کالملکھاریمنصور آفاق

سندھ بمقابلہ وفاق۔۔منصور آفاق

گورنر سندھ عمران اسماعیل کی تبدیلی، یہ افواہ کورونا کی طرح پھیلی رہی ہے۔ شاید اس کا سبب بھی کورونا ہے۔ اُن کی جگہ آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کا نام لیا جا رہا ہے۔ ذوالفقار مرزا بھی اس دوڑ میں شریک ہیں۔ وہ آج کل اسلام آباد میں ہیں، لابنگ جاری ہے۔ اُن سے رابطے کی کوشش کی، ان تک یہ میسج بھی پہنچایا مگر انہوں نے اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔ شاید انہیں پریشانی ہوئی کہ یہ خبر ایک اخبار نویس تک کیسے پہنچ گئی۔ یہ خیال شاید پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومت کے درمیان جاری سرد جنگ سے نکلا ہے۔ یقیناً گورنر سندھ کیلئے ذوالفقار مرزا کا نام پیپلز پارٹی کے لئے بہت تکلیف دہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے خاموشی سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ورکنگ شروع کر دی ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اگلی حکومت بلاول بھٹو کی ہو۔ چھوٹی چھوٹی باتیں نظر آنے لگی ہیں۔ ایک شاعر جس نے پی ٹی آئی کے ترانے لکھے، اس کی نئی غزل کا مطلع میرے لئے حیران کن تھا۔
دیوار پر ہے پھر وہی نعرہ لکھا ہوا
بھٹو کا نام پھر ہے دوبارہ لکھا ہوا
میں نے یہ شعر فیصل کریم کنڈی کو میسج کر دیا کہ پنجاب میں زیادہ نہیں تو کم از کم ایک شخص تو پیپلز پارٹی کی طرف واپس لوٹ آیا ہے۔ جواباً اُسے بارش کا پہلا قطرہ قرار دے دیا گیا۔ میں پیپلز پارٹی کو پچھلے کئی سال سے صرف فیصل کریم کنڈی کے توسط سے دیکھتا آ رہا ہوں۔ ابھی اٹھارہویں ترمیم پر اُن سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا ’’حکومت یہ تو بتائے کہ انہیں اٹھارہویں ترمیم کی کس کس شق پر اعتراض ہے اور اگر مکمل خاتمے کی بات ہے تو وہ ہماری زندگیوں میں ممکن نہیں۔ ہم بڑی مشکل سے ملک کو اِس منزل تک لائے ہیں۔ دوبارہ اندھیروں میں نہیں دھکیل سکتے۔ این ایف سی ایوارڈ میں بھی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ حکومت فاٹا کے پختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے پختونخوا کے لئے کچھ اور حصہ چاہتی ہے۔ فاٹا پہلے وفاق کے ساتھ تھا، سو پختونخوا کو اضافی حصہ وفاق نے دینا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بینظیر سپورٹ فنڈ کے احساس پروگرام سے ایک کروڑ فیملیز کو بارہ ہزار روپے دے رہی ہے۔ جب سیلاب آیا تھا پیپلز پارٹی کی حکومت نے نادرا کی وساطت سے ایک کروڑ چالیس لاکھ فیملیز کو پچیس پچیس ہزار روپے دیے تھے۔ نادرا کا ریکارڈ چیک کر لیجئے۔ ایک سوال اور بھی انہوں نے اٹھایا کہ بھاشا ڈیم چھ ماہ کے لئے کیوں بند کیا گیا اور اس میں ہمیں روزانہ کتنا نقصان ہو رہا ہے؟ ان کے ساتھ تو خیر میں نے بحث کی مگر سچ یہی ہے کہ ان سوالوں کے جواب میرے پاس نہیں تھے۔ اسد عمر سے گزارش ہے کہ تھوڑی سی اس طرف توجہ دیں اور عوام کو بھی بتائیں کہ کون ٹھیک کہہ رہا ہے اور کون غلط۔ اس وقت اسد عمر ہی ایک ایسے وزیر ہیں جن سے روشنی اور خوشبو کی توقع کی جا سکتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی اور میری دوستی کافی پرانی ہے۔ بحیثیت انسان ان کا کوئی جواب نہیں۔ وہ کنڈی قبیلے کے سردار ہیں۔ کہتے ہیں کہ کنڈی قبیلہ بھی نیازی قبیلے کی ایک شاخ ہے جو افغانستان سے آکر میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں آ باد ہوئی۔فیصل کنڈی کے والد فصل کریم کنڈی پیپلز پارٹی کے بنیادی رکن تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو انہی کے کہنے پر مفتی محمود کے خلاف ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن لڑے تھے۔ وہ خود بھی مولانا فضل الرحمٰن کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ فیصل کریم نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کو پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر شکست دی تھی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔فیصل کنڈی کے الیکشن کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ وہ جن دنوں لندن میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، شام کو پیپلز پارٹی کے دفتر میں جاکر کام کرتے تھے۔ وہیں محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ایک دن محترمہ نے انہیں کہا ’’فیصل میں نے تمہیں فضل الرحمٰن کے مقابلہ میں الیکشن لڑانا ہے۔ دنیا کو بتانا ہے کہ ایک رجعت پسند مولوی کو ہمارے ایک نوجوان لڑکے نے شکست دی ہے‘‘۔ جب انتخابات آئے تو آصف علی زرداری نے بہت کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن میرے دوست ہیں، ہم ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا ٹکٹ کسی کو نہیں دیں گے مگر محترمہ بضد رہیں کہ فیصل کریم ضرور مولانا کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گے۔
فیصل کریم اگرچہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی اسپیکر تھے مگر اپوزیشن ان کا بہت احترام کرتی تھی جب ان کے والد فوت ہوئے تو نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان جیسے لوگوں نے بھی تعزیت کی۔ ان کے جہانگیر ترین سے بھی بہت قریبی مراسم ہیں۔ جہانگیر ترین چاہتے تھے کہ گزشتہ انتخابات میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے امیدوار ہوں مگر فیصل کریم نے معذرت کرلی کہ میں پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ سکتا۔ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور بھی اُن کے قریبی عزیز ہیں۔ ان کا چھوٹا بھائی احمد کنڈی بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا اسمبلی سے ممبر منتخب ہوا۔ بلاول بھٹو کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی ہیں۔اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین پر بھی پیپلز پارٹی کام کر رہی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کو بھی پیپلز پارٹی میں واپس آنے کی دعوت دے دی گئی ہے مگر انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔ ندیم افضل چن کو بھی واپسی کا پیغام دیا گیا ہے۔ لگ یہی رہا ہے سندھ حکومت اور وفاق میں جاری لڑائی سے پیپلز پارٹی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker