کالملکھاریمنصور آفاق

منصور آفاق کا کالم:احمد حسن ڈیہڑ،راشدہ ماہین ملک اورپی ٹی آئی

ٹیپو سلطان نے کہا تھا ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے ‘‘۔کئی لوگ اس وقت عمران خان کو شیر بننے کا مشورہ دے رہے ہیں کہ پہلے پنجاب اور پختون خوا کی اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ پھرسندھ اور بلو چستان میں گورنر راج لگا دیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ کے چار بڑے عہدے داروں کو سیاسی سازش کرنے پر فارغ کردیا جائے۔ 27 مارچ والےاجلاس کے خلاف سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈرلے لیا جائے وغیرہ وغیرہ اور پھر کچھ دنوں کے بعدخود حکومت توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ یقیناً ان مشوروں میں کئی بڑے سخت مقام آتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور عوامی حکومتوں کے درمیان معاملات اکثر اس قدر خراب رہے ہیں کہ پاکستان مارشل لاؤں کی سرزمین بن چکا ہے۔ مجھ جیسے لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں خدانخواستہ پھر کوئی مارشل لا آئے مگر مشورہ دینے والوں کا خیال ہے کہ کب تک؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کہاں تک جاتے ہیں، اپنے خلاف ہونے والی سازش سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں؟کسی سازش کے توڑ کےلیے ضروری ترین با ت یہ ہوتی ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ سازش ہو کہاں سے رہی ہے اُس میں کون کون شریک ہے۔اب آتے ہیں ان ناراض ایم این ایز کی طرف، جنہیں سامنے لایا گیا ہے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ انہیں ایک ہفتے پہلے ہی کیوں سامنے لایا گیا؟ انہوں نے اگرتحریکِ عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ دینا تھا تو وہ اسی دن منظر پر آتے اور اپنا کام کر جاتے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔میں اس اسکرپٹ کو سمجھنے کی مسلسل کوشش میں ہوں مگر ابھی بات واضح نہیں ہورہی۔ پی ٹی آئی کے ناراض ایم این ایز کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ خود یہ اہلیت رکھتاہوتا۔ میں ان میں سے صرف ایک آدمی کا ذکر کرتا ہوں اس کا نام ’’احمد حسن ڈیہڑ ‘‘ ہےانہوں نے جب حامد میرکو عمران خان کے خلاف انٹرویو دیا تو میں نے اپنی دوست اور پاکستان کی نامورشاعرہ راشدہ ماہین ملک کو فون کیا تو کہنے لگی ’’میں تو اپنے بچوں سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی۔ وہ مجھے کہتے ہیں ’’ماموں لوٹا بن گئے ہیں‘‘۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا میں ڈیہڑ صاحب کےٹکٹ لینے کا سارا قصہ کالم میں لکھ دوں تو کہنے لگی ’’بالکل لکھ دو، میری طرف سے اجازت ہے انہوں نے بہت زیادتی کی ہے ‘‘۔
قصہ اتنا سا ہے کہ ان دنوں میں برمنگھم میں تھا۔ مجھےاسلام آباد سےراشدہ ماہین ملک کا فون آیا کہ ’’احمد حسن ڈیہڑ میرے بھائی ہیں ان کا پی ٹی آئی کے ٹکٹ کا مسئلہ ہے۔ ٹکٹ ان کی بجائے سکندر بوسن کو دیا جارہا ہے۔ مدد کی ضرورت ہے‘‘۔میں نے وعدہ کرلیا اور کہا کہ ’’ میں مظہر برلاس کو فون کرتا ہوں۔ آپ لوگ ان سے جا کر مل لیں‘‘۔راشدہ احمد حسن ڈیہڑ کو لے کر مظہر برلاس کے پاس گئیں۔ مظہر برلاس دوست دار آدمی ہیں۔ انہوں نے ڈیہڑ صاحب سے کہا ’’آپ نے جو چالیس پچاس لوگ بنی گالہ میں احتجاج کے طور پر بٹھائے ہوئے ہیں۔ انہیں اٹھا لیں۔ میں عمران خان سے بات کرتا ہوں۔ دو دن بعد پھر راشدہ کا فون آیا کہ بھائی چاہتے ہیں کہ مظہر برلاس کے ساتھ کوئی اور بھی ہمیں عمران خان کاقریبی آدمی ڈھونڈ دیں۔ ایسا آدمی، خان صاحب جس کی بات پر اعتبار کرتے ہوں۔ میں نے کہا ،اچھا۔ میں میانوالی میں مرحوم انوار حسین حقی کو فون کرتا ہوں آپ ان سے جاکر ملیں۔ وہ ان کے بااعتماد ساتھی ہیں۔ احمد حسن ڈیہڑ میانوالی گئے ۔ حقی صاحب سے ملے۔ میں بھی دو تین دن کے بعدپاکستان آگیا۔ میانوالی گیا تو حقی صاحب نے 30 ہزار روپے مجھے دیے اور کہا کہ ’’آپ نے جنہیں بھیجا تھا یہ رقم انہیں واپس کر دیجئے گا۔ وہ میرے لیے ایک سوٹ لائے تھے۔ ان کے جانے کے بعد جب میں نےسو ٹ کو لفافے سے نکالا تو اس میں سےیہ30 ہزار روپے بھی نکلے ‘‘۔ میں نے حقی صاحب کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ رشوت نہیں۔ ٹکٹ تو کروڑوں روپے کا ہوتا ہے مگر وہ نہیں مانے۔ لیکن میرے کہنے پر انہوں نے ٹکٹ کےلیے پوری مدد کی۔ پھر ڈیہڑ صاحب نے مجھے کہا کہ میرے ٹکٹ کے سلسلے میں ہارون الرشید سے کہیں۔ میں نے ہارون الرشید صاحب سے ڈیہڑ صاحب کی ملاقات کرائی۔ انہوں نے بھی جہاں جہاں ممکن تھا، ڈیہڑ صاحب کے ٹکٹ کےلیے کہا۔ بہر حال بڑی کوشش کے بعد آخر کار ہم لوگ ڈیہڑ صاحب کو ٹکٹ لے کر دینے میں کامیاب ہو گئے۔ ابھی حکومت بنے ہوئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ راشدہ ماہین ملک نے ہارون الرشید سے درخواست کی کہ آپ ڈیہڑ صاحب کو وزیر بنوادیں۔ ہارون الرشید غصے میں آ گئے اور بولے، ’’تم کچھ دنوں کے بعد پھر آؤ گی اور کہو گی اب ڈیہڑ صاحب کو وزیر اعظم بنوادیں‘‘۔
کچھ دنوں بعدمظہر برلاس نے بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا کہ یہ تم نے کیسا آدمی بھیجا تھا۔تم بالکل مردم شناس نہیں ہو۔ یہ اس قابل نہیں تھا کہ ہم لوگ اسے ٹکٹ لے کر دیتے۔ میں نے ہنس کر کہا ’’نیکی کر دریا میں ڈال ‘‘مگر نیکی کا شر بھی تو ہوتا ہے اوراس وقت اسی شرسے پوری قوم گزر رہی ہے۔ میں اپنے اس قصور پر پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں۔
احمد حسن ڈیہڑ پرویز مشرف کے دور میں یونین کونسل کے ناظم کی حیثیت سے سامنے آئے تھے، یوسف رضا گیلانی سے دوستی کر لی اورپیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 2008 میں یوسف رضا گیلانی نےاپنے حلقے میں ایم پی اے کا ٹکٹ دیا اور کامیاب کرایا۔ یہ ان کا پہلا الیکشن تھا۔ 2013 میں یہ نون لیگ میں شامل ہو گئے مگر نون لیگ نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کر دیاتو پھر یہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے اور ان کی منزل پھر پیپلز پارٹی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker