کالملکھاری

مظہر عباس کا کالم:سینیٹ کا نیلام گھر

زمانہ طالبعلمی میں اکثر یونین کے الیکشن کے موقع پرہم ایک نعرہ بڑے زوروشورسے لگاتے تھے۔ نہ بکنے والا نہ جھکنے والا۔طلبہ وطالبات بھی ووٹ دیتے وقت امیدوار کے کردار پر سوالات اٹھاتے تھے۔ کوئی اسکینڈل آجاتا تو نیا امیدوار لانا پڑ جاتا۔
اس عمل سے عملی سیاست میں بھی کئی باکردارسیاست دان نمایاں ہوئے۔ نظریاتی طور پر سخت ترین مخالف بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔باچا خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک اور مولانا مفتی محمود سے سید منور حسن تک ہر ایک کے دوسرے کے ساتھ اختلاف موجود تھے مگر وہ بکاؤ مال نہیں تھے۔پھر ہوا یوں کہ بھائی لوگوں نے اس کا حل طلبہ یونین پر پابندی میں نکالا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کچھ زیادہ ہی باکردار لوگ سیاست میں آجائیں اورسیاست کو ’گندہ‘ کردیں۔
دوسرا حل جماعتی سیاست کو غیر جماعتی لباس میں متعارف کراکرنکالا گیا جس سے ایک طرف نظریاتی سیاست کا خاتمہ ہوا تو دوسری طرف قوم بری طرح برادریوں، لسانی اور فرقہ وارانہ نظریوں میں بٹ گئی ور تیسرا حل سیاست کو کاروبار میں بدل کر۔ یہ سب سیاست اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا تاکہ عام آدمی سیاست سے ہی نفرت کرنے لگے یا آمریت نے جمہوریت سے بدلہ لیا، اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی مگر اس سارے عمل نے ہماری سیاست کو بہرحال پراگندہ کردیا ہے۔
سیاست کاروبار بن جائے تو بازار ہی لگا کرتے ہیں یا نیلام گھر میں بولی لگتی ہے۔ اب پچھلے چند ہفتوں میں کیا کچھ نہیں ہوا سینیٹ کےا لیکشن کے سلسلے میں کراچی تاخیبر۔پنجاب میں تو ماشااللہ، گرینڈ نظریہ ضرورت ، فارمولہ کے تحت سب کا اتفاقِ رائے ہوگیا ورنہ بڑی منڈی لگنے والی تھی ۔سیاست اس وقت ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جنہوں نے کبھی سیاست کی ہی نہیں صرف کاروبار کیا ہے۔
مگر ان کے درمیان ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جو باکردار ہیں۔ انہیں اس سارے عمل سے تکلیف بھی ہوتی ہے۔ تاہم صرف بے بسی سے کام نہیں چلے گا آواز بلند کرنی پڑے گی جیسا کہ اس زمانے کے لوگ عملی طور پر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا، اب تو قلم رکھنے والوں کے بھی ہاتھ کانپتے ہیں۔ کوئی زیادہ بول جائے تو مائیک بند کرناپڑتا ہے یاMuteہوجاتاہے۔رائے عامہ وہ ہموار کرتے ہیں جن کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی بس وہ تو ڈکٹیشن کے منتظر رہتے ہیں۔
اب تصور کریں کہ2018کی ویڈیو2021میں دکھائی جارہی ہے۔ ان ڈھائی برسوں میں یہ کیوں یادنہیں آئی؟ چلیں آپ بھول گئے ہوں گے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کےخلاف2020میں عدم اعتماد کی تحریک آئی تب بھی تو وڈیو منظر عام پر لائی جاسکتی تھی۔ عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اخلاقیات اور کردار کے لیے تعلیم وتربیت ضروری ہوتی ہے۔ جو لوگ خود فیصلے نہیں کرسکتے وہ اعلیٰ عدلیہ کی ’رائے‘ پربھی عمل درآمد نہیں کراسکتے۔
نظریہ پر کھڑے رہنے والوں کے لیے یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ بیلٹ اوپن ہو یا سیکریٹ ۔اگر پارٹی کے قائد کو ہی اپنے اراکین پر اعتماد نہیں تو غلطی تو ایسے لوگوں کو آگے لانے والوں کی ہے۔حیرانی تواس وقت ہوتی ہے جب ہر وقت بکنے والا اور جھکنے والا یہ نعرہ لگاتا ہے کہ نہ جھکنے والا نہ بکنے والا ، ہر حکومت میں وزیر اور مشیر رہنے والے پارسائی کا سبق پڑھاتے ہیں تو منافقت چہرے سے عیاں ہوتی ہے۔
اپوزیشن قائدین میں ایک صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے والے تھے ڈیڑھ سال دبئی میں گزارنا پڑگیا، دوسرے صاحب پنجاب ہائوس سے جی ٹی روڈ کے راستے نکلے تو راستے میں نظریاتی ہوگئے اور اب لندن میں آرام فرما رہے ہیں۔ تیسرے صاحب صاف چلی شفاف چلی، کا علم بلندکئے نکلے تواپنے ہی گھر میں سوراخ ہوگیا۔ پہلے20کونکالا ،یقین اب بھی نہیں کہ کتنے پارسا ساتھ ہیں ۔دوائی اسکینڈل سے لے کر شوگر اسکینڈل تک ہر طرح کا برانڈ نظر آئے گا ان کےدرمیان۔ پھر بھی سینیٹ میں مدد اس سے طلب کی گئی جسے عدلیہ نے صادق اور امین نہیں کہا۔آج 3مارچ ہے۔ ملک کے ایوانِ بالا کی48نشستوں کے لیےپولنگ ہوگی، عوام نے جن لوگوں کوووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا ہے، وہ خاص لوگوں کا انتخاب کریں گے۔
نیلا م گھر توآپ کو یاد ہی ہوگا طارق عزیز کا کئی مرحلوں سے گزر کر، سوالوں کے جوابات دے کر آپ گاڑی کے حقدار بنتے تھے، اس پربھی20سوالوں کے درست جواب پرایک گاڑی ملتی تھی۔
سینیٹ کے نیلام گھر میں ایک سوال پر آپ گھر کے مالک بن سکتے ہیں۔ کروڑ پتی تو بن ہی سکتے ہیں۔ بس یہ جواب دینا ہےکہ ووٹ کس کو دیںگےBuy one get one freeکی سہولت بھی موجود ہے۔ اب ووٹر پر منحصر ہے کہ بالا بالا ہی سودا کرتا ہے ایوانِ بالا کا یا گروپ کی شکل میں۔کیا دلچسپ اور اصول پر مبنی مقابلہ ہے اسلام آبا دمیں اصولی سیاست ’’وصولی‘‘ کی بنیاد پر۔۔۔ امیدوار بھی کمال کے ہیں بردبار بھی اور تابعدار بھی۔
ایک طرف سابق وزیر اعظم ہیں اور دوسری طرف انہی کے سابق وزیر خزانہ، دونوں ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ مگر اس نعرے کے ساتھ مدِ مقابل کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے، مطلب اصولی سیاست میں کچھ وصولی ہوجائے تو چلتا ہے یہ اسی طرح چلتا ہے ،جس طرح ہمارے یہاں پر مخالف غدار یا کافر اور ساتھ دینے والا محب وطن اور پارسا ٹھہرایا جاتا ہے۔
چند گھنٹے بعد نتائج آجائیں گے۔ کہیں مٹھائی تقسیم ہوگی تو کہیں چنے تقسیم ہوںگے۔ دوسرا مرحلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا آئے گا،ایک بار پھر نیلام گھر سجے گا۔ دیکھیں اس میں کون کون گاڑی جیتتا ہے؟ آج جمہوریت اور سیاست ایک گالی بن کررہ گئی اور یہ ایک ایسی گالی ہے جو آمریت میں بھی سیاست دان کو پڑتی ہے اور جمہوریت میں بھی انہی کو پڑتی ہے کیونکہ باقی تو پارسا ہیں ان سمیت جنہوں نےنظریہ ضرورت کے تحت جمہوریت کو پراگندہ کرنے والوں کو کلیئرکیا۔زمانہ طالب علمی میں نعرہ لگاتے تھے ، نہ بکنے والا نہ جھکنے والا، مگر عملی سیاست میں لوگوں کو بکتے بھی دیکھا اور جھکتے بھی۔ جواس عمل کو دیکھتے رہے اور چپ رہے وہ بھی شریکِ جرم ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker