کالملکھاریمحمود شام

اے پی سی سے پہلے اپنی اپنی پارٹی تنظیم۔۔مملکت اے مملکت/محمود شام

یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا ہے، کچھ نیا نہیں ہے۔ ایک دوسرے کو للکارنے والے، سڑکوں پر گھسیٹنے کی دھمکیاں دینے والے، سقوط ڈھاکا کی ذمہ داری کا الزام عائد کرنے والے، مودی کے یار کا لقب دینے والے اکٹھے بیٹھتے رہے ہیں۔ کسی زمانے میں نوابزادہ نصراللہ خان بچھڑے ہوؤں کو ملایا کرتے تھے۔ نعرہ یہ ہوتا تھا کہ اب بس ایک نکتے پر متحد ہو جائیں کہ یہ حکمران اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے یہ حکومت گر جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اب یہ ذمہ داری مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے ذمے لے لی ہے لیکن وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ نوابزادہ نصراللہ تو شاعر بھی تھے۔ اقبال، غالب، میر سے استفادہ کرتے، محاورے بولتے، پھر حکومت گر بھی جاتی تھی لیکن تاریخ نے یہی بتایا کہ حکومت گرانے کے حتمی فیصلے لکھم ہاؤس، 70کلفٹن، جتوئی ہاؤس یا بگٹی ہاؤس میں نہیں ہوتے تھے۔ اب تاریخ کا قولِ فیصل یہی ہے کہ حکومت زرداری ہاؤس، بلاول ہاؤس، جاتی امرا میں میٹنگوں سے نہیں گرتی، اُس کے لئے تو آخری قہقہہ سیف ہاؤسوں میں لگتا ہے۔
حیرت یہ ہے کہ ماحول ہر لحاظ سے بد ترین ہے۔ معیشت، روزگار، روپے کی بے قدری، تیل نہ نکلنے کی مایوسی مگر یہ آواز کہیں سے نہیں آرہی جو تاریخ کے ایسے موڑوں پر اکثر آتی رہی ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین مارشل لا سے بہتر ہے۔ چلئے مان لیتے ہیں عمران خان ناکام ہو گئے ہیں، معیشت نہیں سنبھل رہی، اُن کی ترجیحات درست نہیں ہیں۔ سمندر کی تہوں میں تیل دریافت نہیں ہو سکا۔ خان خود بھی اچھا نہیں ہے مشیر بھی نا اہل ہیں۔ ایک ایسی نسل پیدا کردی گئی ہے جو بدتمیزی، چھچھورے پن، ہٹ دھرمی کے سوا کسی اور عمل کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ یہ فیصلہ ہم نے حکومت کا سال پورا ہونے سے پہلے ہی کردیا ہے جبکہ زرداریوں شریفوں کے لئے یہ فیصلہ ہم تین تین دہائیوں کی حکمرانی دیکھنے، ہزاروں ارب کے قرضوں میں ڈبوئے جانے کے بعد بھی نہیں کرسکے۔
زرداری ہاؤس میں اجتماع ضدّین کے بعد ’’یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے‘‘۔ یا پھر احمد فراز کے الفاظ میں
اب تک دِل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئےآ
سیانے کہہ گئے ہیں ’’آزمودہ را آزمودن جہل است‘‘، مان لیتے ہیں کہ عمران حکومت گر جاتی ہے، نئے انتخابات ہو جاتے ہیں، متبادل کیا ہے؟ جناب آصف زرداری، میاں محمد نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن، اسفند یار ولی، عملی طور پر ہم سب ان کی حکومتیں دیکھ چکے ہیں۔ سندھ کے ریگ زاروں سے پوچھ لیں۔ تھر میں ہر روز مرنے والے بچوں کی ماں کی سپاٹ آنکھوں میں جھانک لیں۔ جاتی امرا کی بلند ہوتی فصیلوں، پھیلتی پہنائیوں میں دیکھ لیں۔ بلوچستان کے بنجر پہاڑوں سے دریافت کرلیں۔ کے پی کے گلی کوچوں سے گزر لیں۔ معیشت اُن دنوں کیسے تڑپتی تھی۔ ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفاق کے بیانات دیکھ لیں۔ جناب اسحاق ڈار کے چہیتے بزنس مینوں سے بات کر لیں کہ وزیر خزانہ بنتے ہی انہوں نے فیڈریشن سے کیسے آنکھیں پھیر لی تھیں۔ بھائی جان ہمارے محترم ایس ایم منیر کی آنکھوں میں آنسو ہوتے تھے۔ اب کوئی دانشور بھی بتا دے کہ زرداری ہاؤس میں اکٹھے ہونے والے ہمارے ان مسیحائوں کا انسانیت کے بارے میں۔ عالم اسلام سے متعلق، پاکستان کی بقا، دشمن ہمسایوں کے حوالے سے، معیشت کی اقسام کے اعتبار سے کیا فلسفہ ہے۔ ماضی کو بھلادیتے ہیں، آنے والے برسوں کے لئے ان کے پاس کیا روڈ میپ ہے۔ اس وقت معیشت جیسے جھٹکے کھا رہی ہے، اِن افطاری والوں کے پاس کونسا مکینک ہے؟۔ مسلم لیگ(ن) کے پاس معیشت کے کونسے ماہر ہیں۔ پی پی پی کے پاس کونسا وزیر خزانہ ہے۔ کونسی پارٹی موروثی نہیں ہے۔ اب جو ملک پر قرضے ہیں وہ دور عمرانی کے کتنے ہیں اور یہ کونسے قرضے اتارنے کیلئے لئےجارہے ہیں۔ پہلی حکومتوں کے قرضے کتنے ہیں۔ افطار شریک بہن بھائیوں کے بزرگوں نے کتنے ڈیم بنائے۔ کتنی درآمدات کم کی تھیں۔ برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا تھا۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کس دور میں کتنی برباد ہوئی۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی نے کس دور میں کتنی شدت اختیار کی۔ ان سب کی جائیدادوں اور اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا اور ملک کے اثاثے کتنے کم ہوئے۔
کرپشن کو بھی بھول جائیں کیونکہ یہ تو سیاستدانوں کو بدنام کرنے کے لئے کہانیاں گھڑی جاتی ہیں۔ یہ تو بہت سادہ لوگ ہیں۔ چند سو کی گھڑی پہن لیتے ہیں۔ سستے جوتے استعمال کر لیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی گاڑیاں دھتکار کر رکشوں سے سفر کر لیتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا ایسا کارنامہ جس سے غربت کی لکیر کے نیچے سے لوگ اوپر آگئے ہوں، کلیدی عہدوں پر بالکل اہل افراد مقرر کئے گئے ہوں، کسی قانونی کام میں مداخلت نہ کی ہو، تعلیمی نظام بالکل بدل دیا ہو، تعلیم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہو، غریب خاندانوں کے ذہین بچوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع دیا گیا ہو، مقامی حکومتوں کے انتخابات وقت پر کرائے ہوں اور بلدیاتی اداروں کو پورے اختیارات دئیے ہوں۔
اُن کی جمہوری جدو جہد بھی عمران خان سے زیادہ ہے۔ انتظامی تجربہ بھی اس حکومت سے کہیں زیادہ ہے۔ اپنے اس شاندار تجربے کی بنیاد پر یہ آئندہ دس پندرہ برسوں کا روڈ میپ کیوں نہیں دیتے۔ یہ پارٹی سربراہ اپنی مرکزی مجالس عاملہ کے اجلاس کیوں نہیں طلب کرتے۔ موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیوں نہیں کرتے۔ اپنی پارٹی کے انتخابات کیوں نہیں کراتے۔ Selectedوزیراعظم کو ملک کے مفاد میں نہیں سمجھتے لیکن اپنی پارٹیوں میں سارے عہدیدار Selectedرکھتے ہیں۔ اپنے پارٹی کارکنوں کو صرف ’’تیرے جاں نثار، بے شمار‘‘ یا ’’سب پہ بھاری‘‘ کے نعرے لگانے کے لئے ساتھ رکھتے ہیں۔ انہیں پارٹی کے عہدیدار منتخب کرنے کا اختیار نہیں دیتے۔ ان امیروں کی اپنی نسلیں بہتر سے بہتر زندگی گزارتی ہیں۔ کارکنوں کی نسلیں وہی ٹین کی چھتوں کے نیچے عمر بسر کرتی آرہی ہیں۔ کئی دہائیوں سے ساری دنیا کے ماہرین کہتے آرہے ہیں جب تک ملک سے جاگیرداری، سرداری ختم نہیں ہوگی جمہوریت بے معنی رہے گی۔ ایک فرد ایک ووٹ کی حکمت اپنی روح کے مطابق کارگر نہیں ہو سکے گی۔ ان میں سے کسی نے جاگیرداری سرداری ختم کرنے کی کوشش کی؟ حالات اور خراب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے۔ یونیورسٹیاں، ریسرچ ادارے آگے آئیں، راہ نماؤں کو راستہ دکھائیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker