Uncategorized

رؤف کلاسرا کا کالم : خاتون اور مرد وزیراعظم کا فرق

بہت سے ایسے دوستوں کو جانتا ہوں اور فیس بک پر ان کی پوسٹس پڑھ رہا ہوں جو اس بات کا یقین کرنے کو تیار نہیں کہ ان کا فیورٹ وزیراعظم اسلام آباد چھوڑ کر چند گھنٹوں کیلئے کوئٹہ جانے کیلئے تیار نہیں جہاں ہزارہ کمیونٹی کے لوگ گیارہ لاشیں سڑک پر رکھ کر بیٹھے تھے کہ جب تک وزیراعظم نہیں آتے وہ انہیں دفنائیں گے نہیں۔لوگوں کا خیال تھا کہ خدانخواستہ اگر پاکستان میں اس طرح کی ٹریجڈی ہوئی جیسے نیوزی لینڈ میں ہوئی تھی تو ہمارا وزیراعظم بھی اسی compassion کا اظہار کرے گا جیسے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے کیا تھا اور پوری دنیا کا دل جیت لیا تھا۔ لوگوں کی توقعات اس لیے بھی اپنے وزیراعظم سے بڑھ گئی تھیں کہ انہوں نے نیوزی لینڈ کی اس خاتون وزیراعظم کو باقاعدہ فون کیا تھا اور ان کے اس رویے کی تعریف کی تھی۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے جس طرح مسلمان خاندانوں کی خواتین اور مردوں کو غم کی گھڑی میں گلے سے لگایا اس نے دنیا کی سات ارب آبادی کے دلوں کو چُھو لیا۔ وہاں بھی مقامی اور غیرمقامی کا مسئلہ تھا‘ وہاں بھی نسل پرستوں کو مسلمانوں سے شکایات تھیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو بھی سیاسی اور دیگر خطرات تھے کہ وہ مسلمانوں کیلئے اس حد تک چلی گئی تھیں کہ نسل پرست ان سے ناراض ہوگئے‘ لیکن انہیں علم تھا کہ نیوزی لینڈ کو اُس وقت اگر کوئی چیز بچا سکتی تھی تو وہ compassion تھا۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ کیسے اکیلی خاتون نے وہ کر دکھایا جو شاید جدید تاریخ میں حیرت انگیز لگ رہا تھا۔
جب بینظیر بھٹو دبئی سے واپس لوٹیں تو کراچی میں ان کے جلوس پر حملہ ہوا‘ جس میں ڈیڑھ سو سے زائد لوگ مارے گئے تھے‘مزید حملوں کا بھی خطرہ تھا۔ وہ خود بال بال بچی تھیں۔ بینظیر بھٹو کو سب منع کرتے رہے لیکن اگلے روز وہ ہسپتال پہنچ گئیں‘ زخمیوں کی عیادت کی۔انٹرنیٹ پروہ تصویریں موجود ہیں جب بینظیر بھٹو ان حملوں میں مارے جانے والوں کی مائوں کو گلے لگا کر دلاسا دے رہی تھیں۔بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ انہوں نے لاڑکانہ تک ریلی میں جانے کا پروگرام بنایا۔اسی طرح ان پر پشاور میں حملے کا منصوبہ ناکام ہوا اور ان کا اگلا پڑائو اسلام آباد تھا جہاں لیاقت باغ راولپنڈی میں ان کا آخری جلسہ تھا۔ جلسے سے ایک رات قبل ڈی جی آئی ایس آئی ندیم تاج بینظیر بھٹو سے ملے اور انہیں بتایا کووہ لیاقت باغ نہ جائیں‘ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کے باوجودہ وہ نہیں ڈریں اور لیاقت باغ گئیں۔ جو ہوا سو ہوا۔ انہوں نے سکیورٹی تھریٹ کو نظر انداز کیا‘ لیکن کیا ایک لمحے کیلئے ان کی بہادری کو داد نہیں دینا پڑے گی کہ انہیں علم تھا کہ ان کے قاتل شہر شہر ان کا پیچھا کر رہے تھے پھر بھی وہ اپنی جان کو خطروں میں ڈال کر باہر نکلی ہوئی تھیں۔ انہیں لگا کہ انہیں گھر بیٹھ کر یہ پیغام نہیں دینا چاہئے کہ وہ بزدل ہیں۔انہیں پتہ تھا کہ انہیں یہ خطرات مول لینے ہیں کیونکہ وہ خود کو لیڈر کہتی تھیں اورانہیں ثابت کرنا تھا کہ وہ عام انسان نہیں ہیں۔
اب وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ انہیں سکیورٹی اداروں نے منع کیا ہے کہ وہ اس موقع پر بلوچستان نہ جائیں۔ سکیورٹی کے انتظامات کرنا سکیورٹی اداروں کا کام ہے۔ وہ فول پروف انتظامات کریں‘یہی ان کی ڈیوٹی ہے۔ عمران خان گورنر ہاؤس بلوچستان میں بیٹھ کر ان احتجاج کرتے لوگوں کے چند نمائندوں سے سکیورٹی کے ماحول میں مل سکتے تھے‘ ان کے غم میں شرکت کر سکتے تھے‘ ان کے پاس تو سٹیٹ کی پوری سکیورٹی موجود ہے جو بینظیر بھٹو کے پاس نہ تھی۔دوسری بات یہ کہ ہر بڑے عہدے کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں اور بڑے خطرات ہوتے ہیں۔ عام لوگ اپنے جیسے لوگوں میں سے اسی کواپنا ہیرو یا لیڈر مانتے ہیں اور اپنے اوپر حکومت کرنے کا حق دیتے ہیں جس کے بارے انہیں لگتا کہ یہ بندہ ان سے بہت بہتر ہے‘ بہت بہادر ہے‘ سمجھدار اور بے خوف ہے اور وہ ان کا تحفظ کرسکتا ہے۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی انسان کو آمادہ کرتی ہیں کہ وہ ایسے بندے کو اپنا ہیرو بنا لیں‘ اس لیے قدیم دنیا میں جنگجو اور بہادر لوگوں کو ہی بادشاہ تسلیم کیا جاتاتھا۔ بزدل لوگوں کونہیں ۔
تو کیا حکمرانوں کو صرف اقتدار اور انسانوں پر راج کرنے کی سہولتیں ہی انجوائے کرنی چاہئیں؟ انہیں صرف عوام کے پیسوں پر عیش کرنی چاہئے؟اور اگر وہی عوام گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جائیں تو آپ وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکلنے کو تیار نہ ہوں کہ کہیں آپ کوسکیورٹی کا مسئلہ پیش نہ ہو؟
وزیراعظم نے کوئٹہ نہ جا کر اپنا امیج ہرٹ کیا ہے۔ ان برسوں میں ان کا کرکٹ سے لے کر سیاست تک یہ امیج بنا رہا کہ وہ خطروں کے کھلاڑی ہیں۔ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست‘ وہ ہر جگہ خطرات کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ وہ اپنی اس خوبی کا ذکر ہر جگہ اور ہر وقت کرنا نہیں بھولتے تھے۔ ان کی یہ خوبی ان کے کام آئی جب انہوں نے ایم کیو ایم کو کراچی میں بارہ مئی 2007 ء کے قتلِ عام پر چیلنج کیا اور پہلی بار ان کا نام لے کر تنقید شروع کی تو لوگ ان کی بہادری کے قائل ہونا شروع ہوئے۔ پھر انہوں نے ڈرون حملوں پر امریکہ کے خلاف تحریک چلائی اور باقاعدہ ایک جلوس لے کر فاٹا تک گئے‘ حالانکہ بہت سے لوگ انہیں ڈرا رہے تھے کہ امریکی کہیں اس قافلے پر ہی ڈرون حملہ نہ کردیں۔ ان کی تقریریں سنیں تو آپ کو لگے گا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔ایک ایسا شخص جسے اللہ پر بہت توکل ہے۔ ایسی دیومالائی مخلوق کا سا امیج بن گیا جیسے کبھی یونانی دیوتا پرومیتھیس کا بنا تھا جس نے انسانوں کی محبت میں آسمانی دیوتائوں سے ٹکر لے لی تھی اور دیوتائوں نے اسے سخت سزا دی۔خان صاحب اس قوم کے بڑے طبقے کیلئے جدید دور کا پرومیتھیس تھے جس پر سب کو اعتبار تھا‘ جسے خوف نام کی کوئی چیز چھو کر نہیں گزری تھی۔مگراب سب حیران اور صدمے کا شکار ہیں کہ وہی شخصیت کوئٹہ جانے کو تیار نہیں جہاں چھ معصوم بہنیں دہائی دے رہی ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں بچا جو اِن کے بھائی کے جنازے کو کندھادے یا دفن کردے۔ کوئی انسان‘ کتنا ہی سخت دل کیوں نہ ہو ‘ ایک بہن کے یہ الفاظ سن کر دہل جائے گا۔
ہیرو بننے کے دعوے کرنا آسان ہوتا ہے۔لوگوں کو اپنی قسموں اور باتوں سے بہلانا بہت آسان ہے‘ لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ لمحہ سر پر آن پہنچتا ہے جس کیلئے آپ نے خود کو بائیس برس تیار کیا تھااور خود کو ہیرو کا درجہ دے رکھا تھا۔ اب لوگ آپ کی طرف دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ ہمارے ہیرو ہماری مدد کو آئو‘ ہمارے ساتھ کھڑے ہو جاؤ‘ہمارے آنسو پونچھو۔اور اس لمحے آپ کو اچانک بہت سے وہم چمٹ جاتے ہیں۔ آپ کو خوف اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ لگتا ہے کہ آپ کو اندر بند ہوکر بیٹھنا چاہئے کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ آپ کو اپنی بقا کی فکر پڑ جاتی ہے۔ بائیس برس کے سارے دعوے‘ سب ہمدردی کے اعلانات دم توڑ جاتے ہیں اور اچانک آپ کو ایک عام انسان کی طرح اپنی جان پیاری لگنے لگتی ہے۔ ایک لمحے میں آپ ایک حکمران سے عام انسان بن جاتے ہیں۔
سوچتا ہوں جب نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے سنا ہوگا کہ جس ہینڈسم وزیراعظم نے اسے فون کر کے مظلوم مسلمانوں کے خاندانوں کو گلے لگانے پر فون کر کے داد دی تھی اُس کے اپنے ملک میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر چار دنوں تک گیارہ لاشیں رکھ کر بیٹھے رہے لیکن وہ ان مظلوموں کو گلے لگانے کو تیار نہیں ہوا تو اس خاتون کا کیا ردعمل ہوگا؟ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن یہ سن کر ہنسی ہوگی یا روئی ہوگی ؟
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker