کالملکھاریمسعود اشعر

انتشار، خلفشار اور ایک کتاب۔۔آئینہ /مسعوداشعر

جب سے نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والی حکومت آئی ہے ہر دوسرے دن کسی نہ کسی بہانے پوری قوم کے لئے تفنن طبع کا سامان مہیا ہو جاتا ہے۔ ایسے ایسے قدم اٹھائے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ ہنسی اس لئے آتی ہے کہ اگر اس کے لیڈر نے گزشتہ بیس سال میں حکمرانی کا سلیقہ نہیں سیکھا تو حکومت سنبھالی ہی کیوں۔ اور رونا اس بات پر آتا ہے کہ خدا خدا کر کے اس بد نصیب قوم کو ایک ایسا سیاسی رہنما ملا تھا جس کا دعویٰ ہے کہ وہ بالکل بے داغ ہے۔ اس کے ماتھے پر کسی قسم کی بے ایمانی یا بد دیانتی کا دھبہ نہیں ہے۔ اور پھر وہ نوجوانوں کیلئے ایک رول ماڈل بھی ہے۔ اسی لئے اس سے بے شمار توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ تمام آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔ اور حاصل کیا ہوا؟ انتشار اور خلفشار۔ ذہنی بھی اور جسمانی بھی۔ اس حکومت کی طرف سے جو بھی کام کیا جا تا ہے وہ الٹا گلے پڑ جاتا ہے۔ گلے پڑ جاتا ہے خود ان کے بھی اور قوم کے بھی۔ انہیں غرہ یہ ہے کہ وہ جو بھی کام کرتے ہیں انہیں غیبی تائید حاصل ہوتی ہے۔ اسی تائید کے زعم میں وہ ایسے ایسے فیصلے کر جاتے ہیں جن کی وجہ سے خود انہیں بھی شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے، اور قوم کو بھی۔ اب یہاں کن کن فیصلوں کا حوالہ دیا جائے؟ آپ خود سمجھ دار ہیں۔ وہ فیصلے آپ کے بھی سامنے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ وہ نا تجربہ کار ہیں۔ تجربے سے سیکھ جائیں گے، اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔ آخر تجربے کیلئے اور کتنا وقت چاہیے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی جانب سے ہر فیصلہ جذبات سے مغلوب ہو کر کیا جاتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جذباتی لوگ کیسی کیسی ٹھوکریں کھاتے ہیں؟ اور یہ ٹھوکریں قوم کے ماتھے پر پڑتی ہیں۔
پچھلے دنوں ہم نے ایک تصویر کا حوالہ دیا تھا۔ اس تصویر میں عمران خان ہوائی جہاز میں ایک موٹی سی کتاب کھولے بیٹھے ہیں۔ ولیم ڈیل رمپل یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے کہ یہ ان کی کتابAnarchy تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ عمران خان صاحب نے کوئی اور کتاب پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو، وہ یہ کتاب ضرور پڑھ لیں گے۔ لیکن اندازہ ہوا کہ انہوں نے وہ کتاب بھی نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو انہیں علم ہو جاتا کہ مغل سلطنت کے آخری دور میں ہندوستان میں کیا ہو رہا تھا اور مغل شہنشاہ، جو اپنے آپ کو شہنشاہ عالم سمجھتے تھے، کیسے انگریز دکانداروں اور کاروباریوں کے آگے سر جھکائے کھڑے نظر آتے تھے۔ اسی لئے تو اس حکومت پر ترس آتا ہے کہ نہ تو اس نے اپنے پیش رو حکمرانوں کی غلطیوں سے کچھ سیکھا اور نہ اپنی غلطیوں سے۔ اس لئے انتشار ہی انتشار ہے اور خلفشار ہی خلفشار۔ یہ انتشار پوری قوم کے مستقبل کو تاریک کرتا نظر آ رہا ہے اور یہی ہماری بد قسمتی ہے۔
اب کتاب کا ذکر آیا ہے تو ایک اور کتاب کا بھی ذکر ہو جائے۔ فرخ سہیل گوئندی سیاسی کارکن ہیں، لکھاری ہیں، پبلشر ہیں، ٹیلی وژن کے ٹاک شوز کے میزبان ہیں اور جہاںگرد ہیں۔ ساری دنیا گھوم چکے ہیں۔ ترکی سے خاص رغبت رکھتے ہیں، اس ملک کا کونہ کونہ چھان مارا ہے۔ اسی رغبت اور محبت میں ترکی کے ممتاز ادیبوں کے ناولوں کے اردو ترجمے چھاپ چکے ہیں۔ لبنان سے ان کا تعلق اور رشتہ اتنا گہرا ہے کہ اس ملک کا بیش قیمت ہیرا اپنے گھر کی زینت بنا چکے ہیں۔ اس وقت ان کی تازہ کتاب ”لوگ در لوگ‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب میں ان کے تیس بتیس مضامین شامل ہیں۔ چند مضامین شخصیتوں کے بارے میں ہیں اور چند سیاسی واقعات اور سیاسی صورت حال کے بارے میں۔ آئی اے رحمن نے اس کتاب پر جو لکھا ہے آپ وہ بھی پڑھ لیجئے۔
”لوگ در لوگ‘‘ کئی داستانوں کا مجموعہ ہے۔ ضلع سیالکوٹ کے گائوں متراں والی کے دو متحرک خاندانوں کی داستان، سر گو دھا کے بسنے والے اور اسے بسانے والوں کی داستان۔ ایک سکھ خاتون دیپ کور اور ان کے انگریز شوہر کی بیٹی مرینا وھیلر کی اپنے Roots تلاش کرنے کی داستان۔ پاکستان میں 1970 کی دہائی میں امیدوں کے سیلاب کی داستان۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین اور اس پارٹی کو مقبول بنانے والوں کی داستان۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان صلح و آشتی کا پرچار کرنے والوں کی داستان۔ اس خوبصورت کتاب میں گوئندی نے ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کا سحر بیان کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کے تاثرات قلم بند کئے ہیں اور سیاسی رہنمائوں کے خاکے بھی پیش کئے ہیں۔ قارئین کی ملاقات شیخ محمد رشید، محمد حنیف رامے، ملک معراج خالد، رائو رشید اور ممتاز کاہلوں کے علاوہ عاصمہ جہانگیر، محمد مرزا، مدیحہ گوہر، ڈاکٹر انور سجاد، منو بھائی، وارث میر‘ یونس ادیب اور کئی دوسرے اکابرین اور کارکنوں سے کروائی ہے۔ کئی ہندوستانی شخصیات کا تذکرہ ہے، جن میں خشونت سنگھ، کلدیپ نیر، اندر کمار گجرال اور حاجی مستان مرزا شامل ہیں۔ سب سے نمایاں خاکہ فرخ سہیل گوئندی کا ہی ہے۔ وہ ایسا جہاں گرد ہے کہ معمولی رقم گرہ میں باندھ کر انسان دوستی کی طاقت سے دنیا کو زیر کرنے نکل پڑتا ہے۔ اس کا تمام انسانوں سے محبت اور خیر سگالی کا جذبہ ایسی مقناطیسی وقعت رکھتا ہے کہ وطن سے دور ملکوں میں بسنے والے اجنبی اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ کہیں بھی دوستی کی خاطر اپنے سیاسی عقیدے کا سودا نہیں کرتا۔ وہ شمعون پیریز کے سامنے اسی بے باکی کے ساتھ کلمۂ حق کہتا ہے جس جرأت کے ساتھ وہ اپنے ملک کے سیاسی قائدین کو سچائی اور استقامت کی کسوٹی پر پر کھتا ہے۔
” گوئندی کی دوسرے ملکوں میں دوست بنانے کی صلاحیت کی اعلیٰ ترین مثال ترکی کے قد آور سیاست دان بلند ایجوت سے تعلق خاص کی حکایت ہے، جنہوں نے ترکی میں گوئندی کی متعدد بار پذیرائی کی۔ وہ گوئندی کی دعوت پر دس دن کے لئے پاکستان آئے اور سرکاری مہمان بننے کے بجائے گوئندی کے مہمان بننے پر اصرار کیا۔ اسی طرح گوئندی نے اپنے خلوص اور صاف گوئی کی عادت سے ہندوستان کے بہت سے سیاسی اور صحافتی رہنمائوں کے دل جیت لئے۔ گوئندی کی من موہ لینے کی صلاحیت اس وقت بھرپور طور پر سامنے آتی ہے جب وہ ہربھجن سنگھ خربندہ جیسے سماجی اور مالی اعتبار سے نسبتاً کمزور مگر جذبۂ دوستی اور دہلی کے بارے میں معلومات سے مالامال نوجوان کو شرفِ میزبانی بخشتا ہے‘‘۔
یہ تو رحمن صاحب نے لکھا۔ لیکن گوئندی نے انور سجاد پر بھی ایک مضمون لکھا ہے جو ان کی زندگی کے آخری دنوں کے بارے میں ہے۔
”وہ کراچی کی فضا میں ایسے گم ہوئے کہ لاہور کی فضا قہقہوں سے محروم ہو گئی۔ جب وہ لاہور آئے تو کسی کو یاد ہی نہیں رہا کہ انور سجاد یہاں ہیں۔ میں انہیں ملنے گیا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ بستر پر آدھے وجود کے ساتھ انور سجاد لیٹا تھا۔ چند ماہ بعد دوبارہ ملنے گیا۔ اپنی شریک حیات رتی کے ہمراہ اپنے وزن سے آدھے وزن میں انور سجادنے مجھے دیکھ کر لاہوری انداز میں کہا: مسٹر گوئندی آیا ہے۔ بس یہ محفل بھی تھی اور شام غریباں بھی۔ میں ان کے چہرے کی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی مسکراہٹ ملا رہا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر آیا تو ان کی آنکھیں پُر نم ہو گئیں‘‘۔
یہ گوئندی نے انور سجاد کے آخری دونوں کی تصویر کھینچی ہے۔ معلوم نہیں انہوں نے انور سجاد کے انتقال کے بعد بھی کچھ لکھا یا نہیں؟
ضیاالحق کے زمانے میں مدیحہ گوہر (وہ بھی مرحوم ہو گئیں) نے اپنے گھر کے لان میں ”جلوس‘‘ کے نام سے جو ڈرامہ پیش کیا تھا‘ اس کا حال بھی کتاب میں موجود ہے۔ آمریت کے خلاف احتجاج کی یہ نئی شکل تھی۔ اس ڈرامے میں کوئی بھی پروفیشنل اداکار نہیں تھا۔ سب اپنے جانے پہچانے چہرے تھے۔ صحافی اور ادیب۔ اس کتاب میں بہت سی تصویریں بھی ہیں۔ ان تصویروں میں ہماری ملاقات ملکی اور غیر ملکی مشہور و معروف شخصیتوں سے ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker