عبدالرشید شکورکھیللکھاری

پندرہ دسمبر 1977 ء : جب مدثر نذر نے سست ترین سنچری کا ریکارڈ بنایا ۔۔ عبدالرشید شکور

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سنہ 1977 میں کھیلی جانے والی سیریز کے لاہور ٹیسٹ کے پہلے دن اوپننگ بیٹسمین مدثرنذر پرسکون انداز میں بیٹنگ کر رہے تھے کہ انھیں نہ جانے کیا سوجھی کہ انھوں نے ایک گیند کو باہر نکل کر کھیلنا چاہا۔گیند سٹمپس کے بہت قریب سے گزر کر چلی گئی اور وہ آؤٹ ہونے سے بال بال بچے، جس پر انھیں ڈریسنگ روم سے سنبھل کر کھیلنے کا پیغام ملا۔
مدثر نذر 43 سال گزر جانے کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس لمحے کو یاد کرتے ہیں۔ʹمیں نے باہر نکل کر جارحانہ انداز اختیار کرنا چاہا لیکن میری قسمت اچھی تھی کہ گیند بلے کا کنارہ لیتی ہوئی سٹمپس کے قریب سے گزر گئی۔‘
’میں نے ڈریسنگ روم سے بارہویں کھلاڑی کو گلوز کے ساتھ اپنی جانب بھاگ کر آتے دیکھا جس نے مجھے چیف سلیکٹر اور ٹیم کے منیجر امتیاز احمد کا پیغام پہنچایا کہ ٹیم کے لیے کھیلو۔ʹ
مدثر نذر کہتے ہیں ʹمجھے اور کیا چاہیے تھا۔ اس پیغام کے بعد میں نے خود کو دفاعی خول میں بند کر لیا۔ جب پہلے دن چائے کا وقفہ ہوا میں 48 رنز پر کھیل رہا تھا۔اس دوران میں نے سوچا کہ بہت ہو گیا اب تھوڑا بہت تیز کھیل بھی دکھانا چاہیے۔
’باب ولس کی پہلی گیند پر میں نے چوکا لگایا لیکن جب پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو اُس وقت میں 52 رنز پر ہی کھیل رہا تھا۔‘
15 دسمبر کو لاہور ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن مدثرنذر نے اپنا نام ریکارڈ بُک میں کس طرح درج کرایا یہ انھی کی زبانی سنیے۔
’دوسرے دن میں نے ہارون رشید کے ساتھ اننگز دوبارہ شروع کی تو وہ 84 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے جبکہ میں 52 رنز پر کھیل رہا تھا۔‘ہارون نے اپنی سنچری جلد ہی مکمل کر لی۔
’وہ ہارون رشید کے عروج کے دن تھے ان دنوں وہ بہت زبردست بیٹنگ کر رہے تھے۔ اس کے بعد جاوید میانداد کریز پر آئے تھے ان کے ساتھ میری بہت اچھی ہم آہنگی تھی۔‘
مدثر نذر بتاتے ہیں ’جب میں 99 رنز پر ناٹ آؤٹ تھا تو تماشائی گراؤنڈ کے اندر داخل ہو گئے تھے اور کھیل کافی دیر تک رُکا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے آف سپنر جیف کوپ کی گیند پر ایک رن لے کر اپنی سنچری مکمل کی تھی۔‘مدثر نذر نے اپنی یہ پہلی ٹیسٹ سنچری 557 منٹ میں مکمل کی تھی۔
اس سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں سُست ترین سنچری کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے جیکی میک گلیو کا تھا جنھوں نے جنوری 1958 میں آسٹریلیا کے خلاف ڈربن ٹیسٹ میں اپنی سنچری 545 منٹ میں مکمل کی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مدثر نذر کی اس سُست ترین سنچری کے مکمل ہونے کے اگلے ہی روز انگلینڈ کے اوپنر جیف بائیکاٹ نے بھی کچھوے کی چال سے بیٹنگ کرتے ہوئے مدثر نذر سے 20 منٹ زیادہ وقت میں اپنی نصف سنچری مکمل کی تھی اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ وہ مدثرنذر کو عالمی ریکارڈ کے مالک کے طور پر دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اس ریکارڈ پر اپنا نام درج کرانا چاہتے ہیں لیکن ان کی اننگز 63 رنز پر اقبال قاسم کے ہاتھوں بولڈ ہونے پر تمام ہو گئی تھی۔
عالمی ریکارڈ کے بارے میں لاعلم
عام طور پر جب کھلاڑی میدان میں ہوتے ہیں تو انھیں اپنے بنائے ہوئے ریکارڈز کا علم نہیں ہوتا۔ مدثر نذر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔
وہ بتاتے ہیں ’میں نے جب سنچری مکمل کی تو ظاہر ہے اس وقت کسی نے بھی مجھے یہ نہیں بتایا کہ میں نے سُست ترین سنچری کا نیا عالمی ریکارڈ بنایا ہے۔ سٹیڈیم میں پبلک اناؤنسمنٹ کے ذریعے بھی کوئی اعلان نہیں ہوا۔ یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی۔‘
مدثر نذر کہتے ہیں ’جب میں نے سنہ 1983 میں بھارت کے خلاف حیدرآباد ٹیسٹ میں جاوید میانداد کے ساتھ 451 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تھی تو اس وقت بھی مجھے نہیں پتہ تھا کہ ہم نے ورلڈ ریکارڈ برابر کر دیا ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں ’اس وقت مجھے یہ پتہ تھا کہ عمران خان اننگز ڈکلیئر کر دیں گے کیونکہ بھارت کی بیٹنگ لائن بہت لمبی تھی اور اسے آؤٹ کرنے کے لیے وقت چاہیے تھا۔‘ ’
’میں تیز کھیلنے کی کوشش میں کور پوزیشن پر کیچ ہو گیا۔‘
’جب میں ڈریسنگ روم میں آیا تو سرفراز نواز نے مجھ سے کہا بیڈ لک ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ سکور بورڈ پر صرف دو وکٹوں پر پانچ سو رنز لگے ہوئے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ بیڈ لک ہو گئی بعد میں کسی نے بتایا کہ ہم صرف ایک رن کی کمی سے سب سے بڑی پارٹنرشپ کا عالمی ریکارڈ نہیں بنا سکے تھے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’وقتی طور پر افسوس ضرور ہوا تھا لیکن پھر یہ احساس ہوا کہ ہمارا نام سر ڈان بریڈمین اور بل پونسفورڈ کے ساتھ درج ہوا ہے جس کی زیادہ خوشی تھی۔‘
فوجی اور کرکٹ انقلاب ساتھ ساتھ
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لاہور ٹیسٹ مدثرنذر کی سُست ترین سنچری کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے حوالوں سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔یہ انگلینڈ کے آف سپنر جیف کوپ اور پاکستانی لیگ سپنر عبدالقادر کا اولین ٹیسٹ بھی تھا۔جیف کوپ اپنے کپتان مائیک بریرلی کی سپورٹس مین سپرٹ کی وجہ سے اپنے اولین ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کے اعزاز سے محروم ہو گئے۔جیف کوپ نے لگاتار گیندوں پر عبدالقادر اور سرفراز نواز کو آؤٹ کیا۔
تیسری گیند پر امپائر نے اقبال قاسم کو سلپ میں کیچ آؤٹ قرار دے دیا لیکن مائیک بریرلی نے امپائر کو بتایا کہ یہ کیچ نہیں تھا اور انھوں نے اقبال قاسم کو بیٹنگ کے لیے واپس بلا لیا اس طرح کوپ کی ہیٹ ٹرک رہ گئی۔
یہ وہی ٹیسٹ ہے جس میں بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قذافی سٹیڈیم آمد کے موقع پر زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی تھی اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کی تھی اس دوران بیگم نصرت بھٹو کے سر سے خون بہنے لگا تھا۔
انگلینڈ کی ٹیم مائیک بریرلی کی قیادت میں جب پاکستان پہنچی تھی تو اس وقت ملک میں جنرل ضیا الحق فوجی بغاوت کے ذریعے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کر چکے تھے۔سیاسی اجتماعات پر پابندی تھی لہٰذا ان کے سیاسی مخالفین نے اپنی سیاسی طاقت دکھانے کے لیے کرکٹ سٹیڈیم کا انتخاب کیا تھا۔دوسری جانب کرکٹ کی دنیا میں کیری پیکر انقلاب برپا کر چکے تھے۔پاکستان کی کرکٹ اسٹیبلیشمنٹ پر کیری پیکر ورلڈ سیریز میں حصہ لینے والے کرکٹرز کو پاکستانی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے شدید عوامی دباؤ تھا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا اس کے حق میں نہیں تھے حالانکہ وہ اس خوف میں بھی مبتلا تھے کہ ان تجربہ کار کرکٹرز کی غیر موجودگی میں پاکستانی ٹیم کہیں انگلینڈ سے ہار نہ جائے۔
ایک موقع پر یہ امید ہو چلی تھی کہ کیری پیکر سیریز میں حصہ لینے والے کرکٹرز پاکستانی ٹیم میں شامل کر لیے جائیں گے اسی وجہ سے مشتاق محمد، عمران خان اور ظہیرعباس آسٹریلیا سے وطن واپس آئے تھے لیکن فوجی حکمراں ضیا الحق نے مشہور کمنٹیٹر ہنری بلوفیلڈ کی موجودگی میں مشتاق محمد سے ہونے والی ملاقات میں کیری پیکر کرکٹ کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے تھے اور یہ تینوں کرکٹرز کھیلے بغیر آسٹریلیا واپس چلے گئے تھے۔
مدثر نذر کہتے ہیں ʹمیرے ُسست کھیلنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت پاکستانی ٹیم میں ماجد خان، ظہیرعباس، مشتاق محمد اور عمران خان جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی موجود نہیں تھے اور ٹیم مجھے زیادہ سے زیادہ دیر کریز پر دیکھنا چاہتی تھی۔‘
ماجد نے مشتاق سے کہا کہ اسے بولنگ دو
مدثرنذر کہتے ہیں ʹجس زمانے میں میں پاکستانی ٹیم میں آیا اس وقت پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ بہت مضبوط تھی اس لیے اوپنر کے طور پر ہی جگہ بنتی تھی حالانکہ اس وقت صادق محمد بھی خاصے تجربہ کار تھے لیکن مجھے اس وجہ سے ٹیم میں آنے کا موقع ملا کہ میں ہر پوزیشن پر فیلڈنگ کر لیا کرتا تھا اس کے علاوہ میں بولنگ بھی کرتا تھا۔‘
مدثر نذر بتاتے ہیں کہ ʹمیری بولنگ کے بارے میں عام طور پر ہر کوئی انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کی بات کرتا ہے لیکن جو لوگ مجھے پہچانتے ہیں وہ سنہ 1978 میں انڈیا کے خلاف لاہور ٹیسٹ کی وجہ سے جانتے ہیں۔‘
مدثر نذر بتاتے ہیں ʹلاہور ٹیسٹ کے آخری دن عمران خان اور سرفراز نواز یہ سوچ کر کہ وشواناتھ اور وینگسارکر میچ کو ڈرا کی طرف لے جا چکے ہیں یہ دونوں بولرز ڈریسنگ روم میں گئے اور اپنے جوتے تبدیل کر کے آ گئے کہ اب بولنگ نہیں کرنی پڑے گی۔
’اس موقع پر کپتان مشتاق محمد نے پریشان ہو کر سوال کیا کہ اب میں کسے بولنگ دوں؟ جس پر ماجد خان نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بولنگ کراؤ۔‘
مدثر نذر بتاتے ہیں ʹمیں نےاپنے پہلے ہی اوور میں وشواناتھ کو 83 رنز پر بولڈ کر دیا۔
اگلے اوور میں جب میں وینگساکر کو بولنگ کرنے آیا تو میں نے مشتاق محمد سے کہا کہ مجھے سلپ میں ایک کے بجائے دو فیلڈرز چاہییں جس پر مشتاق نے پنجابی میں مجھ پر فقرہ کسا ’ہون ُتسی اٹیک وی کرو گے۔‘میں نے اسی اوور میں وینگسارکر کو وسیم باری کے ہاتھوں کیچ کرا دیا تھا۔
’یہ دیکھ کر عمران اور سرفراز دونوں ڈریسنگ روم کی طرف بھاگے اور دوبارہ سپائکس پہن کر آ گئے اور انھوں نے آخری چار وکٹیں لے کر میچ پلٹ دیا تھا۔‘
مدثرنذر کہتے ہیں ʹمیں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں اگرچہ بولر کا اینڈ تبدیل کرنے آیا تھا لیکن مجھے پتا تھا کہ سرفراز اور طاہر نقاش فٹ نہیں تھے اور انجکشن لگوا کر کھیل رہے تھے اس لیے مجھے لمبی بولنگ کرنی پڑے گی۔‘
یاد رہے کہ اس اننگز میں مدثر نذر نے صرف 32 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
اپنے پہلے ہی سپیل میں انھوں نے صرف چھ گیندوں پر ڈیرک رینڈل ایلن لیمب اور ڈیوڈ گاور کو آؤٹ کر دیا تھا اور اسی حیران کن کارکردگی پر وہ مین ود گولڈن آرم کے نام سے پہچانے جانے لگے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker