کالملکھاریمحمود شام

70سال کے مظالم کا حساب مگر کیسے؟ :مملکت اے مملکت / محمود شام

70 سال سے جاری پالیسیوں سے بغاوت کرتا ہوں
اس ملک میں پچھلے 70 سال میں بڑے ظلم ہوئے
پاکستان کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی
یہ ملک اس وقت تک آگے نہیں جاسکتا جب تک 70سال کے مظالم کا حساب نہ لیا جائے۔
میں اس نظام کے خلاف بغاوت کرتا ہوں۔
حق نہ ملے تو حق چھیننا پڑے گا…
یہ باغیانہ خیالات ہیں3بار پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہونے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ۔
میں میاں محمد نواز شریف کے ہر بیان کا بہت ہی سنجیدگی سے جائزہ لیتا ہوں۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو بار وزیراعلیٰ، تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے تمام شعبوں اور تمام امور کو ان سے زیادہ کون جانتا ہوگا۔ اب تک کسی نے میاں صاحب سے یہ نہیں پوچھا کہ یہ 70 سال کب سے شروع ہوتے ہیں۔
ان میں 14اگست 1947ء بھی آتا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا ایک سال بھی۔ قائد ملت لیاقت علی خان کے 4 سال بھی۔ اب تک پاکستان کے ماضی کی بُرائی کرنیوالے یہ کرم کیا کرتے تھے کہ وہ کہتے تھے قائداعظم اور قائد ملت کے بعد پاکستان کو کوئی مخلص قیادت نہیں مل سکی۔ مگر نئے نئے باغی میاں صاحب نے یہ تکلف بھی نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک کی پالیسیوں سے بغاوت کا اعلان کیا ہے۔ جن میں پاکستان بننے کی پالیسی بھی آجاتی ہے۔ قائداعظم کے انتظامی امور قائد ملّت کے اقدامات۔ اس کے بعد چوہدری محمد علی۔ خواجہ ناظم الدین۔ محمد علی بوگرہ۔ آئی آئی چند ریگر۔ حسین شہید سہروردی۔ فیروز خان نون۔ جنرل ایوب۔ جنرل یحییٰ۔ ذوالفقار علی بھٹو۔ جنرل ضیا۔ جونیجو۔ بینظیر بھٹو۔ نواز شریف۔ یوسف رضا گیلانی۔ نواز شریف سب کی پالیسیاں آجاتی ہیں۔ ان میں 1973ء کا متفقہ منظور شدہ آئین بھی شامل ہوجاتا ہے۔
میاں صاحب کی 70سال کے خلاف للکار سے جو سوالات ذہن میں آتے ہیں:
1۔ میاں صاحب وضاحت کریں کہ 70سال کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔
2۔ پاکستان کو برباد کرنے میں کن کا زیادہ ہاتھ ہے۔
3۔70 سال کے مظالم کا حساب لینے کیلئے ان کو کتنے سال درکار ہوں گے۔
4۔ یہ حساب کن اداروں کے ذریعے لیا جائے گا۔ اس کے مراحل کیا کیا ہوں گے۔
پاکستان میں یقیناََ بہت سے عام اور اہم لوگ میاں صاحب کے ہم نوا ہوں گے۔ وہ بھی 70 سال کا حساب مانگتے ہیں۔ ان کا استفسار ہے کہ میاں صاحب اس کیلئے کیا کوئی کمیشن بنائیں گے یا ٹاسک فورس۔
میاں صاحب کا لہجہ جس طرح سخت اور تلخ ہورہا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ وہ بھی بانی تحریک متحدہ قومی موومنٹ کی طرح ایسا جملہ نہ کہہ جائیں جس سے پھر ہوا کا رُخ ہی پلٹ جائے۔
بات صاف صاف کرنی چاہئے۔ بیانیہ یہ خدشات سامنے لارہا ہے کہ عدلیہ کے جج کسی خفیہ قوت کے کہنے پر ان کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔ اس ملک میں فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں تو فوجی مداخلت کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ 1947 ءمیں ملک کے وجود میں آنے کے پانچ سال بعد ہی فوج جمہوری حکومت کا حصہ بن گئی تھی۔ خود سیاستدانوں نے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کو1954میں وزیردفاع مقرر کیا۔ ایک باوردی کابینہ میٹنگوں میں شریک ہوتا تھا۔
CROSSED SWORDS۔ شجاع نواز صاحب کی انتہائی اہم تحقیقی تصنیف ہے۔ میاں نواز شریف نے یقیناََ اس کا مطالعہ کیا ہوگا۔ نہ کیا ہو تو اب جب وہ 70 سالہ پالیسیوں کے خلاف بغاوت کرنے کیلئے پرعزم ہیں تو اس کا مطالعہ کریں۔ واضح ہوجائے گا کہ فوج سول امور میں داخل کیسے ہوئی اور 1954ء سے 2018ء تک کس کس انداز سے کس کس طریقے سے اور کتنی گہرائی تک اس کا عمل دخل ہوچکا ہے۔ جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ کی مداخلت کے آثار تو سقوط مشرقی پاکستان کے المیے اور ذوالفقار علی بھٹو کی مضبوط حکمرانی کے باعث کافی حد تک دُور ہوگئے تھے۔ لیکن جنرل ضیاء الحق نے جس طرح اسلامائزیشن کے نام پر فوجی بالادستی کو اس ملک میں قائم کیا اس کے اثرات اب تک چلے آرہے ہیں۔ پہلے پی پی پی کو پھراس کے سیاسی اثرات کو معاشرے سے مٹانے کیلئے جنرل ضیاء نے ریاست کی طے شدہ پالیسیوں سے بھی انحراف کیا۔ ریاستی سطح پر مسلّمہ ملک دشمنوں سے بھی ہاتھ ملایا۔ 1974ء میں سوویت یونین کے خلاف امریکی پالیسیوں پر عملدرآمد کیلئے انہیں مزید موقع مل گیا۔ دنیا بھر کے شدت پسندوں کیلئے سرحدیں کھول دی گئیں۔ اس کی تصدیق تو موجودہ آرمی چیف نے میونخ کی سیکورٹی کانفرنس میں کی کہ 40 سال پہلے ہم نے جو بویا وہ کاٹ رہے ہیں۔
یہ بہت ہی مشکل فریضہ ہے جس کی انجام دہی کا ذمہ میاں صاحب لے رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو میاں صاحب کو سنجیدگی سے بیٹھ کر ایک روڈ میپ تیار کرنا چاہیے کہ یہ پالیسیاں تبدیل کیسے ہوسکتی ہیں۔ ماضی میں جہاں جہاں میاں صاحب نے دانستہ یا نادانستہ ان پالیسیوں کو اپنانے میں حصہ لیا اس کو غلطی تسلیم کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ 1985ء سے سیاستدانوں کو شریک اقتدار کیا جاتا ہے۔ اقتدار منتقل نہیں کیا جاتا۔ آج کا دور مارشل لاؤں کا نہیں ہے۔ شجاع نواز ہی بتا رہے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 1959ء تک 47ملکوں میں مارشل لا لگے۔ 1958ء میں پاکستان سمیت پانچ ترقی پذیر ممالک میں اور ایک فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں لگا۔ اس وقت کے موسم اور انسانوں کے مزاج ایسے تھے۔
سیموئیل ہنٹنگٹن کے الفاظ میں ’’وہ اسباب جو سیاست میں فوجی مداخلت کا محرک بنتے ہیں وہ کسی گروپ کی خواہش میں نہیں بلکہ کسی معاشرے کی ساخت میں موجود ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اس معاشرے میں جہاں سیاسی ادارے کمزور ہوں یا موجود نہ ہوں۔‘‘
سیاسی ادارے جب بھی کمزور ہوتے ہیں یا آپس میں ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ وہ فوج کی مداخلت کا سبب بنتے رہے ہیں۔ سیاسی ادارے ہمارے ہاں کمزور بھی ہیں۔ موروثی ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم بھی ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی مارشل لاؤں کی صدی نہیں ہے۔ فوج چاہے بھی تو بغاوت نہیں کرے گی۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنی ساکھ بحال کی ہے۔
الیکشن 2018ء چند ماہ دُور ہیں۔ کسی سیاسی پارٹی نے اب تک اپنا منشور تیار نہیں کیا ہے۔ یہ الیکشن فیصلہ کن ہوں گے۔ بین الاقوامی امور اور اندرونی چیلنجوں کے حوالے سے بھی۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ بھی ان انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس خطے میں بہت سی تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ ہوں گی۔ سی پیک ایک بڑا اور مختلف منظرنامہ پیش کررہا ہے۔ سی پیک کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے۔ بھارت ایران اشتراک ایک چیلنج ہے۔ پاکستان کے اندرونی معرکے بھی ہنگامہ خیز ہیں۔
چاروں صوبوں میں الگ الگ سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتیں غالب ہیں۔ فرقہ وارانہ اختلافات زوروں پر ہیں۔ مذہبی بیانیے شدت پکڑ رہے ہیں۔ غربت کی لکیر کے نیچے اضافہ ہورہا ہے۔ 62 ارب ڈالر لگانے والا چین کیا اس انتشار کو اپنے منصوبے کیلئے سازگار سمجھے گا۔
سیاسی قیادتیں ان ملکی۔ علاقائی۔ بین الاقوامی چیلنجوں پر کوئی واضح پالیسی اختیار نہیں کررہی ہیں نہ ہی کسی بھی لیڈر میں اس سطح کا تدبر نظر آتا ہے۔
آپ بتائیے کہ کیا عالمی طاقتیں ایسے معاشرے کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھیں گی۔ جہاں ایٹمی تنصیبات اور خطرناک مہلک اثاثے ہوں۔ وہاں وہ منتشر۔ متصادم اور جذباتی سیاسی قیادتوں پر اعتبار کریں گی یا کسی منظم۔ مستعد اور متحد ادارے سے رابطے میں رہیں گی۔ حال تو یہ ہے کہ ہمارے قومی دن بھی اب آئی ایس پی آر مناتا ہے۔ منتخب حکمران تو 14 اگست۔ 23 مارچ۔ 25 دسمبر کو بھی آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker