کالملکھاریمسعود اشعر

نوبیل ادبی انعام کا تماشہ: آئینہ /مسعود اشعر

لو بھائی، اس سال ادب کا نوبیل انعام کسی کو بھی نہیں دیا جائے گا۔ کیوں؟ اس لئے کہ عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی لت، جسے آج کل جنسی ہراسانی کہا جاتا ہے، ادب کا نوبیل انعام دینے والی سویڈش اکیڈمی تک بھی پہنچ گئی ہے۔ ایک دو نہیں بلکہ پوری اٹھارہ عورتوں نے اکیڈمی کی ایک خاتون رکن کے فوٹو گرافر شوہر پرالزام لگایا ہے کہ وہ بیس سال سے انہیں ہراساں کر رہا ہے۔ وہ بھائی صاحب صرف عورتوں کو ہراساں ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ ہر سال انعام پانے والے ادیب کا نام بھی سرکاری اعلان سے پہلے ہی افشا کر دیتے ہیں۔ یہ کام وہ نہایت رازداری کے ساتھ کرتے ہیں۔ اکیڈمی کے ارکان کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی اور ان کے اعلان کرنے سے پہلے ہی انعام پانے والے کا نام ان جوا کھیلنے والوں تک پہنچ جاتا ہے جنہوں نے ہزاروں ڈالر کی شرط لگائی ہوتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ کام مفت تو نہیں کیا جاتا ہو گا۔ وہ بھائی صاحب بھی شرط لگانے والوں سے اس طرح بھاری بھرکم رقم حاصل کر لیتے ہوں گے۔ اچھا، ایک اور بات بھی ہے۔ صرف ان کی بیگم ہی سویڈش اکیڈمی سے منسلک نہیں ہیں بلکہ ان صاحب نے ایک فورم بھی بنایا ہوا ہے جسے اکیڈمی سے مالی امداد ملتی ہے۔ اب جہاں تک جنسی ہراسانی اور اس کے انکشاف کا تعلق ہے وہ تو دنیا بھر میں ایک وبا کی طرح پھیل گئی ہے۔ اور روزانہ ہی کہیں نہ کہیں سے اس ہراسانی کی خبر آ جاتی ہے۔ لیکن یہ جو ادب کا نوبیل انعام پانے والوں کے نام پر جوا کھیلا جاتا ہے وہ کم سے کم ہمارے لئے تو حیران کن ہے۔ ہم تو پریشان ہو گئے کہ نوبیل انعام پر بھی جوا کھیلا جا تا ہے؟ دنیا بھر میں اتنی زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان زبانوں میں لکھے جانے والے ادب کا ترجمہ بھی سینکڑوں کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں کسی ادیب کے بارے میں شرط لگانا کہ اس سال اسے یہ انعام ملے گا خاصا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بکر پرائز بھی نہیں ہے کہ مہینہ بھر پہلے ان ادیبوں کی لانگ لسٹ شائع کر دی جاتی ہے جن میں سے کسی ایک کو وہ انعام ملتا ہے۔ اس لانگ لسٹ کے بعد پھر شارٹ لسٹ یا مختصر فہرست شائع کی جاتی ہے اس کے بعد کہیں اصل انعام پانے والا سامنے آتا ہے۔ اب کیا ہو گا؟ ہمیں تو ان ناول نگاروں پر ترس آ رہا ہے جو کئی سال سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس سال انہیں یہ انعام ضرور مل جائے گا۔ انہیں پسند کرنے والے بھی ہر سال آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں کہ اس سال تو یہ انعام کہیں اور نہیں جائے گا۔ ایسے ناول نگاروں میں جاپان کے ہاروکی مورا کامی کا نام سرفہرست ہے۔ کتنے سال ہو گئے انہیں انتظار کرتے۔ جب بھی نوبیل انعام کا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے ان کا نام ہی لیا جاتا ہے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ کبھی تو کسی رپورٹر نما لکھنے والی کو یہ انعام مل جاتا ہے اور کبھی کسی گانے والے کو۔ گانے والے کا تو قصہ یہ ہے کہ اسے خود بھی یقین نہیں آیا تھا کہ وہ نوبیل انعام یافتہ ہو گیا ہے۔ پچھلے سال برطانیہ کے اشی گورو کو یہ انعام ملا تب بھی بہت سے لوگوں کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ یہ سوال تو ہم بھی کرتے ہیں کہ آخر مورا کامی کو یہ انعام کیوں نہیں ملتا؟ بلاشبہ وہ بہت بڑا ناول نگار ہے۔ اسے پڑھ کے تو دیکھو۔
اب نوبیل انعام کی بات ہو رہی ہے تو ہمیں اپنے کئی ادیب بھی یاد آ رہے ہیں جو یہ امیدیں لگائے لگائے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے کہ انہیں بھی نوبیل انعام مل جائے گا بلکہ آج بھی ہمارے کئی ادیب و شاعر ایسے ہیں جو اپنے ادب پاروں کا انگریزی میں ترجمہ کرا کرا کے تھک گئے ہیں۔ وہ انگریزی ترجمے سویڈن بھیجتے ہیں اور پھر سویڈش اکیڈمی پر لعنت بھیجتے ہیں کہ وہ اتنے عظیم شاہکار پر توجہ نہیں دیتی۔ اب ہم کس کس کا نام لیں۔ لیکن چونکہ مرحوم میرزا ادیب اس معاملے میں خاصے بدنام ہو گئے تھے اس لئے ہم ان کا ذکر کئے دیتے ہیں۔ میرزا صاحب کا نام اس لئے بھی یاد آیا کہ اس وقت ’’ماہ نامہ ادب لطیف‘‘ کا خاصا بھاری بھرکم شمارہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ اس رسالے کی اشاعت کو تراسی سال ہو گئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ اس کا سالگرہ نمبر ہے۔ ہم تو یہ یاد کر رہے ہیں کہ کون نامور ادیب ایسا ہے جو اس کا ایڈیٹر نہ رہا ہو؟ لیکن یہ میرزا ادیب ہی تھے جو زیادہ عرصے اس کے ایڈیٹر رہے۔ احمد ندیم قاسمی کا تو مجھے یاد نہیں، البتہ انتظار حسین، اظہر جاوید اور ناصر زیدی ہمیں یاد ہیں۔ کچھ عرصے یہ شرف ہمیں بھی حاصل رہا ہے۔ کسی بھی ادبی رسالے کا، اور وہ بھی کسی پاکستانی رسالے کا اتنے طویل عرصے زندہ رہنا ایک معجزہ ہی تو ہے۔ بلاشبہ یہ صدیقہ بیگم کی ہی ہمت ہے کہ اپنی تمام پریشانیوں اور طبیعت کی ناسازی کے باوجود وہ یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع کر رہی ہیں۔ صدیقہ بیگم کے والد اور پنجاب بک ڈپو کے مالک چودھری برکت علی نے مارچ 1935میں یہ رسالہ نکالا تھا۔ اس کے پہلے ایڈیٹر طالب انصاری بدایونی تھے۔ تین شماروں کے بعد میرزا ادیب نے اس کی ادارت سنبھالی۔ میرزا صاحب کے بعد ناصر زیدی کی ادارت کا عرصہ ہی سب سے طویل ہے۔ ان دنوں بھی ناصر زیدی ہی اس تاریخی رسالے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔480 صفحے کا یہ سالگرہ نمبر بھی انہی کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادب لطیف ایک تاریخی اثاثہ ہے۔ اسے اسی طرح زندہ رہنا چاہئے۔ اب ہم نے چونکہ نوبیل انعام کے حوالے سے میرزا ادیب کا ذکر کیا ہے تو ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ میرزا صاحب اگرچہ ’’صحرا نورد کے خطوط‘‘ اور ’’صحرا نورد کے رومان‘‘ کی وجہ سے زیادہ پہچانے جاتے ہیں لیکن انہوں نے ’’درونِ تیرگی‘‘ جیسے افسانے بھی لکھے ہیں۔ اس افسانے کو ہم علامتی افسانے کا پیش رو کہہ سکتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے نک چڑھے نقادوں کی نظر اس طرف نہیں جاتی۔ میرزا صاحب کی آپ بیتی بھی کمال کی تخلیق ہے۔ میرزا صاحب کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ ترقی پسند انہیں ترقی پسند نہیں مانتے اور رجعت پسند انہیں ترقی پسند سمجھتے ہیں۔ چلیے، یہ سب باتیں ہمیں نوبیل انعام پر یاد آئی ہیں۔ ہر ادیب کو یہ حق ہے کہ وہ دنیا کا بڑے سے بڑا انعام حاصل کرنے کی خواہش کرے۔ لیکن تازہ خبر کے بعد تو معلوم ہو رہا ہے کہ سویڈن میں بھی سب اچھا نہیں ہے۔ اگر سویڈش اکیڈمی کی ایک خاتون رکن کا شوہر جواریوں کے ہاتھ میں کھیل سکتا ہے تو اس انعام کے لئے ادیبوں کے انتخاب میں بھی تو اپنے اور پرائے کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے؟ اور اس حقیقت کی گواہ اس انعام کی اپنی تاریخ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹالسٹائی کو انعام کیوں نہیں ملا اور ایک گویے کو انعام کیوں مل گیا؟ خیر، یہ باتیں پرانی ہو گئی ہیں۔ البتہ یہ جو جنسی ہراسانی اور جوئے بازی کا قصہ سامنے آیا ہے وہ نئی بات معلوم ہوتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker