بلوچستان وہ چوتھا کھونٹ ہے جس طرف جانے کی ممانعت ہے۔دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کے لیے تو شجر ممنوعہ ہے۔بلوچستان سے میری پہلی شناسائی مست توکلی کی شاعری پر لکھی گئی شاہ محمد مری کی کتاب “مستیں توکلی” کے طفیل ہوئی۔ جیسے دم گھٹنے کی کیفیت میں تنگ تاریک کمرے میں دریچہ وا ہوجائے۔دور تک نگاہوں کے سامنے سمندر کی ابھرتی لہراتی مست لہریں ہوں،جیسے پت جھڑ میں سوکھی ٹھٹھری شاخ سے نکلتی سبز کونپلیں زندگی کا پیام دیں۔جیسے دلبر کا بوسہ کسی ماہ جبیں کو برسوں کی نیند سے جگا دے۔ یہ شناسائی عام سی شناسائی نہ تھی،مہر سے شناسائی کوئی عام سی بات ہوتی ہے کیا؟
مستیں تو کلی پر لکھتے ہوئے شاہ محمد نے اپنا اپ مست توکلی میں ضم کر دیا۔تخلیقیت کے معراج پر دو روحیں ہم آہنگ ہوئیں۔پوری کتاب میں جذب کی کیفیت ہے۔ مست کے کلام میں ایسی تاثیر برق حسن ہے کہ اس پر لکھی گئی ہر سطر لرزش خفی سے لرزاں ہے۔
تاثیر برق حسن جو اُن کے سخن میں تھی
اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی
شاہ محمد مری مست توکلی کو محبت کا شاعر قرار دیتا ہے۔بیان محبت کا ہو تو پھر شاہ محمد کا قلم دھمال ڈال دیتا ہے۔دھریس چاپ میں ڈھول کی تھاپ پر بلوچ بے اختیار لیکن ہم آہنگ ہو جاتا ہے،جیسے برستی بارش میں بن میں مور اپنے خوش رنگ پر پھیلائے جوش بہار میں ہوتا ہے۔مست پر مست ہوئے بنا لکھنا ممکن ہی نہیں:
“میں ان بیس پچیس برسوں میں مست پر لکھتے ہوئے ہر لمحہ تڑپا ہوں،جاگا ہوں،ہر لمحہ محظوظ ہوا ہے۔میں اس کتاب کے ہر ہر صفحہ کو لکھتے وقت ڈوبتا رہا ہوں۔دل کا ڈوب جانا جانتے ہیں آپ؟”(ص13)۔
” چار سو صفحے لکھنے میں،میں کم از کم چار سو بار مرنے کی حد تک مرا”(13)۔
” اضطراب میں اطمینان،تشنگی میں آسودگی بیقراری میں قرار۔۔ایک نشہ ایک خمار۔مست ایک ٹرانس ہے!! مہر کا ٹرانس!”(ص14)۔
مست کی شاعری میں مہر ایسے ہے جیسے من مندر میں دیے کی جلتی لو ہو۔یہ وہ آگ ہے جو پرومی تھیئس انسانوں کے لیے چرا لایا تھا۔یہ محض آگ نہیں یار کا چو مکھیا دیوا ہے جو ندی کے پار جلتا ہے۔جس دل میں یہ دیوا روشن ہوجائے تو وہ یہ ندی ڈوب کر پار ضرور کرتا ہے۔اس بے کنار ندی کو پار ہی وہ کر سکتے ہیں جو ڈوبنے کا ہنر جانتے ہیں۔وہ باپ تو شاید نہیں جانتا تھا کہ اس کے متجسس آنکھوں والے بیٹے کے دل میں مست توکلی کے کلام نے وہ دیا روشن کر دیا ہے جو بجھنے کے لیے نہیں جلا کرتا اور اس دیے کی لو کو سالوں کی تپسیا شمعِ فروزاں بنا دے گی۔ماوند میں موسم گرما کی چاندنی میں نہائی راتیں مست کے نغمے گنگناتی تھیں:
۔” یہ ایک باپ تھا جو اپنے خوش قسمت بچوں کو اس دھرتی کے عظیم فلسفی شاعر “توکلی” کا کلام گا گا کر سناتا تھا “(ص7)
مست توکلی کی شاعری نے ذہن ودل پر لگے زنگ کو کھرچ کر اتار پھینکا۔ مست توکلی کی شاعری میں محبت کا بیانیہ انوکھے رنگ میں نظر آتا ہے۔مست کی محبت افلاطونی ہے نہ سقراطی،یہ محبت کی ایسی کیفیت ہے جس کے دکھ میں بھی سکھ ہے اس کی بیقراری میں قرار ہے۔مست توکلی نے بہ وسیلہ محبت ولائیت پائی۔لفظ ولایت سے اسے مابعدالطبیعاتی رنگ دینا مقصود نہیں،یہ خالص زمینی،دھرتی سے جڑی ہوئی محبت ہے۔یہ وہ مہر ہے جو سمو کے آہنگ سے کائنات کی ہارمنی میں انسانیت کے راگ کے ساتھ مدغم ہوتی ہے۔مہر کی راگنی نے مست کے گوش دل ایسے حساس کر دیے کہ وہ سوکھی تڑختی آب کو ترستی دھرتی کی آہ و بکا سن لیتے ہیں۔
بارغ و تنی ایں سمیناں عرضے کناں
شواگوں مئیں عرضا بندیں ژہ کیچ و مکران
(پتلے اور پیاسے بادلوں سے عرض کرتا ہوں
تم میری درخواست پہ کیچ و مکران سے امڈنا شروع کر دو)
مست توکلی کے کلام کی نمایاں خصوصیات کو عنوان دے کر ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک عنوان جسے قابل توجہ نہیں جانا گیا وہ سمو بیلی تھا۔مست اپنے آپ کو سمو بیلی کہلواتا تھا۔سمو کو دوست کہتا تھا۔ مست نے مہر پر دوستی کی نہ کھلنے والی مضبوط گانٹھ لگائی۔”سمل“ نام کا ورد مست ایسے کرتا ہے جیسے کسی نیک کام کے آغاز میں برکت کے لیے کوئی مبارک لفظ پڑھا جاتا ہے۔ سمو وہ منتر ہے جس کا الاپ انسانیت کو سر سبز کرتا ہے۔زخمی دلوں کا درماں ہے۔مست کی شاعری کا اسم اعظم سمو ہے۔ مست کی شاعری میں عورت بازی یا تماش بینی نہیں،رکھشا ہے،دلداری ہے۔وہ دوست کی خاص پہلی ترجیحی دیکھ بھال چاہتا ہے:
‘ایسی دیکھ بھال جیسے بیٹوں کی کی جاتی ہے
ایسی دیکھ بھال جیسی کہ گھوڑی کے شیر خوار بچوں کی،کی جاتی ہے_
دوست کی مشکلات،کٹھن زندگی پر شاعر کا دل بے چین ہوتا ہے۔محض سمو ہی کے لیے نہیں وہ سمو کے ارد گرد سارے ماحول کے فلاح کا تمنائی ہے۔یہ وہ جہت ہے جہاں سے مست کی مہر کتھا عام عشقیہ داستانوں سے جدا ہو جاتی ہے۔
دیذ نت و گنداں پہ پڑی آنی جینہراں
نرونت منداں ژہ وثی کہنیں جُوسراں
،(پیاسی ہیں ہرنیاں ،دشوار چٹانوں پہ
آنکھیں گھما گھما کر دیکھتی ہیں
بادلوں کو بوند کی آس میں)
*(اللہ بارش دے سمو کے پالتو بکرے دنبے پیاسے ہیں۔)
سمو کے ننگے پیروں تلے مست کا دل لہو لہو ہوتا ہے۔
ٹلی مئیں دوست ماں گزدریں بٹیاں
(میری دوست گز نامی درختوں والی ریت پر گھسٹتی ہے)
یہ دو روحوں کی وابستگی ہے۔جیسے فاصلوں پر اپنی جگہ قائم قدیم درختوں کی جڑیں آپس میں پیوست ہوجاتی ہیں،یہ ایسی ہی قلبی پیوستگی ہے،جس میں دوری بے معنی ہوجاتی ہے۔ ہجر بھی وصال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اس بے مثال مہر نے سارے کلیے سارے فارمولے بدل دیے۔
ہمارے پسماندہ سماج میں جہاں عورت بااختیار نہیں اس کے گلے میں مالک کے نام کی پٹی گل گھوٹو کی طرح لپٹی ہے۔ اک شے یا کماڈٹی کا سٹیٹس پانے والی عورت کو مست دوست کہہ کر انسانی سطح پر لے آتا ہے۔ورنہ عورت کو تو ایسا کمزور کر دیا گیا کہ وہ تو قول قرار نبھانے کے قابل بھی نہیں رہ گئی:
استیں زالے آں ہچ ہورا پیلہ نیاں
(عورت ہوں،اس لیے اپنے کسی قول کو پورا کرنے کے قابل نہیں رہنے دی گئی ہوں)۔
مست کی محبت کا اعتبار اور احترام پا کر یہ چیز ایک شخصیت بن جاتی ہے۔ مست ایک بے چہرہ عورت کو اپنی ذاتی پہچان اور شناخت دیتا ہے۔ وہ اب سر اٹھا کر کہتی نظر آتی ہے:
عہد ناں ذالی دست ماں گیوارہ پٹاں
مں تئی آن و تی گنڑا ہیچ کسی نہ یاں
عہداں پاریزاں چو قرانانی اکھراں
(میں اپنی مانگ پہ ہاتھ رکھ کر عورت والا عہد کرتی ہوں
میں تمہاری ہوں اور کسی کی نہیں
میں اپنے قول نبھاؤں گی قرانی الفاظ سمجھ کر)
سمو کے یہ الفاظ قابل توجہ ہیں۔ ایک بڑی تبدیلی کے شاہد ہیں۔ہمارے پدرسری سماج میں مرد، مردانگی یامردانہ وار جیسی خوبیوں کا متضاد تضیحیکی الفاظ زنانہ یا زنانہ پن ہیں۔ کہاوتوں اور محاوروں نے بھی ڈس کر عورت کا بدن نیلا اور دماغ سن کر دیا ہے۔”اپنی گھوڑی اور عورت کی کون سانجھ کرتا ہے”، جدید کہاوت بھی ملاحظہ کریں “اپنی گاڑی اور اپنی بیوی کا سٹیرنگ اپنے ہاتھ ہی میں رکھنا چاہیے”۔گھوڑی اور کار کے مساوی بیوی ہے۔ ستم یہ بھی ہے کہ گاڑی اور گھوڑی کی قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے۔
مست اس عورت سے دوستی کا دعوی دار ہے جو کسی اور کی مالکی میں ہے۔وہ اپنے آپ کو سمو بیلی کہلواتا ہے۔مروج سے اتنی بڑی بغاوت محبت کے بل بوتے ہی پر کی جا سکتی ہے ۔ایسی روشن خیالی تو ہمارا آج کا سماج بھی نہیں سہ سکتا کہاں قبائلی قدیم سماج جو عورت کو گائے بکری سے بڑھ کر نہ سمجھتا تھا۔ بظاہر اس سماج کا ایسا تہذیب یافتہ ہوجانا قرین قیاس نہیں۔لیکن محبت تو ایک معجزہ ہے جو ہمیشہ اپنے اندر وسیع امکانات سمیٹے ہوتا ہے۔دیکھا جائے تو ادب محبت کا اور محبت تہذیب کا پہلا قرینہ ہے۔ایک مردانہ سماج میں اپنا تعارف’ سمو بیلی” کروانے واسطے اعلی ترین شعوری بالیدگی، اور بڑی اخلاقی جرات چاہیے اور سماج کو بھی اس تعارف کو قبول کرنے کے لیے ذہنی بلوغت درکار ہوتی ہے۔خاص طور پر ایسے سماج میں جہاں زن مرید ہونا ایک طعنہ ہو۔ وہاں “سمو بیلی “کی قبولیت کرامت ہے۔ہمارا سماج تو آج بھی ‘عورت خور’ ہے اور بدترین تنزلی کا شکار ہے۔ یہاں آج بھی عورت اپنے مالک کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔دو سو برس تو بہت دور کی بات ہے نا!۔آج بھی مسجدوں میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا جاتا ہے فلاں (مرد)کی والدہ فلاں کی اہلیہ فلاں کی ہمشیرہ وفات پا گئی ہیں،دعا کیجیے۔۔بھئی! کیسے دعا کیجیے،جانے والی کا کوئی نام بھی تو ہوگا!۔ قبروں کے کتبے دیکھ لیجیے زیادہ تر باپ اور شوہروں کے ناموں کے ساتھ زیر زمین ہیں ۔ اکثر عورتوں کی زندگیاں بھی محاورتاً انڈر گراونڈ ہی گزرتی ہیں۔وہ مالکوں کے نام پر ان کی زندگیاں جیتی ہیں۔ ایسی جامد صورت حال میں سمو کو دوست کہہ دینا بغاوت ہی تو ہے۔ عورت کو جنسی پراڈکٹ کا درجہ دے کر سماج میں اس کی فعالیت کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اس لیے عام طور ہر ہمارے سماج میں عورت مرد کے مابین ایک نارمل انسانی تعلق نشونما نہیں پاتا۔عورت صرف ان مردوں سے تعلق واسطہ یا رابطہ رکھ سکتی ہے جن سے جنسیاتی تعلق حدِ امکان سے پرے ہو یعنی باپ بھائی بیٹے یا پھر صرف اس مرد سے تعلق رکھنے کی اجازت ہے جو نئی نسل کی پیدائش واسطے سوشل کنٹریکٹ کے ذریعے اس حد بندی میں آتا ہے۔ اس دائرے سے باہر کی زندگی اس پر حرام کر دی گئی ہے۔ ہاں سمو ایک استثنائی مثال بن کر سامنے آتی ہے۔مست نے اس سرکل کو اٹھا کر اسی شاخ پر لٹکا دیا جس پر ہیر نے کمان اٹکایا تھا۔ایک پسماندہ سماج میں عورت سے محض دوستی کا اذن حاصل کر لیا۔ایسی دوستی جس پر عورت کے بزعم خود مالکان خاوند،خاندان ،قبیلہ بھی مزاحم نہ ہو سکے۔۔
تہ نوئے بدنام گوں وثی جیڈی امسراں
سچوئیں دوستی آ تئی شرمندغ نیاں
(تم ہر گز بدنام نہ ہوگی اپنی سہیلیوں میں
میں تمہاری سچی دوستی پہ شرمسار نہیں ہوں)
شرمندگی نہیں شرمساری نہیں ہے بس شکر گزاری ہے کہ رب مہربان ہوا اس اپنی رحمت سے نوازا۔
مہر تہ مولائے درہ وسی
انسان کو مہر، عام سے خاص بناتی ہے۔شاعر کے آبخورہ میں مہر مئے بھرتی ہے۔بنا مہر تخلیق پتھرائی ہوئی ہوتی ہے۔اس میں روح محبت ڈالتی ہے۔۔مست اپنے بارے کہتا ہے:
” کاہان کا (عام) کوہستانی مری ہوں راضی تو (خود) ہوگیا،بہانہ سمو کا بنایا ”
سمو بہانہ بنی اور مست کے دل سے مہر کا چشمہ پھوٹا۔ اس چشمے نے نہ صرف مست کے دل کو بلکہ اس کی مہر بھری بابرکت شاعری پڑھنے والوں کے دلوں کو بھی سر سبز کردیا۔مہرواں باث و وذ گہیں راہاں شوں دیا
مست
(خدا) خود مہربان ہو جائے اور اچھے راستے دکھائے
خزاں رسیدہ شجر پُربہار ہوئے، جڑوں کے پھیلاؤ نے بکھری زمینوں کو ہم وصال کیا،شاخیں بارآوری کی سرشاری میں دھرتی کو بوسے دینے لگیں،انسان مہر کے صدقے انسانیت کے چھتناور شجر کی چھاؤں میں شانت ہوا۔
مست توکلی محبت کو فلسفہ بنادیتا ہے۔ محبت انداز زیست بنتی ہے،تہذیب بنتی ہے۔ محبت آزادی ہے۔ذہن کو جکڑی ہوئی ان دیکھی زنجیریں توڑ ڈالتی ہے،محبت مساوات ہے۔ کالے،گورے،زعم، غرور،قبیلہ،قوم سب اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی ہے۔
“۔۔مست کا حوالہ سمو،سمو کا حوالہ امن،امن کا حوالہ زندگی اور زندگی کا حوالہ انسان،انسان کا حوالہ انسانیت،انسانیت کا حوالہ ہارمنی،مسرت اور اطمینان-” (ص339)
تؤکلی نام کا چرواہا مہر کے صدقے انسانوں کے بیچ مساوات اور احترام کی نئی ریت ڈالتا ہے۔
ایک اور دلچسپ اور فکرانگیز ایکٹیویٹی “سمو کی شادی “ہے_
سمو کے نام منعقد کی گئیں یہ تقریبات لفظ’ شادی” کو ایک نئی معنویت دیتی نظر آتی ہیں۔
سمو کی شادی کے مناظر دیکھیے۔۔”بغیر دعوت کے بغیر کارڈ بغیر کسی واحد میزبان کے ایک ہی نشست میں ہزاروں روپے والا فنکشن ہوتا ہے۔ سارا جشن سمو کے نام پر منعقد ہوتا۔آس پاس سے ہر شخص اس فرضی شادی کے لیے اپنے اپنے خیمے سے ایک ایک دنبہ اٹھائے مرکزی اجتماع کی طرف چلتا آتا ہے”۔سانجھداری ہے۔ سب انسان باہمی عزت احترام کے ساتھ سر جوڑے بیٹھے ہیں۔حال احوال ہوتا ہے جھگڑے تصفیے میں ڈھل جاتے، سیاسی سماجی مسائل پہ بحثیں ہوتیں ہیں، موسیقی،دھریس اور کلام مست گایا جاتا ہے “۔ (ص206)
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

