کالملکھاریمظہر عباس

یہ ’’گبر‘‘ کون ہے؟۔۔مظہر عباس

کوئی ایک ماہ پہلے ایک صاحب ’بند لفافہ‘ میرے نام کراچی پریس کلب چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم سمجھے کہ شاید یہ وہ ’’لفافہ‘‘ ہے جس کا صحافت میں بڑا چرچا رہتا ہے مگر ہماری یہ قسمت کہاں، اُس لفافہ میں موجود تحریر کو پڑھنے کے بعد ہمیں تو وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے وہ بیانات یاد آئے جس میں انہوں نے نہ صرف تقریباً پانچ ہزار افراد کو لٹکانے کی بات کی تھی بلکہ اس سے پہلے انہیں گاڑیوں سے باندھ کر گھسیٹنے جیسا بیان قومی اسمبلی کے فلور پر بھی دیا تھا۔
تحریر کرنے والے کا نام تو درج نہیں تھا البتہ یہ کسی تنظیم، کرپشن ہٹاؤ تحریک کی طرف سے تھا اور ساتھ میں تھی ایک فہرست ان افسران کی جن کو اس بیان کے ذریعہ خبردار کیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ رہے تو ان کا ’انجام‘ برا ہو گا۔ مجھے نہیں خبر کہ جن افسران کے نام تھے ان کو بھی خط پہنچایا گیا یا نہیں مگر یہ سب دیکھ کر اور ہمارے دوست واوڈا صاحب کے بیانات سن کر مجھے ایک انڈین فلم GABBAR IS BACKیاد آگئی۔ اس میں ایک ’گبر‘ نام سے ایک پروفیسر اپنا ایک گروپ بنا کر کرپٹ افسروں کو چن چن کر مارتا ہے۔ کچھ ایماندار پولیس افسران بھی اس کی مدد کرتے ہیں۔ سارے کرپٹ لوگ پریشان رہتے ہیں کہ آخر یہ ’گبر ہے کون‘۔
فلم کا اختتام کچھ اس طرح کا ہے کہ وہ خود آخر میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہے، قتل کا اعتراف کرتا ہے اور پھانسی چڑھ جاتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے کہ جو میں نے کیا وہ خلاف قانون تھا۔


اب مجھے نہیں پتا کہ یہ کرپشن یا کرپٹ مٹاؤنامی تنظیم واوڈا صاحب کے بیانات سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے یا خود ان تک بھی ایسا کوئی خط پہنچا ہے مگر یہ خطرناک رجحان ہے جس کی حوصلہ شکنی ہونا چاہئے کیونکہ جب لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر فیصلے خود کرنے لگیں تو سمجھ لیں کہ ملک میں انارکی آگئی ہے۔
کرپشن ہمارے ملک کا بڑا اور انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے اوپر سے نیچے تک حال برا ہے مگر اس کا خاتمہ مضبوط ارادے اور طاقتور اداروں کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ کرپشن سے سب سے زیادہ نقصان سیاست اور جمہوریت کو ہوا کیونکہ لوگوں نے سیاست کو کاروبار بنا لیا۔ جذباتی تقاریر سے آپ لوگوں کے جذبات تو بھڑکا سکتے ہیں، معاشرے میں بہتری نہیں لا سکتے۔ پچھلے چالیس سالوں سے بلاامتیاز، احتساب کا نعرہ کسی نہ کسی شکل میں لگتا رہتا ہے مگر ایسا احتساب اب تک دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔ وزیراعظم نااہل بھی ہوئے اور سزا بھی پائی، جیل بھی گئے اور جلا وطن بھی ہوئے، کرپشن کے خاتمہ اور کرپٹ کو سزا دلوانے کا نعرہ لگا کر وزیراعظم بھی بنے اور چند کو قانونی گرفت میں بھی لایا گیا، تو کیا لوگوں نے رشوت لینا بند کر دی؟ بس کیونکہ اس احتساب سے صرف حکومت مخالف پکڑے گئے۔ اندر والے بچ گئے۔ ہاتھ صرف سیاستدانوں یا ان کےمن پسند افسران پر ڈالا گیا۔ جس نے حکومت کی ہاں میں ہاں ملائی، وہ شفاف ہو گیا۔ پاکستان میں اب تک تو ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔
راستہ ہمیشہ جمہوری طریقے سے ہی نکالنا چاہئے کیونکہ یہ صرف جمہوریت میں ہی ممکن ہے کہ وزیراعظم اپنی ہی حکومت میں عدالتوں سے سزا پائے، گھر جائے یہاں تک کہ آمریت آئے تو وہ لٹکا دیا جائے۔ کوئی ایک مثال نہیں ملتی کہ کبھی کسی آمر کو جیل میں ڈالا گیا ہو سزا تو دور کی بات، یہاں تو خلاف آئین اقدام کو بھی آئینی تحفظ حاصل رہتا ہے۔ اس حکومت کے پاس پانچ سال ہیں، یہ کوئی تھوڑا وقت نہیں اگر نیت صاف ہو اور ارادے پکے ہوں، سیاسی انتقام لینے کیلئے نہیں بلاامتیاز احتساب کیلئے۔ بولیں کم اور کام زیادہ کریں گے تو نہ کوئی گبر سامنے آئے گا اور نہ کوئی ’گھبرائے‘ گا، آپ مثال بنیں گے۔
اب مجھے نہیں پتا کہ یہ ’’نامعلوم‘‘ صاحب کون ہیں۔ کوئی پتہ بھی نہیں لکھا۔ تحریر سے پتا چلتا ہے کہ شاید ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس تنظیم کا پورا نام ’’کرپشن مٹاؤ، پاکستان بچاؤتحریک‘‘ہے۔ اس کا نشان ان کے بقول ’’X‘‘ہوگا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہ تنظیم گزشتہ تین سال سے ’’زیر زمین‘‘ رہ کر کام کررہی ہے اور اس کا آغاز پاکستان کے معاشی حب کراچی سے کیا گیا ہے۔ بعد میں دوسرے شہروں لاہور، پنڈی، اسلام آباد اور شاید چھوٹے شہروں میں بھی اس کی کارروائی نظر آئے گی۔


اس مبینہ تنظیم کے سربراہ کو’’BIG BOSS‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ باقی کے نام CODEمیں ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ایک سوچ کا نام ہے اور میں (یعنی وہ صاحب) ایک چھوٹا سا مہرہ ہیں۔
آخر میں اس نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف اداروں کو مخاطب کر کے کہا کہ کام تو یہ آپ لوگوں کا تھا مگر اب ہم کررہے ہیں۔ جو بھی کرپٹ انسان ہو گا اسے ایک کرپٹ فائل سمجھ کر بند کردیں گے۔
یہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی انتہا ہے۔ کتنی حقیقت ہے، کتنا فسانہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ پتا نہیں یہ ’’گبر‘‘ کون ہے؟ اور جب خود حکومت میں بیٹھے وزیر و مشیر اس طرح کی زبان استعمال کریں گے تو بات پھر ایوانوں تک پہنچ جائے گی۔ اس رجحان کو روکیں اس سے پہلے کہ واقعی گبر آجائے۔ اس سب کا تدارک ممکن ہے اور وہ ہے سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل۔ ناانصافیاں عدم برداشت کو جنم دیتی ہیں اور لوگ تشدد کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ خط صرف ایک سوچ کی عکاسی کررہا ہے مگر آگے چل کر ایسی سوچ واقعی کسی تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ اس کو آگے بڑھنے سے روکیں کیونکہ پہلے ہی معاشرے کی تشکیل میں دیر ہو چکی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker