تجزیےلکھاریمختار پارس

صحت مند پاکستان کا خواب اور ہماری ذمہ داریاں ۔۔ مختار پارس

پاکستان بیس کروڑ کی آبادی کا ملک ہے۔ اس آبادی میں کون ایسا ہو گا جس کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ہر شخص کو صرف سردرد کی گولی بھی چاہیۓ ہو تو قومی خزانے پر دو ارب کا بوجھ پڑتا ہے۔ صورتحال کا اندازہ لگایۓ کہ ملک میں موجود آبادی کو سنگین بیماریاں لاحق ہیں۔ 423000 بچے ہر سال پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ کینسر، شوگر اور دل کی بیماریوں نے ملیریا اور ڈائرییا سے زیادہ مریض بنا دیے ہیں۔ ملک میں دو ہزار لوگوں کےلیۓ ایک بیڈ ہے اور 67٪ فیصد سے زیادہ آبادی کو سرکاری ہسپتالوں تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان ابھی تک دنیا کے ان تین ملکوں میں ہے جہاں سے پولیو کا مرض ابھی نہیں ختم ہو سکا۔ سن 2025 ء تک ان بیماریوں سے لڑنے کےلیۓ ملک کو 500 ملین ڈالر کی رقم چاہیے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کی جی ڈی پی کا ایک فیصد بھی ہم صحت کے شعبے کو نہیں دے پا رہے۔ اس کا مطلب کیا ہے، کیا یہ شعبہ ہماری ترجیحات میں نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہماری صحت کی پالیسی کو کیسا ہونا چاہیۓ؟
اشاریے یہ بتاتے ہیں کہ صحت کے معاملات پچھلے پچیس سال سے تو بہتر ہیں۔ لیکن ابھی بھی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کی گنجائیش ابھی بھی بہت ہے۔ پاکستان کو مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جو ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں، وہی ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتے ہیں اور انہی ڈاکٹروں کی پرائیویٹ لیبارٹریاں بھی ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پرائیویٹ پریکٹس بھی اس ڈاکٹر کی چلتی ہے جو کسی سرکاری ہسپتال میں کام کرتا ہے۔ اس سسٹم کے پیچھے راز یہ ہے کہ سرکاری ڈاکٹر سرکاری وسائل سے اپنے پرائیویٹ مریضوں کو بھی بھگتاتے رہتے ہیں اور مریضوں کو بھی معلوم ہے کہ انہیں سرکاری ڈاکٹر ہی ‘وارے’ میں آۓ گا۔ صحت کے شعبے میں حالیہ ہونے والے تجربوں کے بعد ہمیں ایک راستہ نظر آتا ہے جو صورتحال کو بہتر کر سکتا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ پاک فوج کی صحت کے شعبے میں بیش بہا خدمات ہیں اور ان کا ماڈل بہت مناسب اور کامیاب ہے۔ اگر اسی طرز پر سرکاری ڈاکٹروں کو سرکاری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں آدھی فیس پر، پرائیویٹ مریضوں کو دیکھنے کی اجازت دی جاۓ تو کم از کم ان کی ہسپتالوں میں سے غیر حاضری کا معاملہ حل ہو جائیگا۔
صحت کے شعبے کا ایک اور نمائیندہ مسئلہ صحت کی تعلیم کا گرتا ہوا معیار ہے۔ میڈیکل کالجوں میں مستقبل کی ضروریات پورا ہوتے ہوۓ نظرنہیں آ رہی ہیں۔ کیا میڈیکل یونیورسٹیاں اچھے ماہرین کو تیار کر رہی ہیں؟کیا وہاں تحقیق ہو رہی ہے؟بالکل بھی نہیں۔ ابھی حال ہی میں ہیلتھ سروس اکیڈمی میں نئے وائس چانسلر تعینات ہوۓ، وہ نئے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے میں کس قدر معاون ہو سکیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ بغیر تحقیق کو رواج دیے، ملک کے صحت کے شعبے میں کوئی انقلاب نہیں آسکتا۔ میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طالبعلموں اور اساتذہ پر تحقیق کی شرط لازم قرار دی جانی چاہیۓ تاکہ ملک کے مستقبل کی ضروریات کا تعین ہو سکے۔
ایک تاثر یہ ہے کہ ہمارا صحت کا نظام مریض کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھتا بلکہ یوں کہا جاۓ تو بہتر ہو گا کہ دستیاب وسائل اور سرکاری ترجیحات کی روشنی میں یہ کام ہو ہی نہیں سکتا۔ سروس کے معیار کا یہ حال ہے کہ مریض کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ وہ یہاں سے شفایاب ہو کر نکلے گا۔کبھی انکیوبیٹر میں آگ لگ جاتی ہے اور کبھی نوزائیدہ بچوں کو چوہے کاٹ جاتے ہیں۔ ان واقعات میں غفلت کا عنصر زیادہ ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ شفاخانے اب نئے اصولوں پر ڈیزائن کیۓ جائیں۔ اگر ڈاکٹر صاحبان مریض کو خوش اخلاقی سے پیش آ جائیں اور فوری طبی امداد کو یقینی بنا دیں تو 70 فیصد اموات کو بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس اصول کو سرکاری کام کاج کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے، یہ محکمہ صحت کے پالیسی سازوں کے لیۓ سوچنے کی بات ہے۔
آخری صحت پالیسی 2002 میں آئی تھی، اس شعبے میں صحت کی پالیسی نہ ہونے سے بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب سنا ہے کہ نئی صحت پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت میں صحت کے شعبہ کے وزیر جناب ظفر مرزا ایک زیرک اور ماہر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس سال جس محنت سے ڈینگی کے پھیلاؤ کے سدباب کےلیۓ کام کیا ہے، توقع ہے کہ اگلے سال ملک کو ڈینگی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حال ہی میں انہوں نے وزارت صحت میں ری سٹرکچرنگ کا عندیہ بھی دیا۔ ہم تو ان سے کہیں گے کہ بڑے ہسپتالوں کو خود مختار بنا کر ایک نمائیندہ بورڈ کے ماتحت کر دیا جاۓ تو بہتر ہو گا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا سے ہمیں توقع ہے کہ وہ جب صحت کی نئی پالیسی کو ترتیب دیں گے تو مندرجہ ذیل تین اقدامات کو یقینی بنائیں گے:-
1۔ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ ملک کے جی ڈی پی کا کم از کم دو فیصد صحت کے شعبہ کےلیۓ مختص کیا جاۓ اور اگلے سالوں میں اسے پانچ فیصد تک بڑھایا جاۓ۔ محکمہ صحت کہ نجکاری پاکستان کے معروضی حالات کے مطابق نہیں ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ صحت کے شعبے میں حکومتی اخراجات میں پائیدار ترقی کے احداف کو مدنظر رکھ کر خاطر خواہ اضافہ کیا جاۓ۔’عالمی صحت تنظیم’ کے رہنما اصولوں کے مطابق ملک اگر صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گا تو اسکا معاوضہ انہیں ایک ایسی افرادی قوت کی صورت میں ملے گا جو ملک کواچھا مستقبل اور اچھی معیشت دے سکے گی۔
2۔ مجوزہ ہیلتھ انشورنس کے اجراء سے پہلے یہ یقینی بنا لیا جاۓ کہ انتظامی امور اور سہولیات اس منصوبہ کی ضروریات کے مطابق موجود ہیں۔ اگر اس پیش بینی کے بغیر انشورنس کا اجراء کیا گیا تو انویسٹمنٹ میں نقصان کا اندیشہ ہے۔
3۔ ترقی یافتہ ممالک مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کےلیۓ استعمال کر رہے ہیں۔ ‘روبو ڈاک’ بن چکا ہے جو بغیر کسی مشکل کے مرض کی تشخیص اور ادویات تجویز کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمیں اپنے دیہاتوں اور مقامی حکومتوں کو نئی ٹیکنالوجی سے اس طرح سے مزین کرنا ہے کہ ان کی صحت کے مسائل وہیں پر حل ہو جائیں اور انہیں علاج کےلیۓ شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔
حال ہی میں ڈاکٹر طاہرعلی جاوید، مشیر وفاقی وزارت صحت نے غیر فعال بنیادی مراکز صحت کو فعال بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ابتدائی طور پر انہوں نے اسلام آباد میں شاہ اللہ دتہ کے مقام پر واقع مرکز کو مقامی لوگوں کے تعاون سے ایسا فعال کیا ہے کہ علاقے کی ضروریات بحسن و خوبی پورا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اگر اسی طرح غیر فعال مراکز کو ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت فعال کر دیا جاۓ تو بغیر نئے ہسپتال بناۓ، سرکاری طبی مراکز پر سے بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر علی جاوید اس سے پہلے محکمہ صحت پنجاب کے وزیر رہ چکے ہیں اور بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ نئی بلڈنگ بنانے سے بہتر ہے کہ موجودہ نظام صحت کو فعال کیا جاۓ۔ ان کی یہ کوشش لائق تحسین ہے۔
ایک اور اہم پہلو جس کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کے معاملے پر متعلقہ اداروں کے مابین رابطہ کمزور پڑ گیا ہے۔ صحت کا انتظام کرنا صرف ہسپتال میں بیٹھے ڈاکٹروں کا کام نہیں ہے۔ بلدیاتی ادارے صفائی یقینی بنائیں گے تو بھی صحت کا نظام بہتر ہو گا اور لوگوں کو آگاہی ہو گی تو بھی صحت عامہ کی بہتری ہو سکے گی۔ اس ضمن میں قومی وزارت صحت کا ماحولیاتی آلودگی اور تعلیم کی وزارتوں کے ساتھ ملکر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے شعبے پر جو بوجھ ہے اس کو کم کیا جا سکے۔
میں تو حکومت کو یہ تجویز بھی دینا چاہونگا کہ تمام مضر صحت چیزوں کی فروخت پر جو ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے، اسے ‘صحت ٹیکس’ کا نام دیا جاۓ اور اس رقم سے ملک میں صحت کے انفراسٹرکچر کو بہترکرنے پر خرچ کیا جاۓ۔ اگر چینی، گھی، سگریٹ اور دوسری مضر صحت اشیاء پر صحت ٹیکس کا اجراء کیا جاۓ تو جہاں لوگ ان اشیاء کو کم استعمال کریں گے اور ان کی صحت بہتر رہے گی، وہاں ملک کے خزانے میں صحت ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقم صرف صحت کے امور پر خرچ ہو سکے گی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker