کالملکھاری

مظہر عباس کا کالم۔۔یہ کیسی ریاست ہے؟

اب یہ نیوزی لینڈ یا چلی تو ہے نہیں جہاں کے سربراہِ مملکت قیامت کی گھڑی میں سب کچھ بھلا کر آپ کے درمیان ہوں۔ یہاں تو ’’انا‘‘ آڑے آجاتی ہے۔ ہتھیار بہرحال غریب کو ہی ڈالنے پڑتے ہیں سو انہوں نے ڈال دئیے۔ بس خدا کرے دوبارہ یہ نوبت نہ آئے۔ بلوچستان ویسے ہی ایک حساس صوبہ ہے، ہزارہ ایک محصور قوم بن کر رہ گئے ہیں ایسے میں اگر وزیر اعظم واقعہ کے دوسرے روز ہی کوئٹہ چلے جاتے تو جنازے چھ دن سڑک پر رکھ کر ان کے لواحقین احتجاج نہ کرتے۔ یہ کیا کسی کو ’’بلیک میل‘‘ کریں گے؟ اگر کسی نے کیا ہے تو یہ آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ نام بتائیں۔ ویسے کمال کی ریاست ہے نہ ماں بچانے آئی نہ باپ تدفین پر۔
چلیں خدا کا شکر ہے تدفین ہوئی۔ اچھی بات ہے جام کمال، علی زیدی، زلفی بخاری اور شہدا کمیٹی کی کاوشیں ایک تحریری معاہدے کی شکل میں سامنے آئیں۔ کچھ نکات قابلِ عمل ہیں باقی میں تو بس اگر مگر ہی رہے گا۔ اچھا ہو اگر اعلیٰ سطح کے کمیشن کا دائرہ اختیار بڑھاکر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش، دہشت گردی کے سیاسی و انتظامی عوامل کا جائزہ بھی لیا جائے۔ یہ اس لئےبھی ضروری ہے کہ اس پس منظر کے بغیر آپ کبھی بھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ پائیں گے کہ ایک ہزارہ کمیونٹی ہی خاص ٹارگٹ کیوں؟ لاپتہ افراد کا کمیشن بنایا تو وہ خود ہی ’’لاپتہ‘‘ ہوگیا۔ یہاں تو صحافت کرنا بھی دشوار ترین ہوگیا ہے۔ جہاں لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا جاتا ہو، جہاں غیرملکی مداخلت تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہو، وہاں کمیشن اس بات کا جائزہ لے کہ اس پیچیدہ مسئلے سے نکلنے کا حل کیا ہے؟ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اوران حالات میں شاید آخری بھی نہ ہو۔ رہ گئی بات قاتلوں کی گرفتاری کی تو بےگناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا۔ ان لوگوں پر تو اس وقت تعلیم کے دروازے بند ہیں، روزگار کے لئے جاتے ہیں تو مار دئیے جاتے ہیں۔ اب تو پچھلے 20برسوں میں بیواؤں کی تعداد شادی شدہ جوڑوں سے زیادہ ہوگئی ہے۔ قبرستان ہے کہ آباد ہوا جاتا ہے۔
بلوچستان کی حساسیت کا احساس کرنا پڑے گا۔ صورت حال 9/11کے بعد یہاں زیادہ خراب ہونا شروع ہوئی۔ افغانستان اور ایران کے درمیان بلوچستان پراکسی وار کا شکار ہوگیا۔ مجھے آج بھی 19؍نومبر 2002کی وہ شام یاد ہے جب کوئٹہ کا ایوب اسٹیڈیم لوگوں سے بھرا پڑا تھا کسی میچ کے انتظار میں نہیں بلکہ ایک بلوچ ایمل کانسی کا جنازہ امریکہ سے آرہا تھا۔ میں ایک کنارے کھڑا سوچ رہا تھا کہ ہم کیسی کمزور ریاست ہیں کہ ایک شخص کو 1993میں دو CIAایجنٹوں کے قتل کے الزام میں سزائے موت ہوتی ہے مگر اس کو گرفتار پاکستان سے FBIکرتی ہے۔ یہاں سے لے جاتی ہے اور پھر جنازہ بھیج دیا جاتا ہے مگر پھر اتنے برسوں بعد ایبٹ آباد میں بھی تو کچھ ایسا ہی ہوا۔ ڈاکٹر عافیہ کا کیس ہو یا رمزی یوسف کا۔ ان سارے واقعات کو سامنے رکھوں تو پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہم اپنا ملک بنانے اور بچانے کے بجائے افغانستان کی پہلی جنگ میں کود پڑے اور آج تک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ 9/11کے بعد بھی وہی غلطی۔
2002کے بعد بلوچستان القاعدہ اور طالبان کا گڑھ بن گیا جس کے بعد ہی ’’کوئٹہ شوریٰ‘‘ کی خبریں آنا شروع ہوگئیں اور ساتھ ہی بلوچستان میں شورش نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کانسی کا جنازہ آگیا۔ بلوچ نوجوان ’’امریکہ مخالف‘‘ نعرے لگا رہے تھے۔ یہ وہی کوئٹہ تھا جہاں زمانۂ طالب علمی میں کبھی کبھار BSOطلباء تنظیم کے دوستوں سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ رازق بگٹی، عبداللہ بلوچ، حاصل بزنجو اور بہت سے وہ بھی جن کو آج غدار اور دہشت گرد کہا جارہا ہے۔ اس زمانے میں تو وہ تعلیم اور روزگار مانگتے تھے۔ نہیں ملا تو مطالبات بڑھتے گئے۔ ان سے بات کریں ،مان جائیں گے۔ 70کی دہائی میں فوج کشی کرکے اگر بھٹو صاحب نے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی ماری تو جنرل پرویز مشرف نے 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کو قتل کروا کر رہی سہی کسر پوری کردی۔ پہلے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا کر بائیں بازو کی سیاست کو محض قوم پرستوں کے حوالے کردیا گیا۔ پھر ان سے شکایت ہوئی تو مذہبی انتہا پسند گروپوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے کہ آخر بھارت، ایران یا افغانستان کی بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مداخلت کے اسباب کیا ہیں۔ کیا ریاست نے پچھلے چالیس سال میں ایسے سیاسی اور انتظامی اقدامات کئے کہ یہاں کا نوجوان تعلیم اور روزگار کے میدان میں آگے بڑھے؟ اگر کسی نے ہتھیار اٹھائے یا کسی کے ایما پر یا غیرملکی طاقتوں کی بھینٹ چڑھے تو کیوں۔ کیا ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ بلوچستان میں جس طرح چند سال پہلے ہونے والے ایک حملے میں وکیلوں اور بار کی پوری کریم اڑا دی گئی ، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا مگر جب عدالتی کمیشن بنا اور اس نے کچھ اہم نکات اٹھائے تو جج پر ہی سوال اٹھا دیے گئے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ ’’ہزارہ کمیشن‘‘ کس حد تک خودمختار ہوگا؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ 2013میں شروع کیا جانے والا دہشت گردی کے خلاف آپریشن خاصی حد تک کامیاب رہا مگر کاش APSپشاور میں 150بچوں کو بہیمانہ قتل کرنے والوں کے ساتھ ان نگہبانوں کو بھی نشانِ عبرت بنایا جاتا جن کی نااہلی سے 16؍دسمبر 2014کو یہ واقعہ ہوا۔ وزیراعظم آپ تو اس پورے آپریشن کے ہی خلاف تھے۔ بات چیت مسئلے کا حل ضرور ہوتی ہے مگر جب ریاست کے اندر ریاست قائم ہوتو پھر فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ ریاست ایک ہوگی۔
ایک آخری بات خدارا احتجاج کے طریقے بدلیں۔ کوئٹہ میں تو ہزارہ کی خواتین اور مرد جنازے لئے خاموش بیٹھے رہے مگر ملک بھر میں جو دھرنے ہوئے ، اُن کے باعث پریشان صرف عوام ہوئے۔ اگر رکاوٹ ڈالنی ہی ہوتی ہے تو اقتدار کے ایوانوں کے باہر دھرنا دیں کیونکہ مسئلہ وہیں سے حل ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کو بھی کرنا چاہئے اور مذہبی جماعتوں کو بھی۔ وزیر اعظم ہاؤس ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے راستے کھلے ہوں اور عام سڑکیں بند ہوںتو بات بنتی نہیں ہے۔ اس سے صرف عوام ہی پریشان ہوتے ہیں۔
معاہدہ بھی ہوگیا، انا بھی پوری ہوگئی اور پیاروں کی تدفین بھی۔ سب اپنے اپنے گھر کو لوٹ گئے۔ ٹاک شوز میں ایک بار پھر گولہ باری شروع ہوگئی مگر ان بچیوں کا کیا ہوگا جن کے گھرمیں اب کوئی مرد نہیں بچا۔ جنازے اٹھانے کے لئے چار آدمی تو مل ہی جاتے ہیں مگر سہارا دینے کے لئے۔ یہ کیسی ریاست بنادی ہے ہم نے جہاں لاشیں سڑک پر رکھ کر انصاف طلب کیا جاتا ہو مگر نہ انصاف ہوتا نظر آتا ہے نہ ہی انصاف ہوتا ہے اور پھر ایک اور سانحہ ہوجاتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker