کالملکھاریمسعود اشعر

مسعوداشعرکا کالم:وہ آواز کہاں گئی؟

آ پ نے یہ نام کہاں سنا ہو گا؟ بلکہ ملتان میں پیدا ہونے والی نئی نسل بھی اس نام سے کہاں واقف ہو گی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ٹیلی وژن پاکستان آ تو گیا تھا مگر وہ صرف چند شہروں تک محدود تھا۔ طوطی بول رہا تھا ریڈیو پاکستان کا۔ انہی دنوں ملتان میں بھی ریڈیو پاکستان کی نئی عمارت تعمیر ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی وہاں سے پروگرام بھی شروع ہو گئے۔ وہی تمام پروگرام جو ریڈیو سے پیش کئے جاتے ہیں۔ ریڈیو کا ضروری عملہ پاکستان بھر سے لایا گیا تھا لیکن مقامی پروگرام کرنے والے تو ملتان سے ہی لینا تھے۔ اس لئے خاص طور پر ڈراموں کے لئے جو آوازیں منتخب کی گئیں ان میں ایک آواز ایسی بھی تھی جس کے بارے میں بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ پورے پاکستان میں منفرد آواز تھی۔ وہ تھے فرخ مراد۔ ملتان ریڈیو سے سعید مرزا ڈرامے پروڈیوس کیا کرتے تھے۔ مردانہ آوازوں میں ان کی پسندیدہ آواز بھی یہی آواز تھی۔ ان کے علاوہ ہمارے ناول نگار اکرام اللہ تھے۔ اکرام اللہ کی آواز چونکہ بھاری بھرکم ہے اس لئے رعب دار کرداروں کے لئے بہت ہی موزوں سمجھی جاتی تھی‘ لیکن فرخ مراد کی آواز میں جہاں نر می اور گداز تھا وہاں اس میں رومانیت بھی تھی۔ یہاں ہم فرخ مراد کی آواز کے بارے میں ماضی کا صیغہ استعمال کر رہے ہیں۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہ سوز و گداز اور رومان بھری آواز ہی سرطان کی موذی بیماری بن گئی اور یہی اس کی خوبی یا اس کی صفت اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ پہلے معلوم ہوا کہ گلا خراب رہنے لگا ہے۔ پھر آواز بیٹھنا شروع ہوئی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ سرطان جیسی بیماری کا علاج بھی اتنا ہی تکلیف دہ ہوتا ہے جتنی وہ بیماری خود ہوتی ہے۔ برسوں علاج پر علاج ہوتے رہے۔ یہ کہا جاتا رہا کہ گلے کا سرطان ہے‘ علاج سے ٹھیک ہو جائے گا‘ لیکن معلوم ہوا کہ یہ موذی مرض اپنے ساتھ دوسرے امراض بھی لے آتا ہے۔ فرخ مراد کے لئے بھی بہانہ سرطان ہی نہیں بنا بلکہ دوسری بیماریاں بھی بن گئیں۔
ہم نے ملتان ریڈیو کی بات شروع کی ہے کہ تو اب اس ریڈیو سٹیشن کے قیام کا ذکر بھی ہو جائے۔ ملتان میں ریڈیو سٹیشن قائم کرانے کے لئے بڑی جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ اخباروں میں اس کے لئے مطالبے پر مطالبے کئے گئے۔ اس کے بعد ملتان کو یہ ریڈیو سٹیشن نصیب ہوا تھا۔ اب اس کے ساتھ منسلک عملے اور فن کاروں کا ذکر بھی ہو جائے۔ ظاہر ہے اس سلسلے میں ہر ایک کا ذکر تو کیا بھی نہیں جا سکتا۔ صرف ان فن کاروں کا ذکر ہی کیا جا سکتا ہے جو ملتان میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے ابھرے۔ ان میں فرخ مراد کی آواز بھی تھی۔ اپنے پیشے کے اعتبار سے تو وہ ایک بین الاقوامی دوا ساز ادارے سے منسلک تھا مگر اپنی نرم وگداز آواز کی وجہ سے وہ ریڈیو پاکستان ملتان پہنچ گیا۔ سعید مرزا وہاں پروڈیوسر تھے۔ یہاں ایک دوا ساز ادارے کا نمائندہ ریڈیو ڈراموں کا سب سے کامیاب فن کار بن گیا۔ ہمارا تو خیال ہے کہ اگر وہ ملتان کے بجائے کراچی یا لاہور سے ریڈیو ڈراموں میں حصہ لے رہا ہوتا تو آج اس کا نام ریڈیو اور ٹیلی وژن کے بہت بڑے فن کاروں میں ہوتا۔
اب یہ تو کوئی ملتان ریڈیو سٹیشن کی تاریخ لکھنے والا ہی اس کا ذکر کرے گا۔ ہمیں اس سٹیشن کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے جو مشہور و معروف شخصیتیں یاد آ رہی ہیں‘ ان مین سب سے نمایاں شخصیت الیاس عشقی کی تھی۔ اردو، فارسی، ہندی اور سندھی زبان کی عالم فاضل شخصیت۔ آپ اس سے اندازہ لگا لیجئے کہ اجمیر یا جے پور کے رہنے والے اس شخص نے سندھی ادب میںڈاکٹریٹ کی تھی۔ ان دنوں کیسی کیسی شخصیتیں اس ریڈیو سٹیشن کے ساتھ منسلک تھیں‘ آپ کو پڑھ کر حیرت ہو گی۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ اس وقت موسیقی کے پروگرام کے جو انچارج تھے وہ ہندوستانی فلموں کے بہت ہی ممتاز میوزک ڈائریکٹر خیام کے بھائی تھے۔ وہی خیام جنہوں نے ہندوستانی فلموں میں ایسی ایسی دھنیں دیں جو ہمیشہ قائم اور دائم رہیں گی‘ جو آج بھی یاد آ جاتی ہیں تو سارے جسم سے میں جھرجھری سی آ جاتی ہے۔ یاد کیجئے فلم ”رضیہ سلطان‘‘ کو‘ اور اس کے گیت ”اے دلِ ناداں‘‘ کو۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ یہ دھن یاد آتی ہے تو ہم سے بیٹھا نہیں جاتا۔ ‘پھر چھڑی رات بات پھولوں کی‘ ‘دکھائی دیئے یوں‘ ‘ان آنکھوں کی مستی کے‘ ‘ہزار راہیں مڑ کے دیکھیں‘ ‘محبت بڑے کام کی چیز ہے‘ ‘نہ جانے کیا ہوا جو تو نے چھو لیا‘ ‘شامِ غم کی قسم‘ جیسے گانے کسے بھولے ہوں گے۔ ان سب کی موسیقی بھی خیام نے ہی مرتب کی تھی۔ بہرحال ہمارا مقصد یہ بتانا ہے کہ خیام کے بھائی اے شکور ملتان ریڈیو پر موسیقی کے پروڈیوسر تھے۔
اب یہ بھی دیکھ لیجئے کہ ملتان ریڈیو نے اپنی مختصر مدت میں ہی فرخ مراد کی طرح عفت زکی جیسی ڈرامہ فن کارہ بھی دی۔ ان کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ ملتان میں نہ ہوتیں تو آج پاکستان کے بڑے ریڈیو فنکاروں میں شمار کی جا رہی ہو تیں۔ سہیل اصغر کو تو آپ جا نتے ہی ہیں۔ پاکستا ن ٹیلی وژن کے بڑے فن کاروں میں جب کسی کا نام آتا ہے تو ان کے بغیر فہرست مکمل نہیں ہوتی۔ سہیل اصغر بھی ملتان ریڈیو کی ہی پیداوار ہیں۔ ہم گلوکاروں میں ناہید اختر کو کیوں بھولے جا رہے ہیں۔ ملتان ریڈیو سٹیشن کے ابتدائی ایام میں برقع اوڑھے دو بہنیں گانا گانے وہاں آتی تھیں۔ ایک بہن کا نام ناہید اختر تھا تو دوسری کا نام حمیدہ اختر تھا۔ ناہید اختر تو پورے پاکستان پر چھا گئیں، یہ معلوم نہیں ہوا کہ حمیدہ اختر کو کیا ہوا۔ اب کس کس کا نام یاد کیا جائے؟ اس وقت تو ہم خالص ڈرامائی آواز فرخ مراد کو یاد کر رہے ہیں۔ دوا ساز کمپنی نے فرخ کو دبئی بھیج دیا۔ وہ بڑا افسر بن گیا۔ پاکستان میں جب ٹیلی وژن آیا، اور اس نے دبئی سے بھی اپنے پروگرام شروع کئے تو فرخ نے وہاں سے بھی پروگرام شروع کیا‘ لیکن ایک تو وہ پروگرام ہی خاصے پھسپھسے ہوتے تھے، دوسرے وہاں سعید مرزا جیسا کوئی ریڈیو پروڈیوسر بھی نہیں تھا، جو اس پروگرام کو دلچسپ بناتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا وہ پاکستانی چینل ہی وہاں سے بند ہو گیا۔
اب پھر ملتان ریڈیو کو نہایت دلچسپ بنانے والے یاد آ رہے ہیں۔ ہمارے مشہور و معروف شاعر ظہور نظر بہاول پور سے ملتان آ گئے تھے۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کئے۔ ان کے ڈرامے اتنے مقبول ہوئے کہ ہر ہفتے ان کا ہی ڈرامہ نشر کیا جا تا تھا۔ ان ڈراموں میں حصہ لینے والے سب سے نمایاں فن کار اپنے فرخ مراد ہی ہوتے تھے‘ اور ہاں‘ ہم یہ بتانا تو بھول ہی گئے کہ فرخ مراد کے دبئی جانے کے بعد کسی بھی تقریب میں کو ئی شاعر ادیب یا فن کا دبئی جاتا تو فرخ مراد اسے اپنے گھر دعوت ضرور دیتے۔ اب پھر ہمیں وہ میٹھی اور سوز و گداز میں ڈوبی آواز یاد آ رہی ہے جسے اس کا گلا ہی اس دنیا سے لے گیا۔ اب اسے قدرت یا قسمت کی ستم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی سب بڑی خوبی، یا اس کی سب سے بڑی صفت ہی اسے اس دنیا لے گئی۔ اب معلوم نہیں ریڈیو پاکستان ملتان میں فرخ کے ریکارڈ کئے ہوئے ڈرامے موجود ہیں یا نہیں؟ کیونکہ سنا ہے وہاں اب ٹیلی وژن سٹیشن بھی پہنچ گیا ہے۔ ظاہر ہے اب تو ساری توجہ ٹیلی وژن پر ہو گی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker