2018 انتخاباتکالملکھاریمسعود قمر

بوس و کنار ، غُل غپاڑہ اور مقابلے کی فلم ۔۔ مسعود قمر

ستر کی دہائی میں ہر اخبار میں ایک خبر ہر روز لگتی تھی ” پولیس نے رات ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو سر عام بوس و کنار اور غُل غپاڑہ کرتے گرفتار کر لیا “ اب بھی پولیس رات کو نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو سر عام بوس وکنار اور غُل غپاڑہ کرتے پکڑتی ہوگی مگر شاید ایف ٓئی ار کی عبارت اب وہ نہیں رہی ۔۔ مگر اب یہ کام سوشل میڈیا نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ سوشل میڈیا ایسی خبریں بمع ویڈیو دیتا ہے ۔کبھی کسی کے ننگے پاؤ ں عمرہ کرنے کی کبھی کسی کے ننگے پاؤ ں اپنی باپردہ بیوی کے ہمراہ بزرگ ہستی کے مزار کے دروازے پہ سجدہ کرتے۔۔ اور پھر پوری قوم اس قسم کے نان ایشو کو ایشو بنا کر ایک دوسرے کے خلاف لڑنا شروع ہو جاتی ہے ۔
ویسے تو نان ایشو کو ایشو بنانے میں عمران خان جیسا کوئی ماہر پیدا نہیں ہوا
وہ اداکارہ جس کی زندگی اور چہرہ چوبیس گھنٹوں میں سے بیس گھنٹے کیمروں اور لائیٹوں کے سامنے گزرتے ہوں اور اس کے جسم اور چہرے کو لائیٹوں اور کیمروں کا نشہ لگ جائے تو اگر بوڑھی ہونے یا کسی اور سبب کی وجہ سے اس کا فلموں میں آنا کم ہو جائے اور اس کی شامیں اور راتیں لاٗیٹوں اور کیمروں کے بغیر گزریں تو اس کا بدن ٹوٹنے لگتا ہے ایسے میں وہ جان بوجھ کر اپنے بارے میں کوئی نہ کوئی سکینڈل لیک کرواتی رہتی ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی طریقے نشے سے ٹوٹے اپنے جسم اور چہرے کو لائیٹوں اور کیمروں کے سامنے لا سکے۔
عمران خان نے جب سے دھرنا نمبر ون دیا ہے ان کا جسم اور چہرہ بھی لائیٹوں اور کیمروں کا نشئی ہوگیا ہے ۔ وہ جیسے ہی محسوس کرتے ہیں ان کا جسم اور چہرے کا نشہ ٹوٹ رہا ہے وہ اپنے بارے میں نان ایشو قسم کی خبر لیک کروا دیتے ہیں ۔۔ چاہے وہ شادی کی تاریخ کی خبر ہو ۔۔ صحافی لاکھ پوچھتا رہے مگر عمران نہ تائید کرے گا نہ تردید حتیٰ کہ ان کا مستقل نکاح خواں بھی عمران خان کے نقش قدم پہ چلتا اور پھر یہ خبر ایشو بن کر مہینوں اخبارات ٹی وی اور سوشل میڈیا پہ چلتی رہتی ہے اور عمران خان اس اداکارہ کی طرح شرماتے ہوئے بیان دیتے رہتے ہیں
” ہائے اللہ لوگ ہر وقت مجھے نان ایشو میں کیوں الجھائے رکھتے ہیں “ بندہ پوچھے شادی کرنا طلاق دینا آپ کا ذاتی مسئلہ مگر اپ ایک سیاسی شخصیت ہیں لہذا لوگ آپ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں آپ پہلے سوال پہ ہی سیدھا سا ہاں یا ناں میں جواب دے دیں بات ختم مگر وہی اپنے جسم اور چہرے کو نشے کی ڈوز دینے کے لیے نہ تردید کریں گے نہ تائید ۔۔ حج کرنا عمرے کرنا کسی دربار پہ حاضری دینا وہاں ننگے پاؤں جانا یا فل فوجی بوٹ پہن کر جانا وہاں دروازے پہ سجدہ کرنا یا نہ کرنا آ پ کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن جب آپ وہاں جانے سے پہلےہی وہاں لوگوں کے ہاتھوں میں فون پکڑا کر فلم بنوا کر چلوائیں گے جب آ پ نان ایشو کو ایشو بنوائیں گے جب آ پ اپنے جسم اور چہرے کے نشے کے لیے یہ سب کچھ کرٰیں گے ۔۔ تو پھر جہاں اندر سے خوش ہو رہے ہیں تو پلیز اپنے ہمدردوں کو اپنا یہ راز بتا دیں تا کہ وہ دوسروں کو گالیاں نہ دیں ۔۔آخری بات یہ کہ ایک وقت میں جب پاکستان میں بہت فلمیں بنتی تھیں تو عید پہ نئی فلموں کے رلیز ہونے کا مقابلہ ہوتا تھا ۔اس دفعہ عمران خان کے ساتھ بھی یہی ہوا جیسے ہی عمران کی بزرگ ہستی کی چوکھٹ پہ سجدہ کرنے کی ویڈیو ریلیز ہوئی اسی دن مقابلے میں ان کی زوجہ محترمہ کے سابق شوہر کی ویڈیو بھی جاری ہو گی جس میں موصوف دربار سے خاصی دور ہی سے ہر دو قدم سجدہ کرتے دربار کی طرف جا رہے ہیں ۔ سابق شوہر کی سجدوں بھری فلم نے وہ رش تو نہیں لیا جو عمران خان کی ایک سجدہ اور نو من پھولوں والی فلم نے کیا اسی لیے شاید سابق شوہر سجدے میں عدم کا یہ شعر پڑھتے جاتے ہیں
بس اک داغ ِ سجدہ مری کائنات
جبینیں تری ، آستانے ترے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker