کالملکھاریمسعود اشعر

کیا یہ یونیورسٹی بن پائے گی؟۔۔آئینہ/مسعوداشعر

وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا مسودہ قانون قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا اور قاعدے کے مطابق اسے قائمہ کمیٹی کے حوالے بھی کر دیا گیا۔ اب ہم بحث کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے گھر میں یہ یونیورسٹی بننا چاہیے یا نہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ کیا یہ یونیورسٹی بنے گی بھی یا نہیں؟ اصل میں تو ہمیں پہلے اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ عمران خان صاحب نے حکومت حاصل کرنے کے لئے جہاں اور بے شمار دعوے کئے تھے وہاں انہوں نے یہ یونیورسٹی بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اب اپنے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چودھری صاحب کو رویت ہلال کمیٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان سے مقابلے کے بعد تھوڑی سی فرصت ملی ہے تو انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا بل بھی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ آپ کو یقین آتا ہو تو اور بات ہے، ہمیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ بیل واقعی منڈھے چڑھے گی بھی۔ اول تو وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں منتقل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لئے جو کروڑوں اور اربوں روپیہ چاہیے وہ کہاں سے آئے گا؟ اس کے بعد جو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ یونیورسٹی جدید سائنسی تقاضوں کے مطابق چلائی جائے گی، اس کے لئے عالمی معیار کے اساتذہ کہاں سے درآمد کئے جائیں گے؟ اس مقصد کے لئے بھی اتنی دولت کی ضرورت ہو گی جو نئے پاکستان کی نئی حکومت کے بس میں نہیں ہے۔ اس حکومت سے تو موجودہ علمی اور ثقافتی ادارے ہی نہیں چل رہے ہیں، اس نئی یونیورسٹی کے لئے بجٹ کہاں سے آئے گا؟ ہم تو فواد چودھری صاحب سے صرف یہ سوال کرنا چاہتے ہیں کہ اس یونیورسٹی کا مسودۂ قانون پیش کرنے سے پہلے کیا انہوں نے اس کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرائی ہے؟ کیا اس کے لئے ماہرین سے مشورہ کیا ہے؟ کم سے کم اخباروں میں تو ایسی کوئی خبر ہماری نظر سے نہیں گزری۔ بہت عرصہ پہلے عمران خان صاحب نے چند ماہرین تعلیم کو بلایا تھا۔ ان سے مشورہ کرنے کے بجائے انہوں نے ان کے سامنے خود ہی ایک تقریر کر دی تھی۔ اب اگر یہ سارے کام مستقبل پر چھوڑے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے ابھی تک باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے اور صرف قوم کو اپنا وعدہ یاد دلانے کے لئے قومی اسمبلی میں مسودۂ قانون پیش کرا دیا گیا ہے۔
عمران خان صاحب کو یونیورسٹیاں بنانے کا تو بہت شوق ہے، لیکن انہوں نے کبھی غور کیا کہ واقعی ایک پڑھی لکھی قوم بنانے کے لئے پہلے بچوں کی ابتدائی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہمارے سرکاری سکولوں اور ان میں دی جانے والی تعلیم کا جو حال ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ چاروں صوبوں کے دیہات میں بے شمار سکول ایسے ہیں جنہیں مناسب عمارت تک میسر نہیں ہے۔ ان سکولوں میں پڑھانے والے استادوں کی مالی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان کی تنخواہوں اور دوسری سہولتوں کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی۔ جیسی تنخواہ اور جیسی سہولتیں انہیں میسر ہیں ویسا ہی ان کی تعلیم اور تدریس کا حال ہے۔ وہ زمانے گئے جب اشفاق احمد کے افسانے ”گڈریا‘‘ والے دائو جی اس دنیا میں موجود تھے اور وہ اپنی زندگی کا اساسی مقصد سمجھ کر بچوں کو پڑھاتے تھے۔ اب سب کے ساتھ پیٹ لگا ہوا ہے۔ ان کا گھر بار ہے۔ اور ان کے بچے بھی ہیں۔ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر کس طرح دوسروں کے بچوں کو پڑھائیں گے؟ اب رہا سر کاری سکولوں میں تعلیم کا معیار تو آپ دیکھ لیجئے کہ متوسط آمدنی والے ماں باپ بھی اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں بھیجنا پسند کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہاں واقعی پڑھائی ہو تی ہے اور معیاری پڑھائی ہوتی ہے۔ اچھی یونیورسٹیوں میں جو بچے جاتے ہیں، یہ نجی سکول اور کالج ہی اس کی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ آپ سرکاری یونیورسٹیوں اور نجی یونیورسٹیوں کے معیار تعلیم کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ دنیا کی معیاری یونیورسٹیوں میں اگر کسی یونیورسٹی کا نام آتا ہے تو وہ نجی یونیورسٹی ہی ہوتی ہے؟
اور ابھی یاد آیا کہ فواد چودھری صاحب نے تو عمران خان کو خوش کرنے کے لئے قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کر دیا ہے لیکن کیا اس کے لئے وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب سے بھی مشورہ کیا گیا ہے؟ سب سے اہم سوال یہ بھی ہے۔ یہ شعبہ تو شفقت محمود کا ہے۔ تعلیم اور ثقافت کے یہ وزیر تو علمی اور ثقافتی اداروں کے خرچے کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اردو سائنس بورڈ، اردو لغت بورڈ اور مقتدرہ قومی زبان کو یکجا کر دیا گیا ہے تاکہ پیسے کی بچت ہو۔ ان کے پاس تو لاہور میں اکادمی ادبیات کے دفتر کا کرایہ دینے کو بھی پیسے نہیں ہیں۔ اکادمی کا یہ دفتر اردو سائنس بورڈ کی عمارت میں پہنچا دیا گیا ہے۔ بھائی شفقت محمود، کیا آپ سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آپ یہاں بچت کر رہے ہیں تو وزیر اعظم ہائوس میں عالمی معیار کی یونیورسٹی بنانے کیلئے پیسہ کہاں سے لا ئیں گے؟ یا یہ سوال بھی فواد چودھری سے ہی کیا جانا چاہیے؟ اسی لئے تو عرض کیا ہے کہ اس یونیورسٹی کا مسودۂ قانون تو پیش کر دیا گیا ہے‘ لیکن کیا یہ یونیورسٹی واقعی کوئی شکل بھی اختیار کر لے گی؟، اس پر شبہ ہے۔ سوچ لیجئے، کیا یہ سب کہنے کی باتیں نہیں ہیں؟ جیسے کروڑوں نوکریوں اور لاکھوں گھروں کی باتیں؟
ہم نے پچھلے دنوں ولیم ڈیل رمپل اور ہندوستاں میں مسلمانوں کی حکومت کے آخری دور اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کا ذکر کیا تھا۔ عجیب اتفاق ہے کہ ہمارے ممتاز ناول اور افسانہ نگار حسن منظر کا جو نیا ناول ”اے فلک نا انصاف‘‘ شائع ہوا ہے وہ بھی مغلوںکی سلطنت کے آخری دور کے بارے میں ہی ہے۔ یوں تو اورنگ زیب اور دارا شکوہ اس ناول کے اصل کردار ہیں، لیکن دراصل وہ اس شہر کی کہانی ہے جس کا نام دہلی ہے۔ جب اورنگ زیب اپنے بھائی دارا شکوہ کو اپنے راستے سے ہٹانے کی تیاریاں کر رہا ہے تو دہلی شہر کے باشندے کیا سوچ رہے ہیں۔ اس شہر میں کیا چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں؟ اور اس سانحے کا اس شہر کے باشندوں پر کیا اثر ہو رہا ہے؟ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ ہے اس ناول کا موضوع۔ یہ ناول اپنے پڑھنے والوں کو قدم قدم اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ آخر جب دارا شکوہ کا سر تن سے جدا کر دیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں بھی دہلی شہر میں جو کہانیاں گردش کر رہی ہیں، یہ ناول نہایت دل سوزی کے ساتھ انہیں بھی اپنے قاری کے سامنے لاتا ہے۔ حسن منظر نے ان تاریخی کرداروں کے نام نہیں لکھے ہیں جو اس ناول میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ لیکن تاریخ کی تھوڑی بہت شد بد رکھنے والے بھی ان کرداروں کو بخوبی پہچان لیتے ہیں۔
اب ایک ناول کا ذکر آیا ہے تو ایک اور کتاب کی بات بھی ہو جائے۔ یہ کتاب ہے عبدالخالق سرگانہ کی ”پی ٹی وی میں ماہ و سال‘‘ پاکستان ٹیلی وژن میں گزاری ہوئی اپنی زندگی کے بارے میںآغا ناصر اور اختر وقار عظیم نے نہایت دلچسپ کتابیں لکھی ہیں‘ لیکن ان دونوں کا تعلق پروگرام کے شعبے سے تھا؛ البتہ برہان الدین حسن کا تعلق نیوز اور کرنٹ افیئر سے تھا۔ وہ ڈائریکٹر نیوز، ڈائریکٹر بین الاقوامی تعلقات اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے پی ٹی وی میں اپنے تجربات انگریزی کتاب UNCENSORED میں بیان کئے ہیں۔ انہوں نے ”پس پردہ‘‘ کے عنوان سے خود ہی اردو میں اس کتاب کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ برہان الدین حسن کی یہ کتاب پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال کا تجزیہ بھی ہے۔ سرگانہ صاحب کا تعلق بھی چونکہ پی ٹی وی کے نیوز اور کرنٹ افیئر کے شعبے سے ہی رہا ہے، اس لئے انہوں نے اس شعبے میں گزارے ہوئے اپنے ماہ و سال کا حال بیان کیا ہے۔ وہ پاکستان کی سیاست پر بات نہیں کرتے؛ تاہم اس کتاب میں انہوں نے پی ٹی وی کو بہتر بنانے اور دوسرے نجی چینلز کا مقابلہ کرنے کے لئے چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ انہوں نے ان اصحاب کا تذکرہ بھی کیا ہے‘ جن کے ساتھ وہ پی ٹی وی میں کام کرتے رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker