کالملکھاریمحمود شام

جہاں حکمراں لائقِ اعتبار ہیں۔۔محمود شام

’’جب اطلاع ملی کہ میرے ملک میں اب کورونا کا کوئی مریض نہیں ہے۔ تو میں فرطِ مسرت سے ناچنے لگی‘‘۔
پیر 8جون کو پوری دنیا نیوزی لینڈ کی خوبرو، خوش لباس، ہر دم مسکراتی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی یہ پُراعتماد گفتگو سن کر اس کی مزید دیوانی ہو گئی۔ اتنی خطرناک ہلاکت خیز وبا کے خاتمے پر خوشی سے ناچنا تو بنتا ہے۔ قتیل شفائی یاد آتے ہیں:
میں اتنی زور سے ناچی آج کہ گھنگھرو ٹوٹ گئے
جنوبی کوریا والے فخر سے کہہ رہے ہیں “I SEOUL YOU”۔ آپ کو احساس ہوتا ہے۔I Salute you۔ سیول ان کا اسلام آباد ہے۔ انہوں نے بھی کورونا پر قریباً فتح پالی ہے۔ وہ اپنی اس کامیابی کو پانچ عناصر کے نام کررہے ہیں۔ 1کوریائیوں کا خلوصِ عمل، 2جذبہ، 3یکجہتی، 4شفافیت، 5اشتراکِ کار۔ اب وہ مل جل کر کوریا کو New Normal (نئے معمول) کی سطح پر لے گئے ہیں۔ ان پانچوں عناصر کو وہ کوریا کے اثاثے قرار دے رہے ہیں۔ اقبالؔ یاد آتے ہیں:
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
چین میں وائرس پھیلتے ہی جنوبی کوریا نے اپنی احتیاطی پالیسیوں کا آغاز کردیا تھا۔ 17مئی کو جنوبی کوریا، کورونا کے مقابلے میں امید کی علامت بن گیا۔
ارسطو، سقراط، افلاطون کی سر زمین یونان نے کورونا سے پہلی موت سے دو ہفتے قبل ہی سخت اقدامات اختیار کرکے اس وبا کو روکنے کی ابتدا کردی تھی۔ 4مئی کو وہ تجارت، صنعت، عبادت گاہیں، اسکول کھولنے کا آغاز کر چکے ہیں۔ 15جون سے یونان کی قدیم سر زمین غیرملکی سیاحوں کے لیے کھولی جارہی ہے۔ 2019میں یونان میں 34ملین سیاح آئے تھے اس کی 11ملین آبادی سے تین گنا زیادہ۔ اس سال 50ملین کی امید ہے۔ یونان 65سال سے اوپر کی آبادی کے حوالے سے اٹلی کے بعد یورپی یونین میں دوسرے نمبر پر ہے لیکن سخت لاک ڈاؤن کے باعث وہاں پڑوسی ملکوں میں ہزاروں اموات کے مقابلے میں صرف 172یونانی فوت ہوئے۔ یہاں وزیراعظم کیریکاس نے کورونا کے مقابلے کو ذاتی مشن بناکر عملی کام کیے، تقریریں اور ٹویٹ نہیں کیے۔ یہاں بھی پادری بہت طاقتور ہیں مگر وزیراعظم ان کے دباؤمیں نہیں آئے۔ ایسٹر کی تقریبات گرجوں میں نہیں ہونے دیں۔ وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ نے ایسٹر گھر پر ہی منایا۔ موبائل پر تصویروں کا تبادلہ کیا۔
نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، یونان، تین الگ الگ بر اعظموں کے ممالک ہیں۔ الگ الگ قومیں، تینوں میں منتخب حکومتیں ہیں۔ اپوزیشن بہت طاقتور ہے لیکن کورونا کے مقابلے میں حکومت اپوزیشن اور عوام سب متحد تھے۔ حکومتوں کے خلوص عمل کے باعث عوام نے حکومتی سربراہوں کی تدابیر کو وقعت دی۔ بھرپور عمل کیا۔ اب نیوزی لینڈ میں درسگاہیں، مارکٹیں، دفاتر سب کھل گئے ہیں۔ اور وہ بھی سماجی فاصلے کی پابندی کے بغیر۔ صرف دوسرے ممالک سے آنے والوں پر پابندی بدستور ہے۔ یہاں کُل متاثرین 1504صحت یاب 1482اور دنیا چھوڑنے والے صرف 22رہے۔ آبادی 50لاکھ ہے۔ چالیس ہزار ٹیسٹ 17دن میں کیے گئے۔ سرکاری اور نجی تقریبات شروع ہو چکی ہیں۔ کیویز کئی ماہ بعد سلیپر اتار کر جوتے پہن کر گھر سے نکلے ہیں۔
جنوبی کوریا میں متاثرین 11814صحت یاب 10563اموات 273رہیں۔ 5کروڑ کی آبادی میں 29فروری کو وبا اپنے عروج پر تھی۔ 27لاکھ ٹیسٹ کیے گئے۔ سب سے زیادہ زور تشخیص پر رہا۔ تشخیص کو ہی وبا کے خاتمے کا مرکزی نکتہ خیال کیا گیا۔ یہاں 60فیصد متاثرین کا تعلق عیسائیوں کے ایک خفیہ فرقے سے تھا۔ اب اس کی بساط سمیٹی جارہی ہے۔ زیر علاج اور زیر تشخیص مریضوں کی تفصیلات ساتھ ساتھ عوام کے سامنے رکھی گئیں۔ جہاں زیادہ متاثرین تھے ان آبادیوں کو پوری طرح بند کیا گیا۔ متاثرین کے بارے میں سارے کوائف اب حکومت کے پاس ہیں۔ خاندان، رجحانات، عادتیں، آمدنی، مزاج، آئندہ کسی بھی وبا کے موقع پر سب سے پہلے ان کی تشخیص کی جائے گی۔ یونان کی 11ملین آبادی میں کُل متاثرین 2997صحت یاب 1374اموات صرف 180رہیں۔ پہلے تو ہم ان تینوں قوموں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کے حالات جان کر یہ سبق ملتا ہے کہ اگر حکمرانوں کی نیت صاف، وژن واضح ہو اور صرف متعلقہ ماہرین کے مشوروں پر عمل کیا جائے، عوام کو اعتماد میں لیا جائے تو مقصد حاصل ہو سکتا ہے اور یہ پیغام بھی کہ کورونا نہ تو ناقابلِ علاج ہے اور نہ ہی ناقابلِ تسخیر۔
ان تینوں ملکوں میں متعین پاکستانی سفیروں نے یقیناً تفصیلی رپورٹیں بھیجی ہوں گی۔ انہیں پاکستان کے عوام کے سامنے لایا جائے۔ ہماری یونیورسٹیاں تینوں ملکوں کی ان کامیابیوں پر تحقیق کریں۔ اور رہنما خطوط مرتب کریں۔ بروکنگز اور دوسرے تھنک ٹینک قریباً ہر ہفتے تحقیقی تجزیے جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمارے اداروں کو بغور پڑھنے چاہئیں۔ عالمی ادارۂ صحت اب تک 140سے زیادہ روزانہ رپورٹیں جاری کر چکا ہے۔ کسی ایک میڈیکل یونیورسٹی کو ذمہ داری لے کر اس کی مانیٹرنگ کرکے اہم نکات پاکستانی عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔ سب سے زیادہ متاثر عالمی معیشت ہوئی۔ ہماری بزنس ایجوکیشن یونیورسٹیاں سارے ملکوں بالخصوص چین کا جائزہ لیں۔ اور ہمیں بتائیں کہ اب معیشت کی بحالی کے لیے کیا ہونا چاہئے۔ہم پاکستانی تو اس وبا کے 140ویں دن بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ کورونا ایک حقیقت ہے یا ڈرامہ۔ سندھ حکومت کا کردار سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ رہا ہے۔ بلوچستان کا بھی۔ وفاقی حکومت اور بالخصوص وزیراعظم کے خطابات اور بیانات نے سب سے زیادہ ذہنی انتشار پیدا کیا۔ لاک ڈائون کے بارے میں بہت زیادہ تذبذب پیدا کیا۔ ہماری سیاسی لڑائیاں اور نیب کی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں۔ کورونا انتہائی مہلک وبا ہے۔ موجودہ حکمراں رویوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملکی اور غیرملکی ماہرین کی رائے یہی ہے کہ 15جون سے دو ہفتے کا اصلی لاک ڈائون کریں۔ جہاں ضروری ہو کرفیو بھی لگائیں۔ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچانا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ کھانے پینے کی اشیا ہمارے پاس وافر ہیں۔ اللہ سے التجا کے لیے جمعہ کو کوئی وقت مقرر کریں سارے پاکستانی بیک وقت اپنے اپنے گھروں میں دو نفل ادا کریں اور دُعا کریں کہ اس وبا کے مقابلے میں ہمیں اپنا دماغ استعمال کرنے کی توفیق عطا ہو۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker