ادبافسانےلکھاریمنورآکاش

سال 2053ء کا ایک راہ گیر ۔۔ رے براڈبری / ترجمہ منور آکاش

نومبرکی ایک خنک شام جب شہر میں ابھی آٹھ بجے تھے وہ گرم بجری کی بنی ہوئی سڑک پر جس پر خاموشی چھائی تھی چہل قدمی کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ جیبوں میں ہاتھ ڈالے، اردگرد پھیلے سبزے سے آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہوئے اپنے راستے پر چلتا ہوا یہ مسٹر لیونارڈمیڈ تھا اور اسے ایسا کرنا بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ کسی چوراہے پر رک جاتا اور چاندنی کو گھورتا رہتا کہ وہ کس طرح چاروں جانب پھیلی ہوئی ہے۔ سوچتا اسے کس راستے جانا چاہیے مگر اس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ وہ اس دنیا میں اکیلا تھا اور اسے اپنا اکیلا پن اچھا لگتا تھا وہ کسی راستے کے انتخاب کے لئے آخری فیصلہ کرتا اور چل پڑتا۔ جنگلی ہوا کے جھونکے اسے کسی سگار سے اٹھنے والے دھوئیں کی طرح خوش کن محسوس ہوتے۔
بعض اوقات وہ گھنٹوں میلوں تک چلتا رہتا اور آدھی رات کے بعد گھر لوٹتا۔ راستے میں وہ گھروں، بالکونیوں اور تاریک کھڑکیوں کو دیکھتا اور یہ سفر کسی قبرستان کے سفرکی طرح محسوس ہوتا۔ اسے کبھی کبھی کسی گھر کی کھڑکیوں کے پیچھے سے روشنی کی کوئی جھلک کچھ لمحوں کے لئے دکھائی دے جاتی اور کھڑکیوں کے پیچھے اچانک دیوار پرکچھ ہیولے بنتے مگر کھڑکیوں میں لگے پردے رات کی تاریکی اور ان کے درمیان حائل ہو جاتے اور اگر کسی مقبرے جیسی عمارت میں کوئی کھڑکی کھلی رہ جاتی تو اس کے پیچھے سے سرگوشیاں اور چہ میگوئیاں سنائی دیتیں۔
لیونارڈمیڈ رک جاتا ہاتھ کانوں پر رکھ کر سنتا اور آگے بڑھ جاتا۔ اس کے پاؤں کوئی آہٹ پیدا نہ کرتے وہ ایسے چلتا جیسے بے رنگ پانی پر چل رہا ہو۔ طویل عرصہ پہلے اس نے دانستہ اپنے سخت تلوؤں والے جوتے تبدیل کئے کیونکہ جب اس کے جوتے آواز پیدا کرتے تھے تو کتے وقفے وقفے سے ٹولیو ں میں اس کا تعاقب کرتے اور بھونکنا شروع کر دیتے۔ نومبر کی ابتدائی شاموں میں گھروں میں روشنیاں جل جاتیں اور گلی کی ہر کھڑکی میں کوئی چہرہ اس اکیلے راہ گیر کو دیکھنے کے لئے خود بخود نمودار ہوجاتا۔
اس خاص شام میں اس نے اپنی معمول کی چہل قدمی شروع کی۔ اس بار اس کا رخ شہر کے مغربی حصے کی طرف تھا۔ اس طرف سمندر تھا اور اسے ہوا کے ٹھنڈے جھونکے محسوس ہو رہے تھے۔ یہ اس کے ناک کو کاٹ رہے تھے اور اس کے پھیپھڑوں کو کرسمس ٹری کی طرح آنچ دے رہے تھے جس کی تمام شاخیں نظر نہ آنیوالی برف سے لد گئی ہوں۔ اس کے نرم جوتے خزاں رسیدہ پتوں پر پڑ رہے تھے اور چلتے ہوئے اس کے دانتوں سے ایک سیٹی جیسی آواز نکل رہی تھی۔ وہ چلتے چلتے کوئی پتہ توڑ لیتا اور پھر روشنی میں اس کے ڈھانچے کو بغور دیکھتا۔ اس کی رنگ آلود مہک کو سونگھتا۔ وہ جب بھی کسی بھی سمت میں کسی گھر کے سامنے سے گزرتا تو سرگوشی میں کہتا۔ ہیلو آج چینل4 پر کیا پروگرام آ رہا ہے اور چینل7 اور چینل9 پر کیا؟کوئز کس طرف بھاگ رہے ہیں اور کیا میں امریکی گھڑسوار فوج کو قریبی پہاڑوں پر مدد فراہم کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں؟
دور دور تک گلی بالکل خالی تھی۔ اس میں صرف اپنے ہی سائے لہرا رہے تھے۔ جیسے ملک کے وسطی حصے میں اڑتے ہوئے عقابوں کے سائے ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنی آنکھیں بند کرے۔ ساکت اور منجمد کھڑا ہو جائے تو وہ خود کو ایرازونا صحرا میں کھڑے ہوئے تصور کر سکتا ہے۔ جہاں ہزاروں میلوں تک کوئی گھر نہیں ہے۔ صرف خشک دریائی راستے گلیوں کی طرح اس کے ساتھ دینے کے لئے موجود ہیں۔
اب کیا چل رہا ہے۔ اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے گھروں سے پوچھا 8 بج کر 30 منٹ ہوئے ہیں۔ یہ وقت ہے درجن بھر قتلوں کو ایک ہی وقت ہوتے دیکھنے کا، کسی کوئز پروگرام کا، کسی تبصرے کا یا کسی مزاحیہ اداکار کے سٹیج سے گرنے کا، کیا یہ چاند جیسے سفید گھرکی طرف سے سرگوشی میں لگایا گیا قہقہہ تھا؟ وہ ہچکچایا اور آگے بڑھ گیا۔ وہ ایک خاص راستے پر چلتے ہوئے لڑکھڑایا سیمنٹ پھولوں اور گھاس کے درمیان سے بھری ہوئی تھی۔ گزشتہ دس برسوں سے رات اور دن میں وہ ہزاروں میل چہل قدمی کر چکا تھا۔ اسے کوئی اور چہل قدمی کرنے والا آدمی کبھی نہیں ملا۔ اس سب وقت میں ایک بار بھی نہیں۔ وہ اس وقت ’’ترفیل برگی‘‘ چوک پر موجود تھا۔ جہاں اس وقت مکمل خاموشی تھی۔ اس چوک سے دو مرکزی راستے شہر کے قصبوں کی طرف جاتے ہیں۔ دن کے وقت یہاں لوگوں کا طوفان امڈ آتا ہے۔ کاروں کی قطاریں، گیس سٹیشن کھلے ہوتے ہیں۔ اپنی باری کے انتظار میں رینگتے لوگ جیسے حشرات اپنی جگہ لینے کے لئے مسلسل گوبر میں گھستے رہتے ہیں۔ مگر اس وقت یہ شاہراہیں کسی سوکھے ہوئے دریا کی طرح ہیں۔ تمام شہر خواب کی طرح ہے۔ جس پر چاند کی روشنی پڑ رہی ہے۔
وہ ایک گلی میں مڑا اور اپنے گھر کی طرف چہل قدمی شروع کر دی۔اس کے راستے میں اچانک ایک رکاوٹ آگئی۔جب ایک واحد کار گلی کے کونے سے مڑی اور اچانک تیز سفید روشنی نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا وہ اچانک رک گیا۔ رات میں نکلنے والے کسی کیڑے کی طرح جو روشنی کو دیکھ کر جامد ہو جاتا ہے اور پھر اس کی طرف کھنچا جاتا ہے۔
ایک دھاتی آواز نے اسے پکارا
’’رک جاؤ، جہاں ہو وہیں رک جاؤ،حرکت مت کرو‘‘
وہ رک گیا
’’اپنے ہاتھ اوپر اٹھالو‘‘
’’لیکن‘‘ اس نے کہا
’’ہاتھ اوپر! ورنہ ہم تمہیں گولی مار دیں گے‘‘
پولیس۔ مگر تین ملین لوگوں کے اس شہر میں یہ ایک انوکھی بات تھی کہ اب صرف ایک پولیس کار بچی تھی۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟
ایک سال پہلے انتخابات کے سال میں پولیس کی تعداد کم کر دی گئی اور اب تین کاروں میں سے ایک کار تک محدود ہو گئی۔ یہاں کبھی جرم نہیں ہوا۔ اس لیے اب پولیس کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف یہ ایک کار بچی تھی جو خالی سڑکوں پر آوارہ پھرتی رہتی تھی۔
’’تمہارا نام؟‘‘
پولیس کار نے دھاتی آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
اپنی آنکھوں میں تیز روشنی پڑنے کی وجہ سے وہ کار میں کسی آدمی کو نہ دیکھ سکا۔
’’لیونارڈمیڈ‘‘ اس نے کہا
’’اونچا بولو‘‘
’’لیونارڈمیڈ۔۔۔۔۔۔!‘‘
’’کاروبار یا پیشہ؟‘‘
’’میرے خیال سے آپ مجھے لکھاری کہہ سکتے ہو ‘‘
’’کوئی پیشہ نہیں؟’’ پولیس کار نے ایسے کہا جیسے وہ خود سے بات کر رہی ہو‘‘ روشنی اس پر مسلسل پڑ رہی تھی۔ جیسے وہ کسی عجائب گھرمیں رکھا ہوا نمونہ ہو۔ اس کے سینے پر سوئیوں کی طرح چبھ رہی تھی۔ ہاں آپ ایسا کہہ سکتے ہو۔مسٹر میڈ نے کہا
میں نے سالوں سے نہیں لکھا۔ میگزین اور کتابیں اب فروخت نہیں ہوتیں۔ اب ہر چیز مقبرے جیسے گھروں کے اندر سمٹ گئی ہے۔ اب رات ہے اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سوچا۔ یہ مقبرے ٹیلی ویژن کی روشنی سے جگمگاتے ہیں اور لوگ مردوں کی طرح ان کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ سرمئی اور رنگ برنگی روشنیاں ان کے چہروں کوچھوتی رہتی ہیں درحقیقت وہ ان کو چھو نہیں رہی ہوتی۔
کوئی پیشہ نہیں، دھاتی آواز اس پر مطمئن ہوتے ہوئے اگلے سوال کی طرف بڑھی
’’تم گھر سے باہر کیا کر رہے ہو‘‘
’’چہل قدمی، مسٹر لیونارڈ نے کہا‘‘
’’چہل قدمی‘‘
’’ہاں صرف چہل قدمی،’’اس نے سادگی سے کہا مگر اس کا چہرہ سردی سے سرخ ہوگیا‘‘۔
’’چہل قدمی‘صرف چہل قدمی، چہل قدمی؟‘‘
’’جی ’’جناب‘‘
’’چہل قدمی، کہاں؟ کس لیے؟‘‘
’’چہل قدمی، ہوا خوری کے لئے، صرف دیکھنے کے لئے‘‘
’’تمہارا پتہ!‘‘
’’-11 ساؤتھ سینٹ جیمز سٹریٹ‘‘
تمہارے گھر میں ہوا نہیں ہے، مسٹر میڈ کیا تمہارے گھر ایئرکنڈیشنر نہیں ہے‘‘
’’ہاں‘‘
’’اور کیا تمہارے گھرمیں مناظر دکھانے والی سکرین نہیں ہے جس پر تم دیکھ سکو‘‘۔
’’نہیں‘‘
’’نہیں؟‘‘
ایک گہرا سکون چھا گیا
’’کیا تم شادی شدہ ہو‘‘
’’نہیں‘‘
’’شادی شدہ نہیں‘‘ روشنی کی تیز دھارکے پیچھے سے پولیس کار کی آواز نے تصدیقی انداز میں دہرایا۔
چاند آسمان میں اونچا اور تاروں کے درمیان روشن تھا جبکہ گھروں کو قطاریں سرمئی اور خاموش تھیں۔
’’کوئی بھی مجھے نہیں چاہتا‘‘
لیونارڈمیڈ نے مسکراتے ہوئے کہا
اس وقت تک نہ بولو جب تک تمہیں بولنے کے لئے نہ کہا جائے
لیونارڈمیڈ سرد رات میں کھڑا انتظار کرتا رہا
صرف چہل قدمی، مسٹر میڈ؟
’’ہاں‘‘
’’مگر آپ نے وضاحت نہیں کی کس مقصد کے لئے‘‘
’’میں نے وضاحت کی، ہوا خوری، دیکھنے اور چہل قدمی کے لئے‘‘
’’کیا تم ایسا اکثر کرتے ہو‘‘
’’برسوں سے ہر رات‘‘
پولیس کار گلی کے درمیان ٹھہر گئی اور اس کے ریڈیو سے سرگوشیوں کی آوازیں آنے لگیں۔
اچھا مسٹر میڈ۔ کار سے آواز آئی۔
کیا بس اتنا ہی کچھ ہے۔ کار سے ایک نرم آواز ابھری
’’سنو‘‘ آواز نے کہا۔ یہاں ایک نشان ہے اسے دباؤ۔ کار کا پچھلا حصہ کھل کر چوڑا ہو گیا اندر آؤ‘‘
ایک منٹ ٹھہریں۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔
’’اندر آؤ‘‘
میں احتجاج کرتا ہوں
’’مسٹرمیڈ‘‘
اس نے ایسے قدم اٹھائے جیسے ایک مدہوش آدمی نے حد سے زیادہ پی لی ہو۔جیسے ہی وہ کار کی پہلی کھڑکی کے پاس سے گزرا اس نے اندر دیکھا اس کی توقع کے مطابق کار کی اگلی نشست پر کوئی نہیں تھا۔پوری کار میں کوئی بھی نہیں تھا۔
’’اندر آؤ‘‘
اس نے ہاتھ سے دروازہ کھولا اور پچھلی نشست پرڈھے گیا۔
جو ایک چھوٹا سا قید خانہ تھا۔جس کے گرد جنگلہ لگا تھا۔یہ سٹیل سے بنا دھاتی سیاہ خانہ تھا صاف مگر سخت۔ یہاں کچھ بھی نرم نہیں تھا۔
اگر تمہاری بیوی ہوتی تو تم سے بہانے بازی کے بارے میں پوچھتی
آہنی آواز نے کہا ’’لیکن‘‘
’’مجھ کہاں لے جایا جا رہا ہے‘‘
کار ہچکچائی اور ایک گھومتی ہوئی آواز میں ہلکے سے کلک کی آواز آئی۔
جیسے کہا گیا ہے تمہیں گھونسے مارنے والے پتوں کے سامنے کیا جائے گا۔ نفسیاتی تحقیقی ادارے میں جانچ کی جائے گی کہ غصے کی مقدار تم میں کتنی ہے۔ اسے اندر دھکیل دیا گیا اور دروازہ ہلکی سی تھپ کی آواز سے بند ہو گیا۔ پولیس کار اپنی مدھم روشنیوں کو اوپر نیچے کرتے آگے بڑھ گئی۔
وہ ابھی چند لمحے پہلے ایک گھر کے آگے سے گزرے تھے ایک گلی میں تمام گھر تاریکی میں ڈوبے تھے۔ مگر اس گھر کی تمام روشنیاں جل رہی تھیں۔ ہر کھڑکی سے پیلے رنگ کی روشنی نظر آ رہی تھی۔ یہ گھر اس تاریک ٹھنڈک میں گرم محسوس ہو رہا تھا۔
’’یہ میرا گھر ہے‘‘ لیونارڈمیڈنے کہا
کسی نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔
کار تاریک خالی دریا کے دھاروں جیسی گلیوں سے ہوتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
خالی گلیوں کو خالی راہداریوں کے ساتھ پیچھے چھوڑتے ہوئے
اب نومبر کی اس سرد رات میں مزید کوئی آواز اور حرکت نہیں تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker