کالملکھاریمحمود شام

باوردی۔ مسلّح۔ پھر بھی مظلوم۔۔محمود شام

وردی بھی ہو۔ ہاتھ میں اسلحہ بھی۔ پھر بھی مظلوم۔ بےیارو مددگار۔
کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں لیکن ملک میں کئی لاکھ ایسے ہم وطن ہیں جو اپنے مالکان یا اپنی ایجنسی سے معاہدہ کرنے والے متمول حضرات و خواتین کی حفاظت اپنی جان پر کھیل کر کرتے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی تمغہ ہے نہ شہدا الاؤنس، نہ پنشن اور ان کے جنازے میں کوئی نامور شخصیت شرکت بھی نہیں کرتی۔ پولیس والے ایسا کارنامہ انجام دیں تو آئی جی، ڈی آئی جی یا اس علاقے کا ایس ایس پی، ایم این اے، ایم پی اے شریک ہوتے ہیں۔ ایوارڈ کا اعلان بھی ہوتا ہے۔ عساکر پاکستان میں سے یا رینجرز میں سے کوئی شہید ہو تو فوج کے اعلیٰ عہدیدار پُرسے کے لیے پہنچتے ہیں مگر یہ پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کے گارڈز ’’یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا‘‘ کے مصداق گمنام ہی رہتے ہیں۔
پیر کے روز اربوں کھربوں کا کاروبار کرنے والی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے میں وہاں حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ دو پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز نے بھی جرأتمندانہ مزاحمت کی۔ حسن علی اور افتخار بھی ان محافظوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کی اور دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز بھی اپنے فرائض اسی تندہی، مستعدی سے انجام دیتے ہیں جس کا مظاہرہ قانون نافذ کرنے والے دوسرے اہلکار کرتے ہیں۔ حسن علی اور افتخار دونوں انتہائی غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے گھر والوں کے پیٹ بھرنے کے لیے یہ ملازمت اختیار کی تھی۔ جس میں ہر لمحے جان خطرے میں ہوتی ہے۔ ان کے جنازوں میں کوئی نامور شخصیت شریک نہیں ہوئی۔ علاقے کے ایم پی اے نہ ایم این اے، نہ ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کوئی عہدیدار، نہ ہی پولیس یا رینجرز کا کوئی افسر۔
پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی 1980کی دہائی سے پاکستان میں شروع ہونے والا نیا کاروبار ہے۔ جب 1977کے مارشل لا کے نتیجے میں اور پھر افغانستان میں امریکہ روس کی جنگ کے بعد ملک میں کلاشنکوف کلچر نے جڑ پکڑی۔ کراچی، لاہور میں امیر کبیر اغوا ہونے لگے تو اس کاروبار کا خیال جنم لینے لگا۔ 1970میں ماؤزے تنگ کا یہ فلسفہ بہت مقبول ہوا تھا۔ Power grows through the barrel of Gun ’طاقت بندوق کی نالی سے حاصل ہوتی ہے‘۔ چین کے انقلاب کی دیکھا دیکھی ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بھی نوجوانوں نے بندوقیں اٹھائیں۔ چے گویرا ان دنوں کی نسل کے محبوب بنے۔ سندھ کے کچے کے علاقوں میں وڈیروں، پولیس اور ریاست کے مظالم سے تنگ آکر نوجوانوں نے بندوق اٹھائی اور ڈاکو کہلائے۔ 1980کی دہائی میں کراچی میں بلوچ سردار، سندھی جاگیردار اپنے گارڈز لے کر شاہراہوں پر دندناتے تھے۔ 1988سے پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کا قیام عمل میں آنا شروع ہوا۔ زیادہ تر کمپنیاں ریٹائرڈ فوجی افسروں کی ملکیت ہیں۔ صوبائی محکمۂ داخلہ ان کو لائسنس جاری کرتا ہے۔ چند ایک کمپنیاں تو ایسی ذمہ دار ہیں کہ وہ اپنے گارڈز کو تنخواہ بھی معقول دیتی ہیں۔ ڈیوٹی کے دوران کھانا بھی۔ گھر والوں کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ کہیں دوران ڈیوٹی کسی کی جان چلی جائے تو اس کی تدفین، میت کے اس کے آبائی گاؤں پہنچانے کے اخراجات بھی برداشت کرتی ہیں لیکن زیادہ تر ایجنسیاں اپنے گارڈز کا استحصال کرتی ہیں۔ حالانکہ یہ بڑا منفعت بخش کاروبار ہے۔ کراچی شہر میں اب پرائیویٹ گارڈز کی تعداد پولیس کی نفری سے زیادہ ہو چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایجنسیاں اپنے کلائنٹ سے فی گارڈ زیادہ معاوضہ وصول کرتی ہیں۔ اس کو لگی بندھی پگھار(تنخواہ) دیتی ہیں۔ کم از کم تنخواہ 7640روپے۔ زیادہ سے زیادہ 14840بتائی گئی ہے مگر سب کمپنیاں اس کی پابندی نہیں کرتیں۔ چار پانچ ایجنسیاں ایسی ہوں گی جو ان کو انشورنس کمپنیوں کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت بھی دیتی ہیں۔ ان گارڈز میں نوجوان بھی ہیں اور ریٹائرڈ فوجی بزرگ بھی۔ بہت ہی تکلیف دہ حالات میں ڈیوٹی دیتے ہیں۔ میں تو انہیں گلشن اقبال میں دکانوں کے باہر تھڑوں پر یونیفارم میں سوتے دیکھتا ہوں۔ ایک اطلاع کے مطابق ملک میں 500ایجنسیاں ہوں گی۔ جس میں سے 300آل پاکستان پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیز ایسوسی ایشن (APSA) کی ہیں۔ ان کا نصب العین Together we save the nationہے۔
پاکستان اور برصغیر میں چوکیدار کے روایتی پیشے کی یہ جدید ترین شکل ہے۔ ہم میں سے اکثر کو رات کے دوران چوکیدار کی سیٹی اور ’جاگتے رہنا‘ کی آواز یاد ہوگی۔ جہاں چوری کی وارداتیں بڑھ جاتی تھیں وہاں ٹھیکری پہرہ لگا کرتا تھا۔ چوکیدار کے ساتھ محلّے کے خاندانوں کے نوجوان باری باری پہرے میں شامل ہوتے تھے۔ دفتروں، فیکٹریوں کی تعداد بڑھی تو سیکورٹی کی مانگ بھی بڑھی۔ ملک میں غربت کم کرنے کے نظام ناکام ہو گئے ہیں۔ جرائم بڑھ رہے ہیں۔ پولیس کی نفری بھی کم ہے۔ پھر پولیس سے خواص و عوام کو شکایت بھی رہتی ہے۔ بڑے چھوٹے سب رشوت مانگتے ہیں۔ پھر بھی ڈیوٹی صحیح ادا نہیں کرتے۔ اس لیے سیکورٹی پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے اور ایک پُرکشش کاروبار بن گئی ہے۔ بعض اعلیٰ پولیس افسران بھی اپنی حفاظت کے لیے پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ رکھتے ہیں مگر یہاں بھی وہی بےروزگاروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والا ماحول ہے۔ اب چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں بھی پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز کی ضرورت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں۔ عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ امیر لوگ ڈبل کیبن استعمال کرتے ہیں۔ پیچھے کھلے میں گارڈز سردی یا گرمی برداشت کرتے ہیں۔ بہت سے گارڈز کو اسلحہ چلانے کی تربیت نہیں ہوتی۔
ہر حال میں یہ ایک خطرناک ملازمت ہے۔ جہاں ایجنسیوں کے لیے قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں وہاں ان گارڈز کی سہولتوں، علاج معالجے اور دوسری سہولتوں کے لیے بھی قوانین بنائے جائیں۔ ایسے جرأتمندانہ اقدامات پر ان کے لیے ایوارڈ بھی مقرر کیا جائے۔ اطلاع ملی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام شہدا کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج نے بھی ان شہدا کے خاندان کی مدد اور بچوں کی تعلیم کا ذمہ لیا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ملک بھر کے پرائیویٹ گارڈز کے لیے مستقل بنیادوں پر مراعات کا اعلان کیا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker