تجزیےلکھاریمہتاب حیدر تھہیم

چینی ، ناقص دودھ اور جعلی ادویہ : درد کا چارہ کون کرے گا ؟ ۔۔ مہتاب حیدر تھہیم

پچھلے دنوں جب میں نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس کے طور پر ایک مضمون شوگر انڈسٹری کے میڈیا ٹرائل پر تحریر کیا تو اس کے جواب میں آنے والے ردعمل نے مجھے یہ بات باور کرائی کہ کسی بھی موضوع پر میڈیا مہم کے ذریعے کئی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں شوگر ملز کیس میں ہی دیکھ لیں کیونکہ کہ وہ ایک perception بنانے میں کسی حد تک تو کامیاب ہوئے ہیں تو سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ توجہ ان عوامی اور سماجی امور کیطرف دلائی جائے جن کی موجودگی میں وطن عزیز میں ایک عام پاکستانی کی زندگی اجیرن بن گئی ہے ۔
آج کل لاک ڈاؤن کے دنوں میں گھر رہتے ہوئے مصروف نظر آنا بہت ضروری ہے ورنہ بیگم صاحبہ کی طرف سے کچن میں فریج کی بوتلیں بھر کر رکھ دیں اور آتے ہوئے چائے بناتے آئیے گا اور ہاں موبائیل یہیں رکھتے جائیں تا کہ دھیان چائے پر ہی رہے کل بھی چائے گر گئی تھی اور کچن بھی خراب کر دی جیسے احکامات ملنے کا قوی امکان رہتا ہے ۔۔ میں کچھ روز قبل کرونا سے بچنے کے سامان گاڑی کے ڈیش بورڈ کے خانے میں رکھنے لگا تو اس میں سے جولائی 2018 کی ایک رسید ملی جو ماہانہ گروسری کی رسید کی تھی اور تین روز قبل میں نے جان بوجھ کر تمام اشیاء اسی مقدار میں خریدیں اور ان کا تقابلی جائزہ لیا تو فورا اپنی بلڈ پریشر کی دوائی کھا نا پڑی کیونکہ صرف دو سال کے عرصے میں کل لاگت میں 53فی صد اضافہ ہو چکا ہے میں نے ایک بڑی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کمپنی سے تعلق رکھنے والے اپنے دوست کو یہ شئیر کی تو اس نے بتایا کہ اگر تمام لیگل ٹیکس ، نئی پرانی ڈیوٹیز ، ٹیکسوں اور ڈالر فیکٹر کوشامل کر لیں تو بھی اضافہ 23فی صد سے زیادہ نہیں بنتا اس دوران میں نے کچھ آئٹمز کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا جو کچھ یوں ہے کامن گروسری آئٹمز میں ہے تو چینی 55روپے سے 85 آئیل 146 سے 264 باسمتی چاول 145سے 190 بچوں کے دودھ کا ڈبہ 1650سے 2400 اور دودھ پیکٹ والا 125سے 175 پر پہنچ چکا ہے اور اگر فرق دیکھیں اگر آئٹم کے حساب سے تو کہیں یہ فرق 200فی صد بھی ہے اور ٹوٹل بل میں تقریباً 12000 کا اضافہ ہوچکا ہے ۔
اس تجزیے کو پچھلے دس سالوں پر لے جائیں تو بات سامنے آتی ہے کہ پرائس فیکٹر میں بڑے لوگ کما رہے ہیں مگر ان کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں لے دے کر عدالت لگے ہے تو وہ ہے شوگر سیکٹر کی اور ادویات ساز کمپنیوں کی جبکہ میری ماہانہ بل میں شوگر کا افیکٹ صرف 150 روپ ہے اور آئیل کا 1260روپے ہے اور اس دوران ایک کارن آئیل بنانے والی کمپنی نے خوب چوکا مارا قیمتوں میں دو گنا اضافہ کر دیا اور میرے اسی مد میں تقریباً 2020 روپے بڑھ گئے (میرے دل سے ایک پنجابی گیت تینوں روکن والا کیڑا وے کی آواز آنے لگی) مگر یہاں پرائس کنٹرول ۔۔۔چونکہ ماں کی دعا اور ان کے حکم کے عین مطابق صدقہ کو نہیں روکا تو میڈیکل بل نہ ہونے کے برابر ہے
مگر میڈیا پر میری آواز نہیں ہے کاش یہ ساری اشیائے صرف کی فیکٹریاں ان شوگر مل مالکان کی ہو تیں تو کم از کم ان کو گھی مافیا ، دودھ مافیا ، چاول مافیا کہہ کر کوئی الٹا لٹکانے کی باتیں کرتا ، کوئی سو موٹو نوٹس کوئی کمیشن ہو تو ورنہ ان اشیاء صرف کی قیمتوں کا تعین کے لئے بھی کوئی آڈٹ ہو سکتا ہے مگر چینی کا شور اتنا زیادہ ہے اور اس شور میں حکومت اور اپوزیشن کی بھی تخصیص نہیں اس سیاست کے نتیجے میں ملک کی ایک صنعت اس سے وابستہ دو لاکھ براہِ راست اور ایک کروڑ کسانوں کو اذیت الگ ہو رہی ہے
یہ بات میرے جیسے عام شہری کے ذہن میں یہ بات پیدا کر رہی ہے ایک طرف ایک عام آدمی کے بجٹ میں صرف 100 روپے ماہانہ اضافہ اور اتنا شور اوردوسری طرف تقریبآ اوسطاً 4500 کا اضافہ اور اتنی خاموشی کہ مہنگائی کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا ہی نہیں کوئی عقل مند اس مہنگائی پر آواز تو اٹھا سکتا ہے میڈیا سے امید ہے کہ وہ توجہ دلائے گا یا تو اسے چینی اور ادویات سے فرصت نہیں یا بقول غالب
ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
پچھلے دنوں لاہور سے تعلق رکھنے والے بابے نے ایک بڑا ہی ٹیکنیکل بنیاد پر سو موٹو لیا وہ تھا بچوں کی دودھ بنانے والی کمپنیوں سے دودھ کی قیمتوں کے تعین کے فیکٹریز
دودھ بنانے والی پلانٹ کے اسٹینڈرڈ اور upgradation کی رپورٹ
دودھ کے raw material کے اسٹینڈرڈ ہمسائے ملک کی قیمتوں سے تقابل شامل تھا۔
میرے نزدیک یہ ایک بڑا مثبت قدم تھا امید تھی ماں جیسی ریاست سے امید تھی کہ بھرپور تعاون سے شائد ہمارے بچوّں کو کوالٹی ملک مل سکے مگر کیا ان کمپنیوں نے “۔موٹی پگھار ” پر تگڑے وکیل کئے پگھار برصغیر پاک وہند کے صوبے ممبئی اور سندھ میں تنخواہ کو کہتے ہیں اور ان سے کچھ تو خصوصاً ایک 80 سالہ بابا جی جنکو میں دو دھاری تلوار بھی کہتا ہوں کیونکہ وہ تگڑی فیس کے ساتھ ہر کیس کو لڑتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد اسی کیس کو میڈیا پر باسمیت کلائنٹ دھوتے ہیں کچھ ان کا سیاست میں بڑا نام تھا مگر اپنی پارٹی کی اتنی خدمت کی ہے کہ اب وہ شائد کونسلر بھی منتخب نہ ہو سکیں ہاں البتہ ان کی آخری ایزی لوڈ تقریر اسمبلی میں سب کو یاد ہے اچھا اب موضوع کی طرف آتے ہیں یہ صاحب صبح عدالت میں کیس لڑتے اور شام کو وہی کیس میڈیا پر لڑتے اور آخر کار ایک کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس اہم معاملے پر خاموشی بتاتی ہے ” کمیشن ” بن گیا ہے
پاکستان میں میڈیسن پرائسز کو سیاسی معاملہ بنا دیا گیا ہے حالانکہ یہ ایک کاروباری معاملہ ہے اس میں بھی وہی عوامل کار فرما ہیں جو کسی بھی کاروبار کے قیمتوں کے تعین میں ہوتے ہیں مگر اس پر سیاسی اور حکومتی اداروں کا کنٹرول اور کمپنیوں کو قیمتوں میں جائز اضافے کی محض اس وجہ سے نہ دینا کہ اپوزیشن اس کو سیاسی ایشو اور میڈیا رپورٹنگ کے خوف سے کئی جائز فیصلے بھی نہیں ہوسکتے اس کے ادویات کی صنعت پر کیا اثرات پڑے ہیں اس سے کوالٹی کتنی متاثر ہوئی ہے اس پر فی الحال اتنا کہوں گا کہ میرے کچھ دوست اگر یہ کہتے ہیں کہ یار پاکستان میں ملنے والی ادویات میں وہ اثر نہیں ہے جو ہم باہر سے ملنے والی ان ادویات میں پاتے ہیں تو غلط نہیں کہتے اور میرے یہی دوست جب پاکستان آنے لگتے ہیں اور کچھ لانے کا پوچھتے ہیں تو کچھ کھانسی کے سیرپ ، کچھ ملٹی وٹامن اور کچھ کریم کہتا ہوں کیونکہ پاکستان میں یہ موثر اور محفوظ ادویات پرائس نہ ملنے اور کمپنیوں کو ہونیوالا نقصان کے باعث بند ہو چکی ہیں ۔
ہمارا معاشرہ بہت سے مسائل سے دو چار ہے اور الیکٹرانک میڈیا ان پر روشنی ڈال کر بڑے کردار ادا کر سکتا ہے بچپن میں ایک لانگ پلے ” فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی” پی ٹی وی سے نشر ہوا جس میں شادی میں دکھاوے اور جھیز کی لعنت پر بڑی جاندار عکاسی کی گئی
ہم اب ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ ایک شخص کسی مین بولیٹن سے پہلے آئے اور اپنی کم آمدن کی باعث بچوں کو اسکول نہ بھیج سکنے کا بتا کر حکومت کو اس کی ذمہ داری یاد کروائے ، پاکستان میں دکانوں پر کام کرنے وال بچوں پر کوئی آواز ہو کوئی شادیوں میں ہونیوالی فضول خرچیوں کی سرزنش کرے کرونا کے لاٹو نم وائرس کو دکھا کر خوف زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ گھر میں رہ کر ذہنی مضبوطی کی تراکیب بتائی جائیں گھریلو اور درمیانی پڑھیں خواتین کو آن لائن روزگار کا بتایا جائے ملک میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کی اہمیت اور لوگوں کو self Employed ہونے کی اہمیت اور روزانہ آمدن بتائے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ اینکروں کا چاہ مین سٹریم میڈیا پر پوری نہیں ہوتی وہ باقی کسر ویب چینل سے پوری کر رہے ہیں ہاں کچھ دوست ویب چینل سے سماجی خدمت کا فریضہ انجام دینے کی کوشش کر بھی رہے ہیں جو بڑی حوصلہ افزا بات ہے مگر
1680 گھنٹے کےروزانہ ائر ٹائم جو میں نے 70 چینلز کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھا ہے اس پر کوئی ایسی جاندار کوشش نظر نہیں آتی اس وجہ شائد نیت کی کمی ، معذرت کے ساتھ لکھوں گا ذہنی بانجھ پن کی وجہ سے صلاحیت کی کم ہوسکتی ہے ۔ کہتے ہیں شاعر بھی قومی سوچ کے عکاس ہوتے ہیں اسی لئے میر تقی میر نے شائد اس طرح کے حالات پر کہا ہوگا
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker