اختصارئےلکھاریمدیحہ ریاض

ڈائری سے مکالمہ :کاش ۔۔ مدیحہ ریاض

آہ! ڈیئر ڈائری یاد کا جھونکا جب آتا ہے تو تب اندر سے کہیں دور سے ایک آہ نکلتی ہے حسرت سے بھرپور۔۔۔۔دل تب سوچتا ہے کہ کاش میں اس پر فدا نہ ہوتا میں اسے دیکھ کر نہ دھڑکا ہوتا تو آج میں یوں بے آسرا نہ ہوتا۔محبوب کا بات کرنا ایسا ہے جیسے رگوں میں خون کے فشار کا بڑھ جانا۔اور محبوب کا بات نہ کرنا بالکل ایسا ہے جیسے رگوں میں خون کے بہاؤ کا رک جانا اور دل کا پاتال میں اتر جانا۔ ڈیئر ڈائری محبوب جب نظر انداز کرتا ہے تو زندگی کی تمام خوشیاں جیسے روٹھ سی جاتی ہیں۔ ڈائری میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ مجھے اس سے کتنی محبت ہے۔میں تمہیں نہیں بتا سکتا۔۔۔کیونکہ محبت ناپنے کا پیمانہ آج تک بنا ہی نہیں ڈیئرڈائری اگر کبھی محبت ناپنے کا پیمانہ بن بھی جائے تو وہ تب بھی معشوق کی محبت نہیں ناپ سکتا۔یہ ایک لامحدود جذبہ ہے جس کی نہ تو کوئی سر حد ہے اور نہ ہی باڑ۔ڈیئر ڈائری محبت کے جذبے پر کوئی بند نہیں باندھ سکتا ہے اور اگر کوئی نادان جھلا بند باندھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ محبت اسے لے ڈوبتی ہے اور اگر کبھی معشوق بے اعتنائی برتے تو روح انتقال کر جاتی ہے اس کا دل اس قبر کی مانند ہو جاتا ہے جس پر کبھی کوئی فاتحہ پڑھنے نہ آیا ہو۔ ڈیر ڈائری محبت کی موت کے بعدصرف یاد کے الو بولتے ہیں اور آنکھیں مینہ برساتی ہیں او ر تب اندر دور کہیں سے اک آہ نکلتی ہے کہ کاش میں اسے دیکھ کر دھڑکا نہ ہوتا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker