2018 انتخاباتکالملکھاریمسعود اشعر

کل الیکشن ہیں۔ پھر…..؟: آئینہ / مسعود اشعر

کل الیکشن ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے امتحان کا دن۔ یوں تو ہمارے ہاں یہ روایت ہی نہیں ہے کہ کوئی ووٹر کسی جماعت کا منشو ر پڑھ کر اسے ووٹ دے، کیونکہ یہاں سیاسی رہنما، اس رہنما کے نعرے اور الیکشن لڑنے والے امیدوار کے ساتھ ذات برادری کا تعلق ہی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم الیکشن سے ایک دن پہلے اس الیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کے منشور اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانیے پر ایک نظر ڈال لیں تو شاید ہم اپنا تاریخی تناظر درست کر سکتے ہیں اور شاید یہ تاریخی تناظر ہمارے ووٹ ڈالنے کے عمل میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ عمران خاں نے اپنی ساری انتخابی مہم کرپشن اور احتساب کے نعروں پر چلائی ہے۔ لیکن یہ کرپشن اور احتساب کے نعرے تو ہماری تاریخ میں کئی بار لگائے جا چکے ہیں۔ اپنی ستر سالہ تاریخ پر ایک نظر ڈال لیجئے۔ اس کرپشن کا نام لے کر ہی ہمارے بڑے بڑے معتبر اور موقر سیاست دانوں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔ اب یہاں ان معتبر شخصیتوں کا نام کیا لینا۔ انہیں آپ بھی خوب جانتے ہیں۔ جو بھی آمر مطلق آیا اس نے یہی کیا۔ اس کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوئی بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب یہ کہنا کہ ہم حکومت میں آ کر ملک سے باہر پڑے ہوئے اربوں کھربوں روپے واپس لے آئیں گے، خوش فہمی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ نواز شریف نے بھی حکومت میں آنے سے پہلے یہی نعرے لگائے تھے کہ آصف زرداری کی دولت باہر سے پاکستان لائیں گے۔ اس وقت کے چیف جسٹس صاحب نے اسی بنا پر ایک وزیر اعظم کو چلتا بھی کیا تھا۔ مگر کیا ہوا؟ آپ کرپشن کے نام پر لوگوں کو سزائیں تو دے سکتے ہیں لیکن اپنے نعروں کے بل پر وہ دولت واپس نہیں لا سکتے جس کا آپ شور مچاتے ہیں۔ عالمی سرمایہ داری نظام میں یہی اصول کام کرتے ہیں۔ آپ نے نواز شریف کو سزا دے دی۔ تو کیا اس سے وہ دولت واپس آ گئی جس کے لیے آپ نے مقدمہ بازی میں اتنا روپیہ اور اتنا وقت ضائع کر دیا؟ پھر یہ بھی سوچیے۔ اس طرح کی مالی کرپشن کہاں نہیں ہے؟ ہندوستان میں ایسی کرپشن کے قصے بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ ملک برابر ترقی کر رہا ہے۔ معاف کیجئے، ہم کرپشن کی حمایت یا وکالت نہیں کر رہے ہیں۔ ہم تو صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں معاشی اور اخلاقی زوال کی وجہ صرف کرپشن نہیں ہے۔ مانے لیتے ہیں کہ کرپشن بھی ایک عامل ہے لیکن اس زوال کی اصل وجہ وہ شدت پسندی، مذہبی تنگ نظری اور فرقہ وارانہ چپقلش ہے جس سے دہشت گردی پیدا ہوتی ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس میں امن و امان ہو۔ جہاں ایسا پُرامن ماحول اور ایسی محفوظ فضا ہو کہ ہمارا اپنا سرمایہ کار اپنا سرمایہ باہر نہ لے جائے، اور باہر کا سرمایہ کار کسی خوف کے بغیر اس ملک میں اپنا سرمایہ لگائے۔ بھلا کسی ایسے ملک میں اندر یا باہر کا سرمایہ کار اپنا سرمایہ کیوں لگائے گا جہاں ہر روز بم دھماکے ہوتے ہوں۔ اب تک عمران خاں کی جماعت کے ارکان اور امیدوار دہشت گردی سے محفوظ تھے۔ مگر اب یہ دہشت گرد ان تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ عمران خاں یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی نہیں دے سکتے کہ یہ دہشت گردی بیرونی طاقتیں کرا رہی ہیں۔ اول تو ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ یہ عناصر ہمارے اندر سے ہی پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ دہشت گردی بیرونی طاقتیں کرا رہی ہیں تو ہماری اپنی طاقتیں کیا کر رہی ہیں؟
یہ ساری باتیں ہم اس خیال سے کر رہے ہیں کہ منصوبہ بندی کے مطابق اس الیکشن میں عمران خاں کی جماعت اکثریت حاصل کر لے گی۔ اور عمران خاں، اپنی سالہا سال کی آرزؤں، امنگوں اور جان توڑ محنت کے بعد آخرکار اس ملک کے وزیر اعظم بن ہی جائیں گے۔ بلا شبہ عمران خاں نے ایک قابل ستائش وعدہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ مقامی حکومتوں کا نظام بہتر بنائیں گے اور اسمبلیوں کے ارکان کے ترقیاتی فنڈ بند کر دیں گے۔ یہ ایسا وعدہ ہے جس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی بلدیاتی ادارے اور مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ذمہ داری صرف قانون سازی ہوتی ہے۔ ان کا تعلق شہری معاملات سے نہیں ہوتا۔ شہروں اور دیہات میں ترقیاتی کام مقامی حکومتیں کرتی ہیں۔ جمہوریت یہی ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دیئے جا ئیں اور اسمبلیوں کے ارکان کو جو ترقیاتی فنڈ دیئے جاتے ہیں وہ مقامی حکومتوں کو دیئے جائیں۔ پارلیمانی ارکان کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر جو رقم دی جاتی ہے وہی بدعنوانی اور لوٹ مار کی بنیاد ہے۔ ضیاء الحق نے ان ارکان کو خریدنے کے لیے ہی یہ ترقیاتی فنڈ شروع کئے تھے۔ اگر عمران خاں واقعی یہ ترقیاتی فنڈ بند کر دیں اور مقامی حکومتوں کو مکمل خودمختار بنا دیں تو عوامی جمہوریت کی جانب یہ ایک مثبت قدم ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کر سکیں گے؟ اگر وہ الیکشن جیتے تو ان امیدواروں کے بل پر ہی جیتیں گے جو دوسری جماعتیں چھوڑ کر اس لئے ان کے ساتھ آئے ہیں کہ انہیں نئی حکومت میں بھی اسی طرح بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع ملے گا۔ وہ بھلا اپنے ترقیاتی فنڈ کسی اور کو کیوں دیں گے؟ بہرحال عمران خاں کا یہی ایک وعدہ ایسا ہے جس کی ہم سب کو تعریف کرنا چاہیے بلکہ دوسری جماعتوں کو بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔
اپنے انتخابی منشور میں جس جماعت نے اس معاشرے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے وہ ہے پیپلز پارٹی۔ اس پارٹی نے ہی مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حمایت کی ہے اور تنگ نظری اور مذہبی شدت پسندی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ بلاول بھٹو کو بار بار بچہ اور ناتجربہ کار ہو نے کے طعنے دیئے جاتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی اورسماجی ماحول میں اس بچے نے جو معقول اور دانش مندانہ باتیں کی ہیں وہ پرانے گھاگ سیاست دانوں کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بلاول نے بار بار مذہبی آزادی اور ہر مذہب، ہر فرقے اور ہر مسلک کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی جو بات کی ہے آج پاکستان کو اسی کی ضرورت ہے۔ یہی اصول پاکستانی معاشرے کو متحد کر سکتے ہیں۔ اب بنیادی انسانی حقوق کا ذکر آہی گیا ہے تو کیا یہاں ایک اور سوال بھی کیا جا سکتا ہے؟ کیا کسی نے اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ جس برادری کو آپ نے غیر مسلم قرار دے دیا ہے وہ عام انتخابات میں ووٹ نہیں ڈالتی؟ یعنی پاکستان کے لاکھوں شہری الیکشن میں حصہ نہیں لیتے؟ آپ نے انہیں پاکستان کا شہری ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے حالانکہ وہ دوسرے تمام شہریوں کی طرح اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ لیکن انہیں شہری حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ اس کا ذکر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ تو کیا عمران خاں ادھر توجہ دیں گے؟ بہرحال، اس بار خواجہ سرائوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے اور انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دے کر ایک خوش آئند قدم اٹھایا گیا ہے اور یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ کئی حلقوں سے خواجہ سرا انتخاب بھی لڑ رہے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ عالمی برادری کا حصہ بنانا ہے تو یہی راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker