تجزیےلکھاری

جمہوری انڈیکس میں پاکستان 111 ویں‌نمبر پر ۔۔ محمد مرتضی نور

ہرسال 15ستمبرجمہوریت کے بین الا قوامی دن کے طور پرجمہوری اقدارکی اہمیت کو اجا گرکرنے اور جائزہ لینے کے لئے منایا جاتا ہے ۔اس سال عالمی یوم جمہوریت کا مرکزی عنوان تنازعات کی روک تھام اور جمہوری اداروں کومضبوط بنا نے کی اہمیت و ضرورت کی طرف توجہ دلانا ہے ۔آئین کی پاسداری ،جمہوریت، مساوات ،انسانی حقو ق کا فروغ اورقانون کی بالا دستی کیساتھ موثر معاشرے کا مطالبہ اور جامع جمہوری حکومت کا قیام اسی کا ایک مضبوط نقطہ نظر ہے ۔ متضاد معاشرے تنازعات کا حل مفاہمت دوسروں کی آراء کا خیال بات چیت کے کلچر کو فروغ اوراداروں کے تقدس و احترام کے ذریعے کرتے ہیں ۔مسائل کے حل اورمعاشرے میں امن برقرار رکھنے کیلئے بااثر تنازعات کی روک تھام کیلئے موثر لائحہ عمل کی اشدضرورت ہے ۔امن معاہدے ، انتخابات اور آئینی اصلاحات جیسے عوامل بڑھتے ہوئے تشدد کے منظم رجحانات میں کمی واقع کرسکتے ہیں ۔جمہوریت کو فروغ دینے ، سول سو سائٹی کو مضبوط کرنے ، خواتین، نوجوان اوراقلیتوں کو بااختیار کرنے ، معاشرے کے دوسرے کمزور حصوں کو مضبوط بنانے اورقانون کی بالا دستی رکھنے میں مضبوط مخلص ایماندار اور قابل قیادت ذیادہ مددگارثابت ہوسکتی ہے ۔2030کے پائیدار ترقی کا ایجنڈا، پرامن معاشرہ ، احتساب اورباہمی اداروں کے درمیان غیرمنسلک روابط کو تسلیم کرنا اور جمہوری ترقی کا متقاضی ہے ۔مساوی حقوق ، آزادی اظہار ،انسانی حقوق کا احترام ، قابل نظام حکومت ،عدلیہ کی آزادی ، احتساب ، انصاف ،شفافیت ، لوگوں ابتدائی سطح سے بااختیار اورمہذب بنانااور دوردراز دیہی علاقوں میں حقیقی انتخابات کا انعقاد کراناعالمی سطح کے جمہو ری عناصر ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں جمہوریت عوام کاتحفظ اور موثر احساس کیلئے معاون ماحول فراہم کرتی ہے جمہوریت اور انسانی حقو ق کے درمیان رابطہ انسانی حقوق کے اعلامیہ کے (3) 21کے ضمرے میں آتا ہے جس کے تحت عوام کی مرضی حکومت کے اختیار کی بنیاد ہوگی اور اسکا اظہار دور دراز علا قوں میں حقیقی انتخابات کے ذریعے کیا جائے گا۔ مزید برآں انسانی حقوق اور دولت کی مساویانہ تقسیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سیاسی حقوق تک رسائی دینا جمہوریت کے ضروری عناصر ہونگے۔پاکستان کا آئین واضح طور پر آئین کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور مساویانہ شہریت کی ضمانت دیتا ہے ۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 8جوکہ بنیادی حقوق کے باب کا ابتدائی آرٹیکل ہے واضح طور پر بتاتا ہے کہ ریاست کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنائے گی جو بنیادی حقوق کے متصاد م ہو ۔ آئین پاکستا ن کے تحت شہریوں کو حاصل حقوق تاحال تعلیمی نصاب میں شامل نہیں ہیں ۔ آئین پاکستان کے تحت مشترکہ مفادات کی کونسل ایک اہم آئینی ادارہ ہے جسکا بنیادی مقصدوفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین روابط کو مستحکم کرنا اور باہمی تنازعات کو حل کرنا ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ سات سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس اہم ادارے کا تاحال مستقل سیکرٹریٹ قائم نہ ہوسکااوروفاقی مقنہ کی لسٹ حصہ دوئم کے 12اہم امورکو بھی اس ادارے کے انتظامی کنٹرول میں نہ لایا جا سکا ۔پاکستان 1947ء میں ایک تاریخی جمہوری جد وجہد اورووٹ کی طاقت کے بل بوتے پر وفاقی مملکت کے طور پرمعرض وجود میں آیا ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح نے اپنی مختلف تقاریرمیں جمہوری طرز اورجمہوری اقدار کو فروغ دینے کی ترغیب دی ۔ جس میں شہریوں کو مساویانہ حقوق ،جمہوری فکر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین کی موثر شمولیت کو یقینی بنا نا تھا ۔معروف تحقیقی ادارے سینٹرفارسوک ایجو کیشن پاکستان کیمطابق پاکستان میں 25599کل دنوں میں سے 9892دن (39)فیصد پاکستانی عوام جمہوریت کے ثمر سے مستفید ہوسکے۔کثیرانتخابی عوامل سیاسی کارکردگی،حکومتی کارکردگی،شہری آزادی اور سیاسی ثقافت کی بابت برطانوی ادارہ برائے اکنامسٹ انٹیلی جنٹ یونٹ کے مطابق جمہوری انڈیکس میں پاکستان 167 ممالک کی فہرست میں111نمبر پر ہے۔جبکہ پاکستان کی نسبت فلسطین110 ویں نمبر پرہے جبکہ نائجیریا 109، لبنان 102، سری لنکا 66اورملائیشیا 65ویں نمبرپرہے ۔یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان دیگر مسلم ،افریقہ اور جنوبی ایشیائی ممالک سے بھی پیچھے ہے ۔اسی طرح پاکستان عالمی جمہوریہ درجہ بندی برائے سال 2016میں110ویں نمبرپرہے۔اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے جمہوریت کو مزید موثرہونا ہوگا ۔جمہوریت کے محافظ ہونے کے ناطے سیاسی جماعتوں کو ذیلی سطح پرجمہوری اقدارکے فروغ میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔مختلف مسائل کے حل کیلئے بات چیت کے کلچر کا فروغ ،صحت مند مباحثوں کی حوصلہ افزائی ،باقاعدہ بنیادوں پر جماعتی الیکشن کا اہتمام،پارٹی کارکنان کااحترام اور شکایتوں کی دادرسی،پارٹی کے منشوراور وعدوں کی تکمیل،سب سے اہم،لوگوں کو نچلی سطح سے مہذب اور طاقت ور بنانے کیلئے جماعت کے سربراہان کو عملی نمونے کے طور پر سامنے آنا ہوگا۔پاکستان کی آزادی کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان میں سوک ایجو کیشن کے فروغ کے سا تھ ساتھ جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے جمہوری تنازعات کے حل اور سیاسی صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker