اختصارئےلکھاریمسعود قمر

جیب کتری حکومت اور کشمیر کے غلاف میں لپٹی لیبر پالیسی ۔۔ مسعود قمر

70 کی دہائی میں لائل پور شہر میں ایک انو جیب کترا تھا ۔ سارا شہر اسے جانتا تھا کہ یہ جیب کترا ہے ۔وہ ویگن میں بیٹھتا تو لوگ اپنی دھوتی کی ڈھب اور قمیض کی جیبوں پہ ہاتھ رکھ لیتے تھے مگر انو جیب کترے کا کمال تھا وہ پھر بھی اپنا کام کر جاتا تھا ۔ بہت کم ہوا کہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو ۔ جب کوئی چارا نہ چلتا تو وہ ویگن میں چوہا چھوڑ دیتا اور چوہے چوہے کا شور مچا دیتا لوگ چوہا چوہا کرتے ایک دوسرے پہ گر رہے ہوتے اور انو جیب کترا کسی کی جیب کتر کر یہ جا وہ جا ۔



موجودہ حکومت بھی انو جیب کترا ہے ۔ لوگوں کو اب پتا چل گیا ہے کہ یہ جیب کترا حکومت ہے ، لوگ اپنی جیبوں کو مضبوطی سے پکڑے بھی ہوتے ہیں مگر یہ حکومت کوئی نہ کوئی ہاتھ آیا چوہا عوام میں چھوڑ دیتی ہے ، پھر ٹی وی پہ بیٹھے حکومتی چوہے گلے پھاڑ پھاڑ کر چوہا چوہا کا شور مچانا شروع کرتے ہیں ، لوگ چوہے کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں ۔ بعد میں پتا چلتا ہے عوام کی جیب کتری جا چکی ہے ۔
یہ جیب چاہے سیاسی ہو ، عدالتی ہو،پارلیمانی ہو یا معاشی ہو۔
آج کل جیب کتری حکومت کے ہاتھ کشمیر آیا ہوا ہے ، لوگوں کو کشمیر نعرے کے پیچھے لگا کر چپکے سے عوام کی جیبیں کترتی جا رہی ہے ۔



دنیا میں پہلی بار ہوا کہ کسی کیس کی سماعت کے دوران جج کو واٹس اپ پہ میسج آیا ہو کہ
” آپکا تبادلہ کر دیا گیا ہے اب آپ اس کیس کی سماعت نہیں کر سکتے”۔
عوام کشمیر کشمیر کرتی رہی اور جیب کتری حکومت عوام کی عدالتی جیب کتر کر آرام سے بیٹھی ہے ۔
کشمیر کے نعرے میں کل جیب کتری حکومت نے مزدوروں کی بہت بھاری معاشی جیب کتر لی ۔ جو مزدوروں نے بہت جدوجہد سے بنائی تھی۔



پنجاب حکومت نے کل ایک حکم کے ذریعے فیکٹریوں میں نافذ سوشل سکیم اور فیکٹریوں پہ انسپیکشن ٹیم کے چھاپوں پہ پابندی لگا کر مزدوروں کی جیب کاٹ لی۔
پہلے ہر فیکٹری مالک اپنے مزدوروں کا سوشل کارڈ بنانے کا پابند تھا
تاکہ اگر مزدور بیمار ہو یا کسی حادثے کا شکار ہو تو علاج کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکے ۔ فیکٹری مالک جن مزدوروں کے کارڈ بنواتا تھا ان کی سوشل سیکورٹی حکومتی خزانے میں جمع کراتا ، مگر مالکان ملی بھگت سے اپنی فیکٹری میں کام کرنے والے ساٹھ مزدوروں کے سوشل کارڈ بنانے کے بجائے دس مزدوروں کے سوشل کارڈ بنوا لیتے اور باقی پچاس مزدور بغیر سوشل کارڈ ہی کام کرتے ۔محکمہ لیبر کی انسپیکشن ٹیم فیکٹریوں پہ چھاپے مار کر مالکان کو بھاری جرمانے کرتی اور باقی پچاس مزدوروں کے بھی سوشل کارڈ بنا دیتی۔

موجودہ حکومت جو اپنے آپ کو ریاست مدینہ کی حکومت کہتی ہے اور دریائے فرات پہ ایک کتا بھی اگر بھوکا مرجائے تو خلیفہ ذمہ دار ہوگا کی دن رات مثالیں دیتی رہتی ہے۔
اس جیب کتری حکومت نے کشمیر کے نعرے کے غلاف میں لپٹی لیبر پالیسی لا کر یک جنبش قلم سے لاکھوں مزدوروں کو پانچ دریاوں کے کنارے بھوکا مار دیا ۔
جیب کتری حکومت کا نعرہ
کشمیر زندہ باد
عدالتی انصاف ٹھاہ
مزدور لیبر پالیسی ٹھاہ

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker