے نظم نمبر 102میں:
”کبھی یہ خیال دل میں پیدا ہی نہیں ہوا کہ میں سنہری آسمان کو ہاتھ سے چھو سکتی ہوں“۔
یا ایک جگہ تلاشِ حُسن میں شراکت فطرت چاہتے ہوئے لکھتی ہے۔ نظم نمبر 23:
”دریا کے کنارے چنے کے پودے لہرا رہے ہیں ، کیا عجب بہار ہے“۔
نظم نمبر58:
”سیب کے باغوں میں پانی کے چشموں پر پتے سرسراتے ہیں تو جلترنگ بجاتے ہیں جیسے نیند کی لہریں دھیرے دھیرے پلکوں پر گر رہی ہیں۔“
سیفو ایک زبردست حسن پرست تھی۔ یہ اس کے اشعار کی وہ آخری خوبی ہے جو کسی بھی پڑھنے والے کا دل اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔ اس کی مثالوں ، تشبیہوں سے اس کے اشعار حسن کا نادر نمونہ بن کر امر ہو جاتے ہیں مثلاً نظم نمبر 22 میں وہ ایسی لڑکیوں کا ذکر کرتی ہے جن کی آوازیں مدھر ہیں اور ان کی تعریف میں صرف ایک مصرعہ لکھتی ہے:
”ایسی حسین آواز رکھنے والی دوشیزاﺅں کے نام جن کی آواز سے شراب ٹپکتی ہے“۔
ایک جگہ
”وہ کنواری لڑکیوں کے پیروں تلے لہلہاتی گھاس دیکھ کر طلسم میں آجاتی ہے۔ ان کے پاﺅں میں پائلیں چھنکتی ہیں اور انگ انگ سے ناز و نشہ ٹپکا پڑتا ہے۔ ان کے بدن جیسے سونے پر سہاگہ ملا ہو۔ ان کی جوانیاں ستاروں کی طرح چمکدار ہیں۔“
نظم نمبر 30 میں وہ ایک دوشیزہ سے کہتی ہے:
”کیا تم اپنی زلفوں کو تازہ سونف کی کونپلوں سے باندھتی ہو؟
مہندی لگی نازک انگلیوں سے؟“
اب جس نے پہاڑوں پر کھلے سونف کے پودوں کو دیکھا ہے ، وہ جان سکتا ہے کہ سیفو نے کنواری زلفوں کے لیے کیسا نادر و نایاب ، آنکھوں میں کھب جانے والا ہرے رنگ کا لطیف اور کومل خوشبودار موباف تلاش کیا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ وہ دیویوں کو بھی رنگوں ،نسائی لطافتوں ، جنس نازک کی صفتوں سے یاد کرتی ہے۔
”نارنجی ، چاندی جیسی اور سنہری نغمہ و موسیقی کی دیویوں نے مجھے بیکراں خوشی کا احساس دیا اور گویا مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کردیا“۔
نظم نمبر4
”اے فنونِ لطیفہ ، شعر و حکمت کی دیویو!اے گلابی بازوﺅں والی ، سنہری حسن کی شہزادیو! آﺅ میرے گھر میں قیام کرو“۔ نظم نمبر 5
”اے مہکتی زلفوں والی ادب کی دیویو!اے شوخ مگر سنجیدہ دُلہنو!آﺅ اور مجھے سوز و سازکے سبق پڑھاﺅ“۔ نمبر6
غرض یہ کہ اپنے بے مثال شعری سلیقے ، حُسن پرستی اور عشق بے پایاں سے سیفو نے اس ابدالآباد تک باقی رہنے والے شہرت کے سنہری آسمان کو چُھولیا ،محض ہاتھ بڑھا کر جس کی کبھی اس نے تمنا کی تھی۔

بشکریہ :شہرزاد لندن

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker