بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے،یہ گیت میڈم کی گائیگی کا پہلا حوالہ ہے ۔دوسرا حوالہ ملتانی کافی ،سائیں خواجہ غلام فرید سے عقیدت اور وسیب کی لوک اور قومی موسیقی ہے۔میڈم ثریا ایک منفرد شخصیت کی مالک ہیں۔آ پ نے اس انفرادیت کا اظہار "ملتانی”کی جگہ "ملتانیکر”لکھ کر کیا۔آ پ نے اپنی شخصی حیثیت سے لے کر اپنے فن تک نئی راہیں نکالیں۔آ پ کے گلے میں صرف روہی،تھل اور ملتان نہیں بولتا بلکہ پوری وادی سندھ بولتی محسوس ہوتی ہے۔آ پ کی آواز میں جو لوچ اور نرماہٹ ہے وہ فطرت کسی کسی کو عطا۔کرتی ہے۔

میڈم کی آواز صوفیانہ کلام اور فوک کو نئے ذائقوں سے متعارف کراتی ہے ۔بلاشبہ آ پ نیم کلاسکل گانے والی فنکارہ ہیں مگر جو کوملتا اور لطافت آپ کی اواز اور لہجے سے اجاگر ہوتی ہے،اس کا جواب نہیں ۔آ پ ایک منجھی ہوئی اور ماہر فنکارہ ہیں جو ان کی مسلسل ریاضت کا مظہر ہے۔جہاں تک آ پ کی شخصیت کا تعلق ھے وہ سراپا ممتا ہے۔آپ کے انداز گفتگو اور سماجی تفاعل سے ایک شفیق ماں کا تاثر ابھرتا ہے۔آپ کی شخصیت اور فن ہر اعتبار سے جامع ہے اور خوش آ ئند بات یہ ہے آپ نے اس شخصیت اور فن کو امر کرنے کے لیے اپنا سب کچھ اپنی ہونہار بیٹی راحت ملتانیکر کو دان کر دیا ہے۔اس وقت ہمارے پاس دو ملتانیکر ہیں۔ایک ثریا اور دوسری راحت، لیکن اصل میں یہ دونوں ایک ہیں۔
فیس بک کمینٹ

