کالملکھاریمسعود اشعر

اس کا کلہ مضبوط ہے: آئینہ /مسعود اشعر

کہتے ہیں پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں۔ لیکن عمران خان کہتے ہیں اس بچے کو تین مہینے کی عمر کو تو پہنچنے دو۔ ذرا ہاتھ پاؤں تو مارنے دو۔ اس کے بعد اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا مگر یار لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔ وہ ابھی سے اس بچے کے بازو ٹٹولنے لگے ہیں کہ کچھ زور ہے ان میں یا نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو جو عزت اور وقعت حاصل ہو رہی ہے وہ پاکستان کی ستر اکہتر سال کی تاریخ میں کسی اور وزیر اعظم یا کسی اور حکومت کو نصیب نہیں ہوئی۔ اس اعتبار سے جس پوت کے پاؤں ہم پالنے میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنی سپورٹ کی وجہ سے تندرست و توانا ہے کیونکہ اس کے پالنے پوسنے والے موجود ہیں۔ طاقتورادارے اس کا ہر طرح خیال رکھیں گے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ’’ایں سعادت بزور بازو نیست، تا نہ بخشد خدائے بخشندہ‘‘ تو یہاں وہی معاملہ ہے۔ خدا کی دین کا موسیٰ سے پو چھیے احوال۔
اب اگر بیچ میں پاک پتن کا واقعہ پیش آ جاتا ہے یا پنجاب کے وزیر اعلیٰ اپنے خاندان کو جہاز کی سیر کرا دیتے ہیں یا جہاز میں وہ میاں چنوں اور پاک پتن چلے جا تے ہیں یا پنجاب کے وزیر اطلاعات فن کار خواتین کو حج کرانے اور مومن بنانے کی بات کرتے ہیں، تو یہ معمولی باتیں ہیں۔ چند دن بعد عام لوگ انہیں بھول بھال جائیں گے۔ یہی حال اس ہیلی کاپٹر کا ہے جو خواہ مخواہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ وزیر اعظم کی مرضی ہے وہ جہاں چاہیں رہیں اور جس سواری میں سفر کرنا چاہیں کریں۔ اب اگر کچھ دردمند دل رکھنے والے انہیں سمجھا رہے ہیں کہ وہ سادگی اور کفایت شعاری کی جو مہم چلا رہے ہیں، دو دو تین تین گھروں میں رہنے اور صبح شام ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے سے اس پر اثر پڑے گا۔ اور یہ کہ اگر وہ سیدھے سبھائو وزیر اعظم ہاؤس میں ہی قیام کریں تو کفایت شعاری بھی ہو جائے گی اور سیکورٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، تو یہ ان کا اپنا خیال ہے۔ عمران خان کی پشت پر صرف ان کی اپنی جماعت اور مقتدر حلقے ہی نہیں ہیں، ان کی مخالف جماعتیں بھی اپنی حیثیت کے مطابق ان کی پوری مدد کر رہی ہیں۔ وہ اپوزیشن جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ متحد ہو کر حکومت کا مقابلہ کرے گی، اس کی ہر جماعت اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے میں لگ گئی ہے۔ آج صدر کا جو انتخاب ہو رہا ہے اس کا نتیجہ سب کو معلوم ہے۔ آصف علی زرداری صاحب جو چاہتے ہیں وہی ہو جائے گا۔ ہماری تاریخ زرداری صاحب کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
اب عمران خان کو کوئی فکر نہیں ہے۔ ان کے یمین و یسار بالکل محفوظ ہیں۔ انہوں نے ایک سو دن میں جو کارنامے انجام دینے کا وعدہ کیا ہے اس وعدے کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سادگی کا سفر وزیروں وغیرہ کے صوابدیدی فنڈ ختم کرنے سے شروع ہوا تھا۔ اب ایک سو دو بیش قیمت کاریں نیلام کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو خودمختار کیا جا رہا ہے اور انہیں پورے انتظامی اور مالیاتی اختیارات دیئے جا رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان خوشی خوشی اپنے ترقیاتی فنڈ سے دستبردار ہوتے ہیں یا نہیں؟ اصل مسئلہ تو ترقیاتی فنڈ کا ہے۔ اگر یہ ترقیاتی فنڈ بلدیاتی اداروں کو مل جائیں گے تو یقیناً شہروں، قصبوں اور دیہات میں ترقیاتی کام زیادہ ہو سکیں گے۔ کراچی میں کارپوریشن کا میئر یہی رونا تو روتا ہے کہ شہر کی صفائی اور ترقی کے لیے اس کے پاس پیسہ ہی نہیں ہے۔ مشرف حکومت میں جو مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کیا گیا تھا اس میں بلدیاتی اداروں کو تمام مالیاتی اختیارات دیئے گئے تھے۔ لیکن ان اختیارات پر سب سے پہلے پنجاب کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے چھاپہ مارا تھا۔ پرویز الٰہی صاحب آج کل پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ہیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کے مالی اختیارات اپنی حکومت کو بخش دیئے تھے۔ یہی حال دوسرے صوبوں میں بھی ہوا تھا۔ اب اگر بلدیات کو مالی اختیار دیا جا رہا ہے اور اسمبلیوں کے ارکان کے ترقیاتی فنڈ بلدیات کو دیئے جا رہے ہیں، تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن پھر وہی سوال ہے کہ کیا اسمبلیوں کے ارکان آسانی سے یہ ترقیاتی فنڈ چھوڑ دیں گے؟ ان کی نظر تو اسی فنڈ پر رہتی ہے۔ اس کے بعد وہ کیا کریں گے؟ صرف قانون سازی سے تو ان کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ عمران خان اپنے ان ارکان کی خوشنودی کا خیال نہیں رکھیں گے، اور ہر حال میں اپنے وعدے پورے کریں گے۔ ہم نے کہا نا کہ اس ملک میں آج تک اتنی طاقتور حکومت نہیں آئی۔ اگر پارلیمنٹ میں عمران خان کی جماعت کی اتنی اکثریت نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کے بغیر حکومت چلا سکیں، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
تمام لوگ اس حکومت کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ عمران خان نے شجر کاری کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ ملک بھر میں دس ارب پودے لگائے جائیں گے۔ یوں تو ہر سال ہی شجر کاری کی مہم شروع کی جاتی ہے، مگر جو پودے لگائے جاتے ہیں انہیں پانی میسر نہیں آتا اور وہ جلد ہی مرجھا جاتے ہیں۔ لیکن عمران خان کی مہم کا یہ حشر نہیں ہو گا۔ وہ ہر حال میں ان کروڑوں اور اربوں پودوں کے لیے پانی کا انتظام بھی کر دیں گے۔ ادھر ڈیم بنانے کی مہم بھی زور شور سے جاری ہے۔ اب ہمیں باہر کی دنیا سے ڈیم کے لیے امداد ملے نہ ملے ہم عوام کے چندوں سے یہ ڈیم بنا کر دکھائیں گے۔ تو صاحب، عمران خان اور ان کی حکومت ہر طرف سے محفوظ ہے۔ اس لیے ہم عمران خان کے موعودہ سو دن پورے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں بلکہ سو دن بھی کہاں اب تو اسّی پچاسی دن ہی رہ گئے ہیں۔ گھڑی کی سوئیاں تیزی سے چکر لگا رہی ہیں اور عمران خان ٹاسک فورس پر ٹاسک فورس بناتے چلے جا رہے ہیں، کمیٹیاں اور کمیشن بن رہے ہیں، بڑے بڑے ماہرین اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ ماہرین مشرف دور سے تعلق رکھتے ہیں تو کیا ہوا۔ مشرف کے دور میں اگر وہ کچھ نہ کر سکے تو ضروری نہیں کہ آج بھی وہ کچھ نہ کر سکیں۔ یہ عمران خان کی حکومت ہے۔ جو خدائے بخشندہ نے بخشی ہے۔ اس کا کلہ مضبوط ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker