کالملکھاریمسعود اشعر

سنگ دل کیسے پیدا ہوتے ہیں؟۔۔آئینہ/مسعود اشعر

چند دن پہلے ہندو برادری نے ہولی کا تیوہار منایا۔ دیوالی اور ہو لی ہندوؤں کے سب سے بڑے تیوہار ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ جہاں ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے وہاں پاکستان میں ہندو اور سکھ بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بڑھ رہا ہے۔ ہمارا میڈیا، خواہ وہ اخبار ہوں یا ٹیلی وژن چینلز، ان تیوہاروں کی خبریں نمایاں طور پر پیش کر رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تشدد کا مقابلہ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں۔ انہی دنوں ولیم ڈیل رمپل نے ہمیں بتایا ہے کہ مغل بادشاہوں کے دربار میں بھی ہولی کھیلی جاتی تھی اور اس تیوہار کو ”گلابی عید‘‘ کہا جاتا تھا۔ گلابی عید کیا اچھا نام ہے۔ ڈیل رمپل نے اپنے ٹویٹ میں اس زمانے کی ایک پینٹنگ کی تصویر بھی دی ہے۔ اس تصویر میں شہنشاہ جہانگیر ہولی کھیل رہا ہے۔ ولیم ڈیل رمپل کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ یہ سکاٹ لینڈ کا رہنے والا آج کل دلی میں رہتا ہے۔ اور جو کام ہمارے اپنے مؤرخ نہیں کر سکے‘ وہ کر رہا ہے۔ وہ ہماری (مسلمانوں کی) تاریخ محفوظ کر رہا ہے۔ دوسری کتابوں کے علاوہ اس کی کتاب The Last Mughal صرف آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی داستانِ حیات ہی نہیں ہے بلکہ انگریز حاکموں کے خلاف ہندوستانی باشندوں کی پہلی بغاوت یا ہماری پہلی جدوجہدِ آزادی کی حقیقت پسندانہ تاریخ بھی ہے۔ نظیر اکبر آبادی جیسے ہمارے شاعروں نے بھی ان موسمی تیوہاروں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ان نظموں کو ہی یاد کرتے ہیں اور خوش ہو لیتے ہیں۔ ہم سے تو بسنت کا تیوہار بھی چھین لیا گیا ہے۔ چند سال پہلے تک جب جاڑوں کا موسم جاتا تھا اور بہار کی آمد آمد ہوتی تھی تو ہم بسنت مناتے تھے۔ گلی گلی محلے محلے پتنگیں اڑائی جاتی تھی۔ ہر طرف سے بو کاٹا کی آوازیں آتی تھیں۔ پکوان پکتے تھے اور دعوتیں ہوتی تھیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہر تیوہار اپنے ساتھ کاروبار بھی لاتا ہے۔ پتنگیں بنانے والے پتنگیں بناتے تھے۔ اڑانے والے وہ پتنگیں خریدتے تھے۔ اس طرح روپیہ پیسہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جا تا تھا۔ اور ہماری معیشت چلتی رہتی تھی۔ ادھر ہمارے بڑے ہوٹلوں نے بسنت کو ایک اور جشن کی حیثیت بھی دے دی تھی۔ وہ اپنے ہوٹلوں میں پتنگیں اڑانے کا بندوبست کرتے تھے۔ اس جشن میں پاکستان کے رہنے والے ہی حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ بیرون ملک سے سیاح بھی اس میں شرکت کرتے تھے۔ برا ہو مال و دولت کے لالچ کا کہ پتنگوںکی ڈور دھاتی تار میں بدل گئی اور لوگوں کے گلے کٹنے لگے۔ بسنت جیسے عام پسند تیوہار پر پابندی لگ گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قاتل ڈور بنانے والوں کو پکڑا جاتا۔ مگر عوام سے ان کی تفریح چھین لی گئی۔ اس بار پنجاب کی حکومت نے ہمت کی تھی اور بسنت منانے کا اعلان کیا تھا۔ خیال تھا کہ اب یہ تیوہار پھر شروع ہو جائے گا۔ لیکن سب کوگلے پر ڈور پھرنے کی وارداتیں یاد آ گئیں اور بسنت پر پھر پابندی لگا دی گئی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پابندی لگانے کے بجائے حکومت کے اہل کار، پتنگیں بنانے والے اور پتنگیں اڑانے والے مل کر بیٹھیں اور اس کا کوئی حل نکالیں؟ ہمارے لڑکپن میں جو پتنگیں اڑائی جاتی تھیں ان میں پتنگ سے دو تین گز تک مانجھا ہوتا تھا‘ اس کے بعد سادہ ڈور ہوتی تھی۔ یہ ڈور خطرناک نہیں ہوتی تھی۔ اس ڈور سے کوئی زخمی نہیں ہوتا تھا۔ یہ پابندی ہم بھی لگا سکتے ہیں۔ عمران خاں پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کی بہت باتیں کرتے ہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح باہر سے آنے والے سیاحوں کو پاکستان کی طرف راغب کیا جائے۔ سب جانتے ہیں کہ ان سیاحوں کے لیے جہاں کھانے پینے کی آزادی ضروری ہے وہاں سیر و تفریح کے مواقع بھی لازمی ہیں۔ ہمارے پاس بسنت ایک ایسا تیوہار ہے جس میں باہر سے آنے والے سیاح بھی خوشی خوشی حصہ لے سکتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس پہلے ہی خوش ہونے اور خوشیاں منانے کے مواقع کتنے ہیں؟ ایک بسنت کا تیوہار ہی تھا وہ بھی ہم سے چھن گیا۔
اب دیکھ لیجئے کہ ہم سے بسنت جیسے تیوہاروں کی خوشیاں چھن گئیں اور ہم پتھر دل ہو گئے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چا ہیے اور یہ سوچنا چا ہیے کہ ہمارے دل پتھر کب ہوئے؟ ہم سنگدل کیسے ہوئے؟ جب انسان کی زندگی سے خوشی و شادمانی اور انبساط کی صفت نکل جاتی ہے تو وہ پتھر بن جاتا ہے۔ اس کے دل سے گداز اور نرمی ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ محبت و اخوت کا رشتہ پیدا کرتی ہیں۔ دلوں سے نرمی اور گداز ختم ہوتا ہے تو باہمی مکالمہ بند ہو جاتا ہے۔ اور ہر وہ آدمی ہمیں اپنا دشمن نظر آنے لگتا ہے‘ جو ہماری رائے یا ہمارے عقیدے سے اختلاف رکھتا ہے۔ بہاولپور کے صادق ایجرٹن کالج کا سانحہ ہمارے سامنے ہے۔ یہ وہی کالج ہے جس نے احمد ندیم قاسمی، محمد خالد اختر اور شفیق الرحمن جیسے روشن خیال ادیب پیدا کیے۔ آج اسی کالج کا لڑکا اپنے استاد کو چاقو مار کر اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ وہ اس لڑکے کی رائے سے اختلاف رکھتا تھا۔ یہ صرف بیس تیس سال پہلے کی بات ہے جب تعلیمی اداروں میں بین الکلیاتی مباحثوں اور مشاعروں کے ساتھ موسیقی کے پروگرام بھی ہوتے تھے۔ ان پروگراموں میں لڑکے اور لڑکیاں مل جل کر حصہ لیتے تھے۔ کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔ کوئی تنازعہ جنم نہیں لیتا تھا۔ یہ جھگڑے اور یہ تنازعے اس وقت شروع ہوئے جب رائے اور عقیدے کے اختلاف دشمنی کی حد تک پہنچ گئے۔ جب ایک گروہ یا ایک جماعت میں یہ زعم پیدا ہو گیا کہ ہم اپنی بات طاقت کے ذریعے منوا سکتے ہیں۔ پہلے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موسیقی کی محفلیں بند کرائی گئیں۔ پھر ان طلبہ اور طالبات کو نشانہ بنایا گیا جو کہیں اکٹھے بیٹھے پائے جاتے تھے۔ اور اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ طلبہ اور طالبات کے لباس پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اب آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ اس ماحول میں جو بچے جوان ہوں گے ان کے دلوں میں دوسرے انسانوں بلکہ اپنے بہنوں بھائیوں تک کے لیے بھی کتنی ہمدردی اور کتنی محبت ہو گی۔ وہ اپنی رائے اور اپنا نظریہ منوانے کے لیے دوسروں کی جان بھی لینے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ اور اس کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ جس لڑکے نے اپنے استاد کو قتل کیا ہے اس کی ذہنیت اور اس کی یہ دماغی کیفیت ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی۔ پچھلے بیس تیس سال سے ہم اپنے بچوں کو جو پڑھا رہے ہیں اور جس انداز سے ان کی تربیت کر رہے ہیں‘ اس کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔ اس ایک بچے کو سزا دینے سے ہم اپنے معاشرے کی ذہنی اور دماغی صحت بہتر نہیں بنا سکتے۔ اس کے لیے ہمیں اور بہت کچھ کرنا ہو گا۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب پر غور کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی اپنے بچوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ ہم سب روتے ہیں کہ ہمارے اندر رواداری اور برداشت کا مادہ ہی نہیں رہا۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ رواداری اور برداشت کی صفت ہمارے اندر ہو گی تو ہم دوسروں کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا اپنا فرض سمجھیں گے۔ اسی طرح ہمارے درمیان مکالمے کی فضا پیدا ہو گی۔ ہم کسی بھی موضوع پر بات کرتے ہوئے یہ نہیں سمجھیں گے کہ جس سے ہم بات کر رہے ہیں وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہم تحمل اور بردباری کے ساتھ دوسروں کی بات سنیں گے۔ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہو ئے کہ ہو سکتا ہے ہمارے مقابل کی بات میں زیادہ وزن ہو۔ بہرحال، یہ تمام حقائق سامنے رکھتے ہوئے ہمیں نہایت سنجیدگی کے ساتھ یہ سوچنا ہو گا کہ ہمارے دل پتھر کیوں ہو گئے ہیں۔ وہ کیا عوامل ہیں جو کسی بھی گوشت پوست کے انسان کو پتھر دل بنا دیتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker