پچاس سالہ سیمیں مرجان درانی ، 6 جولائی کی شب اپنے گھر مردہ حالت میں پائی گئیں ، ان کے انتقال کی اطلاع تھانہ کینٹ بہاول پور پولیس کو 15 کے ذریعہ تقریبا رات 10 بجے کے قریب ملی ، اسٹیشن ہاوس آفیسر تھانہ کینٹ صدیق ڈھوڈی کے مطابق 15 پر اطلاع ، سیمیں مرجان کے چچا زاد کرنل ریٹارئرڈ جہانزیب نے کی اور انہوں نے ہی پولیس سے سیمیں کا پوسٹ مارٹم کروانے کی درخواست جمع کروائی جس پر ان کی میت کو بہاول پور وکٹوریہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ، پوسٹ مارٹم کے بعد سیمیں کی میت ان کے بھائی وقار ، حماد ، چچا زاد جہانزیب اور ان کے شوہر محمد علی بھٹو کے حوالے کی گئی ، سیمیں کی تدفین 7 جولائی کو بہاول پور کے ماڈل ٹاون قبرستان میں کر دی گئی ، عیدالاضحی کی تعطیلات کے پیش نظر اب تک بہاول پور وکٹوریہ اسپتال کی فرانزک ٹیم نے پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے مرحومہ کی فرانزک رپورٹ کے لئے حاصل کئے گئے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لیب کو لاہور بھجوائے ہیں ، یہ تمام ضروری کارروائی عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد شروع کی جائے گی جس کے بعد سیمیں کی موت کی وجوہات کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے تقریبا 10 روز سے زائد کا وقت مزید درکار ہو گا ۔
پولیس کے مطابق سیمیں کی میت کے قریب سے ڈائری ، دوائیں اور 3 موبائل فونز ملے ہیں ، انہیں کچھ عرصہ سے کمر درد کی شکایت تھی اور وہ کچھ ماہ قبل کچن میں کام کے دوران پھلسنے سے پاوں کی ہڈی ٹوٹنے سے زخمی ہوئی تھیں ، پولیس نے سیمیں کے قریب سے ملنے والے تمام موبائل سیٹ قبضہ میں لے لئے ہیں لیکن موبائل لاک ہونے کے باعث اب تک موبائل فرانزک نہیں ہو سکا اور نہ ہی کسی سکیورٹی ایجنسی سے سیمیں کے موبائل کالز اور مسیجز کا ڈیٹا وصول کرنے کی درخواست دی گئی ہے ۔
سیمیں کے خاندان کی جانب سے موت کی اب تک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج کروانے کی کوئی درخواست پولیس کو موصول نہیں ہوئی اور صرف دفعہ 174 کے تحت پولیس نے خودکشی کی کارروائی کی ہے ، پولیس کو میت کا پوسٹ مارٹم کروانے کے لئے چچا زاد کی جانب سے ایک درخواست موصول ہوئی جس کا متن تھا کہ سیمیں کے بڑے بیٹے ارتضی نے فون کال کی کہ ان کی والدہ کا رابطہ نمبر مسلسل بند ہے لہذا انہیں جا کر گھر دیکھا جائے ، بہاول پور کے ہاشمی گارڈن میں واقع رہائش گاہ میں مالک مکان سمیت پہنچا تو وہاں گھر کے کمرے میں میت پنکھے میں لگے پھندہ سے لٹک رہی تھی لہذا پوسٹ مارٹم کیا جائے ، مرنے کی وجوہات نامعلوم ہیں۔
سیمیں مرجان درانی شاعرہ اور مصنفہ تھیں اور ان کا زیادہ تر تعلق اور ادبی حلقہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تھا ، وہ آنول نال نامی ایک افسانوں کی کتاب کی مصنفہ بھی ہیں ، ان کا اصل نام نسیم ثروت تھا اور ان کے نادرا ریکارڈ کے مطابق ان کے شناختی کارڈ پر موجودہ پتہ گلستان جوہر ،کراچی شرقی جبکہ مستقل پتہ رتو ڈیرو لاڑکانہ کا ہے ،سیمیں کے والدین کا تعلق روالپنڈی سے تھا اور وہ لالہ زار کے علاقہ میں تب سے مقیم تھیں جب سے ان کے اپنے شوہر محمد علی بھٹو کے ساتھ تعلقات تناو کا شکار تھے لیکن ان کے دونوں بیٹے ان کے ساتھ تھے ، سمیں نے اپنے چند دوستوں میں بتا رکھا تھا کہ شوہر سے باقاعدہ علیحدگی نہیں ہوئی لیکن الگ رہنے کی وجہ محمد علی بھٹو کی جانب سے ان پر مبینہ جسمانی تشدد کرنا ہے ۔
سیمیں بیٹوں 16 سالہ ارتضی اور 10 سالہ مرتضی کی والدہ تھیں اور انہیں اپنے دونوں بیٹوں سے بے پناہ محبت تھی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال ان کے شوہر نے والدہ سے اپنے دونوں بیٹوں کو لیا اور سندھ سے منتقل ہو کر بہاول پوررہائش رکھ لی تو سیمیں اپنے بیٹوں کے بغیر زیادہ عرصہ نہ رہ سکیں اور ان کی خاطر اپنے شوہر کے ساتھ تنازعات ختم کر کے بہاول پور منتقل ہو گئیں ، سیمیں کے شوہرکا ذریعہ معاش کیا ہے یہ سیمیں سے وابستہ قریبی افراد بھی نہیں جانتے اور یہاں تک کہ وہ بہاول پور کیوں منتقل ہوئے اس حوالے سے بھی کسی کو معلومات نہیں ہیں ، سیمیں کے والدین کی جانب سے کچھ عزیز و اقارب بہاول پور میں مقیم ہیں لیکن سیمیں تقریبا ڈیڑھ برس سے وہاں خاموشی سے زندگی بسر کر رہی تھیں اور اس دوران ان کا کسی سے کوئی سماجی تعلق بھی نظر نہیں آیا ، سیمیں اپنے مرحوم والدین سے بے پناہ محبت کرتی تھیں اور انہیں اپنی دونوں بہنوں سے بے حد محبت تھی جن کا ذکر وہ اپنے ملنے والوں سے اکثر کرتی تھیں ان کی دونوں بہنیں شادی شدہ ہیں جن میں ایک کراچی اور دوسری دوبئی میں مقیم ہے ،سیمیں کی میت کو کراچی ، لاڑکانہ یا روالپنڈی تدفین کرنے کی بجائے صرف چند افراد کی موجودگی میں بہاول پور دفنایا گیا جس میں بیٹے اور بہنیں بھی شریک نہیں ہوئے ، محسوس ہو رہا ہے کہ سیمیں کے اہل خانہ اس کی موت پر کسی تشویش اور ردعمل کا اظہار نہیں کر رہے ،سیمیں کے شوہر محمد علی بھٹو سے ٹیلی فون کال پر رابطہ کیا انہوں نے فون سنا ، تعزیت قبول کی اور مزید بات کرنے سے انکار کر دیا ، سیمیں کے دوستوں کے مطابق وہ اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس موبائل فونز پر ہی استعمال کرتی تھیں ، اس نے اپنا فیس بک اکاونٹ بند کر دیا اور کچھ عرصہ بعد اسے بحال کر دیا لیکن 7 جولائی کی رات سیمیں کی وفات کے بعد اس کی جانب سے دوستوں کے لئے بنایا گیا فیس بک پیج ایکٹیو تھا جس پر وہ آن لائن شو ہو رہی تھیں ، سیمیں کے پیج کا ایڈمن اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، سیمیں کی فیس بک پر 30 جون کے بعد کوئی پوسٹ نہیں ، یہ وہی تاریخ ہے جب ان کے شوہر اور بچے انہیں گھر پر اکیلا چھوڑ کر کراچی پہنچے ، سیمیں اپنی فرینڈ اور پاکستان تحریک انصاف کی ایم ۔ پی ۔ اے مومنہ وحید سے کچھ عرصہ سے ناراض تھیں ، انہیں شک تھا کہ ان کی اپنی سہلیوں کے ساتھ ایک پارٹی کی ویڈیو مومنہ وحید نے وائرل کروائی ہے جو انہوں نے اپنی بہنوں کے لئے بنائی تھی جس سے ان کی پرائسویسی متاثر ہوئی ہے ، اس دوران وہ کچھ عرصہ سوشل میڈیا سے کٹ آف ہو گئی ، وہ ملازمت پیشہ خاتون تھیں لیکن اب وہ گھریلو زندگی گزار رہی تھیں ، ان کے بچوں کے اخراجات ان کا شوہر ہی ادا کر رہے تھے ۔
فرانزک میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر کے مطابق سیمیں کی میت دیکھ کر محسوس ہوا کہ اس کی موت کو 36 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے ایسے میں اگر قتل ہو تو اس پر مزاحمت کے نشان ختم ہو جاتے ہیں لیکن پوسٹ مارٹم کے دوران حقیقت سامنے آ سکتی ہے سیمیں کے آس پاس پڑا خون اس بات کو شک میں ضرور بدل رہا ہے کہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے لیکن میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ موت کو کئی گھنٹے گزر جائیں تو عموما خون جاری ہو جاتا ہے ، اس موت کو لے کر کئی سوالات ہیں ۔
سیمیں کوئی غیر معروف شخیصت نہیں تھی کہ وہ کئی دن لوگوں سے بغیر رابطہ رہیں اور کسی کو تشویش نہ ہو اگر وہ 30 جون سے گھر پر اکیلی تھیں تو 6 جولائی سے قبل شوہر اور بچوں کی جانب سے کوئی رابطہ کیوں نہ کیا گیا ، وہ گھر پر اکیلی تھیں ان کے گھر والوں کے علاوہ یہ بات اور کون جانتا تھا ، سیمیں کے گھر پر کوئی ملازم نہیں تھا ، اہل خانہ نے تدفین بہاولپور میں کیوں کروائی اور قریبی افراد شریک نہیں ہوئے ، گھر والے اس کیس پر کوئی کارروائی نہیں کروانا چاہتے نہ بات کرنا چاہتے ہیں ، اگر وہ کسی ذہنی تناو کا شکار تھیں تو انہیں اکیلا کیوں چھوڑا گیا ، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب تب ہی سامنے آئیں گے اگر باقاعدہ طور پر اس موت کی وجوہات کی تفتیش ہو جو کہ ہوتی نظر نہیں آ رہی لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر یہ خودکشی نہیں تو سمیں کی موت کی وجہ صرف اس کے اپنے جانتے ہیں۔
( گردو پیش کے لیے ارسال کی گئی تحریر )
فیس بک کمینٹ

