کالملکھاریمحمود شام

جنت زمین پر ہے تو یہی ؟: مملکت اے مملکت / محمود شام

میرے سامنے کئی ہزار فٹ بلند سر سبز پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں۔
میں خود بھی جس ریسٹ ہاؤس میں سورج کی روشنی میں یہ سطور لکھ رہا ہوں وہ بھی کئی ہزار فٹ کی اونچائی پر ہے۔ انٹر نیٹ نہیں چل رہا۔ٹیلی فون کا کو ئی بھی رابطہ نہیں ہے۔ اس لئے قطعی بلندی نہیں بتا سکتا۔ یہ اپر نیلم میں آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت کے فیملی ٹورسٹ ریزورٹس ہیں، آس پاس بھی کئی ریسٹ ہاؤسز ہیں، بچوں کے ہنسنے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں ،اگر جنت زمین پر ہے تو یہی ہے سامنے لائن آف کنٹرول ہے۔ ہماری بجلی گئی ہوئی ہے۔ لائن آف کنٹرول کی بتیاں دونوں طرف رات بھر روشن رہی ہیں۔
انتخابی جھمیلوں،جھوٹے دعوؤں ،تہمتوں اور الزامات سے بہت دور ۔شدت کی گرمی کی بجائے سردی ۔گرم کپڑوں میں ملبوس، قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ڈش لگی ہوئی ہے۔ لیکن ایوب صاحب کا کہنا ہے کہ ایک رات پہلے ہی آسمانی بجلی گری، اور ڈش غیر فعال ہو گئی۔ ہم ٹی وی نشریات سے بھی بچ گئے ہیں۔ یہاں قدرت ہے اور انسان ، اللہ ہے اور اسکے بندے۔ ،بچے بہت خوش ہیں، جھولے بھی لگےہیں، دوڑنے بھاگنے کے لئے طویل سبزہ زار۔
بہت پہلے کہا تھا
ویکھے لندن ماسکو پیرس
اپنے پنڈ نہ ویکھے
یعنی لندن ،پیرس اور کیا کچھ دیکھا، اپنے گاؤں نہ دیکھے۔ آزاد جموں وکشمیر،گلگت بلتستان، فاٹا،سب ہی بہت دلکش ہیں ،حسین ہیں، اب تو سڑکیں بھی زیادہ تر بہت اچھی اور محفوظ ہیں ،چھٹیوں میں بچوں کو بیرون ملک لے جانے کی بجائے اندرون ملک اپنے ہی پرکشش مقامات پر لے جائیں۔ زرمبادلہ بھی بچ جائے اپنے ملک کے لئے اور اپنے وطن سے محبت میں بھی اضافہ ہو۔ اپنی سرزمین کی اہمیت اور حسن سے بھی آشنائی ہو۔
ہم اس بلندی تک کیسے پہنچے ہیں ،یہ داستان بھی آپ کو سنانے کے لئے بے تاب ہوں۔بلندیوں تک پہنچنے کے لئے بہت سی پستیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اگر پستیوں سے ہی دل لگا لیں تو بلندیاں ہماری راہ تکتی رہتی ہیں۔
اب کے ہم نے فضاؤں کی جگہ زمینی راستے کا ہی انتخاب کیا ،گرین لائن ٹرین کراچی سے مرگلہ اسلام آباد ریلوے اسٹیشن لائی۔ آدھے سے زیادہ پاکستان ہمیں اپنے مشاہدےکی دعوت دیتا رہا ،مختلف پارٹیوں کے جھنڈے، چھتوں پر لہراتے دیکھے لیکن پہلے الیکشنوں جیسی گہما گہمی نظر نہیں آتی ہے۔ 1970،1977،1988،مئی 2008اور 2013جیسی انتخابی مہم، جیسے رنگ بھی نہیں دکھائی نہیں دے رہے۔
اسلام آباد پنڈی میں بھی پھر بھی کچھ پینا فلیکس آویزاں ہیں۔ شیخ رشید مسکرا رہے ہیں، کچھ ڈاکٹر امجد کے، پینافلیکس رنگین تو بہت ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بینروں والی بات نہیں بنتی، جو گلیوں بازاروں کو ڈھک لیتے تھے۔سچی بات یہ ہے کہ الیکشن کا مزا نہیں آ رہا کہیں کارنر میٹنگیں نہ جلسے، پہلے امیدوار بلکہ پارٹی سربراہ اپنے ساتھ ہزاروں حامیوں کے جلوس کو لے کر نکلتے تھے۔ ایک ایک شہر میں کئی کئی جلسے ،کئی کئی انتخابی حلقے گرمائے جاتے تھے۔ امیدواروں کی خواہش ہوتی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو، اصغر خان ان کے حلقے میں بھی آئیں، پھر یہ درخواست کہ بے نظیر بھٹو ،میاں نواز شریف اگر نہیں آئے تو وہ کہیں ہار نہ جائیں۔ اب پتہ نہیں کوئی پوچھ رہا ہے یا نہیں کہ میاں نواز شریف ،عمران خان آصف زرداری ،بلاول زرداری، ان کے حلقے میں بھی آئیں۔ وقت ہی اتنا نہیں ہے۔ کوئی سربراہ پورے انتخابی حلقوں میں نہیں جا سکتا۔ میاں نواز شریف نے تو پھر بھی نئے نعرے دے دیئے۔ جو پنجاب میں مہر بھی بن گئے۔ دوسری پارٹیاں اب تک ایسا نہیں کر سکیں۔
میں پھر انتخابی رنگ میں رنگنے لگا ہوں، چلئے واپس آتے ہیں مظفر آباد، جہاں ہم اسلام آباد سے بل کھاتی سڑکوں کے ذریعے پہنچے۔ ہمارا استقبال دریائے جہلم کر رہا ہے۔ یہ دریا بڑی مشقتوں کے بعد مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں پر بھارت کے غاصبوں کے ظلم و جبر کو دیکھتا، شہیدوں کے لہو سے رنگین ہوتا آزاد کشمیر میں پہنچتا ہے۔ پاکستان کے لئے منگلا پر بجلی بھی پیدا کر کے دیتاہے۔
کتنا دل آویز سماں ہے۔ دریائے جہلم اپنی دھن میں فراز کرہ سے پورے پاکستان کو سیراب کرنے اور بالآخر بحیرہ عرب میں اپنا وجود گم کردینے کے لئے پتھروں سے ٹکرا رہا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی کہ ہمیں اس گیسٹ ہاؤس میں بکنگ مل گئی ہے جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے سری نگر سے پنڈی جاتے ہوئے کچھ دیرقیام کیا۔ یہ 26جولائی 1944ء کی بات ہے۔ آزاد کشمیرحکومت نے اسے بڑے خلوص سے صاف ستھرا اورمحفوظ کر رکھا ہے۔ قائد اعظم نے بھی دریائے جہلم کی روانی دیکھی ہوگی۔
آزاد جموں وکشمیر کے لوگ تعلیم سے گہرا انس رکھتے ہیں۔ اسکول کالج یونیورسٹیاں بہت ہیں۔ بل کھاتی سڑک کے ایک طرف ہزاروں فٹ گہری کھائیاں اور سامنے لکھا ہوا۔ ’’مقابلہ تعلیم اور تربیت میں کریں۔ تیز رفتاری میں نہیں‘‘۔ خبردار کرنے کا کتنا بہترین انداز۔
بات کرنے کی ادا ہوتی ہے
نکہت گل بھی صدا ہوتی ہے
نیلم جہلم منصوبے میں پھر تیزی آگئی ہے۔ چینی زبان میں لکھے ہوئے بورڈ، مشینیں بھی مصروف، کارکن بھی دشوار راستے۔ بلند بالا پہاڑیاں۔ ان میں کام کرنا جان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ لیکن بہتر مستقبل کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ جہلم۔ نیلم آپس میں مل رہے ہیں۔ اب ہمارا ہم سفر صرف دریائے نیلم ہے۔ اس کی روانی میں بھی وہی محبت خلوص۔ کہیں کہیں پتھر راہ روکیں تو یہ بھی منہ زور، تاریخ کی آواز آرہی ہے۔ یہ سامنے مقبوضہ کشمیر ہے۔ کہیں ندیاں کشمیر کو بانٹ رہی ہیں۔ کہیں دریا۔ اس پار بھی ایک سے گھر۔ ایک سی چھتیں۔ ایک طرف ظلم۔ جبر۔ تشدد۔ دوسری طرف آزادی۔ ترقی۔
سہ پہر ہے۔ سڑک کنارے بڑی تعداد میں بچے بچیاں اسکول یونیفارم میں۔ علم کی روشنی سے ذہن سندر کرکے گھر روانہ ہورہے ہیں۔ سڑک کے اس طرف چلتی ہیں۔ جدھر کھائیاں ہیں گہرائیاں ہیں۔ ہمت۔ جرات۔ کوئی خوف نہیں ہے۔ پہاڑوں پر لکھا ہے۔ ہماری منزل سرسبز کشمیر۔ اور یہ بھی بچے اسکول۔ ‘‘
چناروں۔ دیو داروں۔ شاہ بلوطوں نے پہاڑوں کو سبزے میں ملبوس کر رکھا ہے۔ کہیں کہیں سنبل۔ شیشم بھی۔ سیب لٹک رہے ہیں۔ خوبانیاں بھی۔
میں جہاں یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ یہ خوبصورت تفریح گاہ۔ آرام گھر۔ 2004ء میں تعمیر شروع ہوئی۔ 2008ء سے کراچی سمیت پورے ملک سے خاندان حسن فطرت سے ہمکنار ہونے کے لئے آرہے ہیں۔ موسم اپریل سے شروع ہوتا ہے۔ مئی، جون، جولائی، اگست میں رونقیں لگی رہتی ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ سے زیادہ ہی پاکستانی لطف اندوز ہوتے ہوں گے ان ریسٹ ہاؤسز میں قیام کے لئے بکنگ پاکستان میں کہیں سے بھی ہوسکتی ہے۔
مقامی میزبان بہت پرخلوص۔ مروت۔ محبت کا اظہار۔
میں آپ سے ہم کلام ہوں۔ بجلی آگئی ہے۔ تعلیم اور بجلی کے لئے یہاں کوششیں نتیجہ خیز رہتی ہیں۔ بچوں کی آوازیں میرا حوصلہ بڑھا رہی ہیں۔ مستقبل کے بارے میں مایوسیاں دور ہورہی ہیں۔ تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔ ایک روز دونوں کشمیر ایک ہوجائیں گے۔ کشمیر بنے گا پاکستان اور پاکستان کشمیر کی طرح سرسبز ہوگا۔ وطن میں جب بہار آئے۔ ہمیں بھی یاد کرلینا۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker