کالملکھاریمسعود اشعر

لاہور کی روح قبض کی جا رہی ہے: آئینہ / مسعود اشعر

ہم جی سی یونیورسٹی میں اولڈ راوینز کے لٹریری فیسٹیول کے پہلے اجلاس میں بیٹھے تھے اور یہ شعر یاد کر رہے تھے
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
ہمارے سامنے اسٹیج پر بیٹھے کامل خاں ممتاز، نیر علی دادا، حامد میر اور فقیر سید اعجاز الدین لاہور کے بدلتے موسموں پر ’’دل گیری‘‘ کا اظہار کر رہے تھے۔ (دل گیری کا یہ لفظ ہم نے میرابائی کے ایک بھجن سے لیا ہے) کامل خاں کی دل گیری یہ تھی کہ لاہور کو اس کی تہذیبی اور تاریخی روح سے محروم کیا جا رہا ہے۔ نیر علی دادا اس لئے دل گیر تھے کہ اس شہر کی تاریخی عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں اور پورے شہر کو بدصورت اور بدہیئت کنکریٹ کا جنگل بنایا جا رہا ہے۔ حامد میر مٹتے ہوئے لاہور کا ماتم کر رہے تھے۔ سید اعجاز الدین دل گیر تھے آبادی کے اس بے ہنگم طوفان پر جو اس شہر کے قدیم محلوں، اس کی عمارتوں اور اس کی تہذیب و ثقافت کو ہی نہیں بلکہ اس کے کھیتوں کھلیانوں کو بھی غرقاب کرتا جا رہا ہے۔ کامل خاں کہہ رہے تھے کہ انسانوں کی طرح شہروں کی بھی روح ہوتی ہے۔ اور یہ روح اپنی تاریخی عمارتوں، قدیم محلوں اور ان کے گلی کوچوں میں سانس لیتی ہے۔ ہم جدت طرازی اور جدید سہولتوں کے نام پر اس شہر کی روح قبض کر رہے ہیں۔ جب انسان کی روح نکل جاتی ہے تو جسم کا ڈھانچہ یا پنجر ہی تو رہ جاتا ہے۔ اس شہر کا بھی اب پنجر ہی رہ گیا ہے۔ لا ریب، دنیا بھر کی طرح جدت اور جدید سہولتیں ہمیں بھی چاہئیں۔ مگر کس قیمت پر؟ مہذب ملک اور تہذیب یافتہ قومیں وقت کے ساتھ تبدیلی کے عمل کا حصہ بنتی ہیں، مگر وہ اپنی قدیم تہذیب اور اپنی تاریخ اس تبدیلی پر قربان نہیں کرتیں۔ ہمارا تو حال یہ ہے کہ میٹرو بسوں اور اورنج ٹرین کے راستے میں آنے والی اپنی تاریخی عمارتوں کی بالکل پروا نہیں کرتے۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کی خوبصور تی اور دلکشی میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کے فلک بوس ستونوں اور ان کے سنگلاخ راستوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے تو ہماری بلا سے۔ نیر علی دادا نے یہ بتا کر ہمارے کرتا دھرتا لوگوں کی ذہنیت کا بھانڈا پھوڑ دیا کہ ان کے خیال میں اگر آج شالامار باغ تباہ ہوتا ہے تو ہو جانے دو، ہم ایک اور شالامار بنادیں گے۔ دیکھ لیجئے۔ اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب کے بارے میں یہ سوچ اور یہ ذہنیت ہے ہماری۔ ہمیں اورنج ٹرین مل جائے گی، مگر ہمارا شالامار اس کے پیچھے چھپ جائے گا۔ ہمارے لئے شہر کے اندر تیز رفتار سفر آسان ہو جائے گا مگر چوبرجی کی بنیادیں لرز جائیں گی۔ آغا خاں فاؤنڈیشن نے اندرون شہر کی تاریخی عمارتیں محفوظ کرنے کے لئے ہمیں کافی سرمایہ دیا ہے لیکن نیر علی دادا بتا رہے تھے کہ جس انداز سے اندروں شہر کی تاریخی عمارتوں کی مرمت کی گئی ہے اس سے وہ اپنی تاریخی شناخت برقرار رکھنے کے بجائے اپنی تاریخ کا بھدا نمونہ بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ان محلوں کے رہنے والے امیر زادے پرانی عمارتیں ڈھا کر وہاں جس طرح بڑے بڑے پلازے بنا رہے ہیں، انہیں بھی روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ اب یہاں پھر سید اعجازالدین کی تشویش سامنے آتی ہے۔ لاہور اب صرف لاہور والوں کا نہیں ہے بلکہ پورے پنجاب اور پختونخوا کا بھی ہے۔ جس کو بھی مزدوری، ملازمت یا کاروبار کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھاگا بھاگا لاہور کی طرف چلا آتا ہے۔ کبھی کسی نے جائزہ لینے کی کوشش ہی نہیں کہ اس شہر میں پرانے خاندان اور پرانے لاہوریے کتنے رہ گئے ہیں، اور باہر سے آنے والے کتنے؟ فقیر اعجازالدین نے بخاری آڈیٹوریم میں بیٹھے لوگوں سے یہ تو پوچھا کہ ’’آپ میں سے کتنے شادی شدہ ہیں، اور آپ کے کتنے بچے ہیں؟ ‘‘ لیکن یہ سوال نہیں کیا کہ آپ میں سے کتنے پرانے شہر کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور کتنے شہر کے باہر سے آئے ہیں؟ شہر کی اپنی اور ادھر ادھر کی آبادی بڑھ رہی ہے اور اس کے بخیے ادھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ یوں تو دنیا بھر میں بڑے شہروں کا یہی مقدر ہے۔ مگر وہ شہر پھیلتے ہیں تو اپنی تہذیبی اور شناخت کے تحفظ کے ساتھ۔ آئیے اب دہلی یا دلی کی طرف چلتے ہیں۔ رخشندہ جلیل انگریزی کی افسانہ نگار ہیں، نقاد ہیں، مترجم ہیں۔ انتظار حسین، عصمت چغتائی اور رشید جہاں جیسے بڑے بڑے فکشن نگاروں کی تحریروں کو انگریزی میں منتقل کر چکی ہیں بلکہ جس تیزی سے وہ ترجمے کر رہی ہیں اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کا کوئی بھی قابل ذکر ادیب انگریزی ترجمے کی سعادت حاصل کئے بغیر نہیں رہے گا۔ دلی میں رہتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے انہوں نے دلی کی چند تاریخی عمارتوں کی تصویریں بھیجی ہیں۔ یہ عمارتیں وہ ہیں جنہیں آغا خاں فاؤنڈیشن کی مالی مدد سے اپنی اصلی شکل میں بحال کیا گیا ہے۔ یہ عمارتیں ہیں ہمایوں کا مقبرہ، درگاہ خواجہ نظام الدین اور صفدر جنگ کا مقبرہ۔ تصویروں سے نظر آتا ہے کہ ان عمارتوں کی تاریخی اور تہذیبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس طرح انہیں بحال کیا گیا ہے کہ وہ بیرونی سیاحوں کی ہی نہیں بلکہ ملک کے اندر رہنے والوں کی توجہ کا مرکز بھی بن گئی ہیں۔ ہم نے تصویریں ہی دیکھی ہیں۔ مگر کیا خوبصورت عمارتیں ہیں۔ یہاں ہم نے ہندوستان کا ذکر اسلئے نہیں کیا ہے کہ وہاں بہت بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے جا رہے ہیں، بلکہ اسلئے کیا ہے کہ جس آغا خاں فاؤنڈیشن نے دلی کی عمارتوں کیلئے مالی امداد دی ہے اسی فاؤنڈیشن نے لاہور کے اندرون شہر کیلئے بھی امداد دی ہے۔ اور وہ لاہور کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے بھی مدد کرنے کو تیار ہے۔ مگر ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ تو یہ ہے کہ اندرون شہر کی گلیوں میں بجلی کے جو تار عمارتوں کے اوپر سے گزر رہے تھے انہیں زیر زمین کر دیا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ لاہور کے رہنے والوں کو جس نے بھی زندہ دلان لاہور کہا تھا خدا اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ لیکن بھائی صاحب، ذرا سوچئے،جب وہ لاہور ہی نہیں رہے گا تو اسکے شہریوں کی زندہ دلی کیسے برقرار رہے گی؟ حامد میر بالکل صحیح کہہ رہے تھے ’’یہ میرا لاہور تو نہیں ہے‘‘۔ اور ہم بھی جب پرانے علاقوں کی طرف جاتے ہیں تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں کہ یہ وہی لاہور ہے جہاں ہم نے چالیس پچاس سال گزارے ہیں؟ نہ وہ اپنی گلیاں ہیں اور نہ وہ اپنے راستے۔ سب اجنبی اجنبی سا ہو گیا ہے۔ ہم اپنے شہر کا راستہ بھول جاتے ہیں۔ اب ذرا اس شعر پر بھی توجہ کر لیجئے جو ہم نے شروع میں پیش کیا ہے۔ دیکھیے، ہم نے اپنی تاریخ کو ہی مسخ نہیں کیا بلکہ اپنا ادبی ذوق بھی سولی پر چڑھا دیا ہے۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک محفل میں ایک نوجوان مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں تاثیر پیدا کر نے کیلئے یہ شعر اس طرح پڑھا
مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
کہ زندگانی ’’عبادت‘‘ ہے تیرے جینے سے
ہمارے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ زکریا بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا ’’خواجہ صاحب‘‘ آج ہمارے ہاں یہ شعر اسی طرح پڑھا جانا چاہئے، کہ جب ہم اپنی تاریخ اور اپنی تہذیب مٹانے پر تلے ہوئے ہیں تو یہ شعر کیوں اپنی اصل حالت میں برقرار رہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker