2018 انتخاباتاختصارئےلکھاریملک عبداللہ اعوان

ووٹ سے قسمت بدلیں ۔۔ ملک عبدالله اعوان

پاکستان میں عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ تمام امیدوارجنہوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں کبھی علاقے کی شکل تک نہیں دیکھی اب گلی گلی اور گھر گھر جا کر خود کو لوگوں کا خیرخواہ اور عوامی خدمت گزار ظاہر کرنے کے جتن کرنے میں مصروف ہیں۔ وطن عزیز کے قیام کو 71 برس مکمل ہونے کو ہیں۔ قائداعظم محمّد علی جناح نے جس پاکستان کی بنیاد رکھی تھی ہم میں سے اکثریت وہ مقصد بھلا چکی ہے ۔ پاکستان جو ایک ترقی پذیر اور امن پسند ملک تھا اب دن بہ دن پسماندگی کی طرف جا رہا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں حکومتوں کی کارکردگی دیکھیں تو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرض گزشتہ پانچ برس میں لیا گیا۔ ہمارے ہاں ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں کا مقروض ہوتا ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار جیسی سہولیات میں ہمارا ملک سب سے پیچھے اور بدعنوانی میں آگے آتا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل سرویز کے مطابق دنیا کے دس کرپٹ ترین سیاستدانوں کی فہرست میں پہلا نمبر پاکستانی سیاستدان کا ہے۔ ترکی کے علاوہ تمام ممالک ہم سے کٹ چکے ہیں.۔غربت، قحط، ماحولیاتی آلودگی، ناخواندگی اور پانی کی کمی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی پیسے کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کم ہو رہی ہے اور اب ایف-اے-ٹی-ایف کی طرف سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ ان سب حالات میں بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ہزاروں ارب ڈالرز قرضے لیکر چند سڑکیں اور پل بنا کر اپنی اعلٰی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ارے کیسی ترقی؟ کہاں کی ترقی؟ غریب بھوک سے مر رہا ہے، پانی چند سالوں میں ختم ہونے کو ہے، مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے، مائیں اسپتالوں میں طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سڑکوں پر بچے پیدا کر رہی ہیں، نوجوان بیروزگاری سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں ۔ اس سب میں سڑکیں کس کام کی؟ ہزاروں ارب ڈالرز کا قرض کیسے چکایا جائے گا؟عزیز ہم وطنو ! ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حالات کو سامنے رکھیں اور آئندہ انتخابات کے بارے میں سوچیں ۔ ان حالات کے باوجود ہمارے پاس پاکستان کی قسمت بدلنے کا سنہری موقع ہے۔ اپنا نہیں تو اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں۔ آخر کب تک ہم اپنی حالت کا ذمے دار دوسروں کو قرار دے کر اپنی تقدیر سنوارنے کے لئے کسی کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے رہیں گے ۔ جب ہمارے پاس ووٹ کی طاقت موجود ہے جس کے ذریعے ہم ایسے حکمرانوں کا انتخاب کر سکتے ہیں جو دولت کے پجاری نہ ہوں بلکہ ملک و قوم کے بارے میں سوچیں، جو عوام کے مسائل اور پریشانیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جن کے بیرون ملک اثاثے نہ ہوں اور جن کا جینا مرنا اپنے ملک و قوم کے ساتھ ہو ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ذات، برادری، رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر نظریے کو ووٹ دیں۔ یہ مت دیکھیں کہ فلاں ہمارے گھر چل کر آ گیا، فلاں ہمارے علاقے کا آدمی ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ آپ کے امیدواران کی قیادت کیسی ہے۔ اگر آپ نظریے کی بنیاد پر کسی پارٹی یا لیڈر کو سپورٹ کرتے ہیں اور آپ کے حلقے میں امیدوار آپ کی پسند کا نہیں آیا تو یاد رکھیں کہ اگر آپ کا لیڈر ایماندار ہو گا تو وہ کسی صورت اپنے ساتھیوں کو غلط کام نہیں کرنے دے گا ۔ کبھی بھی کسی کی باتوں میں آ کر ووٹ نہ دیں بلکہ اپنے دل و دماغ کو استعمال کر کے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں۔ کبھی چند پیسوں یا الیکشن کے دن ایک وقت کے کھانے کی خاطر اپنا ضمیر نہ بیچیں. آپ کے ٹیکس کے پیسوں میں سے چند پیسے آپ کو دے کر آپ کی زندگی کے کئی سال آپ کا خون چوسا جاتا ہے. خدارا اس دفعہ اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل داؤ پر مت لگائیں۔ اگر ہم سب مل کر اپنے ضمیر کی آواز سن کر ووٹ کا صحیح استعمال کریں گے تو وہ دن دور نہیں کہ جب امیر اور غریب کا ایک پاکستان ہو گا۔
ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوح ازل پر لکھا ہے

 

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker