کالملکھاریمسعود اشعر

قومی علمی و ادبی اداروں کو بچاؤ۔۔آئینہ/مسعود اشعر

ہم تو رو رہے تھے اپنے گھر کے گیس کے بل کو کہ پچھلے مہینے گیارہ ہزار روپے آیا اور اس مہینے بارہ ہزار روپے۔ اور ڈر رہے تھے کہ ہماری طرح اگر دوسرے گھروں میں بھی اسی طرح گیس اور بجلی کے بل آ تے رہے تو خدا جانے کتنے ہی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ مگر اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی ایک تحریر پڑھ کر اندازہ ہوا کہ گیس اور بجلی کے بل ہی نہیں، یہاں تو مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ ڈاکٹر ناصر عباس کی یہ تحریر ہمیں فیس بک پر ملی ہے۔ جب سے یہ تحریر ملی ہے اس وقت سے ہم سوچ رہے ہیں کہ آخر اس نئے پاکستان کی نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہیں۔ یہ عوام کو سہولتیں پہنچانے کے دعوے لے کر برسر اقتدار آئی تھی۔ اب اسے ہوا کیا ہے؟ ڈاکٹر ناصر عباس نیر لکھتے ہیں ”ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس برائے سادگی و ادارہ جاتی اصلاح نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ کیا کہ اردو سائنس بورڈ لاہور اور اردو ڈکشنری بورڈ کراچی کو ادارہ فروغ قومی زبان (سابق مقتدرہ قومی زبان) اسلام آباد میں ضم کر دیا جائے۔ ادارہ فروغ قومی زبان کو ماتحت ادارے کے بجائے خود مختار ادارہ کا درجہ دیدیا جائے۔ یوں دوسرے اداروں کی موجودہ شناخت ختم کرکے انہیں ادارہ فروغِ قومی زبان کی شاخیں بنا دیا جائے۔ یہ فیصلہ سیکرٹریز کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ، جناب افتخار عارف اور راقم (ناصر عباس نیر) کی اس رائے کو پرِ کاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں دی گئی کہ یہ تینوں ادارے اردو کے ضرور ہیں، مگر تینوں کا مینڈیٹ الگ الگ ہے۔ نیز قومی علمی و ادبی ادارے کئی دہائیوں میں اپنی شناخت قائم کرتے ہیں۔ انہیں ختم کرنا (ایک ادارے میں ضم کرنا بھی انہیں ختم کرنے کے برا بر ہے) نہ صرف پہلے ہی معتوب قومی زبان کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنا ہے، بلکہ اب تک ان اداروں نے اردو میں تصنیف و تالیف اور ترجمے کی جو روایت قائم کی ہے اسے ملیامیٹ کرنا ہے۔ سادگی اور بچت کے نام پر قومی علمی و ادبی اداروں کا خاتمہ صرف اس ذہنِ رسا میں ہی آ سکتا ہے جو ایک عام انتظامی اور علمی ادارے میں فرق کرنے سے قاصر ہو۔ اداروں میں اصلاح کی گنجائش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، مگر اصلاح کا مقصد اداروں کے اپنے مینڈیٹ کے اندر ترقی کی نئی راہیں تلاش کرنا ہونا چاہیے جس سے یہ ادارے سماج کی ذہنی نشوونما میں مزید بہتر کردار ادا کر سکیں۔ ہر ادارہ فرد سے بڑا ہوتا ہے۔ افراد آتے جاتے رہتے ہیں مگر ادارے نہ صرف قائم رہنے چاہئیں بلکہ انہیں مزید مضبوط کیا جانا چاہئے‘‘۔
یہ تو ڈاکٹر ناصر عباس کی تحریر ہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ جن اداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے انہوں نے زبان و ادب کے فروغ میں کتنا کام کیا ہے۔ اور اب تک وہ کتنا وقیع کام کر رہے ہیں۔ اردو سائنس بورڈ ہمارے اشفاق احمد کی یادگار ہے۔ پہلے یہ صرف اردو بورڈ ہوتا تھا‘ اور سائنس کے علاوہ دوسرے موضوع پر بھی کتابیں شائع کرتا تھا۔ بعد میں اسے صرف سائنسی مضامین کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ اس ادارے نے اب تک سائنسی موضوعات پر اردو میں کتنی کتابیں شائع کی ہیں؟ یہ تو بورڈ والے ہی بتا سکتے ہیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ اس ادارے نے سائنس پر جو کتابیں ترجمہ کرائی ہیں، یا جو طبع زاد کتابیں شائع کی ہیں‘ وہ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ یہ ادارہ ہر سال سائنس کے موضوع پر لکھی جانے والی بہترین کتاب پر پچاس ہزار روپے کا انعام بھی دیتا ہے۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہماری زبان میں سائنس پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ دوسری طرف کفایت شعاری کے نام پر اس کام میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ کوئی بھی ادارہ اپنی آزاد اور خود مختار حیثیت میں جو کام کر سکتا ہے وہ کسی دوسرے ادارے کی شاخ بن کر نہیں کر سکتا۔ اب اردو لغت بورڈ کی بات بھی ہو جائے۔ اس بورڈ نے سالہا سال کی محنت‘ مشقت کے بعد بائیس جلدوں میں ایک ایسی اردو لغت تیار کی ہے‘ جسے ہم عالمی معیار کی لغت کہہ سکتے ہیں۔ یہ لغت بورڈ کی ویب سائٹ پر بھی چڑھا دی گئی ہے۔ اب چونکہ اتنی بڑی تعداد میں لغت کی جلدوں سے استفادہ کرنا مشکل نظر آ رہا تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ اختصار کرکے اس کا ایک مختصر ایڈیشن بھی شائع کیا جائے۔ آج کل اس پر ہی کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ علمی و ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے جانتے ہیں کہ لغت مرتب کرنا ایسا عمل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ زبان میں نئے نئے الفاظ آتے رہتے ہیں۔ اور یہ الفاظ لغت کا حصہ بنائے جاتے رہتے ہیں۔ آپ آکسفورڈ کی ڈکشنری کو ہی دیکھ لیجئے۔ اس کے نئے سے نئے ایڈیشن چھپتے رہتے ہیں اور انگریزی زبان میں در آنے والے نئے الفاظ اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اردو لغت بورڈ آزاد اور خود مختار حیثیت میں ہی یہ کام کر سکتا ہے۔ ادارہ فروغ قومی زبان، جو پہلے مقتدرہ قومی زبان کہلاتا تھا، اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں کسی بزرجمہر کی دماغی افتاد کی وجہ سے ادارہ فروغ قومی زبان بن گیا، اس کی ذمہ داریاں بالکل مختلف ہیں۔ اس ادارے نے یوں تو انگریزی اردو لغت بھی تیار کی ہے‘ لیکن اس کا بڑا کام اردو زبان کو کمپیوٹر کی نئی زبان اور نئی اصطلاحات سے روشناس کرانا ہے۔ اردو زبان کے لیے کمپیوٹر کا نیا تختہ اسی ادارے نے تیار کرایا ہے۔ کمپیوٹر ایسا میدان ہے جہاں دنیا بھر میں قریب قریب ہر روز نئے نئے کام سامنے آ رہے ہیں۔ اب اگر اردو زبان کو دنیا کی دوسری ترقی یافتہ زبان کا ساتھ دینا ہے تو اسے بھی اس شعبے میں مسلسل کام کرنے کی ضروت ہے۔
ہمارے عشرت حسین صاحب نے ایک موٹی تازی کتاب تو لکھ دی ہے، لیکن ان کا تعلق مالیاتی امور سے ہے، زبان و ادب سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اب یہاں ہمیں بہت پرانی بات یاد آ گئی۔ یہ ایوب خاں کی حکومت تھی۔ ایک محفل میں اس حکومت کے وزیر خزانہ اپنی کارکردگی کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمانے لگے: ہمارا کام ”کاٹنا‘‘ ہے۔ آپ کسی پروجیکٹ کے لئے جو بھی بجٹ بنا کر ہمارے سامنے لائیں گے، ہم اس میں کچھ نہ کچھ رقم ضرور کاٹیں گے، خواہ اس کی ضرورت ہو نہ ہو۔ عشرت حسین صاحب بھی بچت اور کفایت شعاری کی تلوار لئے کھڑے ہیں اور یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سے کسی علمی و ادبی ادارے کو کتنا نقصان پہنچتا ہے یا اس سے ہمارے ادبی اور ثقافتی مستقبل پر کتنی زد پڑتی ہے اپنی تلوار چلائے جا رہے ہیں۔ اب رہا اردو زبان کا معاملہ تو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں عارفہ سیدہ زہرا نے جناب عشرت حسین کو جو آ ڑے ہاتھوں لیا تھا وہ بھی ایک یادگار واقعہ ہے۔ ہوا یوں کہ ایک نشست کی میزبان عارفہ تھیں۔ اس نشست میں دوسرے مہمانوں کے ساتھ عشرت حسین صاحب بھی موجود تھے۔ دوسرے میزبان اردو میں بات کر رہے تھے۔ مگر عشرت حسین صاحب انگریزی بول رہے تھے۔ اس پر عارفہ نے جو کہا وہ ہم یہاں نقل نہیں کر سکتے؛ البتہ اس واقعے سے ہم یہ ضرور اخذ کر سکتے ہیں کہ عشرت حسین صاحب ادب و ثقافت سے اتنا ہی واسطہ رکھتے ہیں‘ جتنا کسی بھی اکاؤنٹنٹ کا ہو سکتا ہے۔ انہیں تو بچت کرنا ہے۔ رقم کاٹنا ہے، چاہے اس میں علم و ادب کی گردن ہی کٹ جائے۔ کہتے ہیں ناں کہ نزلہ عضو ضعیف پر ہی گرتا ہے۔ ادب و ثقافت سے زیادہ عضو ضعیف اور کون ہو سکتا ہے۔ بچت اور کفایت شعاری کے لئے انہوں نے جو پھندا تیار کیا ہے‘ اس میں اسی شعبے کی گردن فٹ ہو جاتی ہے۔ اب یہی وقت ہے کہ پاکستان بھر کے علمی و ادبی حلقوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے۔ آخر یہ ادارے ختم کرکے آپ کتنی رقم بچا سکتے ہیں؟ آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیے۔ گنتی کیجئے۔ کتنے وزیر ہیں، کتنے ان کے معاونین ہیں۔ اور کتنے مشیر ہیں جن کا کام سوائے زبانی جمع خرچ کے اور کچھ نہیں ہے۔ بچت کرنا ہے تو ادھر نظر ڈالیے۔ پاکستان کو اپنے علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے سے محروم تو نہ کیجئے۔ اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker